• 29 فروری, 2024

دلچسپ و مفید واقعات و حکایات (قسط 15)

دلچسپ و مفید واقعات و حکایات
بیان فرمودہ
حضرت مصلح موعودؓ 
قسط 15

دینی کام دینی روح کے ساتھ ہوتے ہیں۔
سہارے کی احتیاج کامیابی سے روکتی ہے

ہر شخص چاہتا ہے کہ دوسر اتو کام کرے مگر میں نہ کروں اور یہ کوئی صحیح طریق نہیں۔ اصلاح تب ہوتی ہے جب انسان پہلے خود اپنی اصلاح کرے۔

رسول کریمﷺ جب عمرہ کے لئے تشریف لے گئے جس میں صلح حدیبیہ ہوئی اُس وقت ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جو اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کرتا ہے۔

رسول کریمﷺ نے دراصل خواب میں دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں داخل ہوئے اور احرام باندھے ہوئے ہیں۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ چلو ہم عمرہ کرآئیں (کیونکہ حج کا وقت نہ تھا) صحابہ کو بھی شوق تھا، اُنہوں نے دنبے، بکریاں اور اُونٹ قربانی کے لئے اپنے ساتھ لئے اور سج سجا کر بارات کی طرح مکہ کی طرف چل پڑے۔ جب مکہ کے قریب پہنچے تو کفار نے اُنہیں روک لیا، اُنہوں نے بہتیرا سمجھایا کہ ہم خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لئے یہاں آئے ہیں، ہم میانوں سے تلواریں نہیں نکالیں گے بلکہ متواضع شہریوں کی طرح عمرہ کر کے چلے جائیں گے مگر اُنہوں نے کہا، خواہ کچھ ہو ہم تو اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ آخر دنیا کو کیا پتہ ہے کہ تم عبادت کے لئے آئے تھے، لوگ تو کہیں گے کہ عرب ڈر گئے اور اُنہوں نے مسلمانوں کو مکہ میں آنے کی اجازت دے دی،اگلے سال بے شک عمرہ کرلینا، ہم سال بھر ڈھنڈورا پیٹتے رہیں گے کہ ہم نے خود مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت دی ہے اس طرح ہمار ارُعب قائم رہے گا، اس وقت ہم عمرہ کی اجازت نہیں دے سکتے۔

اس پر بڑا شور ہوا۔ مگر رسول کریمﷺ نے اُن کی بات مان لی اور آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ قربانیاں یہیں کر لو۔

اس بارہ میں اختلاف ہے، فقہاء میں سے بعض کہتے ہیں کہ جس مقام پر اُنہوں نے ڈیرے ڈالے تھے وہ حرم میں شامل تھا اور چونکہ وہ مقام حرم میں شامل تھے اس لئے اُن کے لئے قربانیاں کرنا جائز تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ مقام تو حرم میں شامل نہیں تھا مگر شریعت کا مسئلہ یہ ہے کہ جب انسان حج یا عمرہ کے لئے جائے اوررستہ میں روکا جائے تو جس جگہ روکا جائے وہیں قربانی کر دے۔ بہرحال کوئی وجہ ہو، رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ قربانیاں کردو، صحابہ نے یہ بات سنی مگر وہ قربانیاں کرنے کے لئے نہ اُٹھے، آپ نے ایک دفعہ کہا، دو دفعہ کہا، تین دفعہ کہا، مگر وہ خاموش رہے اُن کو دکھ تھا کہ آج اُن کی ناکیں کٹ گئیں، دو دو سَو تین تین سَو میل تک رہنے والے قبائل انہیں طعنہ دیں گے کہ تم نے کر لیا عمرہ! اُنہیں غم تھا کہ ہم دنیا کو کیا منہ دکھائیں گے اور اُن کے سامنے اپنی عزت کس طرح قائم رکھ سکیں گے۔ وہ اتنے دکھ میں تھے کہ باوجود اس کے کہ رسول کریمﷺ نے بار بار فرمایا جاؤاور قربانیاں کرو، جاؤ اور قربانیاں کرو،وہ قربانیاں کرنے کے لئے نہ اُٹھے۔

