• 20 ستمبر, 2020

کیا سنگِ مر مر جنت کا پتھر ہے؟

سوال: حضرت عمرؓ سے حدیث مروی ہے کہ وہ جنت کا پتھر ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے جوابا فرمایا:۔ جنت ہوتا ہی شریعت کا نام ہے۔ اس دنیا میں جنت خدا کی شریعت کے تابع رہناہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے اللہ کے بندو! لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ اے بنی نوع انسان! تمہیں بھی شیطان اسی طرح فتنے میں نہ ڈال دے جس طرح تم سے پہلے فتنے میں ڈال کے جنت سے نکالا تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک بھی ہمارے لئے خطرہ ہے کہ ہم اس جنت سے دوبارہ نکل جائیں اور دوبارہ پھسل جائیں۔ وہ کون سی جنت ہے اگر وہ جنت یہاں ہے ہی نہیں تو ہم نکل کس طرح سکتے ہیں اور فتنے میں کس طرح شیطان ڈال سکتا ہے۔ میں یہ بتارہا ہوں اس آیت سے قطعی طور پر اس جنت کی حقیقت معلوم ہوگئی جس سے آدم کونکالا گیا تھا۔ وہ جنت آج بھی اسی طرح موجود ہے اور آج بھی شیطان ورغلا کر بنی نوع انسان کو اس جنت سے نکال سکتا ہے۔ اگر وہ جنت ہے جو مولوی کے دین کی جنت ہے کسی اور جگہ سے گرا تھا آدم؟ تو وہاں تو آپ ہے ہی نہیں پھر قرآن کریم کی اس آیت کا کیا مطلب کہ دوبارہ نہ دھوکے میں پڑ جانا۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ جنت ہے اور ہے کیا وہ؟ شریعت کے احکام اور نواحی اور جو تفصیل ہے جنت سے نکلنے کی اس میں بھی یہی ذکر ہوتا ہے کہ غفلت ہوگئی حضرت آدمؑ سے اطاعت میں۔ اگر چہ اس میں ارادہ نہیں تھا۔ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا۔ غفلت ہوئی لیکن عزم نہیں تھا۔ اس میں کوتاہی ہوگئی اور گناہ بنتا ہے عزم کے نتیجہ میں۔ خطا بنتی ہے بغیر عزم کے جب بات ہو جائے تو الله تعالیٰ نے بھی تفصیل بیان فرما دی۔ تو جنت سے نکلنا الله تعالیٰ کی اطاعت سے کسی رنگ میں نکل جانا ارادۃً یا غیر ارادی طور پر ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔

(مجلس سوال و جواب منعقدہ 25نومبر 1982ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 04 اگست 2020ء