• 5 اگست, 2020

تعلیم الاسلام پرائمری سکول قادیان سے تعلیم الاسلام کالج ربوہ تک کا سفر

خاکسار کےوالدمرحوم ڈاکٹرحبیب اللہ خان تنزا نیہ، افریقہ، میں ڈیوٹی پر تھے۔ مجھے 1946ء میں تعلیم الاسلام پرا ئمری سکول قادیان میں پہلی جماعت میں داخل کرا دیا گیا۔ سا لا نہ امتحان ہو ئے قاعدہ یسّرناالقرآن زبان کی تکلیف کے باعث اچھی طرح سنا نہ سکا جبکہ دوسرے مضامین میں پاس تھا۔ فیل کر دیا گیا۔ امتحانات کے بعد موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران partition ہو گئی۔

پاکستان کے لئے ہجرت

قادیان میں دن بدن غیر ما نوس چہروں کی آ مد شروع ہو گئی تھی۔ سڑکوں پر لوگ اور سامان تانگوں، گڈوں پر لدے آ رہے تھے۔ قادیان کے پر سکون ما حول میں ایک غیر ما نوس سی بے چینی سرا یت کر رہی تھی۔ محلہ کی مسجد میں غیر ما نوس لوگوں نے بستر لگا لئے تھے۔ ہم بچوں کا باہر نکلنا منع ہو گیا تھا۔ بھا ئی جان حفیظ امرتسر میڈیکل سکول سے کئی دن سے آ ئے ہو ئے تھے۔ سرِ شام محلہ کے لوگ گھروں میں بند ہو جا تے۔ رستے بستے شہروں کی مخصوص ہلکی سی زندگی کی بھنبھنا ہٹ سرِ شام ماند پڑنے لگی تھی۔ ایک اَنجانا خوف و ہراس دارالاماں پر اپنا مکروہ سایہ تانے جا رہا تھا۔ نا گہاںکبھی کبھی شام کو گولیوں کے چلنے کی آوازیں بھی آ نے لگی تھیں۔

گھر کے بڑے سارا دن بیٹھے پاکستان جا نے کے ذرائع سو چتے رہتے۔ ضعیف والدہ کی بات تھی کہ اگر پیدل قا فلے کے ساتھ جا نا پڑا، تو وہ کیسے اتنا لمبا سفر کر سکیں گی۔گھر کے سٹور میں بچوں کی ایک بڑی سی pram پڑی تھی۔ اسے نکال کر صاف کیا گیا، جوڑوں میں تیل دیا گیا۔ منصوبہ یہ تھاکہ اس میں رضا ئیاں وغیرہ بچھا دی جا ئیں گی اور والدہ کو بٹھا کر سفر طے کیا جا ئے گا۔ جب یہ سب کچھ ہو گیا، مجھے ٹیسٹنگ کے لئے اس پر بٹھا یا گیا تو پتہ چلا یہ بیکار کی کو شش تھی۔ ہم سب پریشان دعا ئیں کر رہے تھے۔ ابا جی افریقہ میں الگ پریشان تھے۔

بھائی جان منیر ڈیوٹی دینے جا تے شام کو خبریں لا تے۔ بسوں کے ایک دو قا فلے جا بھی چکے تھے ، ایک صبح ہم بھی تیار ہو کر پہنچے۔ بسیں کھچا کھچ ، بھری ہو ئی تھیں نفسا نفسی کے عالم میں روانہ ہوتیں۔ ظاہر ہے ہم 9 افراد کو کہاں جگہ ملتی! اسی مایوسی میں آ خر بڑوں نے سو چا پتہ نہیں ہمارا کیا بننا ہے کم از کم کو ئی ایک تو ہم میں سے بچ جا ئے۔ چنانچہ قرعہ میرے نا م پڑا۔ میرے دو تین جو ڑے، کچھ رو ٹیاں ایک بچکی میں باندھ دی گئیں کچھ نقدی میری قمیض میں سی دی گئی اور کچھ میری جیب میں۔لاہور میں بھا ئی نور احمد کے گھر کا پتہ( بیرون مو چی گیٹ، برکت علی روڈ، 5 قمر منزل، لا ہور) لکھ کر میری جیب میں اور بچکی میں خط کے ساتھ رکھ دیا گیا۔مجھے ہر ایک نے آنسو بھری آنکھوں سے سسکیاں لیتے اور دعائیں کر تے ہو ئے بھائی منیر کے ساتھ روانہ کیا۔ جب ہم تعلیم الاسلام کا لج کی گرا ؤنڈ میں پہنچےتو کھچا کھچ بھری چار پانچ بسوں کے گرد ایک اژ دھام تھا، ایک طرح کی چیخ و پکار تھی ۔ بھائی منیرنے مجھے بازوؤں میں ا ٹھا لیا اور ایک بس کی کھلی کھڑکی سے اندر دھکیلنے کی کو شش کی۔گھبراہٹ سے میں نے رونا شروع کر دیا۔ دو دفعہ کی کو شش رائیگاں گئی۔ بسیں چلی گئیں اور ہم مایوسی کے عالم میں گھر وا پس آ گئے۔