آپﷺ کو اس سے شدید ترین صدمہ پہنچا کہ اتنی بڑی قربانی کرنے والی قوم جو میرے ایک اشارہ پر اپنی جانیں قربان کردیا کرتی تھی آج اپنے حواس اس طرح کھو بیٹھی ہے کہ میں ایک حکم دیتا ہوں اور وہ اُس کی تعمیل نہیں کرتی، آپ اُسی حالت میں حضرت حفصہؓ کے پاس آئے اور فرمایا کہ حفصہ آج تمہاری قوم پر بڑی آفت آئی ہے۔

رسول کریمﷺ کی عادت تھی کہ جب عربوں میں نشوز کی کوئی بات دیکھتے تو آپ یہ نہ فرماتے کہ میری قوم نے ایسا کیا بلکہ مخاطب سے ذکر کرتے ہوئے کہتے کہ آج تیری قوم نے ایسا کیا، یہی انداز رسول کریمﷺ نے اُس وقت اختیار کیا۔

حضرت حفصہؓ نے کہا یا رسول اللہ! کیا ہوا؟ رسول کریمﷺ نے فرمایا، آج اس اس طرح ہوا ہے، اُنہوں نے کہا یا رسول اللہ! جانے بھی دیجئے،اُن کو توآپ سے اتنی محبت اور عشق ہے کہ اُس کی دنیا میں کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔

اس وقت عمرہ سے روکے جانے کا اُن کو اتنا شدید صدمہ ہوا ہے کہ اُن کے حواس پراگندہ ہو گئے ہیں وہ بڑی بڑی اُمیدیں لے کر آئے تھے مگر آج اُن کی اُمیدیں سب رائیگاں چلی گئیں۔ اس لئے ان کے دماغ پر ایک پردہ سا پڑ گیا ہے ورنہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ سمجھیں کہ خدا کا رسول ہمیں ایک حکم دیتا ہے اور پھر وہ اس کی تعمیل نہ کریں؟

اُنہوں نے کہا، یا رسول اللہ! آپ چپ کرکے جائیے اور اپنی قربانی ذبح کرنی شروع کردیجئے پھر دیکھئے کہ کیا ہوتا ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے، رسول کریمﷺ نے نیزہ لیا اور آپ خاموشی سے قربانی کے پاس گئے اور اُس کی گردن پر نیز ہ مار کر گرا دیا۔

بات وہی تھی جو حضرت حفصہ نے کہی تھی، صحابہ رسول کریمﷺ کے کام کے شیدائی اور عاشق زار تھے۔ جونہی اُنہوں نے دیکھا کہ رسول کریمﷺ نے اکیلے اپنی اونٹنی کو گرالیا ہے، یکد م اُن کو ہوش آیا اور ایک صحابی کا بیان ہے کہ اُس کے بعد ہم اس طرح اپنی قربانیوں کی طرف دوڑے کہ اگرکوئی شخص ہمارے رستہ میں آتا تو ہمار اجی چاہتا تھا کہ ہم اُس کو قتل کردیں۔

تو جب انسان خود عمل کرلیتا ہے تو دوسرے بھی اُس کے نمونے کو دیکھ کر عمل کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ اگر تم اس امید میں رہے کہ پہلے اسلامی احکام پر یہ عمل کرے یا وہ عمل کرے تب میں عمل کروں گا تو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

ہمار اخدا اگر ہم سے اس بات کا مطالبہ کرتاہے اور ہمارے بچے اور ہمارے عزیز ہمارا ساتھ نہیں دیتے تو کیا ہو ا،خدا کے کئی نبی ایسے گزرے ہیں جن کے رشتہ داروں نے اُنہیں نہیں مانا۔ ابو لہب رسول کریمﷺ کا چچا تھا مگر وہ آپ کا شدید ترین معاند تھا۔ حضرت ابراہیمؑ کے باپ، جو دراصل آپ کے چچا تھے،اُنہوں نے تو اس قدر دکھ دیا کہ آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔

پس ہوا کیا اگر کوئی شخص تمہارا ساتھی نہیں بنتا، جب کوئی شخص اپنے دائیں او ربائیں نگاہ دوڑاتاہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ اُس کا ایمان کمزور ہے مومن اپنے ایمان کے مظاہرہ کے لئے کسی ساتھ کا محتاج نہیں ہوتا۔ جس شخص کے دل میں کسی سہارے کی احتیاج محسوس ہوتی ہو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے کام میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔

