• 20 اکتوبر, 2020

چوتھی صدی کے مجدد حضرت ابو بکر باقلانیؒ

نام ونسب

آپ کا نام محمد بن طیب، کنیت ابو بکر اور لقب سیف السنۃ ولسان الامۃ تھا۔ آپ کے والد محترم کا نام طیب بن محمد بن جعفر تھا۔

پیدائش

آپ کی پیدائش 338ھ میں عراق کے شہر بصرہ میں ہوئی۔

تعلیم و تربیت

ابتدائی تعلیم بصرہ میں ہی حاصل کی جس کے بعد آپ نے بغداد میں سکونت اختیار کی۔علم الاصول آپ نے ابن مجاہد سے، علم فقہ ابوبکرابہری سے اورعلوم حدیث ابو بکر بن مالک قطیعی،ابو محمد بن ماسی،ابو احمدحسین بن علی نیشاپوری وغیرہ سے حاصل کیے۔ان کے علاوہ آپ نے دیگر کئی علماء وبزرگان سے فیض علم پایا جن میں سے مشہور یہ ہیں: امام دارقطنی، ابو الحسن الباہلی، احمد بن جعفر قطیعی، ابو احمد عسکری، ابو سہل الصعلوکی، ابو عبد اللہ محمد بن خفیف شیرازی، ابن ابی زید قیروانی وغیرہ۔ آپ کے اکثر اساتذہ امام ابو الحسن اشعری کے شاگرد تھے۔

اشعری امام

آپ کا تعلق مالکی مکتبہ فکر سے تھا۔ ابن عمار میورقی بیان کرتے ہیں کہ ابن طیب مالکی تھے اور عالم و فاضل ،نہایت متقی و پرہیز گار تھے۔ جو گمراہی سے محفوظ تھے۔ آپ کی طرف کوئی نقص منسوب نہ ہوتاتھا۔ آپ کو شیخ السنۃ اور لسان الامۃ کا لقب دیا گیا۔ آپ علم کے شہسوار تھے اور اس امت کے لیے ایک بابرکت وجود تھے۔

قاضی ابو بکر محمد بن طیب کے دور کے مالکی سرداروں کاآپ پر اختتام ہوا۔حضرت ابو الحسن اشعری کے پیروکار ہونے کی وجہ سے اشعری کہلائے اور اشعری فرقہ کے دوسرے بانی سمجھے جاتے ہیں۔امام ابن تیمیہ کے نزدیک آپ امام ابو الحسن اشعری کے بعد عظیم ائمہ میں سے تھے۔امام ذھبی کے نزدیک آپ اشعری متکلمین میں سے افضل تھے۔آپ نے اپنی قابلیت کی بناء پر علم الکلام میں دسترس حاصل کی اور اسی وجہ سے لوگوں میں مشہور تھے۔دل کے بہت اچھے اور زبان کے سخی تھے۔ اپنی بات کو اچھی طرح سے واضح کرنے والے اور کتابوں میں درست بات لکھنے والے تھے۔ آپ اپنے وقت کے بزرگ اور اپنے زمانے کے عالم تھے۔آپ کا فقہ بہترین تھا اور بہت بڑے مناظر تھے۔جامع منصور بغداد میں آپ کا حلقہ بہت وسیع تھا۔

مناظرات میں بطور حَکم

آپ ثغر میں قضاء کے عہدے پر مقرر ہوئے۔فقیہہ ابو عبد اللہ بن سعدون بیان کرتے ہیں کہ تمام فرقے اپنے مناظروں میں قاضی ابو بکر باقلانی کی بطور حَکَم تقرری پر رضامند ہوتے تھے۔

(ترتیب المدارک و تقریب المسالک از قاضی عیاض(متوفی:544ھ) جزء7ص45)

معتزلہ و بدعتیوں سے مناظرے

آپ علم الکلام کے ماہر اورحاضر دماغ مناظرتھے۔ آپ نے روافض، اہل معتزلہ اور بدعتیوں وغیرہ سے بہت مناظرے کیے۔ ایک مناظرہ اہل معتزلہ سے عضد الدولۃ کے سامنے بھی کیا۔

