• 21 ستمبر, 2020

خلافت خامسہ میں امن عالم کے لئے جماعت احمدیہ کی مساعی

قسط اوّل

خلافت خامسہ کے آغاز سے ہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں امن عالم کے لئے کوششیں شروع کر دی گئی تھیں۔ ان کو 10 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

1)حضور انور کے خطبات

اپنے خطبات کے ذریعہ حضور انور نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے ساتھ ہی مختلف مواقع پر اپنے خطبات جمعہ کے ذریعہ دنیا کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے افراد جماعت کو بالخصوص اور تمام عالم کو بالعموم مخاطب کرتے ہوئے تمام دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے کوششوں کی تلقین فرمائی۔اور احباب جماعت کو اسلام کی امن و آشتی کی جو حسین اور خوبصورت تعلیم ہے وہ دنیا کے سامنے رکھنے کی تلقین فرمائی۔ اور مسائل کے حل کے لئے متعدد بار دعاؤں کی تحریک فرمائی۔ نیز مسلم امہ اور بڑی طاقتوں کو انتباہ فرمایا اور ان معاملات میں رہنمائی فرمائی۔

2)حضور انور کے سربراہان کو لکھے گئے خطوط

جماعت احمدیہ برطانیہ کے زیر اہتمام طاہر ہال مسجد بیت الفتوح (لندن) میں نویں سالانہ امن سمپوزیم کا انعقاد ہوا۔ جس میں حکومتی وزراء، دیگر حکومتوں کے سفراء،برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران، لندن کے میٔر اور شہر کی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امن عالم کے قیام کے سلسلہ میں انگریزی میں خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب کے دوران ایک جگہ آپ فرماتے ہیں:
’’ایک طریق جس سے میں دنیا میں قیام امن کی کوشش کر رہا ہوں۔ وہ اہم رہنماؤں کو اس طرف توجہ دلانا ہے۔ چند ماہ پہلے میں نے پوپ کی خدمت میں اس موضوع کی طرف توجہ دلانے کے لئے خط لکھا تھا اور ایک احمدی نمائندہ کے ذریعہ دستی بھجوایا تھا۔ اس خط میں میں نے پوپ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ دنیا کے سب سے بڑی تعداد میں مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے رہنما ہونے کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں دنیا مین قیام امن کے لئے نمایاں ہو کر میدان عمل میں آنا چاہیئے۔ اسی طرح حال ہے میں جب یہ بات بہت زیادہ شدت سے منظر عام پر آتی رہی ہے کہ ایران اور اسرائیل میں حالات مزید سے مزید کشیدہ ہوتے ہوئے سخت خطرناک ہوتے جا رہے ہیں تو میں نے اسرائیل کے وزیر اعظم بن یا مین نیتھن یا ہُو اور ایران کے صدر احمدی نژاد کو خطوط لکھے ہیں جس میں میں نے دونوں رہنماؤں کو توجہ دلائی ہےکہ ساری انسانیت کی خاطر انہیں خطرات سے بے پرواہ ہو کر اور جلد بازی کے ساتھ جذباتی فیصلے نہیں کرنے چاہیئں۔ چند روز پہلے میں نے امریکہ کے صدر بارک اوباما اور کینیڈا کے وزیر اعظم اسٹیون ہارپر کو بھی خط لکھے ہیں اور انہیں زور دے کر کہا ہے کہ وہ دنیا میں امن کے قیام کو ممکن بنانے کے لئے بھرپور کردار ادا کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو باحسن ادا کریں۔اسی طرح میں مزید بین الاقوامی رہنماؤں کو مستقبل میں خط لکھنے اور اس موضوع پر تنبیہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔حضور انور نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ وہ میرے خطوط کو کوئی اہمیت دیں گے یا نہیں ، مگر اُن کا رد عمل جو بھی ہو میں نے خلیفہ وقت ہونے اور لاکھوں احمدیوں کے روحانی پیشوا کی حیثیت سے احمدیوں کے احساسات اور جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا کے شدید خوفناک حالات کے بارہ میں تنبیہ کر دی ہے۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 22جون2012ءصفحہ 10،11؛ Review of Religions, April 2012, pp.6-7)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے درج ذیل عالمی لیڈرز کو خطوط لکھے:۔

