• 20 ستمبر, 2020

دنیوی اور روحانی ایس او پیز (SOP)

آج کل کرونا وبا میں SOP کا لفظ بہت کامن (Common) اور بہت زیادہ مستعمل ہے۔ اگر گھر سے باہر نکلنا ہے تو نکلنے سے پہلے SOP کو مدنظر رکھیں۔ مارکیٹ جانا ہے وہاں مختلف اسٹورز SOP پر عمل درآمد کرواتے ہیں۔ اگر دفاتر چلے جائیں تو وہاں ماسک، سینیٹائزر اور گلوز پڑے ہیں تاکہ SOP پر عمل کرنے کے لئے ان کو استعمال کریں۔ آج کل مختلف ممالک میں اسکولز اور کالجز کھلنے کی بات ہورہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ SOP کے ساتھ کھول دیئے جائیں۔ سرکاری اور نجی محکموں کی میٹنگز SOP کے ساتھ منعقد ہورہی ہیں۔

اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف حکومتوں، محکموں، اداروں اور کمپنیوں کی طرف سے اعلان کردہ SOP پر عمل کو یقین بنانے سے کرونا وبا سے محفوظ رہنے کے بہتر نتائج مرتب ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ جن سے ایک انسان خود بھی محفوظ، اس کی صحت بھی بحال اور اس کی وجہ سے اس کے قریبی عزیز واقارب، پیارے دوست احباب محفوظ اور ان کی صحتیں بھی ٹھیک۔ اسی لئے بینکوں میں جانے سے قبل، مارکیٹوں میں جانے سے پہلے یا اداروں میں داخلے سے قبل ڈیوٹی والے SOP کو یقینی بناتے ہیں۔

اب یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ SOP ہے کیا۔ یہ کن الفاظ کا مخفف ہے۔ چنانچہ لکھا ہے۔

A standard operating procedure (SOP) is a set of step-by-step instructions compiled by an organization to help workers carry out complex routine operations. SOPs aim to achieve efficiency, quality output and uniformity of performance, while reducing miscommunication and failure to comply with industry regulations.

ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) ایک تنظیم کے ذریعہ مرتب کردہ قدم بہ قدم ہدایات کا ایک سیٹ ہے جس سے کارکنوں کو معمول کے پیچیدہ کاموں کو انجام دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایس او پیز کا مقصد کارکردگی ، معیار کی پیداوار اور کارکردگی کی یکسانیت کو حاصل کرنا ہے، جبکہ غلط تصادم اور صنعت کے ضوابط کی تعمیل کرنے میں ناکامی کو کم کرنا۔

چنانچہ اجتماعی اصول چلانے کا عمل اور طریقہ کار کو SOP کہا جاتا ہے۔

ہم اس دنیوی اصطلاح کو قرآن کریم اور احادیث کی تعلیمات اور ارشادات و ہدایات کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو اسلام نے اسلامی معاشرہ کے لئے کچھ اصول و ضوابط مقرر کر رکھے ہیں۔ جن میں ایسے اعلیٰ اخلاق کا ذکر ہے جن کو اپنا کر وہ اسلامی معاشرہ بنایا جاسکتا ہے جو ہمیں سیدنا حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کے دَور میں نظر آتا تھا۔ اسی طرح وہ اخلاق سیئہ ہیں جن کی نشان دہی قرآن مجید نے کی اور آنحضورﷺ نے انہیں ترک کرنے اور ان سے دُور رہنے کی تلقین فرمائی۔ ایسا کرنے سے ہم اسلامی معاشرہ کے قیام کو بہت جلد اپنے قریب کرسکتے ہیں۔ اسلامی معاشرہ کے قیام کے لئے اسلامی اصول و ضوابط کو اپناناہی دراصل وہ SOP ہیں جن پر عمل کرکے ہم آنحضورﷺ کی تعلیمات کو زندہ کرسکتے ہیں یہی وہ اسلامی SOP ہیں جن پر عمل کرکے ہم لقائے باری تعالیٰ حاصل کرسکتے ہیں۔ آنحضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کہہ دو

