• 20 مئی, 2024

خلاصہ خطبۂ عید الفطر مؤرخہ 2؍ مئی 2022ء

خلاصہ خطبۂ عید الفطر امیر المؤمنین سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ الله فرمودہ مؤرخہ 2؍ مئی 2022ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد؍ٹلفورڈ یوکے

دنیا  تواپنی  تباہی پر تُلی ہوئی ہے۔۔ ۔ یہ احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ اِن کو اِس راستہ کی طرف رہنمائی کریں، اِن کو بتائیں یہ حقوق الله اور حقوق العباد کی ادائیگی ہی تمہاری بقاء کی ضمانت ہے ۔ ۔۔پس تبلیغ کے راستے نئے انداز سے ہمیں حالات کے مطابق کھولنے چاہئیں ۔۔۔دنیا کو تباہی سے بچانے کا صرف یہی ایک طریقہ ہے  کہ اِسے خدا تعالیٰ  کی پہچان کروا کر  اُس کا حق ادا کرنے والا  بنا دیں  اور اُس کے لئے ہمیں اپنی حالتوں کو بھی اعلیٰ معیاروں تک لے جانا ہو گا اور یہی حقیقی عید ہے، یہی عید ہے جس کے منانے کے لئے الله تعالیٰ نے  آنحضرتؐ  کے غلام صادق کو  زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا اور آپؑ نے اِس بارہ میں دنیا کو باربار متنبہ کیا تھا

 حضور انور ایدہ الله نے تشہد، تعوذ، سورۃ الفاتحہ نیز سورۃالنّسآء؍ آیت 37 تلاوت بمعہ ترجمہ پیش کرنے کے بعد ارشاد فرمایا۔ الله تعالیٰ آج ہمیں عید منانے کی توفیق عطاء فرما رہا ہے۔ لیکن ایک مؤمن کے لئے حقیقی عید صرف یہی نہیں کہ نماز پڑھ کر سمجھ لیا کہ اب عید کا فرض تو ادا ہو گیا اِس لئے اب کھلی چھٹی ہے جو چاہے کرو۔

پس عید کے دن کی بہت اہمیت ہے

 یاد رکھنا چاہئے کہ عید والا دن تو زیادہ عبادت کا دن ہے، عام دنوں میں تو پانچ نمازیں فرض ہیں اور عید والے دن چھ نمازیں فرض ہیں حتّی کہ عورتوں کو بھی جنہیں بعض دنوں میں نماز معاف ہوتی ہے اُنہیں بھی عید والے دن عید گاہ جانے کا حکم ہے۔

پاکستان کے احمدیوں کو بھی دعا کرنی چاہئے

پہلے بعض حالات کی وجہ سے کچھ پابندیاں عورتوں پر لگی ہوئی تھیں، عیدگاہ نہ آئیں پھرCovid کی جو بیماری تھی اِس کی وجہ سے اور سختی ہو گئی تو دعا کریں کہ پاکستان میں بھی اور دنیا میں بھی خاص طور پر پاکستان میں اِن پابندیوں سے جلد ہی یہ لوگ نکلیں۔

تبھی ہماری عیدیں حقیقی عیدیں ہوں گی

عید ایک تہوار منانے کی طرح جمع ہونے کا دن نہیں ہے، اِس دن یہ عہد کرنا چاہئے کہ مَیں الله تعالیٰ کے حق ادا کرنے کی بھی مستقل کوشش اب کرتا رہوں گا اور بندوں کے حق ادا کرنے کی بھی مسلسل کوشش کرتا رہوں گا۔ تبھی ہماری عیدیں حقیقی عیدیں ہوں گی، پس ایسی عیدوں کو حاصل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔

تکبر کرنے اور شیخی بگھارنے والے لوگوں کو الله پسند نہیں کرتا

یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہےاِس میں الله تعالیٰ نے بعض فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے اور یہ ادا نہ کرنے والے متکبر اور شیخی بگھارنے والے ہیں اور ایسے لوگوں کو الله تعالیٰ پسند نہیں کرتا، پس جنہیں الله تعالیٰ پسند نہیں کرتا نہ اُن کا دین ہے نہ دنیا۔

