• 5 دسمبر, 2021

خلفائے احمدیت کی تحریکات (حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ)

خلفائے احمدیت کی تحریکات
بابت سائیکلنگ ازحضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ

سائىکل چلانے کى تحرىک

جماعت کو سائىکل چلانے کى تحرىک بطور مہم حضرت خلىفۃ المسىح الثالث ؒ نے 1973ء مىں فرمائى تھى۔ انصار اللہ، خدام الاحمدىہ، اطفال الاحمدىہ حتىٰ کے لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدىہ سب اس تحرىک مىں شامل ہوئے۔ اسى تحرىک کے تحت سائىکل رىس کے مقابلہ جات منعقد کئے جاتے رہے۔ احباب جماعت جلسہ سالانہ اور اجتماعات مىں شرکت کے لئے ہزاروں مىل کا سفر کرکے اس تحرىک مىں شامل ہوتے رہے۔اب مختلف ممالک مىں ىہ تحرىک اسى طور پر جارى ہے اور عالمگىر مہم کى صورت اختىار کر گئى ہے۔ حالىہ اىام مىں آن لائن مىٹنگز کے دوران مجلس انصار اللہ کے شعبہ صف دوم سے حضور انورخصوصى طورپرورزش، سىر اور سائىکل سوارى کے متعلق درىافت فرماتے رہے۔

* مؤرخہ 11؍اپرىل 2021ء کو نىشنل عاملہ مجلس انصار اللہ بھارت کو آن لائن ملاقات مىں صفِ دوم کے انصار کو مخاطب ہو کر حضور انور نے فرماىا کہ
’’انہىں مستقل ورزش کرنى چاہىے اور سائىکل چلانى چاہىے خاص طور پر قادىان مىں (جہاں زىادہ فاصلے پر نہىں جانا ہوتا)۔۔۔ نہ صرف انصار کى صحت کے لىے بہتر ہے بلکہ ماحولىاتى آلودگى کو بھى کم کرے گا اور کاربن کے مضر اثرات مىں بھى کمى آئے گى۔‘‘

(الفضل انٹرنىشنل 16 جولائى 2021ء)

* پھر 6؍مارچ 2021ء کو نىشنل عاملہ مجلس انصار اللہ آسٹرىلىا اور رىجنل قائدىن سے آن لائن ملاقا ت مىں حضور انور نے صفِ دوم کے انصار اللہ کى ورزشى رپورٹ کے حوالہ سے استفسار فرماىا کہ کتنے انصار سائىکل استعمال کرتے ہىں؟

 اس پر اىک دوست نے بتاىا کہ حضور 97 انصار سائىکل چلاتے ہىں، جن مىں سے 32 انصار صف دوم کے ہىں جبکہ 65 صف اول کے انصار ہىں۔ اور وہ باقاعدہ سائىکل چلاتے ہىں، صرف رکھے ہوئے نہىں ہىں۔ حضور انور نے فرماىاکہ ’’دوسرے انصار کو بھى سائىکل چلانے کى طرف توجہ دلائىں۔ کم از کم قرىبى فاصلوں کے لىے سائىکل چلاىا کرىں۔ ىوں سائىکل استعمال کرکے اپنے ماحول کو صاف بنانے مىں بھى کردار اداکرىں۔‘‘

 (الفضل انٹرنىشنل 27اگست 2021ء)

* 19؍جون 2021ء کو مجلس انصار اللہ سوئٹزرلىنڈ کے ممبران عاملہ کے ساتھ آن لائن ملاقات مىں حضورِ انور نے مجلس انصار اللہ کو جسمانى طور پر مزىد فعال ہو نے کى طرف توجہ دلائى اور انہىں پىدل چلنےاور سائىکل چلانے کى طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماىا کہ ’’اس سے ان کى ذہنى قوت اور صلاحىتوں پر مثبت اثر پڑے گا اور انہىں بہتر رنگ مىں جماعت احمدىہ کى خدمت کى توفىق ملے گى‘‘۔

* اسى طرح 15؍اگست 2021ء کو اراکىن نىشنل عاملہ مجلس انصار اللہ ہالىنڈ سے آن لائن ملاقات مىں سائىکلنگ کے حوالہ سے توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرماىا:
’’وہ باقاعدگى سے سائىکلنگ کرىں اور دىگر کھىلوں مىں بھى شامل ہوا کرىں تاکہ عمر کے بڑھنے سے ان کى صحت اور fitness برقرار رہے۔‘‘