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ

(آل عمران:32)

تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تومیری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا(اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

اور یہی وہ SOP ہیں جن پر عمل کرکے ہم صحابہ رضوان اللہ علیہم کے ساتھ مل سکتے ہیں اور رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ کے مبارک سرٹیفیکیٹ کے حصول کو آسان بناسکتے ہیں۔

معاشرت کے معنی ہی اجتماعی زندگی اختیار کرنے یعنی آپس میں مل جل کر زندگی بسر کرنے کے ہیں۔جسے انگریزی میں Way of living یا Mode of living کہتے ہیں۔ اِسے سماجی زندگی یا تمدن بھری زندگی بھی کہہ سکتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں آشکار فرمایا ہے۔

کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اٰمَنَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ مِنۡہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ اَکۡثَرُہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ

(آل عمران:111)

تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔ تم اچھی باتوں کاحکم دیتے ہو اوربُری باتوں سے رکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے لئے بہت بہتر ہوتا۔ ان میں مومن بھی ہیں مگر اکثر ان میں سے فاسق لوگ ہیں۔

اسلام نے حسن معاشرت کے لئے جو اصول (SOP) وضع فرمائے ہیں ان میں سے چند بنیادی یہ ہیں۔

اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو۔ نیکی کی باتیں کرو۔ بدیوں سے رکنے کی تلقین کرو۔ مل جل کر رہو۔ غیرمسلم شرفاء کی عزت کرو۔ آواز دھیمی رکھو۔ کھانے پینے میں میانہ روی رکھو۔ آپس میں تحائف دو۔ یہ محبت کو بڑھاتے ہیں۔ حلال کھائیں۔ حرام سے بچیں۔ باجماعت نماز ادا کریں۔ صفوں کو سیدھا رکھیں اور امام کی کامل اطاعت کریں۔ ایک دوسرے پر سلامتی بھیجیں۔ راستوں کا حق ادا کریں۔ اپنے وقت اور صحت کو خدمت دین میں لگائیں۔ بیماروں کی عیادت اور وفات شدگان کے عزیزو اقارب سے تعزیت کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔
’’میری تمام جماعت جو اس جگہ حاضر ہیں یا اپنے مقامات میں بودوباش رکھتے ہیں اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی، نیک بختی اور تقوی کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔ وہ پنج وقتہ نماز باجماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور ناکردنی اور ناگفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بیجا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں اور کوئی زہریلا خمیر ان کے وجود میں نہ رہے…….اور تمام انسانوں کی ہمدردی ان کا اصول ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں سے اور اپنے ہاتھوں سے اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں اور پنج وقتہ نماز کو نہایت التزام سے قائم رکھیں اور ظلم اور تعدی اور غبن اور رشوت اور اتلافِ حقوق اور بیجا طرفداری سے باز رہیں ۔اور کسی بدصحبت میں نہ بیٹھیں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ220)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اپنے اندر اعلی اخلاق پیدا کرو۔ آپس میں محبت اور پیار سے رہو۔ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرو…… اپنے ساتھیوں، اپنے بھائیوں ، اپنے ہمسایوں یا اپنے ماحول کے لوگوں کے لئے ان کی غلطیاں تلاش کرنے کے لئے ہر وقت ٹوہ میں نہ لگے رہو ….. اس لئے ہر احمدی کا یہ فرض بنتا ہے کہ کسی کے عیب اور غلطیاں تلاش کرنا تو دور کی بات ہے اگر کوئی کسی کی غلطی غیر ارادی طور پر بھی علم میں آجائے تو اس کی ستاری کرنا بھی ضروری ہے.… ہمیں واضح حکم ہے کہ جو باتیں معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرنے والی ہوں یا بگاڑ پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہوں ان کی تشہیر نہیں کرنی ان کو پھیلانا نہیں ہے۔ دعا کرو اور ان بُرائیوں سے ایک طرف ہو جاؤ۔ اور اگر کسی سے ہمدردی ہے تو دعا اور ذاتی طور پر سمجھا کر اس بُرائی کو دور کرنے کی کوشش کرنا ہی سب سے بڑا علاج ہے‘‘۔

