• 18 جولائی, 2024

مسجدنورمیں خلافت ثانیہ کے انتخاب کی روئیداد

ھُوَ الَّذِیْ ۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ

(الصّف:10)

ترجمہ:وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور سچا دین دیکر بھیجا ہے تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ خواہ مشرک کتنا ہی ناپسند کریں۔

قیام توحید،اعلائے کلمۃ اللہ اور غلبہ اسلام کی جو بنیادحضرت اقدس محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے رکھی گئی تھی،خداکی آخری جماعت یعنی احمدیت کے ذریعہ اُس کی تکمیلِ اشاعت ہوناتھا۔ جہاں ابتدائے عالم سے اس سلسلہ کے بارے میں کتب سماوی میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں وہیں احمدیت کے مشن کوکامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے کیلئے بانی جماعتِ احمدیہ حضرت مسیح موعودومہدی معہودعلیہ السلام کے ہاں ایک اولوالعزم فرزندکی بشارت بھی ملتی ہے۔ 12؍ جنوری 1889ء کو سلسلہ میں داخل ہونے کےدس شرائط بیعت کاشائع ہونااوراسی روز اِس پسر موعود حضرت مرزا بشیرالدین محموداحمدؓکی ولادت ہونایہ ثابت کرتاہے کہ اس خوبصورت پاک مہمان کے ذریعہ جماعتِ احمدیہ یعنی حقیقی اسلام کانہایت سرعت کے ساتھ دنیامیں پھیلناازل سے ہی مقدرتھا۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے وصال پُرملال کے بعد 27؍ مئی1908ء کوجماعتِ احمدیہ میں خلافت کاآغازہوا اور حضرت حکیم مولانانورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بالاتفاق پہلےخلیفہ منتخب ہوئے۔

یہاں ایک خواب کا ذکرکرناضروری معلوم ہوتاہے کہ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کو 1903ءمیں بذریعہ خواب یہ نظارہ دکھایاگیاتھاکہ حضرت مولوی نورالدین صاحب ؓ گھوڑے سے گرپڑے ہیں۔(البدر 27؍ مارچ 1903ءصفحہ 75)یہ خواب مخالفانہ حالات میں پوری ہوئی اوراحمدیت کی صداقت کا ایک چمکتاہوانشان ظاہرہوا۔

یہ واقعہ یوں پیش آیاکہ حضرت نواب محمدعلی خان صاحب رئیس مالیرکوٹلہ اپنے وطن سے چندمہینوں کے بعد واپس آئےتھے اورحضرت خلیفہ اوّل ؓ اُن کےگھر تشریف لےجاناچاہتےتھے۔یہ جمعہ کادن اور18؍ نومبر1910ءکی تاریخ تھی۔ ابھی آپ جانے کا ارادہ کررہی رہے تھے کہ خود حضرت نواب محمدعلی خان صاحب ملنے کیلئے آگئے۔ اس صورت میں بظاہرکوئی ضرورت نہ تھی کہ آپ ایک میل دُوراُن کی کوٹھی پرتشریف لے جاتے چنانچہ بعض دوستوں نے بھی عرض کیا مگرخداتعالیٰ کےمنشاء کوکون روک سکتاہے۔آپؓ ایک سرخ رنگ کی گھوڑی پرسوارہوکرحضرت نواب محمدعلی خان صاحب سےملاقات کیلئے اُن کی کوٹھی واقع دارالسلام(موجودہ محلہ مسرور)تشریف لے گئے۔ بعدملاقات واپس اپنے گھرآتےہوئے اس خیال سے کہ گھوڑی کی وجہ سے بچوں اورعورتوں کو تکلیف نہ ہو حضورؓ نے عام راستہ چھوڑکر دوسراراستہ اختیارفرمایا۔لیکن گھوڑی بدک کرتیزبھاگنے لگی۔ حضورؓ کاپاؤں رکاب میں ہی لٹک گیا۔اُس وقت شیخ رحمت اللہ صاحب کوئلہ فروش اتفاق سے پہنچ گئے اور انہوں نے بھاگ کرلگام پکڑلی۔ گھوڑی انہیں دھکیل کر آٹھ دس قدم تک لے گئی۔اسی اثناء میں آپؓ کا پاؤں رکاب سے نکل گیا۔ آپؓ ایک پتھرپرگرپڑے اورآپ کے ماتھے پر سخت چوٹ آئی۔ یہ بھی قدرت الٰہی ہے کہ آپ خاص اس جگہ پرگرے جہاں پتھرتھے۔ حالانکہ اس حصہ میں پتھرصرف اسی جگہ پرتھے اور اگر نصف گزبھیِ ادھراُدھرگرتے توچوٹ ہرگزنہ آتی۔ اس حادثہ کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب نے اپنی اہلیہ کو آوازدی اوروہ چارپائی اورکپڑالے آئیں اورآپ چارپائی پرلیٹ گئے۔حضورکےسرسے خون بہہ رہاتھاجو سرپرپانی ڈالنے کے باوجودبندنہ ہواشیخ صاحب نے اپنی پگڑی سے خون صاف کیا۔ تھوڑی دیربعدہوش آئی تو فرمایا۔ خداکے مامورکی بات پوری ہوگئی۔بعدازاں خادمین آپؓ کی چارپائی اٹھاکرآپ کے مکان میں لے آئے۔ حضورؓ نے اپنی علالت میں مرزامحمودصاحب کوامام الصلوٰۃ مقررفرمایا۔