 حضور انور نے فرماىا کہ ’’عمر بڑھنے کے اثر دماغى روىہ سے پتہ چلتے ہىں۔ اگر کوئى شخص مثبت سوچ سے کام لے رہاہو ا ور دل کا جوان ہو تو اس کا عمومى صحت اور حالات پر مثبت اثر ہوگا۔‘‘

(الفضل انٹرنىشنل 31 اگست 2021ء)

سائىکل چلانے کى تحرىک ومہم

حضور نے مجلس مشاورت 1973ء کے موقع پر 31 مارچ کو فرماىا:
’’صحت کو برقرار رکھنے کے لئے سائىکل چلانا بہت مفىد ہے۔ مىں چاہتا ہوں کہ جماعت مىں مہم چلائى جائے کہ وہ زىادہ سے زىادہ سائىکل چلائىں۔ ىہ ورزش بہت مفىد ہے۔ مىرے خىال مىں پاکستان مىں اىک لاکھ احمدى اىسا ہونا چاہئے جن کے پاس سائىکل ہوں۔ اگر آہستہ آہستہ سائىکل چلاىا جائے تو اىک دن مىں اىک سو مىل سائىکل چلانا کچھ بھى مشکل نہىں۔ مشاورت کے موقع پر جو رضاکار باہر کى جماعتوں سے آتے ہىں اس دفعہ مىں نے خدام الاحمدىہ کو کہا کہ وہ رضاکار سائىکلوں پر آئىں۔ چنانچہ لاہور، گوجرانوالہ، سىالکوٹ، سرگودھا، لائلپور اور جھنگ سے 95 سائىکل سوار خدام مشاورت کے موقع پر ىہاں پہنچے ہىں اور انہىں کوئى تکلىف نہىں ہوئى۔ آرام سے سائىکل چلا کر ىہاں آگئے ہىں۔ اىک لاکھ احمدى اگر اىک سو مىل سائىکل چلائىں تو وہ اىک دن مىں اىک کروڑ مىل سائىکل چلالىں گے اور ضرورت پڑنے پر ان سے بہت مفىد کام لئے جاسکىں گے۔ انہىں سائىکل چلانے کى عادت ہوگى تو قومى ضرورت کے پىش آنے پر وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوں گے۔ کاروں اور موٹروں کى طرف نہىں دىکھىں گے۔ انہىں کہا جائے گا کہ سائىکل پکڑو اور جاؤ اور وہ فوراً چلے جائىں گے۔

امراء جماعت اپنے اپنے اضلاع مىں تحرىک کرىں کہ احباب جماعت سائىکل خرىدىں۔ چھ مہىنہ کے اندر اندر اکتوبر کے آخر تک مىرے پاس رپورٹ آجانى چاہئے کہ کتنے سائىکل ان کے پاس ہوگئے ہىں۔ پھر وہ تحصىل وار اىسا انتظام کرىں کہ تىن تىن آدمىوں کا وفد ہر تحصىل کے ہر گاؤں مىں جس کا نقشہ مىں نام ہے جائے اور وہاں کى تىن دکانوں کے پتے نوٹ کرکے لائے اور ىہ بھى بتائے کہ اس گاؤں کى بطور خدمت خلق ہم کس نوعىت کى مدد کر سکتے ہىں۔ حضور نے فرماىا جو ضلع اس مہم مىں اول آئے گا اس کو ہم اىک ہزار روپىہ انعام دىں گے۔

(رپورٹ مجلس مشاورت 1973ء صفحہ34 تا45)

اسى سال مئى مىں خدام الاحمدىہ کى سالانہ تربىتى کلاس کے موقع پر عملى تربىت کا پروگرام مرتب کىا گىا جس مىں سومىل سائىکل سفر اور 5 مىل پىدل سفر شامل تھا۔

سالانہ اجتماع خدام الاحمدىہ کے موقع پر 693 خدام سائىکلوں پر آئے اور ىہ سلسلہ 1983ء کے سالانہ اجتماع خدام الاحمدىہ مرکزىہ ربوہ تک جارى رہا۔ انصار نے بھى ہمت کى۔ مجلس انصاراللہ مرکزىہ کے سالانہ اجتماع 1983ء پر 85 سالہ بزرگ فىصل آباد سے سائىکل پر آئے اسى طرح اىک ٹانگ سے معذور دوست ترگڑى ضلع گوجرانوالہ سے سائىکل پر ربوہ آئے حضور نے ان دونوں کو انعام سے نوازا۔

