• 18 جولائی, 2024

شکر قندی

مشہور نام شکر قند۔ اردو، شکر قندی۔ گجراتی، فارسی، سندھی زمین قند۔مرہٹی رتالو۔ انگریزی میں سویٹ پٹاٹو (Sweet Potato) کہتے ہیں۔

شناخت

ایک بیل دار بوٹی کی مشہور جڑ ہے۔جو دو رنگوں میں ملتی ہے،لال اور سفید۔مگر یہ رنگ صرف چھلکے کا ہوتا ہے۔ذائقہ میں لال شکر قندی سفید سے زیادہ میٹھی ہوتی ہے۔اسے پانی میں اُبال کر یا آگ میں بھون کر کھایا جاتا ہے۔ذائقہ میں میٹھی اور مزے دار ہوتی ہے۔یہ چینی اور نشاستہ کا مرکب ہے۔اس لئے بھر پور غذا دیتی ہے اور جسم کوطاقت ملتی ہے، اُبالنے سے زیادہ اسے راکھ میں بھون کر کھانا زیادہ فائدہ مند ہے۔ہندوستان و پاکستان ممالک کے ہر صوبہ میں آلو کی طرح پیدا ہو تی ہے۔

افعال و استعمال

نفاخ اور قابض ہے۔دماغ کے لئے انتہائی مفید ہے۔ بدن کو موٹا کرتی ہے۔ اطبا کے نزدیک مولد منی ہے اور دماغ کو تقویت دیتی ہے۔ تقویت باہ کے لئے اس کا حلوا یا کھیر بنا کر دیتے ہیں اور تولد منی کے لئے کھلاتے ہیں۔

سردیوں کا تحفہ

شکر قندی قدرت کا ایک بہترین تحفہ ہے جس کا استعمال لوگ سردیوں میں زیادہ کرتے ہیں۔ کم قیمت اور صحت کے لیے مفید ہونے کی وجہ سے شکر قندی اس موسم میں بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔ شکر قندی دنیا بھرمیں اگنے والی سوغات کا ایک حصہ ہے۔ آلو جیسی شکل اور اس جیسی غذائیت رکھنے والی شکر قندی پاکستان میں بہت عام پائی جاتی ہے۔شکر قندی کی ان گنت خصوصیات کی وجہ سے اس سبزی کو سپر فوڈ کہا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اس لیے شکر قندی کو انگلش میں sweet potato کہا جاتا ہے۔ اس سستی سی سبزی میں قدرت کے تمام غذائی اجزا موجود ہیں۔یہ حرارت بخش اور مقوی ہوتی ہے۔ شکر قندی پر کالی مرچ اور کالا نمک ڈال کر کھانے سے اس کا ذائقہ نہ صرف دوبالا کرتی ہے بلکہ جسم کو افادیت بھی بخشتی ہے۔

شکر قندی میں موجود قدرتی غذائی اجزا

شکر قندی قدرتی منرلز، وٹامنز اور فائبر سے بھرپور ہے۔ایک کپ بغیر چھلکے کے پکی ہوئی شکر قندی میں 200 گرام کیلریز ہوتی ہیں اور چھلکے والی شکر قندی میں تقریبا 180 گرام کیلریز پائی جاتی ہیں۔

  • پوٹاشیم 337 گرام اور 9 فیصد موجود ہے۔
  • کیلشیم 3 فیصد
  • آئرن 3 فیصد
  • پروٹین 6 گرام 3 فیصد موجود ہے۔
  • فیٹس 0 فیصد
  • سوڈیم 55 ملی گرام 2 فیصد

جدید تحقیقات

اس میں تانبہ، کاربوہائیڈریٹ، گلوکوزاور وٹامن اے، بی، ای اور سی پائے جاتے ہیں۔

جدید طبی فوائد

شکر قندی اپنے اندر بے شمار قدرتی غذائی فائدے رکھتی ہے۔

1۔ آنتوں کی صحت کے لیے بہترین ہے

شکر قندی میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ ہماری آنتوں کی بے حد حفاظت کرتی ہے۔ اس میں دو قسم کا فائبر پایا جاتا ہے ایک ایسا فائبرجو آسانی سے ہمارے جسم میں حل ہو جاتا ہے اور دوسرا ایسا جو ہمارے جسم میں آسانی سے حل نہیں ہو پاتا لیکن اس بات کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ انسانی جسم کسی بھی قسم کے فائبر کو حل نہیں کر پاتا لیکن شکر قندی کا استعمال ہماری آنتوں کی حفاظت کر کے اسے مضبوط اور صاف ستھرا بناتا ہے۔

2۔ دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے

شکر قندی میں قدرتی طور پروٹامن 6 نستعلیق موجود ہے جو دل کی تمام بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ ہوموسیسٹین لیول کو کم کرتا ہے جو زیادہ تر دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ ہوموسیسٹین ایک ایسی بیماری ہے جو دل کی تمام شریانوں کو تنگ کر کے رکھتی ہے جبکہ وٹامن 6 نستعلیق دل کی شریانوں کو صحت مند بناتا ہے۔ شکر قندی میں موجود پوٹاشیم دل کی دھڑکن کو اپنے لیول پر رکھتا ہے ان کی ترتیب برقرار کر کے رکھتا ہے۔ شکر قندی کے فوائد جاننے کے باوجود کوئی بھی چیز استعمال کرنے سے پہلے ایک بار ڈاکٹر سے رجوع لازمی کریں۔