5؍ جون 1913ء کو حضرت خلیفہ اوّل کی طبیعت بہت علیل تھی آپؓ نے سمجھاکہ اب مَیں نہیں رہوں گا۔آپ نےدورکعت نماز پڑھ کریہ دعا کی کہ

’’الٰہی! اسلام پربڑاتبرچل رہاہے۔ مسلمان اوّل تو سست ہیں۔ پھردین سے بے خبر ہیں اسلام وقرآن اورنبی کریم ﷺ سے بےخبر ہیں۔تُواُن میں ایساآدمی پیداکرجس میں قوت جاذبہ ہو،وہ کاہل وسست نہ ہو۔ ہمت بلندرکھتا ہو باوجود اِن باتوں کے وہ کمال استقلال رکھتا ہو۔دعاؤں کا مانگنے والا ہو۔ تیری رضاؤں یااکثر کوپوراکیاہو۔قرآ ن و حدیث سے باخبرہو پھراس کو ایک جماعت بخش اوروہ جماعت ایسی ہو جونفاق سے پاک ہو۔‘‘

(الحکم 7؍اپریل 1914ءصفحہ نمبر2کالم 3 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد3صفحہ 444)

زخم کی بیماری سےصحت یاب ہونے کےباوجودحضرت خلیفہ اوّلؓ کی صحت بحال نہیں ہوسکی اورکمزوری کے آثار ظاہرہونے شروع ہوگئے تھے۔جلسہ سالانہ 1913ء میں خطاب کرتے ہوئے ابھی چند کلمات فرمائے تھے کہ آپؓ کی طبیعت خراب ہوگئی اورخطاب مکمل کئے بغیر واپس تشریف لانا پڑا۔ وسط جنوری 1914ء میں آپ بہت رات گئے پیشاب کیلئے کھڑےہوئے توسینے کے بل دھڑام سے گرپڑے اورکچھ دیرکےبعد زمین سے اٹھنے کے قابل ہوئے۔ دراصل یہ آپ کی مرض الموت کا آغازتھا۔ قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزابشیر احمدصاحب ؓ تحریرفرماتے ہیں:
’’ابتداء میں صرف پسلی کےدردکی تکلیف اورگاہے گاہے ہلکی حرات اورقے وغیرہ کی شکایت تھی۔آہستہ آہستہ اس بیماری نے اس قدر زورپکڑلیاکہ آپ بسترسے نہ اٹھ سکے۔‘‘

(سلسلہ احمدیہ جلداوّل صفحہ 322)

17-18؍ جنوری سے حضرت خلیفہ اوّل کی طبیعت زیادہ کمزورہوگئی توآپ نے شام کا درس گھر میں جاری کردیا۔لیکن اب بھی آپ کی دینی مصروفیات میں کمی نہیں آئی۔ بلکہ فرمایاکہ اس کمزوری میں جب کہ بعض اوقات لیٹ کر کام کرناپڑتاہے۔ میری یہ خواہش ہے کہ اگرکوئی نئی کتاب مل جائے تواسے ختم کئے بغیرنہ چھوڑوں۔

(پیغام صلح 22؍ جنوری 1914ءصفحہ 4۔ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 3صفحہ 501)

