• 18 اکتوبر, 2021

جلسہ سالانہ فرانس۔مختصر تاریخ

1889ء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح زمان اور مہدی دوراں کی بعثت کے ساتھ جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی اور پھر اپنی جماعت کی روحانی سیرابی کے لئے 1891ء میں جلسہ سالانہ کا نظام شروع کروا دیا۔

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیاد ی اینٹ خدا تعالی ٰنے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آ ملیں گی۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد1 صفحہ341)

حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں:۔
’’پس یہ بھی ایک نشان ہے جو جلسہ کے دنوں میں نظر آتا ہے کہ لوگ کثیر تعداد میں یہاں جمع ہوتے ہیں جس کا کبھی وہم و گمان بھی نہ تھا اور پھر نشان بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنہیں جاہل سمجھا جاتا ہے اس چشمہ سے اس شوق سے پیتے ہیں کہ دوسری قوموں کے پیاسے بھی اکثر نہیں پی سکتے۔‘‘

(خطبات محمود جلد12 صفحہ510)

لیکن یہ بھی ازل سے مقدر ہے کہ خدا والوں کی ترقی دشمن کو نہیں بھاتی اور وہ ہمیشہ خدائی جماعتوں کی تباہی اور انتشار کے لئے منصوبہ سازیاں کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ خدا ئے قدیر کا واضع اعلان ہے:

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ

(آل عمران: 55)

1947ء میں تقسیم ملک کے نتیجہ میں خلیفۂ وقت ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے چنانچہ اُس کے بعد تواتر سے ربوہ پاکستان میں مرکزی جلسہ سالانہ کا انعقاد ہوتا رہا۔ قادیان میں بھی جلسہ جاری رہا اور بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) میں بھی جلسہ سالانہ کا انعقاد شروع ہوا۔ 1984ء سے حکومت پاکستان نے ربوہ میں جلسہ کی اجازت سے انکار کیا انہوں نے سمجھا کہ شاید اسی طرح اس خدائی جماعت کی ترقی روک دیں گے اُن کو اندازہ نہ تھا کہ خدا کے اپنے ہاتھ سے لگائے ہوئے پودے کی نشو نما اُن کی ادنیٰ کوششوں سے کبھی نہ رُکے گی۔ چنانچہ اس سدا بہار درخت کی شاخیں ملک ملک سے نکلنا شروع ہوئیں اور آج پورے کرہٗ ارض پر محیط ہو چکی ہیں کاش ہمارے مخالفین عقل کے ناخن لیں اور اس مبارک درخت کے سایہ میں آ کر سکون حاصل کریں۔ آمین۔

جماعت احمدیہ فرانس کا پہلا جلسہ 1991ء میں منعقد ہوا۔ اُن دنوں مکرم جہانگیر خان صاحب جماعت احمدیہ فرانس کے امیر اور مبلغ انچارج تھے۔ جلسے کا انعقاد مشن ہاؤس دارالسلام سینٹ میری میں ہوا حاضری یکصد 100 تھی۔

2019ء تک متواتر خلیفہ ٔ وقت کی اجازت اور ہدایات کے مطابق جلسہ جاری رہا۔ البتہ 1999ء میں حکومت نے کچھ عرصہ کے لئے مشن ہاؤس دارالسلام بعض سیکیورٹی کے مسائل کے باعث بند کر دیا وجہ یہ تھی کہ پبلک مقام پر حفاظتی تعمیراتی کا موں کا کام ہونا ضروری تھے۔ 1998ء میں ان حفاظتی تعمیراتی کاموں کی تکمیل کے بعد مشن ہاؤس دارالسلام سینٹ میری دوبارہ کھل گیا اور پھر جلسوں کا انعقاد شروع ہوا۔

1999ء میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ خود بنفسِ نفیس فرانس تشریف لائے اور ہمارے جلسہ کو بر کت بخشی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

2004ء میں حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرانس تشریف لائے۔ اور ہمارے جلسہ سے خطاب فر مایا انہی ایام میں قادیان میں بھی جلسہ منعقد ہو رہا تھا چنانچہ حضور انور کا خطاب پہلی مرتبہ ہمارے ساتھ قادیان کے جلسہ میںبھی سنا گیا۔ ہم قادیان والوں کو دیکھ رہے تھے اور قادیان والے ہمیں دیکھ رہے تھے اور دونوں مقامات پر حضور اقدس کا خطاب سُنا جا رہا تھا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

اس کے بعد تو تواتر سےہر سال حضور انور کی رہنمائی اور شفقت کے زیر سایہ جلسہ سالانہ منعقد ہوتے رہے۔لیکن خود حضور نے ازراہِ شفقت 2019ء میں یہاں تشریف لا کر تشنہ روحوں کو جام ِوصال بخشا اس جلسہ کی حاضری 2733 تھی جلسہ کے بعد حضور نے نٹراس برگ میں جا کر مسجد کا افتتاح فرمایا۔ اس جلسہ میں مکرم منصور احمد وینس صاحب کو بطور افسر جلسہ سالانہ اور مکرم نصیر احمد شاہد صاحب مبلغ انچارج کو بطور افسر جلسہ گاہ خدمت کی توفیق ملی۔ مکرم اشفاق ربانی صاحب بطور امیر جماعت احمدیہ فرانس خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔

2013ء تک تمام جلسے مشن ہاؤس دارالسلام سینٹ میری میں منعقد ہوئے۔ 2013ء میں ہی خدا تعالیٰ نے جماعت کو شہر سے کچھ فاصلے پر جلسہ گاہ کے لئے ایک وسیع رقبہ پر محیط زمین خریدنے کی توفیق دی۔ اس جگہ کا نام حضور نے ازراہِ شفقت ’’بیت العطاء‘‘ تجویز فرمایا۔ چنانچہ 2014ء سے اب تمام جلسے اور اجتماعات اسی جگہ منعقد ہو رہے ہیں۔

اس زمین کا رقبہ 55.700 مربع میٹر (پونے چھ ایکڑ) ہے۔ نہایت سر سبز جگہ ہے جس میں کچھ کمرے اور ہال تعمیر شدہ ہیں جن کو اپنی ضرورت کے مطابق تیار کر لیا گیا ہے۔ اس وسیع رقبہ پر محیط زمین خدا کے فضل سے ہمیں 650.00 یورو میں مل گئی جبکہ وہاں پر رائج الوقت قیمت کے حساب سے اس کا تخمینہ تیرہ لاکھ یورو تک تھا۔ حال ہی میں ’’بیت العطاء‘‘ سے ملحق ایک مختصر سی جگہ جس کا رقبہ ایک دو کنال سے زائد نہ ہے 480،000 میں فروخت ہوا ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ

اس نعمت ربّانی کے حصول کے بعد 2014ء سے ہمارے تمام جلسے اور اجتما عات اسی جگہ منعقد ہو رہے ہیں۔ البتہ 2020ء Covid19 کی وجہ سے اجتماعات پر پابندی کے باعث جلسہ منعقد نہ ہوا۔

گزشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری پر جلسہ کے دنوں میں حضور اقدس کی رہائش کا انتظام بھی بیت العطاء میں تھا اس طرح کئی دنوں اس خطّہ زمین کو حضور کی قدم بوسی کی سعادت نصیب ہوئی اور دعاؤں سے استفادہ کی توفیق ملی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

(محمد ادریس شاہد۔ فرانس)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خطوط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اکتوبر 2021