• 5 اگست, 2020

خطبہ جمعہ صحابہ حضرت مسیح موعودؑ کے بیعت کے ایمان افروز واقعات

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

فرمودہ مورخہ 24؍اگست 2012ء بمطابق24؍ ظہور1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح۔ مورڈن۔ لندن

صحابہ حضرت مسیح موعودؑ کے بیعت کے ایمان افروز واقعات

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۔اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج مَیں صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیعت کے واقعات پیش کروں گا۔ خاص طور پر عرب احمدیوں کی طرف سے اس بات کا اکثر مطالبہ اور اظہار ہوتا ہے کہ ہمیں صحابہ کے واقعات سنائیں کیونکہ اُن کے ہر واقعہ کے ساتھ ہمیں جہاں صحابہ کے اخلاص و وفا اور قربانیوں اور احمدیت قبول کرنے کے بعد مشکل حالات سے گزرنے کا پتہ چلتا ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس کی صحبت بھی میسر آ جاتی ہے۔ کسی بھی عنوان کے تحت کوئی بھی واقعہ ہو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے اعلیٰ پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجالس کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے۔ ہمارے سامنے یہ صحابہ بھی اس زمانے میں نمونہ ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو آخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ: 4) کے براہِ راست اور حقیقی مصداق ہیں۔ اس زمانے میں ان لوگوں نے ہمارے لئے روحانی منازل کو طے کرنے کے راستے اپنا نمونہ قائم کر کے آسان کئے ہیں، یا پیش کئے ہیں۔ پس یہ واقعات اُن خاندانوں کے لئے بھی اہم ہیں جن کے یہ بزرگ تھے اور قابلِ تقلیدنمونہ ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ ہر آنے والے احمدی کے ایمان میں ترقی اور استقامت کا نمونہ ہیں۔ اس لئے نو مبائعین بھی خاص طور پر اس کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر جیسا کہ مَیں نے کہا اس ذریعہ سے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کا بھی پتہ چلتا ہے جو ہمارے ایمان کو جِلا بخشتا ہے۔