اس سےآپؓ کےبےحدمطالعہ شوق کا علم ہوتاہے۔جوکہ ہم سب کیلئے قابل تقلیدنمونہ ہے۔

21؍ فروری کو لاہورکاذکرآیا۔جس پرآپ کو گمنام ٹریکٹوں کا خیال آیا۔ آپ کی آنکھیں پرنم ہوئیں اور غم وغصہ کے جذبات عیاں تھے۔آپؓ نےڈاکٹرمرزا یعقوب بیگ صاحب کومخاطب کرکےفرمایا۔

’’وہ جو کہتاہے کہ فُلاں شخص کو مَیں نے خلیفہ مقررکردیاہے۔غلط ہے مجھے کیاعلم ہے کہ کون خلیفہ ہوگااورکیا ہوگا۔کون خلیفہ بنے گایامجھ سے بہترخلیفہ ہوگا۔مَیں نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا۔مَیں کسی کو خلیفہ نہیں بناتامیراکام یہ نہیں۔ خلیفےاللہ ہی بناتاہے میرےبعدبھی اللہ ہی بنائےگا۔‘‘

(الحکم 28؍ فروری 1914ء صفحہ 7کالم نمبر 2 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد3صفحہ 504)

آپؓ کو الہاماًبتایاگیا کہ پانی ہواآگ اورپانی کے ملاپ میں علاج ہے۔اس غرض کیلئے آپؓ نے شہر سے باہرکھلی فضامیں منتقل ہونے کا فیصلہ فرمایا۔ یہی ڈاکٹروں کا مشورہ تھا۔آپؓ27؍ فروری کو بعدنمازجمعہ ڈولی پربیٹھ کر حضرت نواب محمدعلی خان صاحب کی کوٹھی دارالسلام میں تشریف لے گئے۔

یہاں یہ ذکر ازدیادِ ایمان کا باعث ہوگا کہ جب اس بات کا علم مولوی محمدعلی صاحب کوہواتوانہوں نے حضرت خلیفہ اوّلؓ کوہائی سکول کے بورڈنگ کی اوپرکی جنوبی منزل میں رکھنےکی سازش کی۔تا کہ عوام الناس وہاں نہ جاسکیں۔وہ جگہ کسی بھی لحاظ سے مناسب نہ تھی۔ اس خطرناک منصوبہ کی اطلاع کسی طرح حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمدصاحب کومل گئی۔ آپ گھبرائے اور حضرت نواب عبداللہ خان صاحب سے اس کا ذکرکیا۔جس پر حضرت نواب محمدعلی خان صاحب نے حضورؓکی خدمت میں اپنی کوٹھی میں تشریف لانے کی درخواست کی۔ حضورؓنے اس پیشکش کوبھی بڑی خوشی سے قبول فرمالیااورآپؓ کی طبیعت میں خوشی کی ایک لہرسی دوڑگئی۔ چنانچہ جب آپؓ کو کوٹھی دارالسلام کی طرف لےجانے کاوقت آیاتودوسرے دوستوں کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمدصاحب بھی پہنچے۔ گھرسے ڈولی اٹھانے کے بعد مولوی محمدعلی صاحب کے رفقاء کا پختہ ارادہ تھا کہ کسی ترکیب سے حضرت خلیفہ اولؓ کوبورڈنگ میں رکھ لیاجائے۔چنانچہ جب ڈولی بورڈنگ تک پہنچی۔توچارپائی وہاں روک لی گئی۔حضرت خلیفہ اولؓ نے نظراٹھاکردیکھاتوحسرت سے فرمایا کہ ‘‘ہیں! یہ اس جگہ مجھے لارہے ہیں’’۔ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمدصاحب نے اونچی آوازسے کہا کہ حضور!یہ صرف چلنے والوں کوآرام دینےکیلئے روکاہے۔ورنہ آپ نواب صاحب کی کوٹھی پرہی جارہے ہیں۔اس سے حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کو تسلی ہوئی اورخفیہ منصوبہ رکھنے والے اس کی تردیدکی جرأت نہ کرسکے اوران کو اپنے ناپاک ارادہ میں بری طرح ناکامی ہوئی۔