دینی کام دینی روح کے ساتھ ہوتے ہیں، جو شخص خدا کے کام کے لئے کھڑا ہوتاہے وہ دائیں بائیں نہیں دیکھتا اُس کے بیوی بچے اُس کے ساتھ ہوں تو وہ خوش ہوتا ہے اور اگر نہ ہوں تو وہ سمجھتا ہے کہ خدا سے بڑھ کر میر امطلوب اور کوئی نہیں۔ میر اکام یہی ہے کہ میں خداتعالیٰ کے احکام پر عمل کرتا چلاجاؤں خواہ کوئی اور شخص میرا ساتھ دیتا ہے یا نہیں دیتا۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ338-341)

قربانیوں کا پھل کبھی رائیگاں نہیں جاتا

مثل مشہور ہے کہ ایک بڈھا ایک ایسا درخت لگا رہاتھا جس کا پھل دس سال کے بعد ہونا تھا وہ ابھی درخت لگا ہی رہا تھا کہ بادشاہ قریب سے گزرا اور اُس نے بڈھے کو وہ درخت لگاتے دیکھ کر کہا، میاں بڈھے معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری عقل ماری گئی ہے، تم 70، 80 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہو اور درخت وہ لگا رہے ہو جو پھل اُس وقت دے گا جب تم مر چکے ہو گے۔

بوڑھے نے کہا آپ نے یہ کیا بات کہی ہے اگر ہمارے باپ دادا بھی یہی سوچتے تو آپ اور ہم کہاں سے پھل کھاتے، اُنہوں نے درخت لگائے اور ہم نے پھل کھائے۔اب ہم درخت لگائیں گے اور ہماری آئندہ نسلیں پھل کھائیں گی۔ بادشاہ نے یہ بات سنی تو بے اختیار اُس کی زبان سے نکلا ’’زہ‘‘ یعنی کیا ہی اچھی بات کہی ہے اور بادشاہ کا حکم تھا کہ جب میں کسی کی بات پر ’’زہ‘‘ کہوں تو اُسے فوراً تین ہزار دینار انعام کے طور پر دے دیا جایا کرے۔ جب بادشاہ نے ’’زہ‘‘ کہا تو وزیر نے فوراً ایک تھیلی تین ہزار دینار کی بڈھے کے سامنے رکھ دی۔ بڈھا اُس تھیلی کو دیکھ کر کہنے لگا بادشاہ سلامت! آپ تو کہتے تھے کہ تُو اس درخت کا پھل کس طرح کھائے گا، دیکھئے لوگ درخت لگاتے ہیں تو کئی کئی سال کے بعد اُس کا پھل کھاتے ہیں مگر میں نے تو درخت لگاتے لگاتے اُس کاپھل کھا لیا، بادشاہ نے کہا ’’زہ‘‘ اس پر وزیر نے جَھٹ دوسری تھیلی بڈھے کے سامنے رکھ دی،

بڈھا ہوشیار آدمی تھا اُس نے دوسری تھیلی دیکھی تو پھر بادشاہ کی طرف متوجہ ہوا اور اُس نے کہا، بادشاہ سلامت آپ تو کہتے تھے کہ تُو اس درخت کا پھل کس طرح کھائے گا، دیکھئے اور لوگ تو جب درخت بڑا ہو اور پھل دینے لگے تو سال میں صرف ایک دفعہ اس کا پھل کھاتے ہیں مگر میں نے تو ایک گھنٹہ میں اس کا دو دفعہ پھل کھا لیا۔ بادشاہ نے کہا ’’زہ‘‘ اور وزیر نے جَھٹ تیسری تھیلی بھی بڈھے کے سامنے رکھ دی۔

اُس پر بادشاہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا جلدی یہاں سے چلو ورنہ بڈھا تو ہمیں لوٹ لے گا۔