i.کیتھولک عیسائیوں کے عالمی مذہبی رہنما

جناب پوپ بینیڈکٹ شانز دہم (XVI)کے نام مکتوب
حضور انور ایدہ اللہ کے لیٹر ہیڈ پر حضور کے مبارک دستخطوں سے انہیں بھجوایا گیا تھا۔حضور انور نے خطبہ جمعہ فرمودہ 9دسمبر 2011ء میں اپنے اس مکتوب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ
’’ہمیں تو اس زمانے کے امام نے اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے اور دشمن کا منہ دلائل سے بند کرنے کا فریضہ سونپا ہے اور اپنی اپنی بساط اور کوشش کے مطابق ہر احمدی اس کام کو انجام دے رہاہے………………ابھی گزشتہ دنوں ہمارے کبابیر کے امیر صاحب کو ایک وفد کے ساتھ اٹلی جانے کا موقع ملا…………….اُن کی رپورٹ کا ایک حصہ میں سناتا ہوں جو اُس کے بعد شریف عودہ صاحب نے لکھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ خاکسار نے اٹلی میں پوپ کی رہائش گاہ ویٹیکن میں مورخہ 10-11-2011 کو اُن مذہبی لوگوں کے گروپ کے ساتھ ملاقات کی جن میں اسرائیل کےحا خام ِ اعظم جو ان کے بہت بڑے ربّانی ہیں اور کچھ عیسائی، یہودی اور مسلمان عہدیداران شامل تھے۔ خاکسار نے پوپ کو (میرا لکھتے ہیں کہ) حضور کا خط پہنچایا اور اُنہیں بتایا کہ اس میں حضرت امام جماعت احمدیہ عالمگیر کا بہت اہم پیغام ہے۔ انہوں نے یہ خط خود اپنے ہاتھ سے وصول کیا……..‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 9دسمبر 2011ء بمقام مسجد بیت الفتوح از الفضل انٹر نیشنل9مارچ 2012ء صفحہ9)

ii.اسرائیل کے وزیر اعظم کے نام خط۔

مورخہ 26فروری 2012ء کو حضور انور ایدہ اللہ نے اسرائیل کے وزیر اعظم کو خط لکھا ۔

iii.اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے نام خط

مورخہ7مارچ 2012ء اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کے نام خط میں حضور انور نے تیسری عالمی جنگ کا انتباہ فرماتے ہوئے ایران کے صدر کو درخواست فرمائی کہ وہ اپنی عالمی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور اسرائیل کے ساتھ جس حد تک ممکن ہو تصفیہ طلب اپور کے لئے بین الاقوامی تعلقات کے انصرام اور مذاکرات کی راہ اپنانے اور اختلافی امور کے حل کے لئے طاقت کے استعمال کی بجائے ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرنے کی استدعا کی۔

iv.وزیر اعظم کینیڈا کے نام مکتوب

سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خلیفۃ المسیح الخامس، امام جماعت احمدیہ عالمگیر نے اپنے 8مارچ 2012ء کے خط میں مسٹر سٹیفن ہارپر وزیر اعظم کینیڈا کو بھی اسی طرز پر ممکنہ ’’تیسری عالمی جنگ‘‘ اور اس کے نتیجہ میں سر اٹھانے والے مصائب و تباہیوں پر خبردار کیا۔