حضرت خلیفہ اوّلؓ کو کوٹھی کے باہرکےشمالی کمرہ میں رکھاگیااورباقی سب بیرونی کمرے مہمانوں کےلئے خالی کرا دئےگئے۔کوٹھی چونکہ کافی وسیع تھی۔حضرت خلیفہ اوّلؓ اورآپ کے خاندان اورآنےوالے مہمانوں کےلئے کوٹھی میں ہی کھاناتیارہوتاتھا۔

حضرت سیدنامحمودبھی شب و روز اسی کوٹھی(موجودہ النورنمائش) میں رہنے لگے اورآپ کا اکثر وقت حضورکی خدمت میں گزرتاتھا۔حضرت خلیفہ اوّلؓ کی دوربین نگاہ نے اپنی بیماری کے ایام میں اپنے قدیم طریق کے مطابق اپنی جگہ نمازوں کی امامت اورجمعہ کے خطبات کیلئے حضرت مرزابشیر الدین محموداحمدصاحب کو مقررفرمایاتھا۔

مؤرخہ13؍ مارچ 1914ءکوبروزجمعہ حضرت خلیفہ اوّلؓ کی حالت نازک ترین صورت اختیارکرگئی اور اسی کوٹھی میں دوپہر 2بج کر20 منٹ کے قریب عین حالتِ نمازمیں اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ مسجداقصیٰ میں نماز جمعہ پڑھانےکے بعدتھوڑی دیرکیلئے حضرت مرزامحموداحمدصاحب اپنے گھرتشریف لےگئےتھے،اتنے میں اطلاع ملی کہ خلیفہ اوّل کی طبیعت بہت نازک ہوگئی ہے۔آپ فوراًگاڑی پرسوارہوکر کوٹھی دارالسلام جارہے تھے کہ راستہ میں ہی دوبارہ اطلاع ملی کہ حضرت خلیفۃ المسیح فوت ہوگئے ہیں۔آپؓ فرماتے ہیں کہ’’یہ خبراُس وقت کے حالات کے ماتحت ایک نہایت ہی متوحِّش خبرتھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کاتوہمیں صدمہ تھاہی مگراس سے بڑھ کرجماعت میں تفرقہ پڑجانے کاخوف تھا۔‘‘

(آئینہ صداقت صفحہ 180)

جمعہ سے لےکرعصرکے وقت تک احباب جماعت قادیان بہت پریشان رہے۔خداخداکرکے عصر کاوقت آیاتو خداکے ذکرسے تسلی پانےکیلئے سب لوگ مسجدنورمیں جمع ہوگئے۔نمازکےبعد سیدناحضرت مرزابشیرالدین محموداحمدصاحب نےایک مختصرمگرنہایت دردانگیزاورمؤثرتقریرفرمائی۔ لیکن اختلافی مسائل کے ذکرکےبغیرجماعت کونصیحت کی کہ یہ ایک نازک وقت ہے اورجماعت کیلئے ایک بھاری ابتلاء کی گھڑی درپیش ہے۔پس سب لوگ گریہ وزاری کے ساتھ خداکےحضوردعا کریں۔ جن لوگوں کوتوفیق ہو وہ کل کےدن روزہ بھی رکھیں تاکہ آج کی رات نمازوں اوردعاؤں کے ساتھ کل کا دن بھی دعا اور ذکرالٰہی میں گزرے اس تقریر کے دوران لوگ بہت روئے۔

رات کوعلم ہوا کہ منکرین خلافت کے لیڈرمولوی محمدعلی صاحب ایم اے نے حضرت خلیفہ اوّل کی وفات سے قبل ہی 21،20 صفحات پرمشتمل ایک رسالہ ‘‘ایک نہایت ضروری اعلان’’کےعنوان سے چھپواکرتیاررکھا ہواتھا۔جس میں لکھاتھاکہ جماعت میں خلافت کے نظام کی ضرورت نہیں بلکہ انجمن کاانتظام ہی کافی ہے۔ البتہ غیراحمدیوں سے بیعت لینے کے غرض سے اورحضرت خلیفہ اول کی وصیت کے احترام میں کسی شخص کو بطورامیرمقرر کیاجاسکتاہے۔ مگریہ شخص جماعت یاصدرانجمن کا مطاع نہیں ہوگا۔یہ رسالہ قبل ازوقت قادیان سے دورمقامات میں بھجوایاگیاتھا۔ لہذااِس کے جواب میں قادیان میں حاضرالوقت احمدیوں کیلئےخلافت کی ضرورت پر فوری ایک مختصرسا نوٹ تیارکیاگیا۔جس میں یہ تحریرکیاگیاتھاکہ جماعت میں اسلام کی تعلیم اورحضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی وصیت کےمطابق خلافت کانظام ضروری ہے۔جس طرح حضرت خلیفہ اوّل جماعت کے مطاع تھے اسی طرح آئندہ خلیفہ بھی مطاع ہوگا۔غرض یہ رات بہت سے مخلصین نے انتہائی کرب اوراضطراب سے گزاری۔

