• 5 دسمبر, 2022

دُعا، ربوبیت اور عبودیت کا ایک کامل رشتہ ہے (مسیح موعودؑ) (قسط 47)

دُعا، ربوبیت اور عبودیت کا ایک کامل رشتہ ہے (مسیح موعودؑ)
قسط 47

دعا میں صیغہ واحد کو جمع کرنا

جو دعائیں قرآن شریف میں ہیں ان میں کوئی تغیر جائز نہیں کیونکہ وہ کلام الٰہی ہے وہ جس طرح قرآن شریف میں ہے اسی طرح پڑھنا چاہیئے۔ ہاں حدیث میں جو دعائیں آئی ہیں۔ ان کے متعلق اختیار ہے کہ صیغہ واحد کی بجائے صیغہ جمع پڑھ لیا کریں۔

(ملفوظات جلد9 صفحہ251 ایڈیشن 1984ء)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ

یہ بات بھی آپ ہی سے خاص ہے کہ کسی نبی کے لئے اس کی قوم ہر وقت دعا نہیں کرتی مگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی امت دنیا کے کسی نہ کسی حصہ میں نماز میں مشغول ہوتی ہے اور پڑھتی ہے اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰ مُحَمَّدٍ۔ اس کے نتائج برکات کے رنگ میں ظاہر ہورہے ہیں۔ چنانچہ انہی میں سے سلسلہ مکالمات الٰہی ہے جو اس امت کو دیا جاتا ہے۔

(ملفوظات جلد9 صفحہ267 ایڈیشن 1984ء)

ایک دعا اور اس کا جواز

میاں محمد دین احمدی کباب فروش لاہور … نے ایک عریضہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا جس میں لکھا تھا یا حضرت میں نے چند روز سے محض رضائے الٰہی کے لئے جناب باری تعالیٰ میں یہ دعا شروع کی ہے کہ میری عمر میں سے دس سال حضرت اقدس مسیح موعود کو دی جاوے کیونکہ اسلام کی اشاعت کے واسطے میری زندگی ایسی مفید نہیں۔ کیا ایسی دعا مانگنا جائز ہے؟

حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا
ایسی دعا میں مضائقہ نہیں بلکہ ثواب کا موجب ہے۔

(ملفوظات جلد9 صفحہ297-298 ایڈیشن 1984ء)

اصول عبادت کا خلاصہ

عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہوجاوے اور اسی کی عظمت اور اسی کی ربوبیت کا خیال رکھے۔ ادعیہ ماثورہ اور دوسری دعائیں خدا تعالیٰ سے بہت مانگے اور بہت توبہ استغفار کرے اور باربار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تاکہ تزکیۂ نفس ہوجاوے۔ اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہوجاوے۔ اور اسی کی محبت میں محو ہوجاوے اور یہی ساری نماز کا خلاصہ ہے اور یہ سارا سورہ فاتحہ میں ہی آجاتا ہے۔ دیکھو! اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ (الفاتحہ: 5) میں اپنی کمزوریوں کا اظہار کیا گیا ہے اورامداد کے لیے خدا تعالیٰ سےہی درخواست کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ سے ہی مدد اور نصرت طلب کی گئی ہے اور پھر اس کے بعد نبیوں اور رسولوں کی راہ پر چلنے کی دعا مانگی گئی ہے اور ان انعامات کو حاصل کرنے کے لئے درخواست کی گئی ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے اس دنیا پر ظاہر ہوئے ہیں اور جو انہیں کی اتباع اور انہیں کے طریقہ پر چلنے سے حاصل ہوسکتے ہیں۔ اورپھر خدا تعالیٰ سے دعا مانگی گئی ہے کہ ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے تیرے رسولوں اور نبیوں کا انکار کیا اور شوخی اور شرارت سے کام لیا اور اسی جہان میں ہی ان پر غضب نازل ہوا یا جنہوں نے دنیا کو ہی اپنا اصلی مقصود سمجھ لیا اور راہ راست کو چھوڑ دیا اور اصلی مقصد نماز کا تو دعا ہی ہے اور اس غرض سے دعا کرنی چاہیئے کہ اخلاص پیدا ہو اور خدا تعالیٰ سے کامل محبت ہو اور معصیت سے جو بہت بری بلا ہے اور نامۂ اعمال کو سیاہ کرتی ہے طبعی نفرت ہو اور تزکیہ نفس اور روح القدس کی تائیدہو۔ دنیا کی سب چیزوں جاہ وہ جلال، مال و دولت، عزت وعظمت سے خدا مقدم ہو اور وہی سب سے عزیز اور پیارا ہو اور اس کے سوائے جو شخص دوسرے قصے کہانیوں کے پیچھے لگا ہوا ہے جن کا کتاب اللہ میں ذکر تک نہیں وہ گرا ہوا ہے اور محض جھوٹا ہے۔ نماز اصل میں ایک دعا ہے جو سکھائے ہوئے طریقہ سے مانگی جاتی ہے۔ یعنی کبھی کھڑے ہونا پڑتا ہے۔ کبھی جھکنا اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا ہے۔ اور جو اصلیت کو نہیں سمجھتا وہ پوست پر ہاتھ مارتا ہے۔