(الفضل 2 نومبر 1983ء صفحہ1)

ىہ سلسلہ بىرون ممالک بھى کافى پھىل چکا ہے مثلاً بىنن کے جلسہ سالانہ 2007ء مىں شرکت کى غرض سے 4 رىجنز کے 23 افراد سائىکلوں پر آئے جن مىں بعض نے 117 کلومىٹر کا دشوار گزار سفر طے کىا۔

(الفضل 22؍اکتوبر 2007ء)

15 جولائى 1973ء کو حضور نے برطانىہ مىں اىک لاکھ مستعد سائىکل سواروں کى تحرىک فرمائى۔

حضور نے سالانہ اجتماع انصاراللہ کے موقع پر 10 نومبر 1973ء کو اعلان فرماىاکہ آئندہ سات برس کے اندر بىس ہزار سائىکل سوار انصاراللہ مىں سے دس ہزار اطفال الاحمدىہ مىں سے اور 70 ہزار خدام الاحمدىہ مىں سے تىار ہونے چاہئىں تاکہ ىہ وسىع پىمانے پر رفاہى کاموں مىں حصہ لے سکىں۔ دىہات سے رابطہ قائم کرىں اور لوگوں کى مشکلات کو دور کرنے کى کوشش کر سکىں۔ حضور نے فرماىا ىہ مہم صحتوں کو برقرار رکھنے کے لئے بھى مفىد ثابت ہوگى اور دىگر بہت سے فوائد بھى اس سے ان شاء اللہ حاصل ہوں گے۔ 

 (الفضل 11 نومبر 1973ء)

چنانچہ جماعت نے اس طرف بڑى خوش دلى سے توجہ کى اور انصار اور خدام نے سائىکل سوارى شروع کرکے خدمت خلق کے مىدان مىں نئے کاموں کا آغاز کىا۔

انصار اور اطفال کى تقسىم اور سائىکل کے استعمال کى تلقىن

حضور نے جماعت کى ذىلى تنظىموں کو مضبوط کرنے اور ان کى کارکردگى کو بہتر بنانے کے لئے سالانہ اجتماع انصاراللہ 1973ء کے موقع پر بعض اہم انتظامى تبدىلىاں فرمائىں۔ حضور نے 10 نومبر 1973ء کو انصار اللہ کو دو حصوں مىں تقسىم کر دىا۔ انصاراللہ صف اول و صف دوم۔ اور اطفال الاحمدىہ مىں بھى معىارِ کبىر قائم فرماىا۔ پھر فرماىا:
حضور نے فرماىا کہ اىک خادم چالىس سال کے بعد اگلے دن جب انصاراللہ مىں شامل ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو بوڑھا سمجھنے لگتا ہے اس لئے 40 سے 55 سال تک کى عمر کے انصار کى اىک الگ تنظىم ہوگى۔ ان کے سپرد وہى کام کئے جائىں جو خدام الاحمدىہ کے سپرد ہىں مثلاً ورزش مىں باقاعدگى اور سائىکل سفر مىں حصہ لىنا اور سروے سکىم مىں خدام کے ساتھ جانا۔ حضور نے ان کے لئے ’’جوانوں کے جوان‘‘ کى اصطلاح وضع فرمائى۔ نىز انصاراللہ کى تنظىم اور ان کے کاموں کو تىز سے تىز کرنا ان کى ذمہ دارى قرار دىا۔       

 (الفضل 11 نومبر 1973ء)

علاوہ ازىں معىار کبىر کے اطفال کے لئے سائىکل سفر اور سائىکل سروے اور وقارعمل مىں حصہ لىنا ضرورى قرار دىا گىا۔ اس معىار کو حضور نے خدام الاحمدىہ کے لئے نرسرى قرار دىا۔ تاکہ تىن سال کے عرصہ مىں وہ خدام الاحمدىہ کے کاموں اور ذمہ دارىوں سے پورى طرح واقف ہو جائىں اور جب وہ خادم بنىں تو ان کو نئے سرے سے ٹرىننگ نہ دىنى پڑے بلکہ وہ پہلے ہى سے تربىت ىافتہ ہوں۔

(ماخوذ از کتاب خلفائے احمدىت کى تحرىکات اور ان کے شىرىں ثمرات)

(ذیشان محمود۔مبلغ سلسلہ سیرالیون)

پچھلا پڑھیں

مدرسہ بزبان جولا فون برکینا فاسو

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 نومبر 2021