ایک دفعہ ابن المعلم جو رافضیوں کا بزرگ اور متکلم تھا، اپنے ساتھیوں کے ساتھ مجلس مناظرہ میں آیا وہاں اس نے جب ابو بکر باقلانی کو آتے دیکھا تو اپنے ساتھیوں سے کہا کہ قد جاء کم الشیطان یعنی یقیناً!تمہارے پاس شیطان آرہاہے۔ امام ابو بکر نے ان کی یہ بات سن لی۔آپ نےابن المعلم کے پاس جاکرفرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا (مريم 84) ہم شىطانوں کو کافروں کے خلاف بھىجتے ہىں جو انہىں طرح طرح سے اُکساتے ہىں۔

(تاریخ بغداداز ابو بکر خطیب بغدادی (متوفی:463ھ)جزء2 ص455)

عقائد باطلہ اور بدعات کا خاتمہ

قاضی ابو بکر باقلانی نے امام ابو الحسن اشعری کے کام کو آگے بڑھایا اور معتزلیوں، رافضیوں، بدعتیوں وغیرہ کا ردّ کیا۔ آپ نے ان تمام کے خلاف قلمی و لسانی جہاد کیا۔آپ کی ان خدمات کی وجہ سے آپ کو چوتھی صدی کا مجدد امت مانا جاتا ہے۔ آپ مسلمانوں کے لیے حفاظتی قلعوں میں سے ایک قلعہ تھے۔ آپ اپنے زمانہ میں اہل سنت کی تلوار تھے اور اپنے زمانہ میں اہل حق متکلمین کے امام تھے۔ آپ کے زمانہ کے بدعتیوں کو آپ کی وفات پر بہت زیادہ خوشی ہوئی۔

(ترتیب المدارک و تقریب المسالک جزء7ص45)

وفات

آپ 23 ذیقعدہ 403ھ بروز ہفتہ بغداد میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ آپ کا جنازہ آپ کے صاحبزادے حسن نے اتوار کے روز پڑھایا۔آپ کا مدفن مقبرہ باب حرب بغداد میں ہے۔

(وفیات الاعیان از ابن خلکان (متوفی:681ھ)جزء4ص270)

حنبلی بزرگ ابو الفضل تمیمی نے منادی کو حکم دیا کہ وہ آپ کے جنازے پر یہ کہے: یہ (ابو بکر باقلانی) دین و سنت کی مدد کرنے والے، شریعت کی حمایت کرنے والے تھے اوریہ وہ شخص ہے جس نے ستّر ہزار اوراق تصنیف کیے۔ اور اس کے بعد پھر حنفی بزرگ ہر جمعہ آپ کی قبر کی زیارت کیا کرتے تھے۔

(سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذھبی (متوفی:748ھ) جزء13 ص13)

تقویٰ و عبادت گزاری

امام ابو بکر باقلانی بہت متقی و عبادت گزار تھے۔ ابو الفرج محمد بن عمران کہتے ہیں کہ قاضی ابو بکر محمد بن طیب ہر رات 20تراویح پڑھا کرتے تھے۔ وہ انہیں سفر و حضر میں بھی ترک نہ کیا کرتے تھے۔

(تاریخ بغداد جزء2 ص455)

علم و فصاحت کا شاہکار

آپ کی وسعت علمی ہی آپ کی پہچان تھی۔ فصاحت آپ کاخاص وصف تھا۔ابو محمد یافعی کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص وصیت کرے کہ اس کے مال کا تیسرا حصہ افصح الناس یعنی لوگوں میں سے سب سے زیادہ فصیح و بلیغ انسان کو دیا جائے تو وہ قاضی ابو بکر اشعری کو دے دے۔

(تاریخ بغداد جزء2ص456)

آپ کے علم و فضل کی وجہ سے آپ کو علّامہ، اوحد المتکلمین، مقدّم الاصولیین، سیف السنۃ، لسان الامۃ وغیرہ کے القابات سے نوازا گیا۔

