• بدھ 19 فروری 2020   (25 جمادى الآخرة 1441)

ڈاکٹر عبد السلام، بھٹو اور چین

’’میں پیدائشی پا کستانی تھا اور پاکستانی کی حیثیت میں دنیا سے جاؤں گا ۔‘‘ ڈاکٹر عبدالسلام
پا کستان کے اساطیری نظری طبیعات دان عبد السلام میں پبلک کی دلچسپی پوری دنیا میں نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی ڈاکومنٹری ’’سلام دی فرسٹ۔ نویبل لارئیٹ‘‘ میں موج زن ہوئی ہے۔ اگرچہ ڈاکومنٹری ان کے سائنسی کارناموں پر تفصیل سے روشنی ڈالتی ہے، بلکہ ان کی ذاتی تلخیوں پر اس سے بھی زیادہ، مگر اس میں بڑی خامی یہ ہے کہ ان کے چین مشنز کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس خامی کے لئے فلم بنانے والوں کو موردالزا م قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عبد السلام کی زندگی کا یہ پہلو عام طور پر پردہ اخفا میں رہا حتیٰ کہ ان کے رفقائے کار سے بھی جو ان سے بہت اچھی طرح شناسا تھے۔

تاہم دو چینی سائنسدانوں جنگ ہان سن Jinghan Sun اور ایگزآو ڈانگ ین Xiaodong Yin نے اس مخفی پہلو سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان کا مقالہ عبد السلام اینڈ چائنا : چین کی سائنسی ڈیویلپمنٹ پر سلام کا انفلوئینس ان کی چھ چین یاترا پر ایک نگاہ۔ بیجنگ سے مارچ 2019 ءمیں ایک چینی زبان کے رسالے میں منظر عام پرآیا ہے۔ اس مقالے کی بنیاد ان اجلاسوں کی کارروائی کی رپورٹیں ہیں جو چائینز اکیڈیمی آف سا ئنسز میں منعقد ہوئی تھیں۔ میرے چینی طبیعات دان دوستوں نے اس کے کچھ حصوں کا انگلش میں ترجمہ کیا ہے جس کی تفصیل پیش کی جاتی ہے۔

ان دو چینی سائنسدانوں کے مقالے سے یہ پتہ چلتا کہ سلام نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے حاصل کر نے کے لئے چین کی مدد حاصل کر نے کی کوشش کی تھی۔ یہ امر کسی حد تک اس سوال کا جواب حاصل کرنے میں مدد کرتا۔ پا کستان کے بم پروجیکٹ میں سلام کا کیا کردار تھا؟ سلام کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا جبکہ کچھ لو گ کہتے ہیں کہ انہوں نے پا کستان کے نیو کلئیر راز امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو دے دیے تھے۔ اس کے بر عکس ان کے مداحوں کا کہنا ہے کہ سلام امن پسند انسان تھے جو جوہری ہتھیار کبھی بھی حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے۔

حقائق اب طشت از بام ہوکر ہمارے سامنے ہیں۔ پروفیسرسلام 1950ء کی دہائی میں اکیڈیمک سپر سٹار بن چکے تھے۔ وہ چھ دفعہ چین گئے اور چین کے اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کیں۔ پہلی بار وہ چین 1958ء میں گئے جب وہ صدر ایوب خاں کے ہمراہ سائنسی مشیر کے طور پر گئے تھے اور وزیر اعظم چاؤ این لائی سے تنہا شرف ملاقات حاصل کیا تھا۔ دونوں کے درمیان پرُجوش ذاتی تعلق قائم ہو گیا۔ پھر وزیر اعظم چاؤ این لائی کی دعوت پر 1959ء میں سلام ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے چین گئے۔ اس وقت تک چین نیوکلئیر پاور نہیں بنا تھا اور صدر ایوب خاں کو جوہری ہتھیاروں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

حالات میں زبردست تبدیلی مشرقی پا کستان کی علیحدگی کے بعد 16 دسمبر 1971 ءکو آئی۔ اس کے محض چھ ہفتوں بعد صدر پا کستان ذوالفقار علی بھٹو نے 20 جنوری 1972ءکو ملتان میں پاکستانی سائنسدانوں کی میٹنگ کا اہتمام کیا۔ جذباتی بھٹو نے ان سائنسدانوں کو تلقین کی کہ وہ ایٹم بم بنائیں، اس خواہش کا اظہار اس نے پہلی بار 1965 ءمیں کیا تھا۔ سلام بھی اس وقت وہاں موجود تھے اوراظہار خیال کیا تھا۔