یہ ہے تو ایک لطیفہ لیکن اس میں ایک بہت بڑی حقیقت مخفی ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر قربانی کا پھل قربانی کرنے والا ہی کھائے دیکھو ابراہیمؑ نے کتنی بڑی قربانی کی مگر کیا اُس کا پھل ابراہیمؑ نے کھا یا، کیا اُس کا پھل اسماعیلؑ نے کھایا، کیا اُس کا پھل اسماعیلؑ کے بیٹے نے کھایا، کیا اُس کے بیٹے کے بیٹے نے اُس کا پھل کھایا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ سالوں کے بعد سال گزرتے چلے گئے، نسلوں کے بعد نسلیں پیدا ہوئیں اور فنا ہوئیں مگر اُنہوں نے ابراہیمؑ کی قربانی سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا۔ آخر ایک مدت دراز کے بعد معمولی مدت نہیں بلکہ 2400 سال کے بعد جب کہ ابرہیمؑ کی اولاد ایمان کو بھول چکی تھی، جب وہ ابراہیمؑ  اور اسماعیلؑ کی خصوصیتوں کو فراموش کرچکی تھی، ابراہیمؑ نے وہ پھل نہیں کھایا اسماعیلؑ نے وہ پھل نہیں کھایا، اگر پھل کھایا تو ابو جہل کے بیٹے نے کھایا، ولید کے بیٹے نے کھایا، عاص کے بیٹے نے کھایا اسی طرح ابراہیمؑ سے ہوتے ہوتے ہزاروں ہزار نہیں لاکھوں لاکھ انسانوں نے کھایا، ولید جیسا شدید دشمن جو رات اور دن اسلام کے خلاف منصوبے کرتا رہتا تھا اُس کے بیٹے خالد نے اسلام قبول کرکے دنیامیں ایسی عزت حاصل کی کہ آج دنیا کے کناروں تک اُس کانام عزت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے،غرض ولید کے بیٹے نے بھی وہ پھل کھایا،عاص کے بیٹے نے بھی وہ پھل کھا لیا یہا ں تک کہ وہ شدید دشمن جس کی ساری زندگی رسول کریمﷺ کی تکذیب میں لگی ہوئی تھی اور جس کی ساری کوششیں اسلام کی تخریب کے لئے خرچ ہوتی تھیں اُس نے بھی وہ پھل کھایا اور ایسا کھایا کہ رسول کریمﷺ کو خواب میں نظر آیا کہ فرشتے جنت کے انگور کا ایک خوشہ لائے ہیں اور آپ پوچھتے ہیں یہ جنتی انگور کا خوشہ تم کس کے لئے لائے ہو،اُنہوں نے جواب دیا ابو جہل کے لئے، آپ فرماتے ہیں میں یہ سن کر کہ ابو جہل کے لئے جنت کے انگوروں کا خوشہ آرہا ہے، کانپا اور میری آنکھ کھل گئی۔ جب ابوجہل کا بیٹا عکرمہؓ مسلمان ہوا تب رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ میرا خواب پورا ہوگیا۔ ابو جہل کے لئے جو خوشہ آیا تھا وہ عکرمہؓ نے کھا لیا۔

اس میں وہی حقیقت بیان کی گئی ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے رسول کریمﷺ نے دیکھا کہ جنت سے ابو جہل کے لئے انگور کا خوشہ لایا گیا ہے اور جنت سے کیا مراد تھی، اس جنت سے یقیناً محمدی باغ مراد تھا اور یہی محمدی باغ تھا جس کا پھل ابو جہل نے کھایا مگر خود ابراہیمؑ نے اس کا پھل نہیں کھایا، خود اسماعیلؑ نے جس کی ساری زندگی قربانیوں میں گزری اس کاپھل نہیں کھایا۔

پس کیوں خیال کرتے ہو کہ تمہاری قربانیوں کا آج نتیجہ نکلتاہے یا نہیں۔ اگر تمہاری نسل کسی وقت بھی تمہاری قربانیوں سے فائدہ اُٹھا لے،اگر تمہارے ہمسائے کی نسل کسی وقت بھی تمہاری قربانیوں سے فائدہ اُٹھا لے بلکہ ہمسائے کی نسل کو جانے دو، اگر تمہاری قربانیوں سے کسی وقت تمہارے دشمن کی نسل فائدہ اُٹھا لے تو یقیناً تمہاری قربانیوں کا پھل تمہیں مل گیا کیونکہ خواہ وہ تمہار ا دشمن تھا وہ خدا کا بند ہ تھا۔تم کیوں اُس کو دشمن کی نسل کی نگاہ سے دیکھتے ہو تم کیوں اُس کو پوتے یا پڑپوتے کی نسل کی نگاہ سے دیکھتے ہو تم اس نقطہ نگاہ سے دیکھو کہ وہ خدا کا ایک پیدا کردہ بندہ ہے۔

پس قربانیوں سے تم اس لئے مت ڈرو کہ تم آج اُس کا پھل نہیں کھا سکو گے۔ تم قربانیاں کرو اور کرتے چلے جائے۔