جبکہ پیغامیوں نے اس خیال سے کہ جماعت کے لوگ خلافت کو کسی طرح چھوڑ نہیں سکتے یہ تجویز کیا کہ کوئی اورخلیفہ بنالیا جائے اوراس کے لئے سیالکوٹ کے ایک صوفی منش دوست میر عابد علی عابد کا انتخاب کیا گیا۔ پیغامیوں کا یہ خیال تھا کہ چونکہ میر صاحب صوفی منش اور عبادت گزار آدمی ہیں اس لئے الوصیت کے مطابق چالیس آ دمیوں کا ان کی بیعت پر متفق ہو جا نا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ چنانچہ مولوی صدرالدین صاحب اوربعض دوسرے لوگ رات کے وقت ان کے پاس گئے اوراپنے آ نے کی غرض بیان کی جس پر وہ آمادہ ہوگئے۔ اس کے بعد وہ پیغامی ہری کین لیکر ساری رات قادیان میں دو ہزار احمدیوں کے ڈیروں پر پھر تے رہے، لیکن چالیس آدمی تو ایک طرف وہ کسی ایک آ دمی کو بھی میر صاحب کی بیعت پر آمادہ نہ کر سکے اور جب انہیں میر صاحب کی بیعت کے لئے چالیس آ دمی بھی نہ ملے تو وہ مایوس ہو گئے۔

(خلافت کی اہمیت و برکات ازمحمد الیاس منیر، جرمنی)

الغرض دوسرے دن فریقین میں ایک آخری سمجھوتہ کی کوشش کے خیال سے نواب محمدعلی خان صاحب کی کوٹھی پر ہردوفریق کے چند زعماء کی میٹنگ ہوئی۔جس میں مولوی محمدعلی صاحب اوران کے رفقاء اوردوسری طرف حضرت مرزا بشیر الدین محمودصاحب اورمویدین خلافت شامل ہوئے۔اس میں سجھایاگیاکہ مؤمنوں کی کثرت رائےسے جوبھی خلیفہ منتخب ہوگا۔خواہ وہ کسی پارٹی کاہو ہم سب دل وجان سے اس کی خلافت کوقبول کریں گےمگر منکرین خلافت کسی بھی طرح نظام خلافت کےقبول کرنےکیلئے آمادہ نہ ہوئے۔

قبل اس کے کہ انتخاب خلافتِ ثانیہ کی اصل روئیدادپیش کروں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی ایک عظیم الشان پیشگوئی پیش کرناچاہتاہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں:
’’دوسراطریق انزالِ رحمت کا ارسال مرسلین ونبیین وائمہ واولیاء وخلفاء ہے تاان کی اقتداوہدایت سے لوگ راہ راست پرآجائیں…سوخداتعالیٰ نے چاہاکہ اِس عاجزکی اولادکے ذریعہ یہ دونوں شق ظہورمیں آجائیں. .. دوسری قسم رحمت کی جوابھی ہم نے بیان کی ہے اس کی تکمیل کیلئے خداتعالیٰ دوسرابشیربھیجےگا…اورخداتعالیٰ نے اس عاجزپرظاہرکیاہے کہ ایک دوسرابشیرتمہیں دیاجائےگا جس کا نام محمودبھی ہے وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا۔‘‘

(سبز اشتہار صفحہ 17 حاشیہ)