پہلی روایت حضرت نظام الدین صاحبؓ کی ہے۔ یہ پہلے بھی ایک دفعہ اَور رنگ میں بیان ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ ہم اہلحدیث اپنے آپ کو متقی اور ہر ایک حرام اور جھوٹ سے پرہیز کرنے والا خیال کرتے تھے۔ ایک دفعہ مارچ کا مہینہ تھا۔ غالباً 1902ء کا ذکر ہے۔ ہم چند اہلحدیث جہلم سے لاہور بدیں غرض روانہ ہوئے کہ چل کر انجمن حمایت اسلام لاہور کا جلسہ دیکھیں جو سال کے سال ہوا کرتا تھا۔ ہم لاہور پہنچ کر جلسہ گاہ جا رہے تھے کہ پنڈال کے باہر دیوار کے ساتھ ایک مولوی صاحب کھڑے ہوئے وعظ فرما رہے تھے۔ ایک ہاتھ میں قرآنِ مجید تھا، دوسرے ہاتھ سے چھوٹے چھوٹے اشتہارات بانٹ رہے تھے اور منہ سے یہ کہتے جاتے تھے کہ مرزا نعوذ باللہ کوڑھی ہو گیا ہے اس لئے کہ نبیوں کی ہتک کرتا تھا اور خود کو عیسیٰ کہتا تھا۔ اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی قسم اُٹھا کر یہی الفاظ مذکورہ بالا دہراتا جاتا تھا۔ کہتے ہیں ہم یہ سن کر حیران ہو گئے اور اپنے دل میں کبھی وہم بھی نہ گزرا تھا کہ کوئی شخص اس قدر بھی جرأت کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر جھوٹ بولتا ہے اور قرآنِ مجید اُٹھا کر جھوٹ بولتا ہے۔ کہتے ہیں ہم تین آدمی تھے۔ مَیں نے اس سے اشتہار لے لیا اور پڑھنے لگا۔ اس پر بھی یہی مضمون تھا کہ نعوذ باللہ مرزا کوڑھی ہو گیا، نبیوں کی ہتک کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ چلو قادیان چلیں۔ (اللہ تعالیٰ نے ان کو سیدھے راستے پر لانا تھا، بیعت کا موقع دینا تھا، تو یہ مولوی کا اعلان ہی تھا جو ان کے لئے قادیان جانے کا ذریعہ بن گیا) تا کہ مرزا صاحب کا حال آنکھوں سے دیکھ کر اپنے شہر کے مرزائیوں کو کہیں گے جو ہر روز ہمارے ساتھ گفتگو کرتے رہتے ہیں اور جو اعتراض ہمارے علماء کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہارے چودھویں صدی کے علماء جھوٹ بولتے ہیں۔ (یعنی احمدی یہ کہتے ہیں۔) ہمارا بیان تو چشمدید ہو گا اور پھر ہم اس طرح احمدیوں کو خوب جھوٹا کریں گے۔ (کہتے ہیں) میرے ساتھیوں نے پہلے تو انکار کیا مگر میرے زور دینے پر پھر راضی ہو گئے۔ ہم تینوں لاہور سے سوار ہوئے۔ بٹالہ گئے اور وہاں سے عصر اور شام کے درمیان قادیان پہنچ گئے۔ مہمان خانہ میں گئے، مغرب کی نماز کا وقت قریب تھا تو مَیں نے کسی سے پوچھا کہ مرزا صاحب جہاں نماز پڑھتے ہیں وہ جگہ ہمیں بتاؤ کہ ہم اُن کے پاس کھڑے ہو کر اُن کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک شخص شاید وہی تھا جس سے ہم نے پوچھا تھا میرے ساتھ ہو لیا اور وہ جگہ بتائی جہاں حضور کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ چونکہ وقت قریب ہی تھا مَیں وہیں بیٹھ گیا جہاں حضور نے میرے ساتھ داہنے ہاتھ آ کر کھڑا ہونا تھا، باقی دونوں دوست میرے داہنے ہاتھ کی طرف بیٹھ گئے۔ یہ مسجد حضور کے گھر کے ساتھ ہی تھی جس کو اب مسجد مبارک کہتے ہیں۔ یہ اُس وقت اتنی چھوٹی ہوتی تھی کہ بمشکل اس میں چھ یا سات صفیں لمبائی میں کھڑی ہو سکتی تھیں (یعنی چھ سات صفیں بنتی تھیں ) اور ایک صف میں قریباً چھ آدمی سے زیادہ نہیں کھڑے ہو سکتے تھے، یعنی پینتیس چالیس آدمی کی جگہ تھی۔ کہتے ہیں چند منٹ کے بعد مغرب کی اذان ہوئی اور پھر چند منٹ بعد حضرت اقدس تشریف لے آئے۔ ہمارے قریب ہی دروازہ تھا اس میں سے حضور نکل کر میرے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم آگے کھڑے ہو گئے۔ مؤذن نے تکبیر شروع کر دی۔ تکبیر کے ختم ہونے تک مَیں نے حضور کے پاؤں سے لے کر سر تک سب اعضاء کو دیکھا۔ حتی کہ سرِ مبارک کے بالوں اور ریش مبارک کے بالوں پر جب میری نگاہ پڑی تو میرے دل کی کیفیت اور ہو گئی۔ مَیں نے دل میں کہا کہ الٰہی! اس شکل اور صورت کا انسان میں نے آج تک کبھی نہیں دیکھا۔ بال کیا تھے؟ جیسے سونے کی تاریں تھیں اور آنکھیں خوابیدہ، گویا ایک مکمل حیا کا نمونہ پیش کر رہی تھیں۔ ہاتھ اور پیروں کی خوبصورتی علیحدہ دل کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ اسی عالم میں محو تھا کہ الٰہی یہ وہی انسان ہے جس کو ہمارے مولوی جھوٹا اور نبیوں کی ہتک کرنے والا بتاتے ہیں۔ میں اسی خیال میں غرق تھاکہ امام نے اللہ اکبر کہا اور نماز شروع ہو گئی۔ گو مَیں نماز میں تھا مگر جب تک سلام پھِرا مَیں اس حیرانی میں رہاکہ الٰہی! وہ ہمارا مولوی جس کی داڑھی بڑھی ہوئی اور شرعی طور پر لبیں تراشی ہوئیں، قرآنِ مجید کو ہاتھ میں لئے ہوئے قسمیں کھا رہا ہے اور سخت توہین آمیز الفاظ میں حضور کا نام لے لے کر کہہ رہا ہے کہ مرزا نعوذ باللہ کوڑھی ہو گیا۔ اسی خیال نے میرے دل پر شبہ اور شکوک کا ایک اور دریا پیدا کر دیا۔ کبھی تو دل کہتاکہ قرآن اٹھا کر اور خدا کی قسم کھا کر بیان کرنے والا کبھی جھوٹ کہہ سکتا ہے؟ (یعنی ایسا تصور ہی نہیں تھا کہ اُن کے مولوی کیا کچھ کہہ سکتے ہیں۔) شاید یہ شخص جو نماز میں کھڑا ہے مرزا نہ ہو کوئی اَور ہو۔ نئے آدمیوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایسا کیا جاتا ہو۔ اور پھر جس وقت حضور کی صاف اور سادہ نورانی شکل سامنے آئی تو دل کہتا کہ کہیں وہ قسم اُٹھانے والا دشمنی کی وجہ سے جھوٹ نہ بول رہا ہو کہ لوگ سن کر قادیان کی طرف نہ جائیں۔ خیر نماز ہو گئی۔ حضور شاہ نشین پر بیٹھ گئے۔ اول تو آواز دی کہ مفتی صاحب ہیں تو آگے آ جاویں۔ جب مفتی صاحب آگے آئے تو پھر حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب کہاں ہیں؟ میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الاول مولوی نور الدین صاحب سب سے آخری صف میں سے اُٹھ کر تشریف لائے۔ حضور نے باتیں شروع کر دیں جو طاعون کے بارے میں تھیں۔ فرمایا ہم نے پہلے ہی لوگوں کو بتا دیا تھا کہ مَیں نے فرشتوں کو پنجاب میں سیاہ رنگ کے پودے لگاتے دیکھا اور پوچھاکہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا یہ طاعون کے درخت ہیں جو آئندہ موسم میں پنجاب میں ظاہر ہونے والے ہیں۔ مگر لوگوں نے اس پر تمسخر کیا اور کہاکہ طاعون ہمیشہ سمندر کے کناروں تک رہی، اندر ملک میں وہ کبھی نہیں آئی۔ مگر اب دیکھو کہ وہ پنجاب کے بعض شہروں میں پھوٹ پڑی ہے۔ غرض عشاء تک حضور باتیں کرتے رہے۔ عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے۔ ہم بھی آ کر سو رہے۔ آپس میں باتیں کرتے رہے کہ یہ کیا بھید ہے؟ ہمارا مولوی تو قرآن اُٹھا کر اور خدا کی قسم کھا کر کہتا تھا اور یہاں معاملہ برعکس نکلا۔ خیر صبح ہم لوگ اٹھے تو ارادہ یہ ہوا کہ مولوی نور الدین صاحب سچ بولیں گے، ان سے دریافت کرتے ہیں کہ یہی مرزا صاحب ہیں یا کوئی اَور۔ جب اُن کے مطب میں گئے تو ایک مولوی صاحب نے اعتراض پیش کیا کہ پہلے جتنے نبی ولی گزرے ہیں وہ تو کئی کئی فاقوں کے بعد بالکل سادہ غذا کھاتے تھے اور مرزا صاحب سنا ہے کہ پلاؤ زردہ بھی کھاتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اوّلؓ نے ان کو جواباً کہا کہ مولوی صاحب! مَیں نے قرآنِ مجید میں زردہ اور پلاؤ کو حلال ہی پڑھا ہے۔ اگر آپ نے کہیں دیکھا ہے کہ حرام ہے تو بتا دیں۔ اس مولوی نے تھوڑی دیر جوسکوت کیا تو مَیں نے جھٹ وہ اشتہار نکال کر مولوی صاحب کے آگے رکھا کہ ہمارا ایک مولوی قَسم بھی قرآن کی اُٹھا کر کہتا تھا کہ مرزا نعوذ باللہ کوڑھی ہو گئے ہیں اور ہم کو جو بتایا گیا ہے کہ یہی مرزا صاحب ہیں وہ تو تندرست ہیں۔ آپ بتائیں کہ یہی مرزا صاحب ہیں جن کو ہم نے نماز میں دیکھا ہے یا کوئی اَور۔ تو خلیفہ اوّلؓ نے بھی جھٹ جیب میں ہاتھ ڈال کر وہی اشتہار نکال کر بتلایاکہ دیکھو ہم کو تمہارے مولویوں نے یہ اشتہار روانہ کیا ہے۔ اب یہ مرزا ہے اور وہ تمہارے مولوی جس نے قرآن ہاتھ میں پکڑ کر جھوٹ بولا۔ جس کو چاہو سچا مان لو۔ بس پھر کیا تھا میرے آنسو نکل گئے۔ مَیں نے دل میں کہا کہ کمبخت اب بھی تُو بیعت نہ کرے گا۔ واقعی یہ مولوی زمانے کے دجّال ہیں۔ ہم تینوں نے ظہر کے وقت حضور کی خدمت میں عرض کی کہ ہم کو بیعت میں لے لیں۔ حضور نے کہا جلدی مت کرو۔ کچھ دن ٹھہرو۔ ایسا نہ ہو کہ پھر مولوی تم کو پھسلاویں اور تم زیادہ گناہگار ہو جاؤ۔ مَیں نے رو رو کر عرض کی کہ حضور! مَیں تو اب کبھی پھسلنے کا نہیں۔ خیر دوسرے روز ہم تینوں نے بیعت کر لی اور گھر واپس آگئے۔

(ماخوذ ازروایت حضرت نظام الدین ٹیلرصاحبؓ رجسٹرز روایات صحابہ (غیرمطبوعہ) رجسٹر نمبر 5صفحہ 45تا 49)

حضرت میاں عبدالعزیز صاحبؓ کی روایت ہے کہ’’جب 1891ء میں میری تبدیلی حلقہ سیکھواں میں ہوئی اور میاں جمال الدین صاحب اور میاں امام الدین صاحب و میاں خیر دین صاحب سے واقفیت ہوئی تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کا ذکر کیا تو چونکہ میرے دل میں حضور کی نسبت کوئی بغض اور عداوت نہ تھا، مَیں نے اُن کے کہنے کو بُرا نہ منایا۔ صرف یہ خیال آیا کہ مولوی لوگ کیوں ایسا کہتے ہیں؟اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ خاکسار کے آباؤ اجداد اکثر مولوی لوگوں سے بوجہ اپنے دیندار ہونے کے محبت رکھا کرتے تھے اور یہی وجہ خاکسار کی بھی مولویوں سے ان کی بات ماننے کی تھی۔ کہتے ہیں انہوں نے (یعنی میاں امام دین وغیرہ نے) جب مجھے کتاب ازالہ اوہام دیکھنے کو دی تو مَیں نے کتاب دیکھنے سے پہلے دعا کی کہ خدا وندا! مَیں بالکل نادان اور بے علم ہوں۔ تیرے علم میں جو حق ہے اُس پر میرے دل کو قائم کر دے۔ یہ دعا ایسی جلد قبول ہوئی کہ جب مَیں نے ازالہ اوہام کو پڑھنا شروع کیا تو اس قدر دل کو اطمینان اور تسلی شروع ہوئی کہ حضور کی صداقت میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا اور زیادہ سے زیادہ ایمان بڑھتا گیا۔ اور جب پھر مَیں پہلی بار قادیان میں حضور کی زیارت کو میاں خیرالدین کے ساتھ آیا اور حضور کی زیارت کی تو میرے دل نے ایسی اطمینان اور تسلی کی شہادت دی کہ یہ شکل جھوٹ بولنے والی اور فریب والی نظر نہیں آتی۔ چنانچہ اُس وقت مَیں نے میاں خیرالدین صاحب کو کہا کہ اوّل تو مَیں نے حضور کی نسبت کوئی لفظ بے ادبی اور گستاخی کا کبھی نہیں کہا اور اگر خدا نخواستہ کبھی ایسا ہو گیا ہو تو مَیں توبہ کرتاہوں۔ یہ شکل جھوٹ بولنے والے کی نہیں‘‘۔

