• 28 جنوری, 2023

اے چھاؤں چھاؤں شخص! تیری عمر ہو دراز

ڈائری عابد خان سے ایک ورق
اے چھاؤں چھاؤں شخص! تیری عمر ہو دراز

بہت سے احباب جو یہ ڈائری پڑھ رہے ہیں اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ ستمبر 2022ء کے آخر پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امریکہ کا ایک نہایت تاریخی اور بابرکت تین ہفتے کا دورہ فرمایا۔ جیساکہ حضور انور نے Covid-19 کی وبا کے باعث بیرون ملک یا یوکےکے اندر کوئی سفر اختیار نہ فرمایا تھا۔ یوں (ایک تعطل کے بعد) آپ کا دورہٴ امریکہ ایک خاص اہمیت کا حامل تھا۔ یہ دورہ روحانی بلندی کا باعث، نہایت جذباتی اور ایمان افروز تھا۔

ہر لمحہ نہ صرف جماعت احمدیہ امریکہ کےلئے بلکہ اکناف عالم میں پھیلے احمدیوں کے لئے بھی، مسحور کن اور باعث خوشی ثابت ہوا۔ یہ ایسا خاص موقع تھا کہ جب کورونا پورے زور پر تھا۔ احمدی احباب اس انتظار میں تھے کہ انہیں یہ لمحات دوبارہ کب میسر ہوں گے۔ کورونا کے علاوہ بھی گزشتہ سال میں کئی مشکلات کا سامنا تھا۔ جیساکہ حضرت خلیفۃ المسیح کے کردار کو کمزور کرنے اور آپ کے کردار پر حملے اس درجہ کو پہنچ گئے کہ میری عمر کے لوگ یا ہم سے چھوٹوں نے اس سے پہلے مشاہدہ نہ کیا تھا۔

ایک ایسے مبارک وجود جسے مَیں اور دیگر بے شمار احباب نہایت نیک، رحمدل اور شفیق جانتے ہیں، کے کردار پر حملے اور نا حق بد نام کرنے کی کوشش بے حد تکلیف دہ اور نہایت غمزدہ کر دینے والی تھی۔ کچھ کا خیال تھا کہ شاید خلافت اور احباب جماعت کے درمیان تعلق میں دراڑ پڑ گئی ہے۔ تاہم ایسی مشکل گھڑی میں بھی حضور انور کے توکّل علی اللہ میں کبھی لغزش نہیں آئی بلکہ آپ مستقل ہمیں ہدایت فرماتے رہے کہ صبر اور حوصلہ سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔

اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ دیگر کئی برکات کے ساتھ ساتھ دورہٴ امریکہ نے ثابت کر دیا کہ خلافت اور احباب جماعت میں جو غیر معمولی تعلق ہے اس میں (نعوذ باللّٰہ) لغزش آنے کی بجائے وہ پہلے سے بھی بہت زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ مجھے حضور انور کے ساتھ کئی مواقع پر امریکہ کے دورہ پر جانے کی سعادت ملی ہے اور حالیہ دورہ سے قبل مجھے خلافت سے ایسی والہانہ محبت، وفاداری اور نہایت جذباتی لمحات مشاہدہ کرنے کو نہیں ملے۔ مجھے یقین ہے کہ اس دورہ کے حاضرین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہی گواہی دے گی۔

اس ڈائری میں خاکسار اپنے چند ایسے تجربات اور مشاہدات لکھے گا جو اس دورہ سے قبل اور اس کے دوران کے ہیں۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ میری تحریر کبھی بھی حضور انور کے دورہ امریکہ کی برکات کی صحیح طور پر عکاسی نہ کر سکے گی۔

ایک سبق سیکھنا

امسال جلسہ سالانہ یوکے کے ختم ہونے کے چند روز بعد مجھے محترم امیر صاحب یوکے کی طرف سے ایک عشائیہ کا دعوت نامہ ملا جو بیت الفتوح میں جلسہ سالانہ کے چند مہمانان اور کارکنان کے اعزاز میں تھا۔ یہ پروگرام شاید بہت عجلت میں بنایا گیا تھا جیساکہ دعوت نامے صرف ایک روز قبل تیار کئے گئے تھے۔