سخت ما یوسی تھی، طرح طرح کے منصوبے بنتے اور ٹوٹتے۔ ایک شام جب دروازہ بند کئے مایوسی میں بیٹھے ہو ئے تھےدروازہ کھٹکا۔ سب ڈر گئے۔ پاس جا کر پو چھا: کون ہے؟ باہر سے خالہ زاد بھائی نور ا حمد کی آ واز تھی ’’میں نور ا حمد‘‘۔ دروازہ کھولا سب سے گلے ملے۔ انہوں نے بتایا وہ ایک فو جی ٹرک لیکر ہمیں لینے آئے ہیں اور صبح سے ہمارے گھر کا پتہ کر تے کر تے اب ہم تک پہنچے ہیں۔ ہم سب نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کیسے ناامیدی میں امید پیدا کر دی۔ الحمدُ للہ

اگلی صبح ہم تیار ہو کر بسوں کی طرف روانہ ہو ئے۔ ہمارے ٹرک میں لوگ سوار ہو چکے ہو ئے تھے۔تِل رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ انتظام پر معمور خدام کو بھائی نور ا حمد اور بھا ئی منیر نے جا کر بتایا۔ ہمارے لئے جگہ بنائی گئی۔بے جی بھا ئی منیر کو بار بار کہتیں اور التجا ئیں کر تیں رہیں کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلومگر انہوں نے کہا کہ ’’میری ڈیوٹی ہے میں بعد میں آ ؤں گا‘‘ اور بھیڑ میں گم ہوگئے۔ والدہ مر حومہ دیر تک اداسی سے روتی رہیں۔

ہمارے کانوائے میں سات بسیں تھیں۔مو سمِ برسات اور ٹریفک کی بھیڑ کی وجہ سے سڑک پر کھڈے پڑے ہو ئے تھے۔ بسیں رینگنے کی رفتار سے چل رہی تھیں۔جب شام ہو ئی اور ہم تقریباً امرتسر شہر میں داخل ہو رہے تھےکہ ایک بس کا انجن فیل ہو گیا۔ بھا ئی نور احمد فوج میں مو ٹر مکینک تھے۔ مگر کیا کر تے؟ ہر طرف اندھیرا تھا کچھ سوجھائی نہیں دیتا تھا، بیٹری مہیا نہیں تھی۔پتہ کیا گیا کہ کسی کے پاس ما چس ہے؟آخر ایک سگریٹ نو ش کام آئے۔ ماچس کی تیلیاں جلاز جلا کر تاریں جو ڑیں اور بس سٹارٹ ہو گئی۔ سب نے شکر ادا کیا۔

بھائی جان حفیظ پہلے لاہور پہنچ چکے تھے اورکرشن نگر میں ایک گھر ا لاٹ کروا لیا ہوا تھا اور بازار میں ایک ہو میو پیتھک کی دکان بھی انہیں مل گئی تھی۔بھائی جان ہو میو پیتھک کی چھوٹی چھوٹی بو تلیں لے کر آ تے ہم انہیں صاف کر تے جا تے اور لنڈے بازار میں بیچ کر کچھ نقدی مل جاتی۔افراتفری کا زمانہ تھا۔ بے جی (والدہ) نے کچھ نقدی بچا کر رکھی تھی جس سے گزارہ ہو رہا تھا۔ ہم لا ہور میں ٹھہر کربھا ئی منیر کے قادیان سے پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے۔