آج اِ س الٰہی پیشگوئی کے ظہورکاروح پروروقت آپہنچاتھا۔

حضرت خلیفہ اوّلؓ نےمؤرخہ 5؍ مارچ 1910ءکو مسجدنورکی بنیاد رکھی اور ایک کمرہ تیار ہونے کے بعد 23 ؍اپریل 1910ءکوعصرکی نمازپڑھاکرحضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے اس کاافتتاح فرمایا۔ بعدمیں مسجدکےسامنے ایک وسیع صحن تیارکیاگیاتھا۔1913ءتا1923ء اسی صحن میں جلسہ سالانہ قادیان منعقدہوتارہا۔ تقسیم ملک کےبعدحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی قادیان آمدکےپیش نظراللہ تعالیٰ نے خاص فضل فرمایااور 1990ءمیں یہ مسجددوبارہ کھولی گئی۔ خاکساراُس وقت مدرسہ احمدیہ میں دوسرےسال کاطالب علم تھا۔مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ کرام کی نگرانی میں طلباء آکر وقارعمل کئے۔اس مسجدکی صفائی کے بعد دوبارہ اِس مسجدمیں باجماعت نمازوں کی ادائیگی کاآغازہوا۔

اسی مسجدنورمیں 14؍ مارچ 1914ء کوبروزہفتہ عصرکی نمازکے بعد سب حاضر الوقت احمدی خلافتِ ثانیہ کے انتخاب کیلئے جمع ہوئے تومنکرینِ خلافت بھی اس مجمع میں روڑا اٹکانے کی غرض سے موجودتھے۔اس دو اڑھائی ہزار کے مجمع میں سب سے پہلےحضرت نواب محمدعلی خان صاحب نے خلیفہ اوّلؓ کی وصیت پڑھ کرسنائی۔جس میں جماعت کو ایک ہاتھ پر جمع ہوجانے کی نصیحت تھی۔ اس پر ہر طرف سے‘‘حضرت میاں صاحب’’،‘‘حضرت میاں صاحب’’ کی آوازیں بلند ہوئیں اورانہی آوازوںکی تائیدمیں مولاناسیدمحمداحسن صاحب امروہی نے کھڑےہوکر تقریر کی جس میں خلافت کی ضرورت واہمیت بتاکر تجویزکی کہ حضرت خلیفہ اوّلؓ کے بعد میری رائے میں ہم سب کو حضرت مرزا بشیرالدین محموداحمدصاحب کےہاتھ پر جمع ہوجاناچاہئے کہ وہی ہررنگ میں اس مقام کے اہل اور قابل ہیں۔ اس پر سب طرف سے حضرت مرزابشیرالدین محموداحمد صاحب کےحق میں آوازیں اٹھنے لگیں اور سارے مجمع نے بالاتفاق اورباصرار کہاکہ ہم ان ہی کی خلافت کوقبول کرتے ہیں۔ مولوی محمدعلی صاحب نے مولوی محمداحسن صاحب کے تقریرکے دوران میں کچھ کہناچاہااوراپنے دونوں ہاتھ اوپراٹھاکرلوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کی ناکام کوشش کی۔

حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحب قادیانیؓ کی روایت ہے کہ مولانا سید محمداحسن صاحب کی تقریرکے فوراًبعد ہی ایک طرف جناب مولوی محمدعلی صاحب اوردوسری طرف سیدمیرحامدشاہ صاحب کھڑےہوئے۔ دونوں کچھ کہناچاہتے تھے۔ مگر سیدصاحب کہتے پہلے مَیں کہوں گا اورمولوی محمدعلی صاحب کہتے تھے پہلے مَیں بات کروں گا۔اس طرح ایک مجادلہ کی صورت بن گئی۔ایسے میں حضرت عرفانی کبیرصاحب نے جرأت کرتےہوئے عرض کیاکہ ان جھگڑوں میں یہ قیمتی وقت ضائع نہیں ہوناچاہئے۔ ہمارے آقاحضور!ہماری بیعت قبول فرمائیں۔ لوگ بے اختیار لبیک لبیک کہتے ہوئےآگے بڑھے۔