(روایت حضرت میاںعبدالعزیزصاحبؓ رجسٹرز روایات صحابہ (غیرمطبوعہ) رجسٹر نمبر 5صفحہ 69)

اور یہی پھر ان کی بیعت کا ذریعہ بن گئی۔ اصل چیز یہی نیک نیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی جائے اور اسی کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا ارشاد فرمایا ہے کہ میری کتابیں نیک نیتی سے پڑھو۔ پڑھتے تو یہ مولوی لوگ بھی ہیں لیکن اعتراض کرنے کے لئے اور ان کے ذہنوں میں سوائے گندی ذہنیت کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ جب قرآن کریم بھی یہ دعویٰ کرتا ہے، اعلان کرتا ہے کہ اس کی سمجھ پاک ہونے والوں کو ہی آئے گی تو پھر باقی اور کسی کتاب کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ بہرحال ان مولویوں کا یہ حال جو آج سے سو سال پہلے یا ڈیڑھ سو سال پہلے یا ہمیشہ سے تھا وہ آج بھی ہے۔

حضرت ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’میری عمر قریباً اٹھارہ یا انیس برس کی تھی جبکہ دسمبر 1903ء میں خواب میں مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کی۔ اس سے پہلے مَیں نے حضور کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ حضور نے دریافت فرمایا کہ تم کس کے مرید ہو؟ مَیں نے عرض کیا کہ جناب! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرید ہوں۔ اس کے بعد مجھے آئینہ کمالاتِ اسلام اور تریاق القلوب پڑھنے کا اتفاق ہوا جن کے مطالعہ سے میری طبیعت کا رجوع سلسلہ احمدیہ کی طرف ہوا۔ 1906ء میں مَیں نے استخارہ کیا۔ گوجرہ ضلع لائل پور میں میری ملازمت تھی۔ صبح کی نماز کے بعد مجھے کشفی طور پر عین بیداری کی حالت میں سیڑھیاں دکھائی گئیں۔ ہر ایک سیڑھی پر بورڈ لگا ہوا تھا۔ آخری سیڑھی کے درمیان سرخ زمین پر سفید لفظوں میں ایک بورڈ نظر آیا جس پر موٹے حروف میں لکھا ہوا تھا۔ ’’مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود‘‘۔ (کہتے ہیں) ستمبر 1907ء میں رعیہ ضلع سیالکوٹ میں اپنے سُسر کو ملنے گیا جہاں وہ جمعدار تحصیل تھے۔ میری ملاقات مکرمی حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم انچارج ہسپتال رعیہ سے ہوئی۔ اُن کے ہمراہ میں قادیان گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ظہر کی نماز کے وقت زیارت کی۔ جو حلیہ حضور کا 1903ء کی خواب میں مَیں نے دیکھا تھا، وہ حلیہ اُس وقت تھا اور کپڑے بھی ویسے تھے‘‘۔ پس یہ چیز پھر بیعت کا باعث بن گئی۔

(روایت حضرت ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحبؓ جسٹرز روایات صحابہ (غیرمطبوعہ) رجسٹر نمبر 1صفحہ33)

حضرت ملک عمر خطاب صاحبؓ سکنہ خوشاب بیان کرتے ہیں کہ ’’خاکسار جب سنِ بلوغت کو پہنچا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ مامور من اللہ سننے میں آیا۔ شوق پیدا ہوا کہ جس قدر جلدی ہو سکے خدمت میں پہنچ کر بیعت کا شرف حاصل کرے۔ بفضلِ ایزدی سال 1905ء میں اپنے دلی ارادے کے ماتحت قادیان پہنچا۔ ایک چھوٹی سی بستی اور کچی دیواروں کا مہمان خانہ اور چند طالبعلموں کا درس جس کی تدریس مولانا حضرت حکیم نور الدین اعظم رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، نظر سے گزرے۔ یہ قادیان کا نقشہ کھینچ رہے ہیں۔ چھوٹی بستی ہے، کچی دیواروں کا مہمان خانہ ہے، چند طالبعلم ہیں اور اُس وقت حضرت مسیح موعود کا دعویٰ پہنچا۔ (کہتے ہیں اس قدردعویٰ اور موجودہ بستی پر حیرانگی کا ہونا ممکنات سے تھا۔ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس قدر بڑا دعویٰ ہے اور بستی کی یہ حالت ہے۔ اس پر حیرانگی ہوئی۔ یہ تو ظاہر ہے حیرانگی ہونی تھی کیونکہ یقین نہیں آ سکتا تھا۔ لیکن کہتے ہیں) مگر باوجود اس کے قلب صداقت پر شاہد تھا۔ ساری چیزیں دیکھنے کے باوجود اس بات پر یقین ہو رہا تھا کہ یہ جو دعویٰ ہے وہ ضرور سچا ہے۔ کہتے ہیں کہ لبیک کہتے ہوئے بغیر ملنے مولوی صاحب موصوف کے جو ہم وطن تھے(یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے) ایک عریضہ حضور کی خدمت میں اندر بھیجا۔ اُس میں عرض ہوا کہ حضور باہر تشریف لائیں، بیعت کرنی ہے۔ (یہ لکھا کہ حضور باہر تشریف لائیں۔ مَیں نے بیعت کرنی ہے) اور آج ہی واپس جانا ہے۔ حضور نے تحریری جواب بھیجا کہ وسمہ لگایا ہوا ہے۔ ابھی ایک بجے اذان ہو گی۔ مسجد مبارک میں آ جاؤں گا۔ اسی اثنا میں دو شخص قوم سکھ مہمان خانے میں دوڑتے ہوئے آ گئے۔ وہاں سوائے خاکسار کے اور کوئی نہ تھا۔ کہنے لگے حجام کو جلدی بلوا دیں۔ کیس کٹوانے ہیں۔ یعنی اپنے بال کٹوانے ہیں اور بیعت کرنی ہے۔ خاکسار نے ناواقفی کا اظہار کیا۔ حجام کا ملنا بہت مشکل تھا۔ اس آمد کی اطلاع بھی حضور کو خاکسار نے بذریعہ عریضہ بھیجی۔ حضور نے اس پر بھی مندرجہ بالا جواب دیا۔ خاکسار نے اُن کی گھبراہٹ کی نسبت دریافت کیا تو انہوں نے بتلایا کہ ہم دونوں بھائی قادیان کے نزدیک رہنے والے ہیں اور چھاؤنی میاں میر فوج میں ملازم ہیں۔ باپ کے بیمار ہونے پر گھر آئے۔ اُن کو سخت تکلیف ہو رہی تھی۔ سکھ قوم کے ایک بزرگ نے ہمارے باپ کوکہاکہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پڑھو تاکہ تمہاری جان بحق ہو۔ ہمارے باپ نے ایسا ہی کیا اور جان بحق ہو گئے۔ ہم پر اس کا یہ اثر ہوا کہ بجائے اخیر وقت کے پہلے اس کلمہ کو پڑھ لینا چاہئے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ کیا ہوا تھا۔ دوسرے دن (ان سکھوں نے) مستورات کو اپنے ارادے کے ساتھ ملانے کے لئے کہا۔ مگر انہوں نے شور مچا دیا۔ قوم سکھ جمع ہو گئی۔ ہم نے اُن سے قادیان کی طرف فرار اختیار کیا۔ وہ ڈانگ سوٹا لئے ہمارے تعاقب کو آ رہے ہیں۔ جلدی کی ضرورت ہے۔ (خیر کہتے ہیں) اس اثنا میں اذان ہو گئی۔ خاکسار مع ان کے مسجد مبارک پہنچا۔ چھوٹی سی مسجد اس قدر بھری ہوئی تھی کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ (یہ دونوں سکھ بھائیوں کا واقعہ انہوں نے بیان کیا ہے اس کے بارہ میں مَیں نے کہا ہے کہ تحقیق کر کے پتہ کریں یہ کون تھے اور پھر احمدی ہوئے بھی کہ نہیں، بہر حال انہوں نے اپنے واقعہ میں یہ لکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب ہم مسجد پہنچے ہیں تو کہیں جگہ نہیں تھی۔) جوتیوں میں حیران کھڑا ہو گیا۔ واقفیت بھی کسی سے نہ تھی۔ معاً حضرت صاحب نے محراب والا دروازہ کھولا اور لوگ کھڑے ہو گئے۔ خاکسار لوگوں کی ٹانگوں سے گزرتا ہوا حضور کے آگے جا کھڑا ہوا۔ حضور بیٹھ گئے۔ خاکسار حضور کے آگے بیٹھ گیا۔ حضور نے پوچھا تم کون ہو؟ عرض کیا بیعت کے لئے آیا ہوں۔ عریضہ خاکسار نے بھیجا تھا۔ مولوی صاحب نے دیگر لوگوں کے لئے جو خاکسار سے پہلے بیعت کے لئے بیٹھے تھے، بیعت کرنے کو عرض کی۔ حضور نے خاکسار کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھ پر رکھ لیا اور فرمایا کہ اس بچے پر ہاتھ رکھو۔ چنانچہ حضور کے حکم کے مطابق سب نے خاکسار کی پشت پر ہاتھ رکھا۔ بیعت ہوئی۔ حضور نے دعا کی۔ پھر نماز ہوئی۔