سن اور ین Sun۔Yin کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے بعد بھٹو نے سلام کو 1972ء میں چین بھیجا تاکہ جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں چین کا تعاون حاصل کیا جاسکے۔ رپورٹ کے صفحہ 120 پر مصنفین رقم طراز ہیں کہ سلام نے اپنے تیسرے وزٹ کو غیر معمولی وزٹ not an ordinary visit قرار دیا تھا۔ وزیر اعظم چاؤ سے 5 ستمبر 1972ء کی شام کو ہونے والی میٹنگ میں سلام نے نیو کلئیر تعاون کی درخواست خدمت گزار کی۔

وزیر اعظم کاجواب مدبرانہ تھا: ’’چائنیز اکیڈمی آف سا ئنسز نے اس پر بڑی احتیاط سے غور و فکر کرنا ہے اور اس کے مطابق تیاریاں کرنی ہیں۔ ہم تمہارے یہاں تجربے اور ٹیکنالوجی کے لئے چند افراد بھیج دیں گے‘‘۔ یہ بات صاف نہیں کہ آیا مصنفین اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں جب وہ لکھتے ہیں: ’’سلام اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے، اگرچہ چائنا ان کے ساتھ روادار تو تھا مگر اس کے ساتھ حد درجہ محتاط بھی‘‘۔

لیکن حال ہی میں شائع ہونیوالے ایک اور مضمون جو امریکہ کی کارنیل یو نیورسٹی کے ڈاکٹر ینگ ینگ چینگ Dr۔ Yangyang Cheng ضبط تحریر میں لائے ہیں۔ اس کے مطابق سلام کی چین وزٹ کے دو مہینے بعد ایک چائنیز ٹیم جس کے سربراہ جیانگ شین جیJiang Shenjie تھا اس ٹیم نے کانوپ KANUPP (کراچی نیوکلئیر پاور پلانٹ) جو کینیڈین حکومت نے تحفہ میں دیا تھا، کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ جیانگ پیشہ کے لحاظ سے کیمسٹ اور نیو کلئیر انجنئیر تھاجس نے چین کے جو ہری ہتھیاروں کے پروگرام میں بنیادی رول ادا کیا تھا، نیز وہ بیجنگ کے اٹامک انرجی انسٹیٹیوٹ کا ڈپٹی ڈائریکٹر تھا۔

سلام نے نیوکلیئر بم پر اجیکٹ کی ذمہ داری تو قبول کر لی لیکن انہوں نے بم ڈیزائن کی تفصیل میں شرکت نہیں کی۔ نیوکلئیر ایمپلوژن اب فرسودہ ہو چکا تھا اور وہ بڑے بڑے اہم ترین کاموں میں مصروف تھے۔ چنانچہ انہوں نے ستمبر 1972ء میں اپنے سابق شاگردرشید ڈاکٹر ریاض الدین (وفات 2013 ء) کو ٹریسٹ (اٹلی) میں بم ڈیزائن کے لئے اپنے آفس میں مدعو کیا۔ ریاض الدین میرے سینئررفیق کار نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کی داغ بیل رکھی تھی اور ذہنی استعداد کے مطابق وہ اس کام کے لئے بالکل موزوں شخص تھے۔

