• 18 اپریل, 2024

حضرت شیخ زین الدین محمد ابراہیم ؓ

تعارف صحابہ کرام ؓ
حضرت شیخ زین الدین محمد ابراہیم رضی اللہ عنہ۔ بمبئی

بھارت کے سب سے بڑے شہر ممبئی (سابقہ بمبئی) میں احمدیت کا آغاز 1892ء میں ہو گیا تھا اور سب سے پہلے احمدی ہونے والے بزرگ حضرت منشی زین الدین محمد ابراہیم صاحب تھے۔ آپ اُس وقت کے ایک مشہور تاجر ڈیوڈ ساسون (David Sassoon) کی کپڑے کی مِل میں انجنیئر تھے۔قبول احمدیت کے ساتھ ہی آپ کو جماعت احمدیہ کے دوسرے تاریخی جلسہ سالانہ منعقدہ 27؍دسمبر 1892ء بمقام قادیان میں شامل ہونے کی توفیق ملی، شرکاء جلسہ کے اسماء حضور علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ کے آخر میں درج فرمائے ہیں جس میں آپ کا نام 49ویں نمبر پر ’’شیخ زین الدین محمد ابراہیم چچ پھگلی کالی چوکی بمبئی انجنیئر کلاتھ مینوفیکٹری‘‘ درج ہے۔

(روحانی خزائن جلد5 صفحہ618)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے کے بعد اخلاص ووفا میں ترقی کرتے ہوئے تھوڑے ہی عرصہ میں حضرت اقدسؑ کے خاص محبین میں شامل ہوگئے۔ حضور علیہ السلام اپنی کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں اپنی فتح اور کامیابی کے نشانوں میں اپنے بعض مخلص احباب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اور ہمارے مخلص دوست منشی زین الدین محمد ابراہیم صاحب انجنیئر بمبئی وہ ایمانی جوش رکھتے ہیں کہ میں گمان نہیں کر سکتا کہ تمام بمبئی میں اُن کا کوئی نظیر بھی ہے۔‘‘ (انجام آتھم، روحانی خزائن جلد11 صفحہ315 حاشیہ) اسی کتاب میں درج 313 کبار صحابہ کی فہرست میں آپ کا نام 238 نمبر پر شامل ہے۔ اس کے علاوہ حضور علیہ السلام نے دیگر جگہوں پر مختلف حوالوں سے آپ کا نام درج فرمایا ہے۔ ایک موقع پر حضور اقدسؑ مخالفین کو اپنے الہام کی صداقت کے ثبوت میں فرماتے ہیں: ’’…. اور کہاں ہے بمبئی جس میں منشی زین الدین ابراہیم جیسے مخلص پُر جوش طیار کئے گئے ….‘‘ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد12 صفحہ67) اخبار بدر 21 نومبر 1902ء صفحہ 31 پر حضور علیہ السلام نے بمبئی سے آپ کے طاعون کے لیے تجربہ شدہ اور مفید علاج میگنیشیاسالٹ کا نسخہ بھجوانے کا ذکر فرمایا ہے۔ پھر حضرت اقدسؑ اپنے ایک مکتوب بنام حضرت سیٹھ عبدالرحمٰن مدراسی رضی اللہ عنہ میں فرماتے ہیں: ’’…. اس وقت میں انہیں رسائل کی تالیف میں مشغول ہوں جن کا آنمکرم سے تذکرہ ہوا تھا چونکہ بعض میں یہودیوں کی شہادتیں درکار تھیں اس لئے میرے وقت کا بہت حرج ہوا، اب صرف ان امور مستفسرہ سے ایک امر باقی ہے جس کی نسبت محبی منشی زین الدین محمد ابراہیم نے وعدہ کیا ہے کہ جلد میں اس کا جواب بھیج دوں گا …..‘‘ (مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ339) مالی قربانی کے لحاظ سے بھی جماعتی لٹریچر میں آپ کا نام متعدد جگہ پر محفوظ ہے۔