(روایت حضرت ملک عمر خطاب صاحبؓ رجسٹرز روایات صحابہ (غیرمطبوعہ) رجسٹر نمبر3صفحہ53 تا 55)

حضرت رحمت اللہ صاحبؓ احمدی پنشنر بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چند ماہ لدھیانہ میں قیام فرمایا۔ میری عمر اُس وقت قریباً سترہ اٹھارہ برس کی ہو گی اور طالبعلمی کا زمانہ تھا۔ مَیں حضور کی خدمتِ اقدس میں گاہے بگاہے حاضر ہوتا۔ مجھے وہ نور جو حضور کے چہرہ مبارک پر ٹپک رہا تھا نظر آیا جس کے سبب سے میرا قلب مجھے مجبور کرتا کہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں ہےمگر گردونواح کے مولوی لوگ مجھے شک میں ڈالتے۔ اسی اثنا میں حضور کا مباحثہ مولوی محمد حسین بٹالوی سے لدھیانہ میں ہوا جس میں مَیں شامل تھا۔ اس کے بعد خدا نے میری ہدایت کے لئے ازالہ اوہام کے ہر دو حصے بھیجے۔ وہ سراسر نور و ہدایت سے لبریز تھے۔ خدا جانتا ہے کہ مَیں اکثر اوقات تمام رات نہیں سویا۔ اگر کتاب پر سر رکھ کر غنودگی ہو گئی تو ہو گئی، ورنہ کتاب پڑھتا رہا اور روتا رہا کہ خدایا یہ کیا معاملہ ہے کہ مولوی لوگ کیوں قرآنِ شریف کو چھوڑتے ہیں (تقویٰ ہو تو پھرانسان اس حالت میں کتاب پڑھتا ہے) کہتے ہیں خدا جانتا ہے کہ میرے دل میں شعلہ عشق بڑھتا گیا۔ مَیں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو لکھا کہ حضرت مرزا صاحب عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تیس آیات سے ثابت کرتے ہیں۔ آپ براہ مہربانی حیات کے متعلق جو آیات اور احادیث ہیں تحریر فرما دیں، اور ساتھ جو تیس آیات قرآنی جو حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں،کی تردید فرما کر میرے پاس بھجوا دیں، میں شائع کروا دوں گا۔ جواب آیا کہ آپ عیسیٰ کی حیات و ممات کے متعلق حضرت مرزا صاحب یا اُس کے مریدوں سے بحث مت کریں کیونکہ اکثر آیات وفات ملتی ہیں، یہ مسئلہ اختلافی ہے۔ اس امر پر بحث کرو کہ مرزا صاحب کس طرح مسیح موعود ہیں؟ (اس پر بحث نہ کرو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے یا زندہ ہیں، اس پر بحث کرو کہ مرزا صاحب کس طرح مسیح موعود ہیں؟ کیونکہ قرآنِ کریم تو وفاتِ مسیح کی تائید کرتا ہے۔ کہتے ہیں مَیں نے) جواب میں عرض کیا کہ اگر حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں تو حضرت مرزا صاحب صادق ہیں۔ جواب ملا کہ آپ پر مرزا صاحب کا اثر ہو گیا ہے، مَیں دعا کروں گا۔ (کہتے ہیں) جواب میں مَیں نے عرض کیا کہ آپ اپنے لئے دعا کریں۔ آخر مَیں آستانہ الوہیت پر گرا اور میرا قلب پانی ہو کر بہہ نکلا۔ گویا مَیں نے عرش کے پائے کو ہلا دیا۔ (عرض کی) خدایا مجھے تیری خوشنودی درکار ہے۔ مَیں تیرے لئے ہر ایک عزت کو نثار کرنے کو تیار ہوں اور ہر ایک ذلت کو قبول کروں گا۔ تو مجھ پر رحم فرما۔ تھوڑے ہی عرصے میں مَیں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ بوقتِ صبح قریباً چار بجے پچیس دسمبر 1893ء بروز سوموار جناب سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ تفصیل اس خواب کی یہ ہے کہ خاکسار موضع بیرمی میں نماز عصر کا وضو کر رہا تھا (یہ خواب کی تفصیل بتا رہے ہیں)۔ کسی نے آکر مجھے کہا کہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہوئے ہیں اور اسی ملک میں رہیں گے۔ مَیں نے کہا کہاں؟ اُس نے کہا یہ خیمہ جات حضور کے ہیں۔ میں جلدنماز ادا کر کے گیا۔ حضور چند اصحاب میں تشریف فرما تھے۔ بعد سلام علیکم مجھے مصافحہ کا شرف بخشا گیا۔ میں باادب بیٹھ گیا۔ حضور، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عربی میں تقریر فرما رہے تھے۔ خاکسار اپنی طاقت کے موافق سمجھتا تھا اور پھر اردو بولتے تھے۔ فرمایا میں صادق ہوں۔ میری تکذیب نہ کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ مَیں نے کہا اٰمَنَّا وَ صَدَّقنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ۔ تمام گاؤں مسلمانوں کا تھا مگر کوئی نزدیک نہیں آتا تھا۔ مَیں (خواب میں) حیران تھا کہ خدایا یہ کیا ماجرا ہے۔ آج مسلمانوں کے قربان ہونے کا دن تھا، گویا حضور کا ابتدائی زمانہ تھا، گو مجھے اطلاع دی گئی کہ حضور اسی ملک میں تشریف رکھیں گے مگر حضور نے کوچ کا حکم دیا۔ میں نے رو کر عرض کی کہ حضور جاتے ہیں۔ مَیں کس طرح مل سکتا ہوں؟ میرے شانہ پر حضور نے اپنا دستِ مبارک رکھ کر فرمایا۔ گھبراؤ نہیں ہم خود تم کو ملیں گے۔ اس خواب کی تفہیم ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب رسولِ عربی ہیں۔ مجھے فعلی رنگ میں سمجھایا گیا۔ مَیں نے بیعت کا خط لکھ دیا مگر بتاریخ 23؍دسمبر 1898ء بروز منگل قادیان حاضر ہو کر بعدنماز مغرب بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ خدا کے فضل نے مجھے وہ استقامت عطا فرمائی کہ کوئی مصائب مجھے تزلزل میں نہیں ڈال سکے اور یہ سب حضور کی صحبت کا طفیل تھا جو بار بار حاصل ہوئی اور ان ہاتھوں کو حضور کی مٹھیاں بھرنے کا یعنی دبانے کا فخر ہے۔ گو مجھے اعلان ہونے پر رنگا رنگ کے مصائب پہنچے مگر خدا نے مجھے محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اس نقصان سے بڑھ کر انعام عنایت کئے اور میرے والد اور بھائی اور قریبی رشتہ دار احمدی ہو گئے، الحمد للہ۔ لکھتے ہیں کہ اگر طوالت کا خوف نہ ہوتو مَیں چند واقعے اور تحریر کرتا اور یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ درود تاج احمدی ہونے کے بعد بھی پڑھا کرتا تھا۔ یہ بھی درود کی ایک قِسم ہے۔ انہوں نے جومختلف جو درُود بنائے ہوئے ہیں۔ میرے استاد مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی میرے بعد احمدی ہو گئے تھے۔ مجھے منع فرماتے تھے کہ شرک ہے۔ مت پڑھا کرو۔ مَیں نے کہا کہ مسیح موعود سے کہلا دو پھر چھوڑ دوں گا۔ اتفاقاً کسی جلسہ سالانہ پر خاکسار اور مولوی صاحب بھی موجود تھے۔ حضور ہوا خوری کے لئے، سیر کے لئے نکلے، مولوی صاحب نے اس موقع پر عرض کیا کہ حضور! منشی رحمت اللہ صاحب درود تاج پڑھتے ہیں، مَیں نے منع کیا کہ یہ شرک ہے۔ حضور نے میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا ہے؟ درود تاج پڑھو۔ (مجھے بتاؤ یہ کونسا درود ہے جو تم پڑھتے ہو؟) مَیں نے پڑھ کر سنایا۔ فرمایا اس میں تو شرک نہیں۔ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ اس میں یہ الفاظ ہیں۔ دَافِعُ الْبَلَآءِ وَالْوَبَآءِ وَالْقَحْطِ وَالْمَرَضِ وَالْالَم۔ تو حضور نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو لوگوں نے سمجھا نہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ حضور کا نام دَافِعُ الْبَلَآءِ وَالْوَبَآءِ ہے۔ بہت لمبی تقریر فرمائی۔ مولوی صاحب خوش ہو گئے اور فائدہ عام کے لئے تحریر کیا گیا۔ (پھر بعد میں مضمون لکھا)