جیساکہ مجھے سر شام ملاقات کے لئے اسلام آباد میں حاضر ہونا تھا، مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں بر وقت بیت الفتوح پہنچ سکوں گا۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ میں نہیں جاؤں گا۔ تاہم عشائیہ سے چند گھنٹے قبل مجھے محترم امیر صاحب کی طرف سے ایک فون کال موصول ہوئی جس میں استفسار تھا کہ میں آسکوں گا یا نہیں۔ میں نے عرض کی کہ مشکل ہو جائے گا مگر آپ نے زور دیا کہ مجھے آنا چاہئے۔ جب بھی مجھے فرصت ملے اور یہ بھی کہ مجھے ا پنی اہلیہ اور بچوں کو بھی ساتھ لانا چاہئے۔

اس خیال سے کہ محترم امیر صاحب نے خاص طور پر مجھے فون کیا تھا میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے جانا چاہئے اور مجھے یہ بھی خیال آیا کہ اپنی فیملی کے ساتھ بیت الفتوح تک گاڑی چلانے اور واپس آنے کے سفر سے بھی لطف اندوز ہو جاؤں گا۔ جنہیں میں نے جلسہ کے ایام میں شاید دیکھا بھی نہیں تھا۔

میں نے اپنی اہلیہ مالہ کو میسج کیا اور اس تقریب کے بارے میں بتایا۔ تاہم پہلے تو وہ اس میں شمولیت کے بارے میں متذبذب تھی جیساکہ ہمارے نکلنے میں چند گھنٹے باقی تھے اور ان کا خیال تھا کہ ان کا اور بچوں کا بر وقت تیار ہونا مشکل ہوگا۔ تاہم میری طرف سے کچھ خاص تگ و دو کے بعد وہ مان گئی اور چند گھنٹوں میں انہوں نے جلدی جلدی خود کو اور بچوں کو تیار کر لیا۔

میں نے انہیں لیا اور ہم اکھٹے اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گئے۔ پلان یہ تھا کہ میں ملاقات کروں گا اور پھر ہم بیت الفتوح کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ بچے خاص طور پر میرے دونوں بڑے بیٹے بہت خوش تھے۔ انہیں بیت الفتوح جانا بہت زیادہ پسند ہے اور اس لئے بھی خوش تھے کہ انہیں ایسی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے جہاں بکثرت لنگر کا کھانا بھی ہوگا۔جس دوران میں ملاقات کے لئے حاضر ہو امیری فیملی گاڑی میں بیٹھی رہی۔ اب جبکہ مالہ نے سب کو بر وقت تیار کر لیا تھا (تو وہ مطمئن ہو کر) ایک شام باہر فرصت سے گزار نے کے لئے تیار تھی۔

ملاقات کے دوران میں نے حضور انور کی خدمت میں رپورٹ پیش کی۔ جب میں اجازت لینے ہی لگا تھا تو حضور انور نے استفسار فرمایا کہ ’’کیا تم امیر صاحب کے عشائیہ پر جا رہے ہو؟‘‘ میں نے عرض کی کہ میرا پلان تو نہیں تھا مگر امیر صاحب نے خصوصاً کال کی ہے اب میں نے ارادہ کر لیاہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا:
’’اس وقت کورونا کی وجہ سے ایسا خطرہ مو ل لینا کوئی دانائی نہیں ہے۔ اگر تم نے امیر صاحب کو بتا دیاہے کہ تم آرہے ہو تو تم جا سکتے ہو لیکن اس بات کو یقینی بنانا کہ تم خاص طور پر ماسک پہن کر رکھو۔‘‘ بعد ازاں حضور انور نے فرمایا ’’اور اپنی فیملی کو ساتھ لے کر مت جانا ورنہ وہ کورونا میں آسانی سے مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اکیلے ہی جاؤ اور احتیاط برتنا۔‘‘

جونہی میں نے حضور انور کی ہدایت سنی کہ مجھے اپنی فیملی کو نہیں لے کر جانا چاہئے ۔ مجھے خیال آیا کہ کس طرح مالہ پہلے جانے کے لئے تیار نہ تھی اور میں نے اس کو جانے کےلئے منایا تھا۔ ایک لمحہ کے لئےمیں نے سوچا کہ حضور انور کو بتاؤں کہ وہ گاڑی میں بیٹھ کر جانے کے انتظار میں ہیں کہ شاید حضور انور انہیں بھی ساتھ جانے کی اجازت مرحمت فرمادیں۔ تاہم میں ایساکرنے سے رک گیا۔ حضور انور نے ایک ہدایت سے نوازا تھا اور ہمارا فرض تھا کہ اس پر عمل کریں۔ میں گاڑی میں واپس پہنچا اور سوائے مسکرانے کے کوئی چارہ نہ تھا۔ میں نے مالہ کو اور بچوں کو حضور انور کی ہدایات کے بارے میں بتایا اور یہ کہ میں انہیں گھر واپس چھوڑوں گا اور اکیلا عشائیہ کے لئے جاؤں گا۔

