• 5 دسمبر, 2022

آسٹریلیا میں جماعتی ترقیات اور امام جماعت کی آمد پر غیروں کا اعتراف

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
یہاں میلبورن میں احمدیہ سینٹر بھی لیا گیا ہے۔ پہلے کسی خطبہ میں اس کا ذکر نہیں کیا تھا اس لئے اس بارے میں بتا دوں کہ میلبورن میں ہم نے جو نیا سینٹر خریدا ہے یہ ساڑھے سات ایکڑ رقبہ پر ہے اور تعمیر شدہ ایک یہاں عمارت تھی جس کا رقبہ پچیس سو مربع میٹر ہے۔ اور اس رقبہ میں اوپر والا جو مین ہال ہے جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تین ہزار افراد نماز پڑھ سکتے ہیں اور اتفاق سے یہ تقریباً قبلہ رُخ بھی ہے اور اس بلڈنگ میں دوسرے ہال کو شامل کر کے مجموعی طور پر چار ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔ مشن ہاؤس، گیسٹ ہاؤس، دو ر ہائشی یونٹ، لائبریری، ریڈنگ روم، کچن، سٹور اور اس کے علاوہ ایک اور چھوٹا ہال یہ سب اس میں موجود ہیں۔ اس کی تین پارکنگ ہیں جن میں دو سو سے زائد گاڑیاں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔ اگست 2007ء میں یہ درخواست یہاں جمع کروائی گئی تھی کہ ہم لینا چاہتے ہیں تو ہمسایوں نے کئی اعتراضات کئے کہ یہاں مسلمانوں کی عبادتگاہ بنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ آخر ڈیڑھ سال کے انتظار کے بعد 2009ء میں سٹی کونسل نے اس سینٹر کو جماعت احمدیہ کو دینے کا فیصلہ کیا اور ایسا فیصلہ ہے کہ تمام کونسلرز نے بلا استثناء اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ پہلے یہ ایک کلب تھا، پارک تھا، پھر اس کا status change کر کے اس کو کمیونٹی سینٹر اور مشن ہاؤس کے طور پر رجسٹر کر لیا۔ اور اس کے بعد جیسا کہ میں نے کہا، لوگوں کی رائے بھی آپ نے سنی۔ اکثر لوگوں کی جماعت احمدیہ کے بارے میں رائے بالکل تبدیل ہو گئی ہے۔ اس سینٹر کی خرید پر آٹھ لاکھ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ پھر اس کو ٹھیک کیا گیا، مرمت کیا گیا، تقریباً ایک اعشاریہ تین ملین ڈالر خرچ ہوا۔ یعنی تیرہ لاکھ ڈالر۔ اس کے علاوہ وقارِ عمل جس طرح ہماری روایت ہے، اس کو کر کے پانچ لاکھ ڈالر کی بچت ویسے بھی کی گئی ہے۔ بہرحال اگر ویسے اس کی value دیکھیں تو یہ اس وقت مارکیٹ میں کم از کم پانچ ملین ڈالر کی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ بڑی سستی چیزیں اللہ تعالیٰ جماعت کو مہیا فرما دیتا ہے۔

پھر سڈنی میں واپس آئے۔ یہاں خلافت جوبلی ہال جو تعمیر ہوا ہے۔ اس کا افتتاح کیا۔ اس میں چودہ سو افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔ دو منزلہ دفاتر بنائے گئے ہیں۔ میٹنگ روم ہے، لجنہ کے اور دوسری تنظیموں کے دفاتر ہیں۔ بڑا مین (main) کچن ہے جس میں لنگر خانہ چلتا رہا۔ اِن ڈور گیمز بھی ہال میں کھیلی جا سکتی ہیں۔ افتتاح کے موقع پر یہاں وزیرِ اعظم آسٹریلیا کی نمائندگی میں وہاں کی ایک ممبر آف پارلیمنٹ Concetta Fierravanti Wells آئی ہوئی تھیں۔ پھر فیڈرل ممبر آف پارلیمنٹ تھے۔ Minister for Citizenship تھے۔ اَپوزیشن کے لیڈر تھے۔ اسی طرح بہت سارے ممبر آف پارلیمنٹ، پارلیمانی سیکرٹری فار لاء اینڈ جسٹس، پولیس کے افسران، ایریا کمانڈر آف پولیس اور کونسلر اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے کافی لوگ یہاں شامل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں خلافت جوبلی کے ہال کا افتتاح تھا اس لئے اسلام کی تعلیم، جماعت احمدیہ کیا ہے؟ اور اب جماعت احمدیہ میں خلافت کا کیا کردار ہے؟ اس بارے میں مَیں نے کچھ کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کا بھی بڑا اچھا اثر ہوا۔

ایک پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ امام جماعت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلام کو انتہا پسندوں کے عمل نے بدنام کیا ہے۔ مَیں اس بات سے بہت متأثر ہوا ہوں۔ اس تنقید کا انہوں نے جس طرح امن کے پیغام کے ساتھ جواب دیا ہے، وہ بہت شاندار ہے۔

پھر ایک مہمان اِندرا دیوی نے کہا کہ یہ جو خطاب تھا اس میں نہایت عمدہ اور اعلیٰ معلومات تھیں۔ مَیں اسلام کے متعلق کوئی کتابچہ حاصل کرنا چاہوں گی جس کی مدد سے مَیں اسلام کو بہتر طور پر سمجھ سکوں۔ میں اسلام کے متعلق متذبذب ہوں لیکن عمومی طور پر یہ دعوت میرے لئے باعثِ عزت ہے۔ لیکن پھر متذبذب اس لئے ہیں کہ مسلمانوں کا بہت سا طبقہ ان باتوں کے خلاف کرتا ہے۔ پس اسلام کی حقیقی تعلیم اب جب اُن کو پتہ لگی تو بہرحال وہاں کے لوگوں کو چاہئے کہ ان سے رابطہ بھی رکھیں اور ان کولٹریچر مہیا کریں۔ یہاں بھی بڑے اچھے تأثرات اَوروں نے بھی دئیے۔

پھر اس کے بعد آسٹریلیا میں برزبن (Brisbane) میں مسجد کا افتتاح ہوا ہے۔ وہ آپ نے خطبہ میں سن بھی لیا ہو گا۔ یہاں بھی اُس کے بعد ایک reception تھی۔ اس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگ آئے۔ ممبر آف پارلیمنٹ تھے، پولیس افسر، ڈاکٹر، پروفیسر، ٹیچر، انجینئر اور مختلف آرگنائزیشن کے لوگ اور چرچ کے لوگ، پادری، ہمسائے سب شامل ہوئے۔

(خطبہ جمعہ 15 نومبر 2013ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

نیشنل اجتماع و شورٰی لجنہ اماء اللہ آئیوری کوسٹ2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اکتوبر 2022