(روایت حضرت رحمت اللہ صاحبؓ رجسٹرز روایات صحابہ (غیرمطبوعہ) رجسٹر نمبر 3صفحہ 58 تا 60)

حضرت سید محمود عالم صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1903ء میں میرے بڑے بھائی سید محبوب عالم پٹنہ شہر میں کسی طرف جا رہے تھے کہ دو شخص یہ کہتے ہوئے گزر گئے کہ پنجاب میں کسی شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بھائی صاحب کو بچپن سے قرآنِ شریف سے محبت ہے۔ اس لئے یہ سن کر حیران سے رہ گئے کہ پوچھوں تو کس سے پوچھوں کہ دعویٰ کیا ہے؟ کہنے والے تو چلے گئے۔ شاید اسٹیشن ماسٹر کو معلوم ہو۔ چنانچہ اُن کا خیال درست نکلا۔ (سٹیشن ماسٹر کے پاس گئے۔) نام پتہ وغیرہ دریافت کر کے مکان پر آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک خط لکھا کہ مجھے آپ کے حالات معلوم نہیں۔ صرف نام سنا ہے۔ اگر براہِ کرم اپنی تصانیف بھیج دیا کریں تو پڑھ کر واپس کر دیا کروں گا۔ چنانچہ مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کتابیں بھجواتے رہے اور بھائی صاحب پڑھ پڑھ کر واپس کرتے رہے۔ لوگوں نے اُسی وقت سے مخالفت شروع کر دی مگر بھائی صاحب نے استقلال سے کام لیا اور کچھ عرصہ بعد بیعت کر لی۔ مَیں نے بھی کچھ عرصے بعد بھائی صاحب کے ذریعے کتابیں پڑھیں اور بیعت کر لی۔ احمدیت سے کچھ عرصہ پہلے یعنی احمدیت قبول کرنے سے پہلے مَیں شہر سے گھر گیا۔ اور اتفاق سے والد صاحب کے ساتھ سویا۔ خواب میں والد صاحب کو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تیرا یہ لڑکا جو تیرے ساتھ سویا ہوا ہے۔ بہت بڑا وکیل ہو گا۔ لیکن جب احمدی ہو گیا تو اُس وقت والد صاحب سے کہا کہ آپ کے خواب کی تعبیر میرا احمدی ہونا تھا۔ (تب مَیں نے والد صاحب کو کہا۔ آپ نے جوخواب میں بڑا آدمی دیکھا تھا یہ اس طرح پوری ہوئی ہے۔) کہتے ہیں کہ ابھی دو سال کی متواتر اور خطرناک بیماری سے (کچھ عرصہ بعد یہ بیمار ہو گئے اور بڑا لمبا عرصہ دو سال کے قریب بیماری چلی، اور خطرناک بیماری تھی۔ کہتے ہیں) پوری طرح صحت یاب بھی نہیں ہوا تھا کہ قادیان جانے کا شوق بلکہ جنون پیدا ہوا۔

اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی
زخم و مرہم براہِ یار تو یکساں کردی