آپ ان خوش نصیب صحابہ کرام میں سے تھے جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت محبت و شفقت سے پیش آتے تھے، حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے احباب کو خط لکھتے تو یا تو ’’حبّی فی اللہ‘‘ یا ’’مکرمی اخویم‘‘ لکھ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ کئی دفعہ مجھے ڈاک میں ڈالنے کو لفافے دیتے تو مَیں پتے دیکھتا کہ کس کے نام کے خط ہیں، سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی اور زین الدین ابراہیم صاحب انجنیئر بمبئی اور میاں غلام نبی صاحب سیٹھی راولپنڈی کے پتے مجھے اب تک یاد ہیں۔ (سیرۃ المہدی حصہ سوم صفحہ259۔ روایت نمبر877 مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے)

حضرت اقدس علیہ السلام نے آپ کے نام بہت سے خطوط تحریر فرمائے، حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی رضی اللہ عنہ نے مکتوبات احمدیہ شائع کرتے ہوئے جلد پنجم نمبر پنجم کے آخر میں اعلان درج کیا ہے کہ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم کے چھٹے جُز میں حضورؑ کے حضرت منشی زین الدین صاحب کے نام مکتوبات شامل کیے جائیں گے لیکن ان کی زندگی میں یہ کام نہ ہو سکا اور وہ خطوط کہیں ضائع ہوگئے۔ حضرت اقدسؑ کا ایک خط اخبار الفضل میں محفوظ ہے جو آپؑ نے 1892ء میں آپ کے بیٹے کی وفات پر تحریر فرمایا تھا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہٗ و نصلّی

مکرمی محبی اخویم منشی زین الدین محمد ابراہیم صاحب سلمہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ

آج کارڈ مکررًا آپ کا در بارہ خبر وفات عزیزی بدر الدین موصول ہوکر اپنے دردناک الفاظ سے دوبارہ درد غم کا تازہ کرنے والا ہوا۔ خدا تعالیٰ عزیز مرحوم کی جدائی پر آپ کو صبر عطا فرماوے اور یہ سخت صدمہ جو آپ کو پہنچ گیا ہے بفضل و کرم خاص اس کا بدل عطا کرے۔ یہ عاجز اپنے دل کا حال بیان نہیں کر سکتا کہ قدرت خدا تعالیٰ سے اس عاجز نے غائبانہ صدق و اخلاص عزیز مرحوم کی وجہ سے عزیز مرحوم کو اپنے دل میں جگہ دے دی تھی اور اپنے اول درجہ کے مخلصین اور محبین میں شمار کرتا تھا …. مجھے سخت افسوس ہے کہ ایک پیارا مخلص ہمارا جو اخلاص میں اعلیٰ درجہ کا رنگ رکھتا تھا اس سال میں ہم سے جدا ہوگیا اور اس دل توڑنے والے واقعہ نے مجھ کو عجیب درد و غم میں ڈالا۔ میں نے اس عزیز مرحوم کی مغفرت کے لئے دل و جان سے دعا کی ہے اور آپ کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو اپنے فضل و کرم سے صبر عطا فرماوے۔ اس سے سخت تر صدمہ دنیا میں کوئی نہیں کہ باپ اپنے پیارے اور جوان لڑکے کو اپنے ہاتھ سے دفن کرے۔ خدا تعالیٰ آپ کے دل کو تھام لے اور اس رنج کے بعد اپنے فضل سے کوئی بڑی خوشی پہنچائے۔ آمین ثم آمین۔ ہمیشہ اپنی خیر و عافیت سے مجھے مطلع و مسرور الوقت فرماتے رہیں۔

والسلام
خاکسار غلام احمد از سیالکوٹ مکان میر حکیم حسام الدین صاحب رئیس 12؍فروری 1892ء

(الفضل 10؍اکتوبر 1943ء صفحہ2)

بمبئی کے ایک اور بزرگ حضرت سیٹھ اسماعیل آدم صاحبؓ نے جب احمدیت قبول کی تو حضورؑ نے ان کو لکھا کہ آپ جمعہ کی نماز زین الدین ابراہیم صاحب انجنیئر کے ساتھ پڑھا کریں، وہ مخلص احمدی ہیں۔

(الفضل 29؍جنوری 1958ء صفحہ5)