ہم بچپن میں ایک کہانی سنا کرتے تھے جس میں یہ ایک فقرہ آتا تھا کہ ’’نیکی کر اور دریا میں ڈال‘‘ ہزاروں ہزار نیکیاں دنیا میں ایسی نظر آتی ہیں جو نیکیوں کی سرتاج ہوتی ہیں بظاہر انسان اُن نیکیوں میں حصہ لیتاہے جو چوٹی کی نیکیاں کہلاتی ہیں مگر اُن کے نتیجے میں نہ انسان کی جیب میں کوئی پیسہ آتا ہے نہ اُس کی بہنوں کے کان میں یا ناک میں کوئی زیور پڑتا ہے نہ اُس کے لڑکے کے تن کو کپڑے میسر آتے ہیں،وہ دریا میں پھینکی جاتی ہیں، وہ بظاہر ضائع اور برباد نظر آتی ہیں حالانکہ وہ اُن نیکیوں سے ہزار ہا گنا بڑی ہوتی ہیں جو تن کو ڈھانپتی او رپیٹ کو بھرتی ہیں۔

پس اگر تم ایسا کرو گے تو دنیا کی طبائع تمہاری طرف خود بخود کھنچی چلی آئیں گی اور تم جنت اور دوزخ کو اپنے بالکل قریب دیکھو گے جیسے محمد رسول اللہﷺ نے جنت اور دوزخ کو اپنے قریب دیکھا۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ346-349)

قرب الٰہی کے لئے ’’مَیں‘‘ قربان کرنا ضروری ہے

خدا کو پانے کے لئے مال کی، جان کی، ارادوں کی، علم کی، وقت کی قربانی کافی نہیں۔ خداتعالیٰ اِس احساس کی کہ مَیں ہوں قربانی چاہتاہے۔ جب تک کوئی انسان اس مَیں کو مٹا نہیں دیتا اس وقت تک خدا اسے قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ مشرک ہوتا ہے۔

ایسا انسان باوجو د لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا نعرہ لگانے کے اس میں شُبہ نہیں اپنے آپ کو ایک الگ وجود تصور کرتا ہے۔ جب وہ کہتا ہے میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا قائل ہوں تو و ہ خود اپنے اس دعوے کو ردّ کرتا ہے کیونکہ اگر مَیں ہے تو پھر وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ نہیں کہہ سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے تو مَیں کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے تم اپنے نفس کو مٹا دو۔ تمہاری مرضی نہ ہو بلکہ میری مرضی ہو۔ صرف مَیں رہوں اور میرا کوئی شریک نہ ہو حتّٰی کہ تم بھی نہ ہو۔ لوگ مال و جان قربان کرتے ہیں مگر اِس میں اِن کی مرضی اور خواہش ساتھ ہوگی اور جب تک کوئی مَیں قربان نہیں کرتا اُس کی قربانی کی خداتعالیٰ کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں۔

(خطابات شوریٰ جلد1 صفحہ215-216)

کسی نے دوزخی دیکھنا ہوتو اسے دیکھ لے

تاریخوں میں لکھا ہے کہ ایک لڑائی کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے ایک شخص کفار پر حملہ آور ہوا اور اُس نے ایسی بے جگری کے ساتھ لڑائی کی اور اس طرح کفار کو تہہِ تیغ کرنا شروع کیا کہ مسلمان اُس کو دیکھ دیکھ کر بے اختیار کہتے کہ خدا! اس شخص کو جزائے خیر دے، یہ اسلام کی کتنی بڑی خدمت سرانجام دے رہا ہے۔

مگر رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی نے اِس دُنیا کے پردہ پر کوئی دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ جب رسول کریمﷺ نے یہ بات فرمائی تو صحابہؓ سخت حیران ہوئے کہ اتنی بڑی قربانی کرنے والے اور آگے بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والے کے متعلق رسول کریمﷺ نے یہ کس طرح فرما دیا کہ اگر کسی نے اس دُنیا کے پردہ پر کوئی دوزخی دیکھنا ہو تو وہ اسے دیکھ لے۔