v.امریکہ کے صدر کے نام خط

مورخہ 8مارچ 2012ء کو ہی حضور انور ایدہ اللہ نے سب سے طاقتور حکومت ’’سُپر پاور‘‘ امریکہ کے حکمران صدر باراک اوباما کوجو خط لکھا اس میں سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں:
’’دنیا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ ضروری محسوس کیا کہ آپ کی طرف یہ خط روانہ کروں کیونکہ آپ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کے منصب پر فائز ہیں اور یہ ایسا ملک ہے جو سُپر پاور ہے……..ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی اور اقتصادی مشکلات نے کئی چھوٹے ممالک کو جنگ میں دھکیل دیا ہے اور بعض ممالک کی داخلی بدامنی اور عدم استحکام میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ ان تمام امور کا منطقی نتیجہ ایک عالمی جنگ کی صورت میں ہی نکلے گا……….میری آپ سے بلکہ تمام عالمی لیڈروں سے یہ درخواست ہے کہ دوسری قوموں کو زیر نگین کرنے کے لئے طاقت کی بجائے سفارتکاری، سیاست اور دانشمندی کو بروئے کارلائیں۔ بری عالمی طاقتوں، مثلاً اکریکہ کو دنیا میں امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے……….اللہ تعالیٰ آپ کو اور تمام عالمی لیڈروں کو یہ پیغام سمجھنے کی توفیق بخشے۔‘‘

(World Crises and the Pathway to peace p. 151)

اس کے علاوہ حضور انور نے درج ذیل حکمرانوں کو بھی خطوط لکھے۔

vi.سعودی عرب کے شہنشاہ عبد اللہ بن عبد العزیز السعود کو 28مارچ 2012ء کو خط لکھا۔
vii. عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم Mr. Wen Jiabao کو 9اپریل 2012ء کو خط لکھا۔
viii.برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو 15اپریل 2012ء کو خط لکھا۔
ix.جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کے نام خط مورخہ 15اپریل 2012ء کو لکھا۔
x.فرانس کے صدر H.E. Palais de I’Elysee کو خط مورخہ 16مئی 2012ء کو لکھا۔
xi.حضور انور نےبرطانیہ کی ملکہ کوئین الزبتھ II کو بھی 19۱پریل 2012ء کو ایک خط اسی سلسلہ میں لکھا۔
xii.ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کو 14مئی 2012ء کو خط لکھا گیا۔

ان تمام خطوط کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حضور انور کس درد کے ساتھ بلا کسی خوف کے بے لوث ہو کر عالمی امن کے لئے کوشاں رہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کی وہ تمام عالمی لیڈران کو حضور انور کی طرف سے دیئے گئے اس پیغام کو پوری طرح سمجھنے او راس کے مطابق اپنا لائحہ عمل بنانے کی توفیق عطا کرے۔ تا اس دنیا میں چہار سو امن ہی امن ہو۔ آمین

(Letters to the World leaders from World crises and the Pathway to peace p.189)

3)بین المذاہب کانفرنسز، امن کانفرنسز اور امن سمپوزیمز کا انعقاد

جماعت احمدیہ شروع دن سے ہی دنیا میں امن کے قیام کے لئے کوشاں رہی ہے۔جماعت احمدیہ دنیا میں امن کے قیام کے لئے ہمیشہ سب سے آگے رہی ہے۔ ’’محبت سب کے لئے اور نفرت کسی سے نہیں‘‘ کا موٹو لئے جماعت احمدیہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مختلف مذاہب اور مختلف اقوام کے لیڈرز کو ایک میز پر بٹھا کر ڈائیلاگ کے ذریعہ ایک دوسرے کے خیالات جانے جائیں اور نفرتوں کو محبتوں میں بدلا جائے تاکہ ایک پر امن معاشرہ جنم لے سکے۔ اس سلسلہ میں جماعت احمدیہ نے ہر لیول پر اور ہر دور میں دنیا کے تقریباً ہر ملک میں امن کانفرنسز کا احتتام کیا ہے۔ ان کانفرنسز کا مقصد آج کی پریشان حال دنیا میں امن کی تدابیر پر غور کرنا ہے۔ دنیا کی موجودہ خطرناک حالات کے پیش نظر خلافت خامسہ کے دور میں ان کانفرنسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہاں پر ان تمام کانفرنسز کا ذکر تفصیل سے تو کیا مختصراًبھی ناممکن ہے۔ لیکن خلافت خامسہ کے دور میں لندن میں ہونے والے امن سمپوزیمز جن میں خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بنفس نفیس شرکت فرمائی اور حاضرین سے خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب میں دنیا میں امن کے قیام کے موضوع پر اسلامی تعلیم کے حوالہ سے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔ان کانفرنسز اور سمپوزیمز میں حکومتی وزراء اور اعلیٰ عہدیداران، ملکوں کے سفراء،پارلیمینٹیرینز ، شہر کے میئر ،مذہبی رہنما اور معززین نے شرکت فرمائی۔ اپنے خیالات کا اظہار کیا اور جماعت احمدیہ کی امن پسندی اور قیام امن کے لئے کی گئی کوششوں کو سراہا۔ یوں تو یہ سمپوزیمز ہر سال ہی منعقد ہو رہے ہیں ۔لیکن یہاں پر ان میں سے چند کا مختصراً ذکر کیا جاتا ہے:۔