3۔ شکر قندی کا استعمال کینسر کے لیے مفید

ہم جانتے ہیں کہ شکر قندی ایک اینٹی آکسیڈینٹ ہے یہی وجہ ہے کہ اس میں ایک ایسا آکسیڈنٹ موجود ہے جسے اینتھوسیانن اینٹی آکسیڈینٹ کہا جاتا ہے اور وہ جامنی رنگ کی شکر قندی میں پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں مزید معلومات اکھٹی کرنے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جامنی رنگ کی شکر قندی کینسر کے مختلف علاج کے لیے بہترین ہے جیسا کہ چھاتی کا کینسر، آنتوں کا کینسراور مثانے کا کینسر وغیرہ جو کہ خلیوں کی نشو و نما کو کم کرنے کے حوالے سے استعمال کیا گیا ہے۔

4۔ دماغ کی صحت کے لیے بہت مفید ہے

شکر قندی دماغی افعال کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بہترین ثابت ہوئی ہے۔ شکر قندی میں موجود اینتھوسیانن اینٹی آکسیڈینٹ دماغی سوزش کو ختم کرتا ہے اور دماغ کو نقصان پہنچانے والے فری ریڈیکلز سے محفوظ رکھ کے دماغ کی حفاظت کرتا ہے۔ شکر قندی دماغ کو تیز کرتی ہے اور ایک صحت مند شخصیت کو فروغ دیتی ہے۔ شکر قندی دماغی ایک بیماری میڈیمنشیا سے بچاتی ہے جو کہ 17 فیصد انسانوں میں پائی جاتی ہے۔

5۔ معدے کے السر کے لیے

شکر قندی میں موجود فائبر معدے کو صاف رکھتا ہے اس لیے السر کے مریضوں کے لیے شکر قندی کا استعمال ایک قدرتی تحفہ ہے۔ یہ کھانا ہضم کرنے میں مدد کرتی ہے اور فاضل مادہ جسم سے خارج کرنے میں مدد کرتی ہے اور جسم میں پیدا ہونے والی تیزابیت کو بھی ختم کر کے معدے کو صاف رکھتی ہے اور کھانے کی نالی میں تیزابیت پیدا نہیں ہونے دیتی۔ شکر قندی میں موجود کیلشیم، پوٹاشیم، وٹامن بی،وٹامن سی اور بیٹا کیروٹین السر ہونے کے خطرات سے بھی بچا کر رکھتا ہے۔

6۔ جلد اور بالوں کی نشو و نما کرتی ہے

شکر قندی کو بیوٹی فوڈ بھی کہا جاتا ہے اس میں موجود قدرتی غذا جلد اور بالوں کی بے جا نشو و نما کرتے ہیں۔ وٹامن سی، وٹامن ای اور کیروٹین کے اشتراک سے بننے والی شکر قندی جلد کو چمکدار بناتی ہے اور عمر بھی بڑھاتی ہے۔ کیونکہ شکر قندی خون کو صاف کرتی ہے اس لیے اس سے رنگ بھی صاف ہوتا ہے اور چہرے پر ایک قدرتی چمک آتی ہے۔ اس کے مستقل استعمال سے بال گھنے اور بھاری ہوجاتے ہیں یہ ان لوگوں کے لیے بہت اچھی ہے جن کے بال گرتے ہیں اور وہ لوگ بہت پریشان ہیں ایسے لوگوں کو شکر قندی کا استعمال اپنے معمول کا ایک حصہ بنانا چاہیے۔

7۔ قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ جسم میں قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے آئرن کی ضرورت ہے۔ معدنیاتی فولاد نہ صرف جسم کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ اس سے جسم کے سرخ اور سفید خلیات تیزی سے بنتے ہیں۔ ذہنی تناؤ دور ہوتا ہے اور قوت مدافعت مستحکم ہوتی ہے۔ میگنیشیم کی وافر مقدار بھی اسے انرجی سے بھرپور بناتی ہے جس کے باعث جسم اور ذہن پر سکون رہتا ہے کیونکہ یہ مشہور مقولہ ہے کہ صحت مند دماغ صحت مند جسم کو فروغ دیتا ہے۔

8۔ پھیپھڑوں کے لئے فائدہ مند ہے

شکر قندی میں وٹامن اے موجود ہے جو جسم کو پھیپھڑوں کی بیماریوں سے دور رکھتی ہے۔ شکر قندی کے استعمال سے پھیپھڑوں کی کئی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے خاص طور پر پھیپھڑوں کی ایک بیماری بہت عام ہے جسے امفیسیما کہا جاتا ہے۔ شکر قندی میں کیروٹینائڈ موجود ہے اس لیے ایسی چیزوں کا استعمال کرنے سے جس میں خاص طور پر کیروٹینائڈ جیسی خصوصیات موجود ہوں ان میں پھیپھڑوں کی تمام بیماریوں اور خاص طور پر پھیپھڑوں کے کینسر سے بچا جا سکتا ہے اور یہ پھیپھڑوں کی بیماریوں کو 33 فیصد تک کم کرتی ہے۔

9۔ ذیابیطس کو کنٹرول کرتی ہے

شکر قندی کی گلایسمیک انڈکس کم سے زیادہ لو سے ہائی درجہ بندی کی جاتی ہے اور اس کے متعدد مظالعہ جات اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ شکر قندی میں موجود انسولین نہ صرف مزاحمت کرتی ہے بلکہ جسم میں ہونے والی شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے۔ گلایسمیک انڈیکس کا استعمال دیگر نشاسته دار غذائوں کے برعکس خون میں شوگر کو قدرے سست انداز میں پہنچاتی ہے۔ یہ عمل انسانی جسم میں شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں موجود شوگر کا لیول کم یا ذیادہ نہیں ہوتا بلکه ایک سطح پر رہتا ہے۔

(دراب علی)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 فروری 2023