بہرحال لوگوں نے مولوی محمدعلی صاحب کو یہ کہہ کرروک دیاکہ جب آپ خلافت کےہی منکرہیں تواس موقعہ پر ہم آپ کی کوئی بات نہیں سن سکتے اوراس کے بعد مومنوں کی جماعت نے اس جوش اور ولولہ کے ساتھ حضرت مرزابشیرالدین محمود احمدصاحب کی طرف رخ کیا کہ اس کا نظارہ کسی دیکھنے والےکو نہیں بھول سکتا۔ لوگ چاروں طرف سے بیعت کیلئے ٹوٹے پڑتےتھے اور یوں نظرآتاتھا کہ خدائی فرشتے لوگوں کے دلوں کو پکڑ پکڑ کر منظورایزدی کی طرف کھینچےلارہے ہیں۔اُس وقت ایسی چہل پہل اورجوش کا یہ عالم تھا کہ لوگ ایک دوسرے پرگررہے تھے اوربچوں اورکمزورلوگوں کے پس جانے کاڈرتھااور چاروں طرف سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ ہماری بیعت قبول کریں۔ ہماری بیعت قبول کریں۔ حضرت مرزابشیرالدین محمود احمدصاحب نے چند لمحات کے تامل کے بعد جس میں ایک عجیب قسم کا پرکیف عالم تھا لوگوں کے اصرارپراپناہاتھ بڑھایااور بیعت لینی شروع کی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ خوداس کیفیت کااظہارکرتےہوئےفرماتے ہیں:
’’مجھے بیعت کے الفاظ یادنہ تھے اورمَیں نے اس بات کا عذر بناناچاہا….اس پر مولوی سرورشاہ صاحب نے کہامَیں الفاظِ بیعت دہراتاجاؤں گا آپ بیعت لے لیں۔تب مَیں نے سمجھا کہ خداتعالیٰ کا یہی منشا ہے اوراس کےمنشا کوقبول کیااورلوگوں سے بیعت لی۔ ‘‘

(آئینہ صداقت صفحہ 190-191)

چنانچہِ اس موقعہ پریکلخت مجلس پر سناٹاچھاگیا اور جولوگ قریب نہیں پہنچ سکتے تھے انہوں نے اپنی پگڑیاں پھیلا پھیلاکر اورایک دوسرے کی پیٹھوں پرہاتھ رکھ کر بیعت کے الفاظ دہرائے۔ بیعت شروع ہوجانے کے بعد مولوی محمدعلی صاحب اوران کے رفقاء اِس مجمع سے حسرت کے ساتھ رخصت ہوکر اپنی فرودگاہ کی طرف چلے گئے۔ دو اَڑھائی ہزارکے مجمع میں، صرف پچاس کے قریب آدمی بیعت میں شامل نہ ہوئے اور باقی سب نے بیعت کرلی۔ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ

یہاں یہ ذکرخالی از فائدہ نہ ہوگاکہ آج صبح کےوقت مسجدمیں مولوی محمدعلی صاحب نے تقریر کرتےہوئے کہاتھا اگر مَیں نے بدنیتی سے ٹریکٹ لکھاتھاتوخدامجھے پکڑے،مجھے ہلاک کرے،مجھے ذلیل کردے۔ایک عرصہ سے صدرانجمن احمدیہ کےسیکرٹری ہونےکی وجہ سے موصوف جماعت کے معززین میں شمارہوتےتھے۔ لیکن خداکی قدرت اُسی روزعصر کی نماز کے بعد اسی جماعت کے مجمع میں ایک شور بلندہوتاہے کہ ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے۔ صبح کی بددعاکے بعد ایسے مجمع میں اس واقعہ کا پیش آنا اگر الٰہی شہادت نہیں تو اور کیا ہے؟

الٰہی منشاء کے تحت بیعت کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے لمبی دعاکروائی۔ جس میں سب لوگوں پررقت طاری تھی۔بعدازاں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس مجمع میں کھڑےہوکر ایک دردانگیز تقریرفرمائی جس میں جماعت کو اس کے نئے عہدکی ذمہ داریاں بتاکر آئندہ کام کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا:
’’حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحبؓ ان کا درجہ اعلیٰ علیین میں ہو اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے… پس جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اورروحانی طورپرترقی کرتارہے گا….ہم تھوڑے ہیں اوراسلام کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔مگراللہ تعالیٰ کے فضل اورکرم اورغریب نوازی پرہماری امیدیں بے انتہاء ہیں۔تم نے یہ بوجھ مجھ پر رکھاہے۔توسنو! اِس ذمہ داری سے عہدہ برآہونے کیلئے میری مددکرواوروہ یہی ہے کہ خداتعالیٰ سے فضل اورتوفیق چاہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمانبرداری میں میری اطاعت کرو… اگراطاعت اورفرمانبرداری سے کام لوگے اور اس عہدکومضبوط کروگے تویادرکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہماری دستگیری کرےگا۔‘‘

(الفضل مارچ 1914ء)