ایک صحابی کہتے ہیں میں نے کئی لوگوں کو اس قسم کی باتیں کرتے سُنا کہ رسول کریمﷺ نے یہ کیا فرما دیا اور میں نے سمجھا کہ ممکن ہے اس سے بعض لوگوں کو ٹھوکر لگے۔ چنانچہ میں نے قسم کھائی کہ میں اس شخص کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک میں اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔

چنانچہ وہ کہتے ہیں میں اُس کے ساتھ ساتھ رہا یہاں تک کہ وہ لڑتے لڑتے زخمی ہوا اور اُسے لوگوں نے اُٹھا کر ایک طرف لِٹا دیا۔ وہ درد کی شدت کی وجہ سے کراہتا تھا اور چیخیں مارتا تھا۔ صحابہؓ اس کے پاس پہنچتے اور کہتے اَبْشِرْبِالْجَنَّةِ تجھے جنت کی خوشخبری ہو۔ اِس پر وہ اُنہیں جواب میں کہتا۔ اَبْشِرُوْنِیْ بِالنَّارِ۔ مجھے جنت کی نہیں دوزخ کی خبر دو اور پھر اُس نے بتایا کہ میں آج اسلام کی خاطر نہیں لڑا بلکہ اِس لئے لڑا تھا کہ میرا ان لوگوں کے ساتھ کوئی پرانا بُغض تھا۔ آخر وہ صحابی کہتے ہیں اُس نے زمین میں اپنا نیزہ گاڑا اور پیٹ کا دباؤ ڈال کر خودکشی کر لی۔

جب وہ مر گیا تو وہ صحابی رسول کریمﷺ کی مجلس میں پہنچے اور اُنہوں نے بلند آواز سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور مَیں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپﷺ نے بھی جواب میں فرمایا کہ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور مَیں گواہی دیتا ہوں کہ مَیں اُس کا رسول ہوں۔

پھر آپﷺ نے فرمایا تم نے یہ بات کیوں کہی ہے؟ اُس نے کہا یارسول اللہ! آپﷺ نے فلاں شخص کے متعلق یہ بات کہی تھی، اِس پر بعض صحابہؓ کے دل میں شُبہ پیدا ہوا کہ اتنے بڑے نیک انسان کے متعلق رسول کریمﷺ نے یہ کیا کہہ دیا۔ مگر میں نے کہا خدا کے رسول کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی اور میں نے قسم کھائی کہ میں اسے چھوڑوں گا نہیں جب تک میں اِس کا انجام نہ دیکھ لوں۔ چنانچہ میں اس کے ساتھ رہا اور آخر وہ خودکشی کر کے مر گیا۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ391-392)

چونکہ خودکشی کرنے والا خداتعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے اِس لئے خدا کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اِس طرح معلوم ہو گیا کہ فیِ الواقعہ وہ شخص دوزخی تھا۔۔۔۔ اب دیکھو ایک شخص باوجود مسلمانوں کے ساتھ مل کر دشمنوں سے لڑتا ہے اور ایسے ایسے مقام پر حملہ کرتا ہے جہاں عام مسلمان بھی نہ کرتے مگر اُس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ دوزخ میں جاتا ہے۔

اِس لئے کہ اس نے جان کی قربانی تو کی لیکن ’’مَیں‘‘ کی قربانی نہ کی تھی۔ اُس نے جان کی قربانی اپنی انانیّت کے لئے کی تھی۔

(خطابات شوریٰ جلد1 صفحہ217)

بہادر موت سے نہیں ڈرتا

ہم نے دیکھا ہے۔ پٹھانوں کو بڑا وحشی سمجھا جاتا ہے لیکن اُن میں یہی خوبی ہے کہ وہ مرنے سے نہیں ڈرتے، مرتے جاتے ہیں اور آگے بڑھتے جاتے ہیں۔

مجھے ایک کرنل نے سنایا کہ کشمیر میں ایک بڑا سخت مورچہ تھا۔ مہاراجہ کشمیر کا اس کے متعلق یہ اعلان تھا کہ وہ مورچہ چھ مہینے تک فتح نہیں ہو سکتا۔ یہ اُن کی ایک خاندانی جگہ تھی جسے اُنہوں نے بڑا مضبوط بنایا ہوا تھا۔