آنحضرتؐ نے بھی ایک موقع پر اِس کا بڑا سخت اِنذار فرمایا ہے

آپؐ نے فرمایا!جس کے دل میں ذرّہ بھی تکبر ہوگا الله تعالیٰ اُسے جنت میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ انسان چاہتاہے کہ اچھا کپڑا پہنے، اچھی جوتی پہنے، خوبصورت لگے تو یہ کس زمرہ میں آئے گا؟ آپؐ نے فرمایا! یہ تکبر نہیں ہے، الله تعالیٰ تو خود جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر یہ ہے کہ انسان حق کا انکار کرے، لوگوں کو ذلیل سمجھے، اُنہیں حقارت کی نظر سے دیکھے اور اُن سے بری طرح سے پیش آئے۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ الله تعالیٰ کو عبادت کا کیا فائدہ ہے؟

حضور انور ایدہ الله نے الله تعالیٰ کے حق عبادت اور اِس کا فائدہ بندے کو ہونے کے نفس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا! پس نمازوں، عبادتوں، الله تعالیٰ کے ذکر، الله تعالیٰ کو یاد کرنے کا فائدہ ہمیں ہے اور الله تعالیٰ ہمیں اِس کا بدلہ و جزاء دیتا ہے ۔

جنت میں لے جانے اور آگ سے دُور کرنے والا عمل

چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرتؐ سے عرض کیا، اے الله کے رسولؐ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لے جائے اور آگ سے دُور کر دے۔ آپؐ نے فرمایا! الله تعالیٰ کی عبادت کر، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز پڑھ، زکوٰۃ دے اور صلۂ رحمی کر۔

پس عید صرف خوشیاں منانے کا نام نہیں

آنحضرتؐ نے فرمایا! جو محض لله دو عیدوں کی راتوں میں عبادت کرے گا اُس کا دل ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا جائے گا۔ کتنی بڑی خوشخبری ہے، الله تعالیٰ کی عبادت کرنے سے ہمیشہ کے لئے انعام مل رہا ہے، پس عید صرف خوشیاں منانے کا نام نہیں بلکہ اِس کی راتوں کو عبادتوں سے زندہ کرنے کا نام ہے اور پھر اِس سے ہمیشہ کے لئے روحانیزندگی حاصل ہو جاتی ہے۔

حتّی الوسع سنوار کر با جماعت نمازوں کا خاص اہتمام کریں

اِس کی بابت تاکید کرتے ہوئے مزید فرمایا! رمضان ختم ہونے اور آج عید منانے کو ہمیں اپنی عبادتوں سے رخصت یا کمی یا پورا اہتمام نہ کرنے کا اجازت نامہ نہیں سمجھ لینا چاہئے، یہی عبادتیں ہی ہماری دنیوی اور آخری زندگی میں الله تعالیٰ کے فضلوں وارث بنانے کی ضمانت بنیں گیں۔

ایسا احسان جس کا بدلہ ہم کبھی اتار ہی نہیں سکتے

الله تعالیٰ نے عبادتوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد اِس آیت میں حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آنحضرتؐ نے صلۂ رحمی کا حکم فرمایا تھا، الله تعالیٰ نے یہاں تفصیل سے بعض حقوق کو اِس آیت میں بیان فرمایا ہے ۔ فرمایا! والدین کے ساتھ احسان کرو۔ الله تعالیٰ کی ربوبیت کے بعد والدین کا سب سے بڑا احسان ہے جو اُنہوں نے پال پوس کر بڑا کیا۔ یہاں والدین سے احسان سے مراد ہے کہ ہمیشہ اِن سے نرمی اور پیار سے بات کرو، اُن کا عزت و احترام کرو۔

پھر رشتہ داروں سے حسن سلوک کا حکم ہے

آنحضرتؐ نے فرمایا ! جو رزق کی فراخی چاہتا ہے یا جو چاہتا ہے کہ اُس کی عمر میں برکت پڑے اور اُس کا ذکر خیر زیادہ ہو اُسے صلۂ رحمی کا خُلق اختیار کرنا چاہئے۔ اپنے سگے رشتہ دار ہیں یا سسرال کی طرف سے اُن کا خیال رکھنا چاہئے، اِس تناظر میں حضورانور ایدہ الله نے بیرون ممالک مقیم آسودہ حال لوگوں کو تلقین فرمائی کہ اُنہیں عید کی خوشیوں میں اپنے عزیزوں کو بھی شامل کرنا چاہئے جن کے حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں نیز اگر وہ مثبت رویہ نہ بھی دکھائیں تب بھی احسان کا سلوک کرنا ہے۔