سلام نے ریاض الدین کو ہدایت کی کہ وہ نیو کلئیر امپلوژن کی فزکس کا درک حاصل کر نے کے لئے تھیوری ٹیشنز کا گروپ تشکیل دے۔ پا کستان اٹامک انرجی کمیشن کے چئیر مین منیر احمد خاں جس کے ساتھ سلام کے دوستانہ مراسم تھے، نے اس سمجھوتے کی منظوری دے دی۔ ریاض الدین جس کو عزت و وقار کا حامل تمغہ ہلال پا کستان 1998ء کے نیو کلئیر ٹیسٹ کے بعد تفویض کیا گیا تھا اس نے فرض سمجھتے ہوئے حکم کی اطاعت کی۔ یہ سارا کام کس طرح رنگ میں پایہ تکمیل کو پہنچا، وہ ریاض الدین کی سوانح میں دیکھاجا سکتا ہے جو عنقریب منصہ شہود پر آنے والی ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کیا ریاض الدین گروپ کا معلوماتی ذخیرہ اس ضمن میں اہم تھا؟ امریکنوں کا کہنا تھا کہ پا کستان کے پاس جوہری ہتھیاروں کے اس ٹیسٹ کے تفصیلی بلیو پرنٹ تھے جو چین نے 1960ء میں کیا تھا۔ ان بلیو پرنٹس کا ایک پلندہ بحری جہاز بی بی سی Cargo سے ضبط کیاگیا تھا جو لیبیا کی جانب روانہ تھا۔ مزید جوہری مواد جو ڈاکٹر عبد القدیر خاں نے بیچا تھا وہ بھی پکڑا گیا تھا۔ اس کے بعد صدر پاکستان جنرل پرویزمشرف نے ڈاکٹر عبد القدیر خاں کو حکم دیا تھا کہ وہ پی ٹی وی پر آکر اظہار ندامت کریں۔
بالفرض محال پا کستان کے پاس بلیو پرنٹس ہوتے تب بھی وہ بالکل بے سود تھے جب تک کہ بم بنانے میں کارفرما تھیورٹیکل پرنسپلز کی سوجھ بوجھ نہ ہو۔ لیبیا کے پاس یہی بلیو پرنٹس تھے مگروہ کچھ نہ کر سکے۔ پا کستان کے لئے فزکس کے علم کے ساتھ ڈئزائن ٹمپلیٹ کے ہونے سے مزعومہ کام سہل ہوگیا۔ یوں کسی ایٹم بم کی طاقت میں کمی بیشی کرنا قدرے آسان ہوگیا اور ا س کے ساتھ ساتھ بموں کے ڈیزائن میں رد و بدل کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا بھی ممکن ہو گیا۔

یہ بات کہ سلام نے جوہری راز دوسرے ملکوں کوفریب سے فروخت کر دیے سراسر بے بنیاد جھوٹ ہے ان لوگوں کا خودساختہ جھوٹ جو خود ان کالے کرتوتوں میں ملوث تھے اور اس کے بعدان کا کچا چھٹا کھل گیا۔ سلام بم کے ڈیویلپمنٹ کام میں شامل نہیں تھے سوائے عمومی طور پر نیز وہ ٹیکنیکل رازوں سے قطعی طور پر بے بہرہ تھے۔

تاہم سلام کے لئے بہت بڑا ذ ہنی صدمہ آنے والا تھا۔ 1974ء نے ان کی زندگی کو اتھل پتھل کردیا۔ سلام غم سے نڈھال ہوگئے جب بھٹو کی حکومت نے ان کی احمدیہ کمیونٹی کو نان مسلم قرارد ے دیا۔ اس سے قبل احمدی ہونے کے ساتھ پا کستانی قوم پرست ہونا ممکن تھا۔ اگرچہ سلام نے شجاعت کے ساتھ احمدی اور قوم پرست ہونے کی کوشش کی مگر اٹامک بم کی طرف ان کا رجحان رفتہ رفتہ تبدیل ہوتا گیا۔ بالآخر انہوں نے اٹامک بم کو انسانیت کی بقا کے لئے خطرہ جان لیا۔

میری زندگی کے بے شمار چھوٹے یا بڑے تاسفات میں سے ایک یہ ہے کہ میں کبھی جرات نہ کر سکا کہ سلام کے ساتھ بم کے مسئلے پر گفت و شنید کروں۔ 1984ء سے لے کر ان کی وفات سے دو یا تین ماہ قبل 1996ء تک انہوں نے اور میں نے گوناگوں مسائل جیسے سوشل، پو لیٹیکل اور سائنٹفک پر بحث کی، لیکن اس موضوع پر کبھی نہیں۔ کیا ان کو اپنی گزشتہ کوششوں پر کوئی تاسف تھا؟ ان کو یہ معلوم تھا کہ میں نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف اکثر لکھا اور بولا ہے (بشمول پا کستان کے)۔ اگرچہ مجھے شک ہے کہ سلام کے احساسات میں تبدیلی آ گئی تھی مگر میں نے خود کو جونئیر سمجھا کہ یہ سوال ان کے گوش گزارکروں۔

(روزنامہ ڈان 30 نومبر 2019ء )


(پرویز ہودبھائی)

(ترجمہ:زکریا ورک)

پچھلا پڑھیں

جامعہ احمدیہ جرمنی میں مقابلہ نظم و مقابلہ اذان

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 فروری 2020