i.پہلا امن سمپوزیم۔25۱پریل 2004ء

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 2004ء میں نیشنل سالانہ امن سمپوزیم کا اجراء فرمایا۔ پہلا سمپوزیم 25اپریل 2004ء کو مسجد بیت الفتوح لندن میں منعقد ہوا۔ اس میں مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والوں نے امن کے بارہ میں اپنے اپنے مذہب اور عقیدہ کے مطابق تقریباً ایک ہزار سامعین کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ (ریویو آف ریلیجنز جون 2004ء)

i.خلافت جوبلی امن کانفرنس۔ 29مارچ 2008ء

جماعت احمدیہ یو کے کے زیر اہتمام بیت الفتوح لندن میں 29مارچ 2008ء کو صد سالہ خلافت جوبلی پروگراموں کے تحت ایک شاندار امن کانفرنس کو انعقاد کیا گیا۔ اس میں کم و بیش ایک ہزار افراد شامل ہوئے۔ اس میں غیر از جماعت اور غیر مسلم مہمانوں کی تعداد ساڑھے پانچ صد سے زائد تھی۔جن میں ممبران پارلیمنٹ، میئرز، کونسلرز، ٹی وی اور میڈیا کے نمائندگان، ڈاکٹرز اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات شامل تھیں۔ سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے کانفرنس کے شرکاء سےولولہ انگیز اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو امن کے پیغام کے ساتھ بھیجا ہے۔آپ کے بعد خلفائے احمدیہ کا سلسلہ جاری ہے اور امن کا یہ پیغام ساری دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے اور اللہ کے فضل سے اس میں کامیا بی بھی ہو رہی ہے۔ آپ نے امید کی کہ ان شاء اللہ یہ پیغام پھیلتا چلا جائے گا اور دنیا اپنے خالق کی طرف رجوع کرے گی اور امن اور محبت کا نمونہ ہو گی۔

(الفضل انٹرنیشنل 25اپریل 2008ء صفحہ 16، خلافت جوبلی سووینئر صفحہ 274)

ii.دسواں نیشنل امن سمپوزیم۔ 23مارچ 2013ء

ہر سال جماعت احمدیہ برطانیہ اس تقریب کا اہتمام کرتی ہے تا کہ دنیا کو دکھا سکیں کہ ہم نہ صرف خواہش رکھتے ہیں بلکہ ہر طریقے سے کوشاں ہیں کہ یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔ (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

23مارچ 2013ء کو مسجد بیت الفتوح کے طاہر ہال میں جماعت احمدیہ برطانیہ کی طرف سے دسویں نیشنل امن سمپوزیم کا انعقاد ہوا۔ مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے 800 مہمانوں نے اس تقریب میں شرکت کی جن میں برطانوی وزراء، مختلف ممالک کے سفیر، برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران اور ہاؤس آف لارڈز کے ممبر شامل تھے۔