خلافت ثانیہ کے دور میں پہلے آپ بیعت میں شامل رہے لیکن چونکہ آپ بہت ضعیف ہوچکے تھے اور آپ کی عمر 80 سال سے تجاوز کر چکی تھی، اس عمر میں انسان دوسروں کے کندھوں پر زیادہ کھڑا ہوتا ہے اسی سبب سے آپ بھی آخری عمر میں بیعت خلافت سے الگ ہوگئے لیکن مخالفت میں ایک لفظ بھی نہیں نکالا۔ آپ کی وفات کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے ایک رؤیا دیکھی تھی، حضورؓ فرماتے ہیں: ’’…. زین الدین صاحب کے متعلق بھی میں نے رؤیا میں دیکھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم آئے ہیں۔ میں نے دریافت کیا آپ کہاں؟ فرمانے لگے مَیں بھی آیا ہوں اور حضرت صاحب بھی آئے ہیں، زین الدین صاحب کو لے جانا ہے۔ میں نے اس سے سمجھ لیا کہ رؤیا ان کی موت پر دلالت کرتی ہے، ان کی عمر 95 یا سو سال کے قریب تھی اور حضرت صاحب کے دیرینہ مخلص تھے۔ وہ بالکل اسی طرح کے مخلص تھے جس طرح کے شیخ رحمت اللہ صاحب۔ چند لوگ جنہیں حضرت صاحب بہت پیار کیا کرتے تھے اُن میں سے ایک یہ زین الدین صاحب تھے۔‘‘

(خطبات محمود جلد نمبر10 صفحہ61-62)

آپؓ نے اوائل 1926ء میں 95 سال کی عمر میں وفات پائی۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 5؍فروری 1926ء کو نماز جمعہ کے بعد آپ کی نماز جنازہ غائب پڑھائی، حضورؓ نے خطبہ جمعہ کے آخر میں فرمایا: ’’….. ان کے ساتھ ایک اور جنازہ بھی ہے وہ زین الدین صاحب کا ہے۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پرانے مخلصوں میں سے تھے۔ بمبئی میں انجنیئر تھے۔ اب ضعیف العمر تھے، بہت اونچا سنتے تھے۔ مسیح موعودؑ کو خاص محبت ان سے تھی۔ وہ میری بیعت میں داخل ہوگئے تھے لیکن بعد میں سیٹھ اسماعیل صاحب آدم کے سبب غیر مبائعین کے ہم خیال ہوگئے۔ چونکہ خود وہ اونچا سنتے تھے اور سیٹھ اسماعیل آدم کے ساتھ ان کے تعلقات تھے اس لیے سیٹھ صاحب ہی ان کے کان تھے۔ سیٹھ صاحب خود بھی بہت مخلص تھے اور اب بھی وہ مخلص ہیں لیکن جب وہ کسی حد تک پیغامی ہوگئے تھے تو یہ بھی کچھ سست ہوگئے اور اُدھر متوجہ ہوگئے مگر میں ان کا بھی جنازہ پڑھاؤں گا۔‘‘

(خطبات محمود جلد نمبر10 صفحہ61-62)

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ بیان کرتے ہیں: ’’زین الدین کا ذکر حضرت نے آئینہ کمالات اسلام اور دوسری کتابوں میں کیا ہے۔ یہ ڈیوڈ ساسون (David Sassoon) کی کپڑے کی مِل میں انجنیئر تھے۔ بہت بوڑھے تھے، کوکن کے رہنے والے، شریعت کے پابند۔ افسوس خلافت ثانیہ کے وقت وہ پیرانہ سالی کی وجہ سے یا نا معلوم اسباب کی وجہ سے ساتھ نہ رہ سکے مگر میرا مذہب ان کے متعلق یہ ہے کہ وہ نہایت مخلص اور متقی تھے، پیرانہ سالی کی وجہ سے اور عماید اختلاف کے ساتھ ذاتی تعلقات کی وجہ سے زیر اثر رہے مگر کبھی حضرت ….. کے خلاف ایک لفظ نہ کہا، ان کا ادب اور ان سے محبت کا اظہار کرتے تھے۔ جلد فوت ہوگئے اگر موقعہ ملتا تو وہ ضرور واپس آتے ….‘‘

(اصحاب احمد جلد دوم صفحہ527-528 حاشیہ ایڈیشن 2008ء از ملک صلاح الدین صاحب ایم اے)

(غلام مصباح بلوچ۔ استاد جامعہ احمدیہ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

Shimaoré زبان میں احمدیت کا تعارف

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 مئی 2022