نا گہاں دفتر سے بھا ئی کی شہادت کی اطلاع ملی۔ تفصیل کے مطابق بھائی جان سکھ حملہ آ وروں کا مقا بلہ ابا جی کی دونالی بندوق سے کر تے رہے۔ آخرکار حملہ آور رات کے اندھیرے میں پیچھے سے گھر کی دیوار پھاند کر آئے اور انہیں پیٹ میں چھرا گھونپ کر شہید کر دیا ۔ جب خدام صبح پتہ کر نے گئے توبھائی صحن کے درمیان چت پڑے تھے اور انتڑیاں باہر پھیلی ہو ئیں تھیں ۔ انا للّٰہ وا نا الیہ را جعون ۔ بے جی اور بڑوں کی غم سے بری حالت تھی۔

اب ہمارا لا ہو ر میں ٹھہرنے کا کو ئی جواز نہیں تھا۔بسوں میں بڑی بھیڑ تھی، چنانچہ ہم نے ایک گڈے والے سے بات کی۔ اس نے چکسان پہنچانے کی حا می300 روپے میں بھر لی۔ہم اور ہمارا جو بھی اثاثہ تھاگڈے پر لد گئے۔اور آ ہستہ آ ہستہ منزلِ مقصود کی طرف بڑھنا شروع ہو ئے۔ مجھے شا ہدرہ گو جرانوالہ کی سڑک ابھی تک یاد ہے جس کی جا نبین میں کھجور کے درخت تھے۔میں نے پہلے کبھی کھجور کا درخت نہیں دیکھا تھا۔ رستے میں جب بیل آ رام اور چارے کے لئے رکتے ہم بھی اُتر کر گھاس وغیرہ پر کھیس بچھا کرآرام کر لیتے۔ہماری سواری رات بھرچلتی رہتی ۔آخر کار سو میل کا یہ سفراللہ اللہ کر کے چوتھے دن ختم ہوا اور ہم اپنے گاؤں پہنچ گئے۔

دادی جان اور گاؤں کے لو گوں کو اپنا منتظر پا یا۔ دادی جان ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہو ئیں۔ ہم اپنے آبائی گھر میں خوب دوڑے پھرے۔ بے سرو سامانی کی حالت تھی۔ بھائی منیرکی شہادت سے سب نڈھال تھے۔بے جی کا برا حال تھا،ہر وقت دروازہ کی طرف نظریں ٹکا ئے رکھتیں، کہ منیر اب آیا کہ اب آ یا۔

ابا جی کی آمد

گھریلو حالات سے آ گاہ ہو تے ہی ابا جی early retirement لےکر 1948ء کے شروع میں افریقہ سے گا ؤں پہنچ گئے۔ اورگھر کے حالات کو سنبھالا دیا۔ مجھے3میل دورگاؤں کوٹ سعداللہ میں پرا ئمری سکول میں دا خل کرا دیا گیا۔ ہمارے احمدی ہو نے کی خبر سب جگہ پہنچ چکی تھی۔ جب ابا جی مجھے سکول میں داخل کر وانے گئے اہل حدیث ہیڈ ماسٹر مولوی فیروز اباجی سے مذہبی بحث میں الجھ گیا۔خیر اس دن تو بات آ ئی گئی ہو گئی۔ اگلے دن بہانہ بنا کر میری مکوں اور تھپڑوں سے خوب پٹائی کر دی۔میں نے گھر میں اس کے بارہ میں کسی کو نہیں بتایا۔