پس اِس طرف بھی ہر احمدی کو خاص توجہ دینی چاہئے

حضور انور ایدہ الله نے چھوٹی چھوٹی باتیں اور رنجشیں دل میں رکھ کر بعض مَردوں کے اپنی بیویوں کو اُن کے رشتہ داروں حتّی کہ ماں باپ سے ملنے سے بھی روکنے کے ضمن میں ارشاد فرمایا! یہ انتہائی جہالت کی بات ہے، ایک مؤمن کا شیوہ نہیں ہے کہ اِس قسم کی سوچ رکھے۔ پس اگر الله تعالیٰ کو خوش کرنا ہے، اُس کی مدد حاصل کرنے والا بننا ہے تو پھر اِن لغو اور بے ہودہ باتوں کو چھوڑنا ہو گا۔ جو انسان الله تعالیٰ کی رضا کی خاطر بظاہر نیچا ہو کر دوسرے کو سلام بھی کرتا ہے، صلح میں پہل کرتا ہے، وہ الله تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنتا ہے۔ اِسی طرح میاں بیوی کے تعلقات ہیں، گھروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر جو رنجشیں ہو رہی ہوتی ہیں اُنہیں بھی دُور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

عید کی خوشیوں میں یتیموں کو بھی شامل کریں

پھر حقوق العباد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھو۔یہ ایک بہت اہم کام ہے جس کی طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہئے، اگر خود کسی یتیم کو نہیں بھی جانتے تو جماعت میں یتماء فنڈ ہے اِس میں بھی زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہئے۔

پھر ہمسایوں سے حسن سلوک کا حکم ہے

اگر ہمسایوں کی حقیقت سمجھ کر پھر اُن کے حق ادا کرنے کی کوشش انسان کرے تو دنیا سے فساد ہی ختم ہو جائے اور ایک مؤمن کے لئے حقیقی عید تو ہے ہی اُس وقت جب دنیا سے فساد ختم ہو۔ ایک موقع پر ہمسایہ کی تعریف کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا! 100 کوس تک بھی تمہارے ہمسائے ہیں۔ آنحضرتؐ نے فرمایا! اگر تمہارے پڑوسی تمہاری تعریف کریں تو تم اچھے پڑوسی ہو۔ پس یہ اچھی ہمسائگی کا وہ معیار ہے جس سے معاشرہ میں محبت اور پیار قائم ہوتا ہےاور اِس میں ہم مذہب یا غیر مذہب کی کوئی تخصیص نہیں۔

جب یہ تبلیغ کے راستے کھلیں تو پھر وہی عید حقیقی عید بن جائے گی

اپنے ساتھ بیٹھنے، کام کرنے والوں سے حسن سلوک کا حکم ہے ، اگر اِس حکم پر ہر ایک عمل کرنے لگ جائے تو تبلیغ کے بھی نئے راستے کھلیں گے اور جب یہ تبلیغ کے راستے کھلیں تو پھر وہی عید حقیقی عید بن جائے گی۔

ایسی عید جو الله تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے دائمی عید بنے گی

پھر اپنے ماتحتوں، کمزوروں سے حسن سلوک کے حکم کو بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا! کونسا حق ہے جو اسلام نے چھوڑا ہے، یہی ایک مؤمن کی شان ہونی چاہئے کہ یہ کوشش کرے کہ اُس کے ذمہ کسی کا حق باقی نہ رہے، صرف حق یہ نہیں کہ کسی کا قرض دینا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اپنی جتنی استعدادیں، صلاحیتیں یا اخلاق ہیں اُن سے دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، دوسروں کے دکھوں اور تکلیفوں کو محسوس کریں۔ اور یہی چیزیں ہماری عید کو حقیقی عید بنا سکیں گیں، صرف ایک دن کی عید نہیں بلکہ ایسی عید جو الله تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے دائمی عید بنے گی۔

انسانیت کو بچانا بھی ہمارا کام ہے

عید کے موقع پر دنیا کی عمومی فکر کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے ارشاد فرمایا! اِس کے لئے دعا بھی کرنی چاہئے، صرف اپنی خوشیوں میں ہیاطمنان نہ حاصل کر لیں۔دنیا آجکل تباہی کی طرف جا رہی ہے ہمیں اِس کی فکر ہے اور ہونی چاہئے کہ انسانیت کو بچانا بھی ہمارا کام ہے۔خطبۂ ثانیہ اور اختتامی دعا سے قبل حضور انور ایدہ الله نےحضرت المصلح الموعودؓ کے  بحوالۂ تبلیغ ایک مختصر خطبۂ عید الفطر کا خلاصہ جو اتفاق سے 2؍ مئی 1957ء کو ہوئی تھی پیش فرمایا۔

(خاکسار قمر احمد ظفر۔ نمائندہ روزنامہ الفضل آن لائن جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 مئی 2022

اگلا پڑھیں

خداتعالیٰ تمام دنیا کا خدا ہے