(خطبات مسرور جلد 2 صفحہ832-834)

یہ تو اسلامی معاشرہ کے چند اصول و ضوابط (SOP) درج کئے ہیں جن پر ایک مومن کا کاربند ہونا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات پیدا کیاہے۔ جس کے لئے اپنے اندر کے اعلیٰ ظرف اور نیکیوں کااظہار ضروری ہے۔

ان نیکیوں اور اعلیٰ اخلاق کی تجدید کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آخری دَور میں حضرت مرزا غلام احمدقادیانی علیہ السلام کو مسیح و مہدی کے طور پر تجدید دین کے لئے بھیجا۔ اور آپ کی نیابت میں آج حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ تجدید دین کا کام باحسن طریق توفیق پارہے ہیں۔ آپ ہر جمعہ کو خطبہ جمعہ میں اسلامی تعلیمات کی تشریح آج کے دَور کے مطابق فرماتے ہیں۔ جسے ساری دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں احمدی و غیر احمدی حضرات دیکھتے اور ان سے فائدہ اٹھاتےہیں۔ یہ دراصل روحانی اور دینی SOP ہیں جن پر عمل کرکے ہم ایک اسلامی معاشرہ کاقیام کررہے ہیں۔

کرونا وبا کے آغاز پر پیارے حضور نے بعض SOP کی طرف توجہ دلائی۔ اور فرمایا۔ گھروں میں باجماعت نمازیں ادا کریں۔ جمعہ کی ادائیگی گھروں میں کریں۔ تلاوت کریں۔ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مطالعہ کریں۔ MTA سے فائدہ اٹھائیں اور بچوں کو نمکو اور چپس کھانے سے منع فرمایا۔ اور کچھ عرصہ کے بعد اپنے ایک خطبہ میں حضور نے فرمایا کہ بچوں نے میری ہدایات پر بھرپور عمل کیا ہے۔یہاں برطانیہ میں مقیم میری بیٹی Covid 19 پر پابندیوں سے 2 روز قبل چپس کا ایک بہت بڑا پیکٹ اپنی بچیوں کے لئے لائی۔ تا اس وبا کے دنوں میں گھر بیٹھے بچے enjoy کرسکیں۔ اُدھر حضور نے منع فرمادیا تو آج تین ماہ کاعرصہ گزر رہا ہےو ہ بچیاں یہ کہہ کر ان چپس کے قریب نہیں جارہیں کہ پیارے آقا نے Covid 19 میں اِسے کھانے سے منع فرمایا ہے۔

جب پب جی (PUBG) اور فورٹ نائیٹ (FORTNITE) گیمز موبائیل فونز پر عام ہوئیں اور احمدی بچوں کے متعلق بھی خبریں ملنے لگیں کہ وہ بھی کھیل رہے ہیں تو حضور نے خطبہ میں اِسے منع فرمایا اور احمدی بچوں نے اِسے ترک کردیا اور حضور نے احمدی بچوں کی اطاعت کا ذکر ایک خطبہ میں بھی فرمایا۔ لندن میں دو عزیز ٹی وی پر بغیر رقم کے کھیلتے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ ان دونوں سعادت مند عزیزبچوں نے حضور کی نصیحت کے بعد اِسے ترک کردیا۔

یہی وہ SOP ہیں جو ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کو بروقت، برمحل اور باموقع بتا کر رہنمائی کرتے ہیں اور افراد جماعت کی دینی اور روحانی صحت درست رہتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو دربار خلافت سے اُٹھنے والی ہر آواز پر سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہہ کر لبیک کہنے کی توفیق دے۔ تاہم دنیوی آلائشوں ، گندگیوں ، بدیوں اور بُرائیوں سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے سفر کو ہلکا پھلکا ہوکر جاری و ساری رکھ سکیں۔ آمین

(ابوسعید)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 05 اگست 2020ء