اُس نے بتایا کہ ہمیں حکم ہوا کہ پٹھانوں کو آگے بھیجو۔ اُس وقت کابل کی طرف سے پاوندے آئے ہوئے تھے۔ فوجی افسر نے اُنہیں اپنے ساتھ لیا اور نقشوں سے بتانا شروع کیا کہ فلاں جگہ سے رستہ گزرتا ہے فلاں جگہ نالا ہے، فلاں رستہ بڑا خطرناک ہے کیونکہ وہاں دشمن نے مائنز بچھائی ہوئی ہیں۔ پہلے اس طرف سے جانا، پھر پہاڑی کے اُس طرف چلے جانا، پھر اس نالے کو عبور کرنا، وہ گھبرائیں کہ یہ اپنی بات کو ختم کیوں نہیں کرتا اور یہ بتاتا کیوں نہیں کہ ہم نے کرنا کیا ہے۔ جب وہ بات کر چکا تو اُنہوں نے کہا کہ تم صرف اتنا بتا کہ ہم نے کرنا کیا ہے؟ اُس نے کہا فلاں قلعہ پر قبضہ کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا بس اتنی بات تھی۔ تم نے خواہ مخواہ ہمارا اتنا وقت ضائع کیا۔

اِس کے بعد وہ سیدھے اُس قلعہ کی طرف چل پڑے۔ پندرہ بیس گز گئے تھے کہ دشمن کو علم ہو گیا اور اُس نے فائرنگ شروع کر دی۔ اُن کے چالیس پچاس آدمی وہیں ڈھیر ہو گئے۔ اِس پر اُنہوں نے ان لاشوں کی اوٹ میں آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ پھر کچھ مرے تو اُنہوں نے اُن کی لاشوں کو آگے رکھ لیا۔ اِس طرح وہ اپنی لاشوں کو پناہ بناتے ہوئے ہی آگے بڑھتے چلے گئے اور جس قلعہ کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ چھ مہینے تک فتح نہیں ہو سکتا اُس قلعہ پر شام کے وقت ہمارا جھنڈا لہرا رہا تھا۔

اُس کرنل نے بتایا کہ وہ اتنی دلیری کے ساتھ آگے بڑھے کہ ہمیں دیکھ کر حیرت آتی تھی۔ ہم اُن سے کہتے کہ دشمن سے چُھپو اور وہ ناچنے لگ جاتے اور کہتے کہ ہم تو حملہ سے پہلے ناچا کرتے ہیں۔

یہ دُنیوی چیزیں ہیں جو ایمان کے نہ ہوتے ہوئے بھی مختلف قوموں میں پائی جاتی ہیں۔ اگر یہ پہلی چیزیں ہی ہمارے اندر نہیں پائی جاتیں تو اگلی خوبیاں ہم میں کہاں ہو سکتی ہیں۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ394-395)

عمل کے بغیر خالی دعوی بیکار ہے

کہتے ہیں کوئی بزدل تھا اُسے خیال ہوگیا کہ میں بڑا بہادر ہوں اور اُس نے تجویز کیا کہ وہ اپنے جسم پر کوئی بہادری کی علامت گدوائے آخر اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بازو پر شیر کی شکل گدوائے گا۔

وہ گودنے والے کے پاس گیا اور اُسے کہا میرے بازو پر شیر گوددو۔ گودنے والے نے اپنے سامان لیا اور گودنے کے لئے تیار ہوگیا۔ اُس نے سُوئی جو ماری تو چونکہ وہ بزدل تھا درد کی اُس سے برداشت نہ ہوسکی اور اُس نے گودنے والے سے پوچھا تم شیر کا کون سا حصہ گود رہے ہو؟ اُس نے کہا میں دایاں کان گودنے لگا ہوں۔ اُس نے کہا اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو کیا شیر رہتا ہے یانہیں؟ گودنے والے نے کہا شیر تو رہتا ہے۔ اُس نے کہا اچھا دایاں کان چھوڑ دو اور آگے چلو۔

اسی طرح ہر عضو کے متعلق اُس نے یہی کہنا شروع کردیا آخرگودنے والا سُوئی چھوڑ کر بیٹھ گیا، اُس نے پوچھا بیٹھ کیوں گئے ہو ؟ اُس نے کہا شیر کا دایاں کان نہ ہو تب بھی وہ شیر رہتا ہے اور اگر بایاں کان نہ ہو تب بھی شیر رہتا ہے لیکن جتنے اعضاء تم نے چُھڑوائے ہیں اُن کے بعد تو شیر ہی نہیں رہتا۔