مصائب اور شدائد کا آنا نہایت ضروری ہے۔ کوئی نبی نہیں گزرا جس کا امتحان نہیں لیا گیا۔ جب کسی کا کوئی عزیز مرجاتا ہے تو اس کے لئے یہ بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ مگر یاد رکھو کہ ایک پہلو پر جانے والے لوگ مشرک ہوتے ہیں۔ آخر خدا کی طرف قدم اٹھانے اور حقیقی طورپر اھدناالصراط المستقیم (الفاتحہ: 6) والی دعا مانگنے کے یہی معنے تو ہیں کہ خدایا وہ راہ دکھا جس سے تو راضی ہو اور جس پر چل کر نبی کامیاب اور بامراد ہوئے آخر جب نبیوں والی راہ پر چلنے کے لئے دعا کی جاوے گی تو پھر ابتلاؤں اور آزمائشوں کے لئے بھی تیار رہنا چاہیئے۔ اور ثابت قدمی کے واسطے خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہنا چاہیئے۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ صحت و عافیت بھی رہے۔ مال و دولت میں بھی ترقی ہو۔ اور ہر طرح کے عیش و عشرت کے سامان اور مالی و جانی آرام بھی ہوں۔ کوئی ابتلاء بھی نہ آوے اور پھر یہ کہ خدا بھی راضی ہو جاوے وہ ابلہ ہے۔ وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔

(ملفوظات جلد9 صفحہ451-453 ایڈیشن 1984ء)

بد دعا دینا اچھا نہیں ہوتا

ذرا ذرا سی بات پر بد دعا دینا اچھا نہیں ہوتا کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ صبر کرو۔ جو لوگ ذرا ذرا سی بات پر بددعا دیتے ہیں اکثر انہیں پشیمان ہونا پڑتا ہے کیونکہ اس وقت تو وہ جوش میں آکر کچھ کا کچھ کہہ دیتے ہیں اور پیچھے جب سوچتے ہیں تو خود ان کا نفس ان کو ملامت کرتا ہے کہ اس قدر خفیف معاملہ پر اس قدر خفگی اور ناراضی دکھائی جو اخلاق کے سراسر خلاف ہے۔

(ملفوظات جلد9 صفحہ480 ایڈیشن 1984ء)

سورہ فاتحہ کی دعا

ہمارا خدا تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔وہ ہر ایک نقص اور عیب سے مبرا ہے کیونکہ جس میں کوئی نقص ہو وہ خدا کیونکر ہوسکتا ہے اور اس سے ہم دعائیں کس طرح مانگ سکتے ہیں۔ اور اس پر کیا امیدیں رکھ سکتے ہیں۔ وہ تو خود ناقص ہے نہ کہ کامل۔ لیکن اسلام نے وہ قادر اور ہر ایک عیب سے پاک خدا پیش کیا ہے جس سے ہم دعائیں مانگ سکتے ہیں اور بڑی بڑی امیدیں پوری کرسکتے ہیں۔ اسی واسطے اس نے اسی سورۃ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے کہ تم لوگ مجھ سے مانگا کرو۔ اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ (الفاتحہ: 6) یعنی یا الٰہی ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے بڑے بڑے فضل اور انعام ہوئے اور یہ دعا اس واسطے سکھائی کہ تا تم لوگ صرف اس بات پر ہی نہ بیٹھ رہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں بلکہ اس طرح سے اعمال بجالاؤ کہ ان انعاموں کو حاصل کرسکو جو خدا تعالیٰ کے مقرب بندوں پر ہوا کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا سکھائی ہے تو یہ اس واسطے ہے کہ تا تم لوگوں کی آنکھ کھلے کہ جو کام تم کرتے ہو دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا ہے۔ اگر انسان ایک عمل کرتا ہے اور اس کا نتیجہ کچھ نہیں تو اس کو اپنے اعمال کی پڑتال کرنی چاہیئے کہ وہ کیسا عمل ہے جس کا نتیجہ کچھ نہیں۔پھر اس کے آگے خدا فرماتا ہے غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾ یعنی اے مسلمانوں۔ تم خدا سے دعا مانگتے رہو کہ یا الٰہی ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنانا جن پر اس دنیا میں تیرا غضب نازل ہوا اور نہ ہی ان لوگوں کا راستہ دکھانا جو کہ راہ راست سے گمراہ ہوگئے ہیں۔

(ملفوظات جلد10 صفحہ42-45 ایڈیشن 1984ء)

(حسنیٰ مقبول احمد۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

نیشنل اجتماع و شورٰی لجنہ اماء اللہ آئیوری کوسٹ2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اکتوبر 2022