• 19 اکتوبر, 2021

صحابہ حضرت مسیح موعود ؑ کے دینی غیرت کے بعض واقعات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
حضرت حافظ نبی بخش صاحبؓ فرماتے ہیں کہ میرا بڑا لڑکا عبدالرحمٰن جو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا، 1907ء میں سکول میں ہی فوت ہو گیا۔ اُس کی سخت بیماری کی خبر سن کر میں باہر سے آیا۔ حضرت مولوی نورالدین اعظمؓ اس کا علاج فرما رہے تھے۔ میں حضرت صاحب کے پاس گیا۔ حضور نے اپنے پاس سے کچھ گولیاں دیں کہ دودھ میں گھس کر دو۔ (گھول کر دے دو۔) ابھی یہ گولیاں نہ کھلائی تھیں کہ وہ فوت ہو گیا۔ میں نے نعش کو فیض اللہ چک لے جانے کی اجازت طلب کی جو دے دی گئی۔ دوسرے جمعہ پر میں جب پھر قادیان گیا تو مجھے دور سے دیکھ کر فرمایا میاں نبی بخش آ جاؤ۔ اُس وقت بڑے بڑے آدمی حضور کے پاس بیٹھے تھے لیکن حضور نے مجھ حقیر ناچیز کو اپنی دائیں طرف بٹھایا اور فرمایا میاں نبی بخش معلوم ہوتا ہے آپ نے بڑا صبر کیا ہے۔ میری کمر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا ہم نے آپ کے لئے بہت دعا کی ہے اور کرتا رہوں گا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نعم البدل دے گا۔ (چنانچہ پھر اُن کی اولاد بھی ہوئی۔)

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد6 صفحہ303-304 روایات حضرت حافظ نبی بخش صاحبؓ)

وقت ہے تو کچھ دینی غیرت کے واقعات بھی ہیں جو پیش کرتا ہوں۔ حضرت ڈاکٹر محمد طفیل خان صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ شان تھی کہ جس کسی نے بھی حضور کی ذلت و رسوائی چاہی وہ سزا سے نہ بچ سکا۔ ایک مولوی غوث محمد صاحب ساکن بھیرہ مشن سکول بٹالہ میں عربک ٹیچر تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے اپنے مدرسے کے مسلم سٹاف کے رو برو سیدنا حضرت صاحب کی شان میں سخت گستاخانہ کلمات منہ سے نکالے۔ مجھے اُن کی یہ حرکت سخت ناگوار گزری۔ میں اُن کی اس نازیبا حرکت کی شکایت کے لئے مسٹر بی ایم سرکار ہیڈ ماسٹر کے پاس گیا۔ لیکن وہاں پہنچنے پر برق کی طرح (جب دروازے پر پہنچا تو کہتے ہیں بجلی کی طرح) میرے دل میں خیال آیا کہ ہیڈ ماسٹر صاحب تو مسیحی ہیں، عیسائی ہیں۔ باعتبار مذہب اُن کو مجھ سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ دوسرے لوگوں سے بہر حال اُن کو زیادہ ہمدردی ہے کیونکہ اُن کے وجود سے اُن کے مذہب کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ہے۔ اس لئے وہ قصور میری طرف ہی منسوب کریں گے۔ مَیں رُک گیا لیکن اُسی وقت میرا دل اللہ کریم سے دعا کی طرف مائل ہو گیا اور میں نے دعا کی کہ مولیٰ کریم! اس شخص نے گو حضور کے … پیارے مرسل (یعنی اللہ تعالیٰ کو کہا کہ تیرے پیارے مرسل) کے متعلق سخت گستاخی کے الفاظ استعمال کئے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ جہالت اور عدمِ علمی کی وجہ سے اُس کے منہ سے ایسے الفاظ نکل گئے ہوں اور حقیقت کے معلوم ہونے پر تائب ہو جائے۔ اس لئے اللہ کو درخواست کی کہ تیرے حضور، تیری درگاہ سے یہ چاہتا ہوں کہ حضور اُن کو کوئی ایسا نشان دکھائیں جو ان کے لئے عبرت کا تو باعث ہو لیکن اس میں اُن کے لئے کوئی سزا مقدر نہ رکھی جائے۔ (عبرت بھی ہو لیکن سزا بھی نہ ہو یہ شرط رکھی۔) تو خدا تعالیٰ نے اُس کو یہ نشان دکھایا کہ ریل میں سفر کرتے اُن کا ڈیڑھ دو ماہ کا بچہ کئی دفعہ اپنی ماں کی گود سے گرا اور گر کر اُچھلا اور گاڑی کے فرش پر بھی گرا لیکن چوٹ سے محفوظ رہا۔ جب انہوں نے اس حادثے کا اپنے سفر سے واپسی پر احباب میں ذکر کیا تو میں نے اُن کو بتایا کہ آپ کے اُس دن کے واقعہ کے بعد میں نے دعا کی تھی کہ آپ کو کوئی ایسا نشان دکھایا جائے جس میں آپ مضرت سے محفوظ رہیں۔ یعنی کہ اُس کے نقصان سے محفوظ رہیں۔ اس دعا کے مطابق خدائے کریم نے آپ کو نشان دکھا تو دیا ہے اس کی قدر فرمائیں۔ لیکن انہوں نے شوخی سے جواب دیا کہ یہ اتفاق ہے۔ میں کسی نشان کا قائل نہیں ہوں۔ چونکہ اس نشان سے انہوں نے فائدہ نہ اُٹھایا۔ خدا نے اُن کو پھر اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ بخار میں اچانک مبتلا ہو گئے اور اسی بخار سے مر گئے لیکن مرنے سے پہلے اُن کو واضح ہو گیا کہ یہ سزا اُن کو اُن کی بد زبانی کی وجہ سے ملی ہے۔ اس لئے اپنی خطر ناک حالت میں انہوں نے مجھے بار بار بلایا اور میرے جانے پر وہ کہنے لگے کہ آخر آپ نے میری شکایت کر دی۔ حالانکہ آپ نے کہا تھا کہ میں شکایت نہیں کروں گا۔ لیکن مجھے اپنی غلطی کا پتہ لگ گیا ہے اور اب مَیں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ ہی سچے تھے اور مَیں جھوٹا تھا۔‘‘ (کم از کم یہ شرافت تو مرتے مرتے انہوں نے دکھائی۔)

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر11 صفحہ156د۔ روایات ڈاکٹر محمد طفیل خاں صاحبؓ)

حضرت حافظ مبارک احمد صاحب لیکچرر جامعہ احمدیہ قادیان حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ کے الفاظ میں روایت بیان کرتے ہیں کہ مولوی خان ملک صاحب اپنی شہرت کے لحاظ سے تمام پنجاب بلکہ ہندوستان میں بھی مشہور تھے اور اکثر علماء اُن کے شاگرد تھے لیکن باوجود اس عزت اور شہرت کے نہایت سادہ مزاج اور صوفی منش تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق کوئی سخت لفظ نہیں سن سکتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ جلال پور شریف والے پیر مظفر شاہ صاحب نے اُن کو اپنے صاحبزادوں کی تعلیم کے لئے بلایا لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں ایک سخت کلمہ کہا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ مَیں آپ کے بچوں کو پڑھانے کے لئے تیار نہیں۔

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر11 صفحہ169۔ روایات مولوی خاں ملک صاحبؓ)

(خطبہ جمعہ 13؍ اپریل 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خطوط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اکتوبر 2021