ابا جی نے چکسان سے 3میل دور قصبہ گکھڑ منڈی کے مین بازار میں ’’قریشی میڈیکل ہال‘‘ کے نام سے شفا خانہ کھول لیا۔ ابا جی ہر روز صبح صبح 3 میل سُوئے (چھوٹی نہر) کے ساتھ ساتھ کچے راستے پرسائیکل پر گکھڑ جاتے اور شام وا پس آ تے۔اب میں حیران ہو تا ہوں اباجی کی ہمت پر۔اباجی کے دونوں گھٹنوں میں arthritis کی وجہ سے سخت درد تھی، جسم بھاری تھا۔یہ سب سختی آپ نے میرے پانچویں کے امتحان تک برداشت کی۔گھر میں مجھے اور دوسرے بچوں کو اردو، انگریزی کے ساتھ ساتھ حضرت مسیحِ مو عود علیہ السلام کی کتب کا درس دیتے۔ظہرعصر کی نماز کے بعدہم اپنا اپنا قر آنِ کریم لے کر بیٹھ جاتےاور ایک ایک رکوع پڑھتے۔ اباجی ترجمہ پڑھتے اور ہم دہراتے جا تے۔ابا جی کی اس مہربانی کے باعث اب تک ہم بہن بھا ئیوں کو خدا تعالیٰ کے فضل سے قرآنِ کریم کا تر جمہ سمجھنے میں الا ما شااللہ کبھی کو ئی مشکل پیش نہیں آئی۔ الحمدﷲ

وقفِ زندگی

میرے پرائمری کا امتحان پاس کر تے ہی ہم قصبہ گکھڑمنڈی میں منتقل ہو گئے۔ میں ڈسٹرکٹ بورڈ ہائی سکول (ڈی ۔بی ۔ ہا ئی سکول) کی چھٹی جماعت میں داخل ہو گیا۔ میں آ ٹھویں جما عت کا طالب علم تھا جب 1954-5519ء کے لگ بھگ حضرت مصلح مو عودؓ نے وقفِ زند گی کے موضوع پر مسلسل کچھ خطبات دیئے۔ان خطبات سے متأثر ہوکر ایک روز ابا جی نے مجھے بلا کر کہا ’’تم نے حضرت صاحب کے خطبات سنے ہیں۔ اللہ نے مجھے چار بیٹے دئیے ہیں۔ میری خوا ہش ہے کہ میں اپنے دو بیٹے اللہ کے رستے میں وقف کروں ۔دو دنیا داری میں پڑے ہو ئے ہیں۔ پہلے منیروقف تھا شہید ہو کر اللہ کے پا س ہے۔اب تم سب سے چھو ٹے ہو تم خدا کی راہ میں زند گی وقف کر دو تا کہ میری زندگی کے دو نوں پلڑے یکساں ہو جا ئیں۔’’ میرا ہاں میں جواب سن کر ابا جی بہت خوش ہوئے، اورحضرت امام جما عت احمدیہ خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں وقف کی منظوری کے لئے عریضہ لکھ دیا۔ حضرت صاحب نے ایک خطبہ میں ذکر فر ما یا کہ

’’وقفِ زندگی کی تحریک کے جواب میں جو در خواستیں آ ئی ہیں ان میں سے ایک تو ابھی بہت چھوٹے ہیں‘‘۔ شائد حضور کا یہ اشارہ میری طرف تھا۔ کچھ دنوں میں دفتر تبشیر سے ابا جی کے نام ہدا یت آ ئی کہ حضورؓ نے وقف منظور فرما لیا ہے۔ میٹرک کے بعد بچہ کو جامعہ میں دا خل کرا ئیں۔ اسی زمانہ میں میں نظامِ وصیت میں بھی شامل ہو گیا۔ الحمدُللہ

جامعہ کی بجائے کا لج میں داخلہ

میٹرک پاس کر نے کے بعدابا جی مجھے لےکر جامعہ احمدیہ میں دا خلہ دلانے ربوہ پہنچے۔ جولائی کا مہینہ اور بدھ کا دن تھا۔ ربوہ میں سخت گرمی تھی، تانگے پر سیدھے جامعہ میں پہنچے۔ جامعہ میں سا لانہ کھیلوں کے بعد دو چھٹیاں تھیں۔ ابا جی کی طبیعت میں کسی قدر سختی اور جوش تھا۔ جامعہ کو بند پا کر جامعہ کے پرنسپل حضرت مو لانا ابوالعطاء جالندھری صاحب کے کوارٹر تحریک جدید پہنچے۔ حضرت مولوی صاحب سے ملاقات کے وقت بے تکلفی سے کہا کہ ’’مو لوی صاحب! لو جی قربانی کا بکرا لے آیا ہوں۔ اسے جہاں چا ہیں با ندھیں۔ مجھے بہت گرمی لگ رہی ہے میں تو واپس چلا۔‘‘