غرض بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں خوشی سے تو نہیں لیکن مجبوراً نظرا نداز کیا جاسکتا ہے مگر بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں مجبوراً بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ398)

اپنے حق کی خود بھی حفاظت کرو

تورات میں آتا ہے کہ حضرت اسحٰق علیہ السلام کے بڑے بیٹے عیسُو نے اپنا حق اپنے چھوٹے بھائی یعقوب علیہ السلام کے لئے چھوڑ دیا تھا۔

پرانے زمانہ میں بڑے بیٹے کو حقوقِ برتری حاصل ہوتے تھے۔ یہود کا یہ خیال تھا کہ بڑا بیٹا ہی نبی بن سکتا ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کی والدہ کو یہ احساس تھا کہ بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے عیسُو نبوت کادرجہ لے جائے گا اس لئے وہ اِس ٹوہ میں رہتی تھی کہ کسی طرح یہ حق اپنے بیٹے یعقوب کولے کر دے۔

ایک دن یعقوب نے مسور کی دال پکائی عیسُو کا دال کھانے کو جی چاہا اُس نے یعقوب کو بلا کر کہا مجھے دال کِھلا یعقوب نے کہا مجھے اپنا پلوٹھا ہونے کا حق دے دے تب میں تجھے دال دوں گا۔

عیسُو کا بچپن بھی تھا اور یہودیوں کے نزدیک اُس کا معیارِ اخلاق بھی اعلیٰ نہیں تھا اُس نے کہا دال تو نقد بہ نقد مل رہی ہے نبوت پتہ نہیں کب ملے اِس لئے اُس نے نبوت کا حق یعقوب کو دے دیا۔ اِس پر یعقوب نے اُسے مسور کی دال دی اور اُس نے کھائی۔

جب حضرت اسحٰق علیہ السلام بیمار ہوگئے تو آپ نے اپنے بڑے بیٹے عیسُو کو کہا عیسُو آؤ میں تمہیں دعا دوں کہ خدا تعالیٰ تمہیں میرا وارث ِروحانی بنائے اور تمہیں نبوت کا رتبہ حاصل ہو۔ عیسُو شکار کے لئے جنگل میں چلا گیا تا دعا لینے سے پہلے اپنے باپ کے لئے لذیذ کھانا تیار کرے۔

یعقوب کی والدہ سن رہی تھی اُس نے یعقوب کو بلایا اور انہیں ایک دنبہ ذبح کردیا اور اُس کی کھال انہیں پہنا دی یعقوب اپنے باپ اسحٰق کے پاس گئے اور عیسُو کی آواز میں کہا اے باپ! تُو مجھے دل سے دعا دے اسحٰق نے گوشت کھا کر کہا بیٹا! قریب آؤ۔ جب وہ قریب آیا تو اسحٰق نے اُس کے بدن کو ٹٹولا۔ اسحٰق نے دیکھا کہ آواز تو یعقوب والی ہے مگر بدن عیسُو والا نہیں عیسُو کے بدن پر بال تھے اور یعقوب کے بدن پر بال نہ تھے اس لئے یعقوب کی والدہ نے انہیں دنبے کی کھال پہنا دی تھی حضرت اسحٰق علیہ السلام نے یعقوب کو دعا دے دی کہ خداتعالیٰ انہیں اُن کا روحانی وارث بنائے اور نبوت کا درجہ عطا کرے۔

تب عیسُو شکار لے کر آیا اور کھانا پکا کر باپ کے پاس لے گیا اور کہا اے باپ مجھے برکت دے۔ اسحٰق نے کہا تیرا بھائی یعقوب آیا تھا اور دھوکا سے و ہ تیری برکت لے گیا ہے۔ عیسُو نے کہا یعقوب پہلے بھی میرا حق لے گیا تھا اور اب بھی اُس نے میرے حق کو دھوکا سے حاصل کرلیا ہے۔

اس واقعہ میں یہی بتایا گیاہے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کرنا اور اُن کی خاطر قربانی کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ بعض بیوقوف اپنے بڑے بڑے حقوق کو تھوڑے سے لالچ کی خاطر ضائع کر دیتے ہیں۔ جیسے عیسُو نے مسور کی دال کی خاطر اپنا نبوت کا حق چھوڑ دیا۔

(خطابات شوریٰ جلد3 صفحہ430-432)

(محمد انور شہزاد)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 فروری 2023