• 28 جنوری, 2023

خطبہ جمعہ فرمودہ 11؍نومبر 2022ء

خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 11؍نومبر 2022ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

حضرت ابوبکر صدیقؓ لوگوں میں سب سے زیادہ اہلِ عرب کے حسب و نسب کو جاننے والے تھے

اہلِ مکہ کے نزدیک حضرت ابوبکرؓ ان کے بہترین لوگوں میں سے تھے

حضرت ابوبکر علم الانساب کی طرح ایامِ عرب یعنی عربوں کی باہم جنگوں کی تاریخ کے بھی بہت بڑے عالم تھے

’’ابوبکرؓ کی فضیلت وہ ذاتی فراست تھی جس نے ابتدا میں بھی اپنا نمونہ دکھایا اور انتہا میں بھی۔ گویا ابوبکرؓ کا وجود مَجْمُوْعَۃُ الْفِرَاسَتَیْن تھا۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو اپنی آیات کے مورد صلّی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لئے چنا اور آپؓ کے صدق و ثبات کے باعث آپؓ کی تعریف کی

یقیناً تمام لوگوں میں سب سے بڑھ کر مجھ سے اپنی رفاقت اور اپنے مال کے ذریعہ نیکی کرنے والا ابوبکر ہی ہے۔ اگر مَیں اپنی امّت میں سے کسی کو خلیل بنانے والا ہوتا تو مَیں ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی برادری اور محبت ہی ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ نہ رہے مگر بند کر دیا جائے سوائے ابوبکر کے دروازے کے (الحدیث)

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےمناقبِ عالیہ کا ایمان افروز بیان

أَشْھَدُ أَنْ لَّٓا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِؕ﴿۴﴾ إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر

ہو رہا تھا۔ آپؓ کی سیرت پر کچھ بیان ہوا تھا۔ اس بارے میں جو روایات ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ آپ حسب و نسب کے ماہر تھے اور شعری ذوق بھی رکھنے والے تھے۔ لکھا ہے کہ

حضرت ابوبکر صدیقؓ لوگوں میں سب سے زیادہ
اہلِ عرب کے حسب و نسب کو جاننے والے تھے۔

جبیر بن مطعم جو کہ اس فن یعنی علم الانساب میں کمال تک پہنچے ہوئے تھے انہوں نے کہا مَیں نے نسب کا علم حضرت ابوبکرؓ سے سیکھا ہے۔ خاص طور پر قریش کا حسب و نسب کیونکہ حضرت ابوبکرؓ قریش میں سے قریش کے حسب و نسب اور جو اچھائیاں اور برائیاں اُن کے نسب میں تھیں ان کا آپ سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے اور آپ اُن کی برائیوں کا تذکرہ نہیں کرتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ حضرت عقیل بن ابوطالبؓ کی نسبت ان میں زیادہ مقبول تھے یعنی قریش میں زیادہ مقبول تھے۔ حضرت عقیلؓ حضرت ابوبکرؓ کے بعد قریش کے حسب و نسب اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اچھائیوں اور برائیوں کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ مگر حضرت عقیلؓ قریش کو ناپسندیدہ تھے کیونکہ وہ قریش کی برائیاں بھی گنوا دیتے تھے۔ حضرت عقیلؓ مسجد نبویؐ میں نسب ناموں، عرب کے حالات و واقعات کا علم حاصل کرنے کے لیے حضرت ابوبکرؓ کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔

اہلِ مکہ کے نزدیک حضرت ابوبکرؓ ان کے بہترین لوگوں میں سے تھے

چنانچہ جب بھی انہیں کوئی مشکل پیش آتی توآپؓ سے مدد طلب کرتے تھے۔

(السیرۃ الحلبیہ جلد1 صفحہ390 باب اول الناس ایماناً بہﷺ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)

بیان ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کو انسابِ عرب بالخصوص قریش کے نسب کا علم سب سے زیادہ ہے۔ چنانچہ جب قریش کے شعراء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار کہے تو حضرت حسان بن ثابتؓ کے سپرد یہ خدمت ہوئی کہ وہ اشعار میں ہی ان کے ہجو کا جواب دیں۔ حضرت حسانؓ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ تم قریش کی ہجو کیسے کہو گے جبکہ مَیں خود بھی قریش میں سے ہوں۔ اس پر حضرت حسانؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپؐ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے سے بال یا مکھن سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ تم حضرت ابوبکرؓ کے پاس جاؤ اور ان سے قریش کے نسب کے بارے میں پوچھ لیا کرو۔ حضرت حسانؓ کہتے تھے کہ پھر میں اشعار لکھنے سے پہلے حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور وہ میری قریش کے مَردوں اور عورتوں کے بارے میں راہنمائی فرماتے۔ چنانچہ جب حضرت حسانؓ کے اشعار مکہ جاتے تو مکہ والے کہتے کہ ان اشعار کے پیچھے ابوبکر کی راہنمائی اور مشورہ شامل ہے۔