مالہ اس بات پر ہنسی کہ کس طرح وہ (جلدی جلدی میں) تیار ہوئی تھی اور اب گھر واپس جا ر ہی تھی۔ بہر حال وہ حضور انور کی محبت اور شفقت کی وجہ سے بے حد ممنون تھی۔ ہماری چھوٹی بیٹی جو یریہ کو اگرچہ کچھ سمجھ نہ آیا تھا پھر بھی وہ اس نئے پلان پر عمل درآمد کے لئے خوش تھی۔ تاہم ہمارے دونوں بڑے بچوں ماہد اور مشاہد میں افسردگی کے جذبات خوب عیاں تھے۔ دونوں اس بات پر حیران تھے کہ حضور انور نے ان کی خواہش کے بر خلاف ہدایات سے نوازا تھا۔

ابھی تک انہیں صرف حضور انور کی محبت اور شفقت سے ہی حصہ ملا تھا اور یہ پہلا موقع تھا کہ انہیں حضور انور کی طرف سے ایسی ہدایات ملی تھیں جو ان کی دلی خواہشات کے بر خلاف تھیں۔ ان کا رد عمل دیکھنے پر مجھے خیال آیا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے کہ انہیں تفصیلاً بتاؤں کہ یہ ان کا خلافت کی اطاعت اور فرمانبرداری کے حوالہ سے پہلا امتحان ہے۔

یوں گھر پہنچنے تک میں نے انہیں تفصیل بتائی کہ حضور انور نے ہمیشہ انہیں بے حد پیار اور شفقت سے نوازا ہے۔ آپ انہیں مستقل چاکلیٹس بھجواتے ہیں اور نہایت شفقت سے ان کے خطوط کا جواب عطا فرماتے ہیں۔ اب پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ حضور انور نے ایسی ہدایت سے نواز اہے جو ان کی خواہش کے بر خلاف ہے تو بطور ایک وقف نو کیا انہیں ا س کو خوشی سے قبول کرنا چاہئے یا شکایت کرنی چاہئے؟

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ انہوں نے فوراً ہی بات کو سمجھ لیا اور گھر پہنچنے تک وہ خوش تھے اور جلدہی بیت الفتوح میں منعقد ہونے والی تقریب کے بارے میں بھول گئے۔ اگلے روز جب میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو میں نے حضور انو ر کو ساری داستان سنائی اور یہ کہ مجھے خوشی ہے کہ میرے بچوں کو ایک چھوٹی سی قربانی خلافت کی اطاعت اور فرمانبرداری میں کرنے کی توفیق ملی ہے اور خلافت کے بارے میں ایک اہم سبق سیکھا ہے۔

یہ داستان سنتے ہوئے حضور انور مسکرائے خاص طور پر جب آپ نے مالہ کی تیاری کے بارے میں سنا اور یہ بھی کہ اس تیاری کے باوجود اس کو واپس گھر جانا پڑا۔ مجھے ایسا بھی لگا کہ حضور انور کو حیرانی ہوئی جب آپ کو پتا چلا کہ وہ سب تیار تھے اور گاڑی میں انتظار کر رہے تھے۔ یہ داستان سننے کے بعد حضور انور نے اپنی کرسی کے پیچھے الماری کی طرف رخ کیا اور مختلف انواع وا قسام کی چاکلیٹس نکالنے لگے۔ نہایت مشفقانہ انداز میں حضور انور نے فرمایا ’’یہ آپ کے بچوں کے لئے میری طرف سے انعام ہے۔‘‘

حضور انور نے کچھ چاکلیٹس میرے اور مالہ کے لئے بھی عطا فرمائیں۔ یہ چاکلیٹس اس قدر وافر تھیں کہ جہاں حضور انور سے یہ تحفہ وصول کرنے کی مجھے بے حد خوشی تھی اور میں اپنے بچوں کے چہروں پر آنے والی خوشی کا خیال کرکے خوش ہو رہا تھا وہاں مجھے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے عملہ کے احباب اور دیگر ملاقات کے آئے ہوئے احباب کے سامنے سے انہیں باہر لے جاتے ہوئے کچھ شرم محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے کچھ چاکلیٹس تو فائل میں چھپا لی تھیں اور کچھ اپنی جیکٹ میں، مگر وہ اتنی زیادہ تھیں کہ واضح طور پر نظر آرہی تھیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بچوں کے چہرے خوشی سے تلملا اٹھے جب انہوں نے حضور انور کی طرف سے اپنے تحفے وصول کئے۔