وہبی علم

قاضی ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بیضاوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنی مسجد میں جہاں میں درس دیاکرتا ہوں، داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک نورانی ہستی محراب میں تشریف فرما ہے اور دوسراان کے سامنے بیٹھا قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہے۔اس تلاوت سے بڑھ کر خوبصورت کوئی چیز نہ تھی۔میں نے پوچھا کہ یہ تلاوت کرنے والا کون ہے اور جس کے سامنے تلاوت کی جارہی ہے وہ کون ہیں؟مجھے بتایا گیا کہ جو محراب میں تشریف فرما ہیں وہ رسول اللہؐ ہیں اور جو تلاوت قرآن کریم کر رہے ہیں وہ قاضی ابو بکر باقلانی ہیں جو رسول اللہؐ سے شریعت سیکھ رہے ہیں۔

(تاریخ بغداد جزء2ص456)

توہّمات کا انکار

قاضی ابو بکر باقلانی کو علمی قابلیت کی وجہ سے عضد الدولہ نے اپنا مصاحب خاص بنا لیا ۔اس نے جب آپ کو شاہ روم کی طرف غلبۂ اسلام کے اظہار کے لیے بطور سفیر جانے کا کہا تو آپ روانگی کی تیاری کرنے لگے۔ وزیر نے کہا کہ کیا آپ نے اپنے جانے کاستاروں سے فال لےلیا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ میں ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا کیونکہ سعد و نحس اور خیر و شر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ستاروں میں رائی کے دانے کہ برابر بھی ان سب کاموں کی قدرت نہیں۔

(المرقبۃ العلیافیمن یستحق القضاء والفتیا،تاریخ قضاہ الاندلس ازابو الحسن علی النباھی(متوفی:792ھ) جزء1ص37)

فہم و ذکاوت

قاضی ابوبکر باقلانی فہم و ذکاء کا مرقّع تھے۔آپ اپنے فہم سے ضرب الامثال بیان کیا کرتے تھے۔ حکمت عملی سے کام لیناآپ کا شیوہ تھا۔381ھ میں آپ امیر المؤمنین کا پیغام لے کر شاہ روم کے پاس گئے۔ وہاں آپ کو بادشاہ کے پاس جانے کے آداب بتائے گئے اور کچھ احکام آپ کے لیے جاری کیے گئے۔ان میں سے ایک حکم یہ تھا کہ انہیں بادشاہ کے پاس چھوٹے دروازے سے لایا جائے تاکہ جب یہ بادشاہ کے حضور حاضر ہوں تو رسم کے مطابق تعظیماًرکوع کی حالت میں داخل ہوں۔قاضی اس بات کو سمجھ گئے اور آپ سیدھا داخل ہونے کی بجائے الٹا پیٹھ کی طرف سے داخل ہوئے۔بادشاہ کو آپ کی ذہانت بہت پسند آئی اور اس کے دل میں آپ کا رعب طاری ہوگیا۔

(سیر اعلام النبلاء جزء13ص12)

پادریوں سے علمی مناظرے

قاضی ابوبکر باقلانی نے ملک روم میں عیسائی پادریوں سے مناظرے کیے اور انہیں شکست فاش دی۔شاہ روم بھی آپ کی علمیت کو داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔آپ نے رسول اللہؐ کے معجزہ شق القمر تمام دنیا کے لوگوں کو نظر نہ آنے کے اعتراض کا تسلی بخش جواب سورج گرہن کے ایک علاقہ میں نظر آنے اور دوسرے علاقہ میں نظر نہ آنے جیسی مختلف مثالوں سے دیا ۔