(کہ محبت نے ایسے آثار نمایاں کئے ہیں کہ یار کی محبت میں زخم اور مرہم برابر ہو گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ) بھائی صاحب نے اصرار کیا کہ قادیان میں خزانہ نہیں رکھا ہوا۔ (جب مَیں نے قادیان جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہاں خزانہ نہیں ہے اس لئے اگر تم نے جانا ہی ہے تو) کم از کم میٹرک کا امتحان پاس کر کے جانا تا کہ وہاں تکلیف نہ ہو۔ والدین غیر احمدی تھے، اُن سے تو کوئی امیدنہیں تھی۔ الغرض کسی نے زادِ راہ نہیں دیا۔ نہ بھائی مانا نہ والدین سے لے سکا۔ بیماری کی وجہ سے میرا جسم بہت ہی کمزور اور ضعیف ہو رہا تھا۔ مجھ میں دو چار میل بھی چلنے کی طاقت نہ تھی۔ بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک میل چلنے کی بھی طاقت نہ تھی مگر خدا تعالیٰ نے دل میں جوش ڈالا اور پیدل سفر کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ اُس وقت میں پٹنہ میں تھا۔ چلتے وقت لوگوں نے مشورہ دیا کہ والدین سے مل کر جاؤ۔ میں نے انکار کر دیا کہ ممکن ہے والدہ کی آہ و فریاد سے میری ثباتِ قدمی جاتی رہے اور قادیان جانے کا ارادہ ترک کر دوں۔ بہر حال چلا اور چلا۔ چلتے وقت ایک کارڈ حضرت مسیح موعودؑ کو لکھ دیا کہ میرے لئے دعا کی جائے۔ میرے حالاتِ سفر یہ ہیں۔ (پیسہ پاس نہیں، کمزور صحت لیکن مَیں نے سفر کا ارادہ کر لیا۔) مَیں بہت کمزور اور نحیف ہوں اور ایک کارڈ بھائی صاحب کو لکھا کیونکہ اس وقت وہ دوسری جگہ پر تھے کہ میں جا رہا ہوں۔ اگر قادیان پہنچا تو خط لکھوں گا۔ اور اگر راستے میں مر گیا تو میری نعش کا کسی کو بھی پتہ نہ لگے گا۔ (کہتے ہیں) مَیں نے سفر کے لئے احتیاطی پہلو اختیار کر لئے تھے۔ ریلوے لائن کا نقشہ رکھ لیا تھا۔ جلدی جلدی چند درسی کتب فروخت کر کے کچھ پیسے رکھ لئے تھے۔ (کہتے ہیں) مَیں کمزور بہت تھا اور مسافت دور کی تھی۔ اس لئے پچاس ساٹھ میل تک ریل کا سفر کیا تا کہ اگر صحت کی کمزوری کی وجہ سے مَیں نے کمزوری دکھائی تو لَوٹنے کی ہمت نہ ہو۔ (کیونکہ پھر ساٹھ ستر میل کا فاصلہ ہو چکا ہو گا اور لَوٹنے کی ہمت نہیں ہو گی۔ پھربجائے واپس آنے کے آگے ہی آگے چلتا رہوں گا۔ (کہتے ہیں) مَیں اس سفر میں تیس تیس میل روزانہ چلتا رہا۔ جہاں رات ہوتی ٹھہر جاتا، کبھی سٹیشن پراور کبھی گمٹیوں میں۔ پاؤں کے دونوں تلوے زخمی ہو گئے تھے۔ (یہ دعا کرتا تھا) خدایا آبرو رکھیو میرے پاؤں کے چھالوں کی۔ جب رات بسر کرنے کے لئے کسی جگہ ٹھہرتا تو شدتِ درد کی وجہ سے پاؤں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا۔ صبح ہوتی نماز پڑھتا اور چلنے کے لئے قدم اُٹھاتا تو پاؤں اپنی جگہ سے ہلتے نہیں تھے۔ باہزار دشواری انہیں حرکت دیتا اور ابتدامیں بہت آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا اور چند منٹ بعد اپنی پوری رفتار میں آ جاتا۔ پاؤں جوتا پہننے کے قابل نہیں رہے تھے کیونکہ چھالوں سے پُر تھے بلکہ چمڑہ اُتر کر صرف گوشت رہ گیا تھا (لیکن قادیان جانے کا شوق تھااس لئے چلتے چلے جا رہے تھے۔ کہتے ہیں) کہ اس لئے کبھی روڑے اور کبھی ٹھیکریاں چبھ چبھ کر بدن کو لرزا دیتی تھیں۔ کبھی ریل کی پٹڑی پر چلتا اور کبھی عام شاہراہ پر اُتر آتا۔ بڑے بڑے ڈراؤنے راستوں سے گزرنا پڑا۔ ہزاروں کی تعداد میں بندروں اور سیاہ منہ والے لنگوروں سے واسطہ پڑا جن کا خوفناک منظر دل کو ہلا دیتا۔ علی گڑھ شہر سے گزرا مگر مجھے خبر نہیں کہ کیسا ہے؟ (گزر تو گیا اُس شہر سے لیکن مجھے نہیں پتہ کیسا ہے کیونکہ میرا مقصد تو صرف ایک تھا اور مَیں چلتا چلا جا رہا تھا۔) اور کالج وغیرہ کی عمارتیں کیسی ہیں؟ البتہ چلتے چلتے دائیں بازو پر کچھ فاصلے پر سفید عمارتیں نظر آئیں اور پاس سے گزرنے والے سے پوچھا کہ یہ عمارت کیسی ہے؟ اور اُس کے یہ کہنے پر کہ کالج کی عمارت ہے، آگے چل پڑا۔ دہلی شہرسے گزرا اور ایک منٹ کے لئے بھی وہاں نہ ٹھہرا کیونکہ میرا مقصود کچھ اور تھا۔ وہاں کے بزرگوں کی زیارت میرا مقصودنہ تھا۔ اس لئے مَیں ایک سیکنڈ کے لئے بھی اپنے مقصود سے باہر نہیں ہونا چاہتا تھا۔ زخمی پیروں کے ساتھ قادیان پہنچا اور مہمان خانے میں ٹھہرا۔ چند منٹ کے بعد حضرت حافظ حامد علی صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دودھ کا ایک گلاس دیا۔ میری جیب میں پیسے نہیں تھے۔ اس لئے لینے سے انکار کر دیا۔ آخر اُن کے کہنے پر کہ خرچ سے نہ ڈریں۔ آپ کو پیسے نہیں دینے پڑیں گے۔ (دودھ پی لیں)۔ دودھ پی لیا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک کہ قادیان میں سب سے پہلی غذا دودھ ملی۔ میری موجودگی میں بہت سے لوگ آئے مگر کسی کو بھی دودھ کا گلاس نہیں دیا گیا (صرف مجھے ہی دودھ کا گلاس پیش کیا گیا۔ کہتے ہیں) مَیں اسی روز سے اب تک ہر چیز کا ناواقف ہوں۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ سے ملا۔ حضورؑ حالات دریافت کرتے رہے۔ لوگ بیعت کرنے لگے تو حضورؑ نے خود ہی مجھے بھی بیعت کے لئے کہا۔ مَیں اُس وقت حضورؑ کے پاؤں دبا رہا تھا۔ یہی ایک جنون تھا جو کام آ گیا ورنہ آج صحابیوں کی فہرست میں میرا نام کس طرح آتا؟

اے جنوں گردتو گردم کہ چہ احساں کردی

اَللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ……تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ۔ (پھر آگے بیان کرتے ہیں کہ) خلیفۂ اوّلؓ نے زخموں کا علاج کیا اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو تعلیم کے لئے مقرر کر دیا اور بعد میں خود تعلیم دیتے رہے۔ (پیروں کے جو زخم تھے اُن کا علاج حضرت خلیفہ اولؓ نے کیا اور حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ اور خلیفۃ المسیح الاولؓ پھر تعلیم دیتے رہے۔ پھر آگے لکھتے ہیں کہ مئی 1908ء میں یہ قادیان کے ہو رہے۔) مئی 1908ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لے گئے اور بعد میں حضرت خلیفہ اولؓ کو بھی بلوایا تو حضرت خلیفہ اوّلؓ مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت میں آپ کے دائیں بازو میں کھڑا تھا۔ لاہور سے جنازے کے ساتھ قادیان آیا۔ جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باغ میں لوگوں سے بیعت لی۔ مَیں اُس وقت چارپائی پر آپ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ حضرت خلیفۂ اولؓ نے اُس وقت جو تقریر کی اور حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ نے رو رو کر جو معافی مانگی وہ میرے دماغ میں اب تک گونج رہا ہے۔ بیعت کے بعد نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ پھر باغ والے مکان میں حضرت کا تابوت زیارت کے لئے رکھا گیا اور چہرے سے کپڑا اتار دیا گیا۔ لوگ مغربی دروازے سے گزر کر زیارت کرتے ہوئے مشرقی دروازے سے نکل جاتے۔