دل دہلا دینے والا ایک تبصرہ

6؍ستمبر 2022ء کو جب میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو بہت پریشان اور فکر مند تھا۔ حضور انور نے گزشتہ رات سے مسجد مبارک میں نمازوں کی امامت نہیں فرمائی تھی۔ یہ بات تو واضح تھی کہ آپ کی طبیعت ناساز تھی۔ اس لئے کسی (دفتری) کام سے ہٹ کر میں صرف حضور انور کو دیکھنا چاہتا تھا تاکہ آپ کی طبیعت معلوم کر سکوں۔ طبیعت ناساز ہونے کے با وجود حضور انور بر وقت اپنے دفتر تشریف لائے اور چند منٹوں کے بعد مجھے مدعو فرمایا۔

داخل ہوتے ہی مجھے تسلی ہوئی کیونکہ حضور انور کی طبیعت بہتر لگ رہی تھی۔ اگرچہ آپ بہت تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ حضور کی طبیعت کیسی ہے۔ حضور انور نے فرمایا:
’’کل شام تمہیں ملنے کے کچھ دیر بعد، فیملی ملاقاتوں کا آغاز ہوا اور چند منٹوں کے بعد میری طبیعت خراب ہونی شروع ہوگئی اور یہ خرابی (ملاقاتوں کے سلسلہ کے دوران) برھتی گئی۔ ان کے اختتام پر مجھے ڈاکٹر شبیر صاحب کو بلانا پڑا۔‘‘

میں نے پوچھا کہ طبیعت خراب ہوتے ہی حضور انور نے ملاقاتوں کا سلسلہ ختم کرکے ڈاکٹر صاحب کو کیوں نہ بلالیا۔ کمال بے نفسی اور احباب جماعت سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:
’’احمدی (احباب) بہت دور سے صرف مجھے ملنے کے لئے آتے ہیں اور میں ان میں سے کسی کو بھی مایوس نہیں کرنا چاہتا یا زیادہ دیر تک انتظار میں نہیں رکھنا چاہتا کیونکہ انہوں نے اپنے گھر وں میں واپسی بھی کرنی ہوتی ہے۔ اس لئے باوجود نا سازی طبع کے کسی طرح اللہ کی دی ہوئی توفیق سے میں نے ملاقاتیں جاری رکھیں اور جملہ فیملیز سے ملاقات کی۔‘‘

اس شام کوئی فیملی ملاقاتیں نہ تھیں۔ اس لئے میں نے عرض کی کہ اب تو حضور آرام فرمالیں۔ جواب میں حضور انور نے فرمایا: ’’مجھے خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے لئے نوٹس مکمل کرنے ہیں اور ایک یا دو دن کے بعد مجھے لجنہ کے اجتماع کے لئے بھی نوٹس تیار کرنے ہیں اور پھر اس کے بعد امریکہ کے دورہ کی تیاری کا مرحلہ شروع ہو جائے گا اس لئے آرام کے لئے وقت نہیں ہے۔‘‘

اس بات نے مجھے جذبات سے مغلوب کر دیا اور تکلیف ہوئی کہ حضور انور کی طبیعت ناساز تھی اور یہ خیال کہ کس طرح خلیفہٴ وقت مستقل اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر جماعت کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی تکلیف کو چھپا لیتے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حضور آپ کی طبیعت بہتر لگ رہی ہے اور آپ کا معمول بغیر کسی تبدیلی کے ویسے ہی جاری ہے۔ حضور انور نے جو بات ارشاد فرمائی اس نے مجھے غم سے بھر دیا۔ حضور انور نے فرمایا:
’’تم نہیں جانتے کہ میرے دل میں کیا تکلیف ہے۔ تم بس مجھے دیکھتے ہو اور سمجھتےہو کہ سب ٹھیک ہے۔‘‘

مجھے ایسا لگا جیسے حضور انور ظاہری اور جسمانی تکلیف کا ذکر نہیں فرما رہے بلکہ اس موقع پر حضور انور نے اپنے غم کے جذبات کے طلاطم کا ذکر فرمایا ہے جو بطور خلیفہٴ وقت آپ دنیا بھر کے احمدیوں کی تکالیف اور مشکلات کی وجہ سے محسوس کرتے ہیں۔

(حضور انور کا دورہٴ امریکہ ستمبر- اکتوبر2022ء از ڈائری عابد خان)

(باتعاون: مظفرہ ثروت۔ جرمنی)

(مترجم: ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

تاریخ ساز پہلا جلسہ سالانہ لگزمبرگ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 دسمبر 2022