• 20 مئی, 2024

اسلام پردہ سے مراد جیل میں ڈالنا نہیں لیتا۔ گھر کی چاردیواری میں عورت کو بند کرنا اس سے مرادنہیں ہے۔ ہاں حیا کو قائم کرنا ہے

جرمنی میں گزشتہ جلسہ سالانہ پر مَیں نے عورتوں میں عورتوں اور مردوں کے فرق اور ان کے فرائض اور ان کے کام یعنی ہر ایک کے جو مختلف کام ہیں نیز عورتوں کے حقوق کی بات کی تو ایک جرمن خاتون آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اس دوران پوری تقریر سنی تو کہنے لگیں کہ پہلے مَیں سمجھتی تھی کہ اسلام عورتوں کے حقوق غصب کرتا ہے لیکن آج آپ کی باتیں سن کر مجھے پتا چلا کہ اسلام عورتوں کے حقوق اور اس کی عزت اور اس کا احترام زیادہ باریکی میں جا کر بیان کرتا ہے اور قائم کرتا ہے۔ پس کسی احمدی لڑکی یا عورت کو یا کسی لڑکے کو کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیم ہی ہے جس نے دنیا کو پُرامن اور اللہ تعالیٰ کی طرف لانے والا بنانا ہے۔ دنیا کو ایک وقت میں احساس ہو جائے گا کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ اسلام کی تعلیم پر ہی غور کریں اور عمل کریں۔ مَردوں کو یہ حکم دینے کے بعد کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھو، عورت کی عزت قائم کرو، پھر عورت کو تفصیل سے حکم دیا کہ تم نے بھی اپنی نظریں نیچی رکھنی ہیں اور پردہ کس طرح کرنا ہے اور کس کس سے کرنا ہے۔ اگر تم ان باتوں پر عمل کرو گی تو کامیاب ہو جاؤ گی۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ پردہ اور حیا تمہاری کامیابی کی نشانی ہے۔ تمہاری دنیا اور آخرت سنور جائے گی۔ چنانچہ فرمایا کہ وَقُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَیَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَلَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَلۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَلَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَلَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۳۲﴾ (النور:32) اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ جو اس میں سے ازخود ظاہر ہو۔ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیرنگیں مردوں کے لئے یا مَردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی جنسی حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں اور وہ اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ لوگوں پر وہ ظاہر کردیا جائے جو عورتیں عموماً اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

مردوں کی نظریں بھی اور عورتوں کی نظریں بھی نیچی رکھنے اور پردہ سے ہی عورت کی عزت اور عصمت کی حفاظت ہو گی۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو عزت اور عصمت کی حفاظت کے معیار بدل گئے ہیں۔ نامحرموں کے آپس کے تعلقات اگر لڑکے اور لڑکی کی مرضی سے ہیں تو پھر زنا نہیں کہلاتا۔ یہ اگر مرضی کے خلاف ہیں تو پھر زنا کہلایا جاتا ہے۔ جب ایسی گراوٹیں آ جائیں تو ایک مومن کو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لئے بہت زیادہ دعاؤں اور کوشش کی ضرورت ہے۔

اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ عورت کو حجاب اوڑھا کر، پردہ کا کہہ کر اس کے حقوق سلب کئے گئے ہیں اور اس سے کچے ذہن کی لڑکیاں جو ہیں بعض دفعہ متاثر ہو جاتی ہیں۔ اسلام پردہ سے مراد جیل میں ڈالنا نہیں لیتا۔ گھر کی چاردیواری میں عورت کو بند کرنا اس سے مرادنہیں ہے۔ ہاں حیا کو قائم کرنا ہے۔

(خطبہ جمعہ 13؍ جنوری 2017ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

مسجدنورمیں خلافت ثانیہ کے انتخاب کی روئیداد