حضرت مو لوی صاحب نے فرمایا کہ جامعہ میں تو چھٹی ہے۔ آپ ٹھہریں۔ دو دن کے بعد جامعہ آ جا ئیں۔ والدِ محترم نے فر مایا کہ ’’سخت گرمی ہے میں یہاں زیادہ رک نہیں سکتا‘‘۔ حضرت مو لانا نے فرمایا ’’تو پھر اسے کا لج میں دا خل کروا دیں وہاں سے ڈاکٹر بن کر یا ایم۔اے کر کے سلسلہ کی خد مت کر سکتا ہے۔‘‘ چنانچہ اس طرح میں کالج میں فرسٹ ائیرپری میڈیکل میں داخل ہوا۔ میری ریاضی میں کمزوری آڑے آئی۔ ایف ایس سی میں اتنے نمبر نہ آ ئے کہ میڈیکل کا لج میں داخلہ مل سکتا۔ فزکس اور کیمسٹری میں حسابی سوالات کے باعث میرے نمبر کم رہے۔

بی ایس سی میں اسلا میہ کالج سول لائنز میں داخلہ لیا جہاں کریسنٹ ہوسٹل میں رہا۔ با ٹنی، زوا لو جی اور انگریزی کے مضا مین تھے۔ زوالو جی میں اول رہا اور بی ایس سی میں فرسٹ کلاس حا صل کی ، کا لج کا میڈل اور رول آف آنر ملا۔

گو لڈ میڈل اور ٹی آ ئی کا لج سے وا بستگی

پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی ذوالو جی میں دا خلہ لیا۔ 1963ء کے سالانہ امتحان میں فرسٹ کلاس فرسٹ کی پو زیشن حا صل کی اور Sir William Roberts Gold Medal حاصل کیا۔ ابا جی نے فوراً حضرت صاحب کی خد مت میں تحریراً عر ض کر دیا۔ حضرت مرزا نا صر احمد پرنسپل سے جواب آیاکہ ٹی آئی کا لج جوائن کریں۔ میں نے موسم گرما کی تعطیلات کے بعد ستمبر 1963ء میں تعلیم اسلام کالج ربوہ لیکچرر بیالوجی کی حیثیت سے جائن کیا ۔الحمدللہ 36سالہ خدمت کے بعد60 سال کی عمر میں11ستمبر 1999ء کو کالج سے ریٹائر ہوا۔ الحمدُ للہ

ایک دعا کی درخواست

آ خر میں میں اپنے بیالوجی کے استاد پرو فیسر ڈاکٹر نصیر احمد بشیر مرحوم کے لئے درخواستِ دعا کرنا چاہتا ہوں ۔ مو صوف تعلیم الاسلام کالج لاہور میں طالبعلم رہے اور 1956ء میں پنجاب یو نیورسٹی کے ایم ایس سی ذووالوجی میں گولڈ میڈیلسٹ تھے۔ آپ 1957ء میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں میرے استاد تھے۔1965ء میں اتفاقًا مسجداقصیٰ ربوہ میں جمعہ کے دن مو صوف سے ملا قات ہو ئی ۔ تعارف ہوا، خوش ہو ئے کہ میں ان کی جگہ پر کالج میں ڈیوٹی دے رہا ہوں۔ آپ امریکہ اعلیٰ تعلیم کے لئے گئے تھے اور غیر از جماعت افراد کی سخت مخالفت میں فیصل آباد میڈیکل کالج میں فزیالوجی کے پروفیسر رہے۔ آپ نے ہمیں بہت محنت سے پڑھایا تھا۔ آپ کچھ عرصہ بیمار رہ کروفات پا گئے۔ انا للّٰہ و انا الیہ را جعون۔ احباب سے مر حوم کی بلندئ درجات کے لئے دعا کی درخواست ہے۔

٭…٭…٭

(محمد شریف خان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 3 جولائی 2020ء