اسی طرح ایک اور مجلس میں شاہ روم نے پوچھا کہ آپ مسیح بن مریمؑ کے بارہ میں کیا کہتے ہیں توآپ نے فرمایا کہ وہ روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے۔ اللہ کا نبی، رسول اور اس کابندہ ہے جس طرح اللہ نے آدم کو مٹی سے پیداکیا اور اسے کہا کہ کن فیکون۔اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی پیدا کیا۔آپ نے متعلقہ قرآنی آیات کی تلاوت کی۔تو بادشاہ نے کہا کہ اے مسلمان ! کیا مسیح عبد تھا؟ تو آپ نے فرمایا: جی ہاں،ہم یہی کہتے ہیں اور یہی ہمارا مذہب ہے۔اس نے کہا کہ کیا تم اسے ابن اللہ نہیں مانتے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ!اللہ کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ ہی کوئی اس کا کوئی ہمسر ہے۔ یقیناً تم لوگ ایک بہت بڑی بات کہتے ہواور آپ نے قرآن کریم کی متعلقہ آیات پڑھیں۔ پھر کہا کہ اگر تم مسیح کو اللہ کا بیٹا بناتے ہو تواس کا باپ کون ہے، اس کا بھائی، چچا، ماموں اور دیگر رشتہ دار کون ہیں اور کہاں ہیں؟جس پربادشاہ بہت حیران ہوا۔
بادشاہ نے پوچھا کہ اے مسلمان!کیا کوئی بندہ کوئی چیز تخلیق کر سکتا ہے یا کسی مردہ کوزندہ کرسکتا ہے یا کسی اندھے یا کوڑھی کو صحتیاب کر سکتا ہے؟تو آپ نے کہا کہ ہرگز نہیں بندہ یہ کام کرنے کی قدرت نہیں رکھتایہ سب اللہ کے فضل سے ہوتا ہے۔ تو بادشاہ نے کہا کہ پھرکیسےمسیح اللہ کا بندہ ہوسکتا ہے جبکہ اس نے سب کام کیے۔ تو آپ نے کہا کہ مسیح نے کسی مردہ کو زندہ نہیں کیا اور نہ کسی لولے لنگڑے، اندھے یا کوڑھی کو ٹھیک کیا ہے۔ بادشاہ اس بات سے حیران ہوا اور اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیااس نے کہا کہ کیا تم اس بات کا انکار کرتے ہو جو لوگوں میں عام ہے اور جسے قبول کیاگیا ہے۔ آپ نے کہا کہ کسی اہل علم و معرفت اور فقیہہ نے یہ نہیں کہاکہ انبیاء معجزات اپنی ذات سے کرتے ہیں بلکہ اللہ ہی ہے جو یہ کام انبیاء کے ہاتھوں ان کی تصدیق کی خاطرکرواتا ہے ۔

بادشاہ نے کہا کہ تم میں سے ایک جماعت میرے پاس آئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ یہ سب تمہاری کتاب میں لکھا ہے۔آپ نے کہاکہ ہاں!ہماری کتاب میں لکھا ہے لیکن یہی کہ یہ سب کام اللہ کے اذن سے ہوئے۔ آپ نے متعلقہ آیات تلاوت کیں اور کہاکہ جو کچھ مسیح نے کیا وہ سب اللہ کی طرف سے تھا، نہ کہ مسیح کی اپنی ذات سے۔ اور اگر کہا جائے کہ مسیح نے صرف اپنی ذات اور قوت سے مردوں کو زندہ کیااور اندھوں کوڑھیوں کو صحتیاب کیا تو پھر یہ بھی جائز ہوگا کہ موسیٰؑ نے اپنی ذات اور قوت سے سمندر کو درمیان سے پھاڑا اور ہاتھ کو بغیر کسی تکلیف کے سفید کیا۔پس انبیاء کے معجزات اللہ کی مرضی اور اذن کے بغیر نہیں ہوا کرتے اور مسیح نے جو معجزات دکھائے وہ محض مسیح کی ذات سے منسوب کرنا جائز نہیں۔ یہ سن کر بادشاہ لاجواب ہوگیا۔

(المرقبۃ العلیافیمن یستحق القضاء والفتیا،تاریخ قضاہ الاندلس جزء1صفحہ38-39)