4)احمدیہ مسلم امن انعام کا اجراء۔2009ء

جماعت احمدیہ کی عالمی امن کے لئےکی گئی کوششوں میں سے ایک کوشش یہ بھی کی گئی کہ دنیا میں کسی بھی جگہ پر کسی بھی لیول پر امن کے لئے کی گئی انفرادی یا اجتماعی کوششوں کو سراہا جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔چنانچہ جماعت احمدیہ برطانیہ کے 43ویں جلسہ سالانہ کے موقعہ پر آخری اجلاس میں حضور انور کی اجازت سے مکرم رفیق احمد صاحب حیات امیر جماعت یو کے نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ خلافت احمدیہ کی دوسری صدی کے دوسرے جلسہ کے تاریخی موقعہ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے احمدیہ مسلم پیس پرائز کا آغاز کیا جا رہا ہے جو کسی ایسی اہم شخصیت کو دیا جائے گا جنہوں نے امن کے قیام کے لئے غیر معمولی کام کیا ہو گا……..انعام کی رقم 10000پونڈ مقرر کی گئی ہے۔

(الفضل انٹر نیشنل 11ستمبر2009ءصفحہ 2)

i.پہلا احمدیہ مسلم امن ایوارڈ۔

جناب لارڈ ایرک ایو بری (Lord Eric Avebury) وہ خوش قسمت شخصیت تھیں جن کا نا م اس سال کے لئے منتخب کیا گیا۔ جناب لارڈ ایو بری نے 1976ء میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے UK میں ایک کمیٹی قائم کی اور 31سال تک آپ اس کے چیئر مین رہے اور اب وائس چیئرمین ہیں۔ اس کمیٹی نے مختلف ممالک کے مظلوم عوام کی مدد کی ہے اور گزشتہ دنوں اس کمیٹی نے ایک وفد پاکستان بھجوایا اور جماعت احمدیہ کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک خاص طور پر ربوہ میں کیا جا رہا ہے اس کی تحقیق کر کے ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان ہے:

‘‘Rabwah-A Place For Martyres’’

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 20مارچ 2010ء کو منعقدہ امن کانفرنس کے موقع پر بنفس نفیس یہ ایوارڈ لارڈ ایو بری کو عنایت فرمایا۔ اس کے ساتھ 10000پاؤنڈز کا ایک چیک بھی تھا۔

(الفضل انٹرنیشنل 09اپریل 2010ء صفحہ 9)

ii.دوسرا احمدیہ مسلم امن انعام

جماعت احمدیہ برطانیہ کے 44ویں جلسہ سالانہ میں حضور انور کی منظوری کے بعد مکرم امیر صاحب UK نے اعلان کیا کہ دوسرے احمدیہ مسلم امن ایوارڈ کے لئے ان کی بے لوث خدمت انسانیت کے اعتراف میں پاکستان کی معروف سماجی شخصیت جناب عبد الستار ایدھی صاحب کا نام منتخب کیا گیا ہے۔ جناب عبد الستار ایدھی صاحب نے کراچی (پاکستان) میں خدمت انسانی کے لئے ایک ٹرسٹ بنایا ہوا ہے جو سالہا سال سے دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کر رہا ہے ۔

(الفضل انٹر نیشنل 08 اکتوبر2010ء صفحہ2)

iii.تیسرا عالمی احمدیہ مسلم امن انعام

سال 2011 کے لئے تیسرےاحمدیہ مسلم امن انعام کے لئے SOS Children’s Villages UK تنظیم کا انتخاب ہوا۔ UK میں تنظیم کی صدر Dame Mary Richardson BBE نے حضور انور کے دست مبارک سے 24مارچ 2012ء کو نویں سالانہ امن سمپوزیم کے موقع پر حاصل کیا۔

(The Review of Religions, May 2012, Vol 107-Issue 5,p-21)

iv.چوتھا عالمی احمدیہ مسلم امن انعام

سال 2012ء کے لئے چوتھا سالانہ احمدیہ امن انعام گھانا سے تعلق رکھنے والے Dr. Oheneba Boachie Adjei کو دیا گیا۔

(The Review of Religions, May 2013, Vol 108-Issue 5,p-62)

٭…٭… باقی آئندہ …٭…٭

(پروفیسر مجید احمد بشیر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 4 اگست 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 05 اگست 2020ء