اس بیعت،دعا اورتقریرکے بعدلوگوں کی طبیعتوں میں کامل سکون تھا اوران کے دل اس طرح تسلی پاکر ٹھنڈے ہوگئےتھے جس طرح کہ ایک گرمی کے موسم کی بارش، جھلسی ہوئی زمین کو ٹھنڈاکردیتی ہے۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا (النور:56)کے مطابق اللہ تعالیٰ کا وعدہ عظیم الشان رنگ میں پوراہوا۔ روح القدس نے آسمان سے احباب جماعت کے دلوں میں سکینت نازل کی اورخداکے مسیح کی یہ بات ایک دفعہ پھرپوری ہوئی۔’’مَیں خداکی ایک مجسم قدرت ہوں اورمیرےبعد بعض اوروجودہوں گے جودوسری قدرت کامظہرہوں گے۔‘‘

(الوصیت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ306)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے شمالی میدان میں قریباً دوہزار مردوں اورکئی سو عورتوں کے مجمع میں حضرت خلیفہ اوّلؓ کی نمازجنازہ پڑھائی اورپھر حضورکی معیت میں مخلصین کایہ بھاری مجمع جس کے ہرمتنفس کادل رنج وخوشی، مسرت وملال کے دوہرے جذبات کا مرکزبناہواتھا حضرت خلیفہ اول کی نعش مبارک کو لے کربہشتی مقبرہ قادیان کی طرف روانہ ہوااوروہاں پہنچ کر اس مبارک انسان کے مبارک وجود کوڈھیرساری دعاؤں کے ساتھ اس کے آقاومحبوب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کےپہلومیں ہمیشہ کیلئے سلادیا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعدمیں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے انتخاب خلافت کیلئے ایک کمیٹی مقررفرمائی اور قواعدمرتب کرکےممبران کی تعیین فرمائی۔ خلافت رابعہ کے دور میں 1984ء اور 1996ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی منظور ی سے ان قوانین میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں لیکن بنیادی طور پر انہی قوانین کے تحت خلافت ثالثہ، خلافت رابعہ اور پھر خلافت خامسہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ یہ حضرت مصلح موعود ؓ کایہ ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے کہ حضور کا قائم فرمودہ انتخاب خلافت کا نظام بہت بابرکت ثابت ہوا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ بڑے پُر شوکت الفاظ میں فرماتے ہیں:
’’اب آئندہ ان شاء اللّٰہ خلافت احمدیہ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو گا۔ جماعت بلوغت کے مقام پر پہنچ چکی ہے خدا کی نظر میں اور کوئی دشمن آنکھ،کوئی دشمن دل، کوئی دشمن کوشش اِس جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گی اور خلافت احمدیہ ان شاء اللّٰہ اسی شان کے ساتھ نشو و نما پاتی رہے گی جس شان کےساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وعدے فرمائے ہیں کہ کم از کم ایک ہزار سال تک یہ جماعت زندہ رہے گی۔‘‘

(خطبہ جمعہ 18؍ جون 1982ء خطبات طاہر جلد1صفحہ 18)

خلیفہ بھی ہے اورموعودبھی مبارک بھی اورمحمودبھی
لبوں پرترانہ ہے محمودکا زمانہ، زمانہ ہے محمودکا

(حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ)

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
’’پس کامیابی اسے ملتی ہے جو اپنے آ پ کو پوری طرح خلافت کے ساتھ وابستہ رکھتا ہے، کامیابی اسے ملتی ہے جو اپنا سب کچھ خلافت پرنثار کردیتا ہے۔ کامیابی اسے ملتی ہے جو خلیفۂ وقت کی دعائیں حاصل کرتا ہے کیونکہ ’’ اللہ تعالیٰ جب کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اسکی دعاؤں کی قبولیت کو بڑھا دیتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اسکے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے۔‘‘

(منصب خلافت صفحہ 32)

دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خلافت سے وفاکاتعلق قائم رکھنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین

(حافظ سیدرسول نیاز۔ مربی سلسلہ نشرو اشاعت قادیان)

پچھلا پڑھیں

اسلام پردہ سے مراد جیل میں ڈالنا نہیں لیتا۔ گھر کی چاردیواری میں عورت کو بند کرنا اس سے مرادنہیں ہے۔ ہاں حیا کو قائم کرنا ہے

اگلا پڑھیں

نیک عمل کرو تا اللہ کی رضا حاصل ہو