(روایت حضرت سید محمود عالم صاحبؓ رجسٹرز روایات صحابہ (غیرمطبوعہ) رجسٹر نمبر 4صفحہ 25تا 28)

تو یہ ان بزرگوں کے چند واقعات تھے جنہوں نے ایک تڑپ اور لگن سے آنے والے مسیح موعود کو مانا۔

سید محمود عالم صاحب ؓ کا جو واقعہ ہے یہ بھی دراصل حدیث میں جو آیا ہے ناں کہ گھسٹتے ہوئے گھٹنوں کے بل بھی چل کے جانا پڑے تو جانا، اُسی کی ایک شکل بنتی ہے۔ کس قدر تکلیف اُٹھائی ہے لیکن ایک عزم تھا جس سے وہ چلتے رہے اور آخر کار اپنی منزل مقصود تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات کو بلند فرماتا چلا جائے اور ہمیں بھی اپنے ایمان و ایقان میں ترقی عطا فرمائے۔ اور عامۃ المسلمین کے بھی سینے کھولے کہ وہ مسیح موعود کو پہچاننے والے ہوں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں اور یہ جو آفات آجکل ان پر ٹوٹی پڑ رہی ہیں ان سے بھی بچنے والے ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔

اب مَیں ایک افسوسناک اطلاع بتاؤں گا۔ مکرم محمد ہاشم سعید صاحب جو یہاں کے پرانے احمدی تھے، اُن کی گزشتہ دنوں سعودی عرب میں وفات ہو گئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ (حضور نے دریافت فرمایا: ان کا جنازہ آ گیا ہے) آج ہی اُن کا جنازہ پہنچا ہے۔ ابھی یہاں آیا ہے تو اَب نماز جمعہ کے بعد ان شاء اللہ تعالیٰ اُن کی نمازِ جنازہ پڑھاؤں گا۔ یہاں آتے جاتے تھے۔ بہت زیادہ سفر کرتے تھے۔ 11؍ اگست کو یہاں سے گئے ہیں اور سعودی عرب ائرپورٹ پر اترے ہیں تو وہاں اُن کو دل کی تکلیف شروع ہوئی ہے۔ سیدھے کلینک چلے گئے اور وہیں اچانک ہارٹ اٹیک ہوا اور وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 2000ء میں آپ سعودی عرب منتقل ہوئے تھے۔ اُس سے پہلے آپ یہیں تھے۔ اور متواتر کئی سال تک آپ کو وہاں بھی مختلف اہم جماعتی خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔ جماعت کے جو روٹین کے خدمات کے عہدے ہیں وہ آپ کے پاس رہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی مَیں اُن سے وہاں بعض اہم جماعتی کام لیتا رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بڑے احسن طریقے پر سب کام سرانجام دئیے۔ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ ان میں بہت صلاحیتیں تھیں۔ انتظامی امور میں بڑا درک رکھتے تھے۔ تکنیکی پیچیدگیاں جو تھیں ان کے بارے میں علم تھا۔ اُن کا دینی علم بھی بڑا تھا۔ بلکہ کہنا چاہئے زندگی کے ہر شعبہ میں ان کی ذہانت اور مہارت قابل ستایش تھی۔ لیکن انتہائی منکسر المزاج، ملنسار، شفیق، دھیمے لہجے میں بات کرنے والے عاجز انسان تھے۔ بڑے ہمدرد اور مخلص تھے اور ہر ایک سے اُن کا اخلاص کا تعلق تھا۔ چندہ جات اور مالی تحریکات میں بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے، حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دینے والے تھے۔ کسی کو ذرا سی بھی تکلیف میں دیکھتے تھے تو بے چین ہو جاتے تھے اور جب تک مددنہ کر لیتے چین نہیں آتا تھا۔ ان کا لندن میں گھر ہے۔ ان کے ایک واقفِ زندگی ہمسائے نے مجھے بتایا کہ یہاں لکڑی کی پارٹیشنز ہوتی ہیں تو آندھی طوفان سے ان کی بیچ کی دیوار گر گئی تو ایک دن وہ خود ہی آئے، انہوں نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں مَیں خود ہی آکے ٹھیک کروا دوں گا۔ اُس نے سفر پر جانا تھا تو دو دن بعد خود ہی دیوار ٹھیک کروا دی۔ بہر حال انتہائی مخلص، نافع الناس وجود تھے۔ خلافت کے شیدائی، نظامِ جماعت کی بقا اور خدمت کے لئے عملاً ہر وقت تیار۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ اور ایک بیٹی ہیں۔ بعضوں نے لکھا ہے۔ مثلاً یہاں عربی ڈیسک میں ہمارے عکرمہ صاحب میرے سامنے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے بھی مجھے لکھا کہ جماعت کے اموال و نفوس کا بہت خیال رکھنے والے صاحبِ بصیرت انسان تھے اور یہ حقیقت ہے۔ جماعتی لحاظ سے ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات پر آپ کی بڑی گہری نظر تھی اور بڑے بہادر انسان تھے۔ خدا کی راہ میں کسی بھی کام کی انجام دہی کے لئے کسی چیز کی پرواہ نہیں کیا کرتے تھے۔ بہت کریم، بااخلاق، بہادر اور مہربان تھے۔ یہ لکھتے ہیں کہ نو احمدیوں کے لئے مہربان باپ کی طرح تھے اور یہ واقعی حقیقت ہے۔ مجھے کئی نو احمدی بھی لکھتے رہے ہیں۔ آپ بسا اوقات نو احمدیوں کو ملنے اور خلافت سے ان کا تعلق جوڑنے کے لئے پانچ پانچ سو میل تک سفر کرتے تھے۔ آپ کوحج اور عمرہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک کرتہ آپ کے پاس تھا۔ انہوں نے حج یا عمرہ کے دوران اس کو پہنا اور خانہ کعبہ کے ساتھ اس کو مَس کیا۔ ان کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ میرا ان کا بتیس سال کا ساتھ رہا لیکن سارے عرصہ میں مَیں نے ان کو ایک منٹ بھی ضائع کرتے ہوئے نہیں پایا۔ ایک نہایت شفیق، ہر ایک سے محبت کرنے والے، اسلام احمدیت کے سچے خادم، خلافت سے بے انتہا عقیدت اور اس پر جاں نثار کرنے والے، دعا گو اور ایک سچے انسان تھے۔ اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں جو کچھ انہوں نے لکھا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی نہایت منظم با اصول اور وقت کی پابندی کے ساتھ گزاری۔ چالیس سال سے زائد عرصے سے 1/9حصہ کے موصی تھے۔ کہتی ہیں کہ مجھے کہا کرتے تھے کہ زندگی میں میرے لئے سب سے پہلے خلافت، پھر فیملی اور اُس کے بعد دوسری چیزیں آتی ہیں۔ انہوں نے ہاشم صاحب کی ڈائری اُن کی وفات کے بعددیکھی تو اس میں ان کی چند خوابیں بھی لکھی ہوئی تھیں۔ ایک خواب میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک رات چار مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ جس میں پہلی مرتبہ آپؐ کا چہرہ آفتاب کی طرح چمک رہا تھا۔ آپ نے ہاتھ میں ایک انگوٹھی پہنی ہوئی تھی جس میں سے نہایت روشن شعاعیں نکل رہی تھیں۔ آپ تکیے کا سہارا لے کر بیٹھے کچھ پڑھ رہے تھے اور اسی انگوٹھی سے بہت تیز شعاعیں نکل رہی تھیں۔ پھر دوسری خواب وہاں لکھی ہے کہ مَیں ایک مکان میں ہوں جس میں گویا حضرت امّاں جانؓ رہائش پذیر ہیں۔ وہ مجھے بہت پیار اور شفقت سے ملتی ہیں۔ نہایت لطف و کرم سے خوش آمدید بھی کہتی ہیں۔ (حضرت امّاں جانؓ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیگم ہیں) دن کا اوّل حصہ مَیں اُن کے ساتھ گزارتا ہوں۔ اس سارے عرصے میں حضرت اماں جان مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے بیشمار واقعات اور حالات سناتی ہیں۔ ا س کے بعد جب خواب میں ہی پانچ چھ گھنٹے گزر گئے تو مَیں حضرت امّاں جانؓ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکان پر پہنچ جاتا ہوں اور سارا دن وہاں ان کے ساتھ گزارتا ہوں۔ اس دوران حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے بیشمار واقعات سنائے اور بعض مقدمات کے بارے میں فرمایا کہ جب یہ بات ہوئی تو خدا نے مجھے یہ الہام کیا اور یہ وحی کی۔ اور پھر وحی کے نزول کا طریق اور سارا حال سنایا۔ اور وحی کے الفاظ بھی بتائے۔ پھر اس خواب میں ہی شام کو مَیں وہاں سے رخصت ہوا۔ خواب میں یہ گفتگو الفاظ کے رنگ میں نہیں اور نہ ہی کوئی شکل نظر آئی بلکہ ایک احساس کی شکل میں ہوئی۔ اسی طرح انہوں نے مجھے خواب میں دیکھا۔ مجھے کہتے ہیں کہ مَیں فوت ہو گیا ہوں اور آپ نے میرا جنازہ پڑھا ہے۔ اس پر مَیں نے اُنہیں کہا کہ ہاں یہ سچ ہے۔ جاؤ اور اب کھانا کھاؤ۔ اس کے بعدکہتے ہیں کہ میری آنکھ کھل گئی۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں جنت الفردوس میں اپنی مہمانی سے نوازے۔