حضرت مریمؑ اور حضرت عائشہؓ کی بریت

پھر ایک دن جب بادشاہ نے آپ کو بلایا تو آپ وہاں گئے اور آپ نے ایک راہب سے پوچھا کہ تمہارے بیوی بچے کیسے ہیں؟ بادشاہ نے کہا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ راہب ان باتوں سے پاک ہوتا ہے۔تو آپ نے فرمایا:آپ لوگ ان کو تو ان چیزوں سے پاک رکھتے ہولیکن رب العالمین کو بیوی اور بچے سے پاک نہیں رکھتے۔تو سرداروں نے سرزنش کی حالت میں کہا کہ آپ کے نبیؐ کی بیوی کا کیا معاملہ تھا؟آپ نے کہاکہ جو معاملہ مریم بن عمران کے ساتھ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے ان دونوں (مریم اور عائشہ) کو بری قرار دیا لیکن عائشہؓ نے کوئی بچہ جنم نہیں دیا۔یہ سن کر سب بہت شرمندہ ہوئے۔

بادشاہ آپ کی تبحر علمی سے بہت متاثر ہوا اور انعام و اکرام کے ساتھ حفاظتی دستہ کے ساتھ واپس روانہ کیا۔

(المرقبۃ العلیافیمن یستحق القضاء والفتیا،تاریخ قضاہ الاندلس جزء1صفحہ38-39)

سلطان القلم

محمد بن عمران بیان کرتے ہیں کہ قاضی ابو بکر محمد بن طیب جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو درود و وظائف کا ورد کرتے۔ اس کے بعد دوات اپنے سامنے رکھتے اور 35صفحات جو انہیں یاد ہوتے وہ تحریر فرماتے۔آپ کہا کرتے تھے کہ سیاہی سے لکھنا میرے لیے زیادہ آسان ہے۔پھر جب آپ فجر کی نماز ادا کرتے تو جو آپ نے رات کو تصنیف کیا ہوتا تھا وہ اپنے اصحاب کو دیتے کہ وہ اسے پڑھ کر سنائیں اور اس میں مزید املاء کرواتے۔

ابو بکر خوارزمی کا بیان ہے کہ بغداد کا ہر مصنف لوگوں کی کتب سے اپنی تصنیفات میں نقل کیا کرتا تھا سوائے قاضی ابو بکرکے۔بلاشبہ آپ کا سینہ اپنے علم اور لوگوں کے علم کا مجموعہ تھا۔

(تاریخ بغداد جزء2صفحہ456)

علی بن محمد مالکی بیان کرتے ہیں کہ قاضی ابو بکر اشعری ارادہ کرتے تھے کہ وہ اپنی تصنیف کو مختصر رکھیں لیکن اپنی وسعت علم اور کثرت حفظ کی وجہ سے ایساکرنے سے قاصر رہتے۔آپ ہمیشہ مخالفین کی کتب کا مطالعہ کر کے ان کی باتوں کو ذہن نشین کرکے پھر اس کے ردّ میں کتب لکھا کرتے تھے۔

(تاریخ بغداد جز2 صفحہ456)

تصانیف

قاضی ابو بکر باقلانی نے اپنی زندگی میں تصنیف کا بہت کام کیا۔ حنبلی شیخ کا قول ہے کہ آپ نے ستّر ہزار اوراق تحریر کیے۔ آپ کی تصنیفات میں سے مشہور یہ ہیں: تمھید الاوائل و تلخیص الدلائل (یہ کتاب عضد الدولہ کے لیے لکھی جب اس نے اہل سنت تعلیم سکھانے کا کہا)، شرح اللمع لابی الحسن الاشعری، کتاب الابانۃ، الاماۃ الکبیرۃ، الامامۃ الصغیرہ، امالی اجمع اھل المدینۃ، مقدمات فی اصول الدیانات، اعجاز القرآن،، حقائق الکلام، مناقب الائمۃ کتاب حافل، رسالۃ الحرۃ، ھدایۃ المسترشدین والمقنع فی اصول الدین وغیرہ۔

٭…٭…٭

(باسل احمد بشارت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 4 جولائی 2020ء