جیسا کہ مَیں نے کہا ایک لمبا عرصہ یہاں یوکے میں رہے ہیں۔ جماعتی خدمات بھی سرانجام دیتے رہے۔ پہلے تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے باوجودیکہ مختلف جگہوں پر ان کو اچھی ملازمتوں کی پیشکش ہوتی رہی ہے ان کو انگلستان سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی کہ یہیں انگلستان میں رہیں۔ پڑھے لکھے بھی تھے۔ اپنے کام میں بھی ماہر تھے لیکن پھر آپ کو 2000ء میں اجازت دے دی تھی، لیکن باوجود اس کے کہ پڑھے لکھے تھے، اپنے فن میں بھی مہارت تھی لیکن کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ مَیں بہت پڑھا لکھا ہوں تا کہ تکبر پیدا نہ ہو۔ میرا ان سے پہلا رابطہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی وفات پر جنازے سے پہلے ہوا۔ جب مَیں پاکستان سے یہاں آیا ہوں تو ایک ایسا شخص جو نہایت عاجزی سے مختلف اعلانات کے مضمون بنا کر لا رہا تھا۔ کیونکہ اُس وقت کام ہو رہے تھے اعلان شائع کرنے تھے، ایم ٹی اے پر دینے تھے۔ جب بھی ان کو کہا کہ اس فقرہ کو اس طرح کر دیں یا یہ یہ لفظ مناسب ہے تو بغیر کسی چوں چرا کے فوراً تبدیلی کر دیتے تھے۔ کبھی یہ نہیں کہا کہ مَیں تمام عمر یہاں گزار چکا ہوں، پڑھا لکھا ہوں اور مجھے زبان میں بھی مہارت ہے اس لئے میرا مضمون ہی بہتر ہے۔ جس طرح کہا گیا اُس طرح تبدیلی کر دی۔ ان کی عاجزی بھی ہر ایک کے لئے ایک نمونہ تھی۔ ان کا خدمت کا جذبہ بھی ہر ایک کے لئے نمونہ تھا۔ خلافت کی اطاعت اور محبت بھی مثالی تھی اور ایک نمونہ تھی۔ جب ریٹائر ہونے لگے تو اس سے پہلے انہوں نے مجھے کہا کہ یہ نوکری تو مَیں کررہا ہوں لیکن بہت عرصہ سے میری یہ خواہش ہے کہ مَیں وقف کروں اور حقیقت بھی یہی تھی۔ کئی مرتبہ پہلے بھی مجھے کہہ چکے تھے کہ مَیں اپنے آپ کو وقف کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن مَیں اُن کو ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ آپ اس وقت جہاں ہیں وہاں آپ کی ضرورت ہے اور اپنے آپ کووقف ہی سمجھیں۔ بلکہ جس طرح یہ کام کر رہے تھے ایک واقفِ زندگی سے بڑھ کر کر رہے تھے۔ ہر سال یہ مجھے یاددہانی بھی کرواتے رہتے تھے۔ اب ان کی ریٹائرمنٹ بھی ہو گئی تھی۔ پھر دوبارہ بھی ان کوکنٹریکٹ مل گیا تھا۔ مَیں نے یہی کہا کہ جب تک ملازمت ہے وہیں رہیں۔ وہیں آپ کی ضرورت ہے۔ بڑی جرأت اور حکمت سے ماشاء اللہ تمام کام سرانجام دیتے تھے۔ بیعتوں پر ان کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ ان کے ذریعہ سے کئی بیعتیں بھی وہاں ہوئیں۔ مڈل ایسٹ کے ملکوں کے درمیان یہ رابطے کا کام بھی ادا کرتے رہے۔ حساب دانی اور اکاؤنٹس کے ماہر تھے۔ اس لحاظ سے بھی ان کی وجہ سے مجھے وہاں جماعتوں کے حساب کتاب کی کوئی فکر نہیں ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اہم کام اور اہم مسائل کو حل کرنے کے بارے میں جب بھی ان کو بھیجا گیا، انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے وہ تمام کام کئے۔ جب بھی یہاں آتے اور اکثر آتے رہتے تھے۔ آتے ہی یہ نہیں کہ تھکے ہوئے ہیں تو آرام کر لیں، مسجد پہنچ جاتے تھے اور جتنے دن یہاں رہتے تمام نمازیں مسجد فضل میں ادا کرتے، اس لئے انہوں نے گھر بھی یہاں قریب لیا ہوا تھا۔ خلاصہ یہ کہ یہ خلافت کے اُن مددگاروں میں سے تھے جو حقیقی سلطانِ نصیر ہوتے ہیں۔ ان کے رخصت ہونے سے ایک بہت بڑا خلاپیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے تقویٰ شعار اور کام کرنے والے کارکن ہمیشہ خلافت کو عطا فرماتا رہے۔ اپنے پیار کرنے والے خدا پہ بھروسہ ہے کہ ان جیسے لاکھوں سلطانِ نصیر عطا فرمائے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند تر فرماتا چلا جائے اور اُن کو اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے۔ ان کی خدمات کی تفصیل اور ان کی سیرت کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ اُن کے جاننے والے امید ہے ان کے بارہ میں لکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ یوکے جماعت کو بھی ان جیسے بے نفس کارکن عطا فرمائے اور ان کی بیوی اور بیٹی کا حامی و ناصر ہو۔

خطبہ ثانیہ سے قبل حضور نے فرمایا:
ایم ٹی اے والوں کی اطلاع تھی کہ یہ ٹرانسمشن ایک بج کے اکیس منٹ سے، ایک بج کے چالیس منٹ تک بیس منٹ صحیح نہیں رہی، تو جو خطبہ نہیں دیکھ سکے وہ پھر Repeat دیکھ لیں۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 3 جولائی 2020ء