(ماخوذ از سیرت سیدنا صدیق اکبر، ازاستاذ عمر ابوالنصر، مترجم اردو صفحہ817-818)

حضرت ابوبکر علم الانساب کی طرح ایامِ عرب
یعنی عربوں کی باہم جنگوں کی تاریخ کے بھی بہت بڑے عالم تھے۔

اسی طرح حضرت ابوبکرؓ گو کہ باقاعدہ شاعر تو نہ تھے لیکن شعری ذوق خوب تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سیرت نگاروں نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ آپؓ نے باقاعدہ طور پر شعر کہے تھے یا نہیں اور کچھ سیرت نگاروں نے نفی کی ہے کہ آپؓ نے اشعار کہے ہوں گے البتہ بعض سیرت نگاروں نے حضرت ابوبکرؓ کے کچھ اشعار کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسی طرح حضرت ابوبکرؓ کے اشعار پر مشتمل، پچیس قصائد پر مشتمل ایک مخطوطہ جو کہ ترکی کے کتب خانے سے دستیاب ہوا ہے وہاں پڑا ہوا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ حضرت ابوبکرؓ کے اشعار ہیں۔ اس میں کسی لکھنے والے نے یہاں تک لکھا ہے کہ مجھے ان اشعار کی حضرت ابوبکرؓ کی طرف نسب کی تصدیق الہامی طور پر ہوئی ہے۔ طبقاتِ ابنِ سعد اور سیرت ابنِ ہشام نے یہی لکھا ہے کہ

حضرت ابوبکرؓ نے کچھ اشعار کہے تھے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر آپؐ کی تدفین کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے اشعار یہ بیان کیے جاتے ہیں یعنی ترجمہ یہ ہے کہ اے آنکھ! تجھے سید دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر رونے کے حق کی قسم! تُو روتی رہ اور اب تیرے آنسو کبھی نہ تھمیں۔ اے آنکھ! خِنْدِف یعنی قبیلہ قریش کے بہترین فرزند پر آنسو بہا جو کہ شام کے وقت لحد میں چھپا دیے گئے ہیں۔ پس بادشاہوں کے بادشاہ، بندوں کے والی اور عبادت کرنے والوں کے رب کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ہو۔ پس حبیب کے بچھڑ جانے کے بعد اب کیسی زندگی۔ دس جہانوں کو زینت بخشنے والی ہستی کی جدائی کے بعد کیسی آراستگی۔ پس جس طرح ہم سب زندگی میں بھی ساتھ ہی تھے، کاش موت بھی ہم سب کو ایک ساتھ گھیرے میں لے لیتی۔ (سیرت سیدنا صدیق اکبر، ازاستاذ عمرابوالنصر، مترجم اردو صفحہ818-822) یہ اشعار کا ترجمہ ہے۔

آپؓ کی فراست کے بارے میں

آتا ہے کہ بہت صاحبِ فراست تھے۔ حضرت ابوسعید خدریؓ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے دنیا کا یا اس کا جو اللہ کے پاس ہے۔ تو اس نے جو اللہ کے پاس ہے اسے پسند کیا ہے۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے تو مَیں نے اپنے دل میں کہا اس بزرگ کو کیا بات رُلا رہی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے بندے کو دنیا یا جو اس کے پاس ہے پسند کرنے کے متعلق اختیار دیا ہے تو پھر اس نے جو اللہ عزّوجل کے پاس ہے اسے چن لیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ بندے تھے اور حضرت ابوبکرؓ ہم سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر! مت رو۔ آگے ان کی روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر!مت رو۔

یقیناً تمام لوگوں میں سب سے بڑھ کر مجھ سے اپنی رفاقت اور اپنے مال کے ذریعہ نیکی کرنے والا ابوبکر ہی ہے۔ اگر میں اپنی امّت میں سے کسی کو خلیل بنانے والا ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی برادری اور محبت ہی ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ نہ رہے مگر بند کر دیا جائے سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔

(صحیح البخاری کتاب الصلاۃ باب الخوخۃ والممر فی المسجد، روایت نمبر 466)

فراست کے حوالے سے یہ حوالہ دوبارہ پیش کیا۔ یہ دروازوں کا جو حوالہ ہے پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ اس کی ایک تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے جو آگے بیان کروں گا۔ بہرحال حضرت مصلح موعودؓ اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام آئے تو ایک دن آپؐ تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اور صحابہؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ اے لوگو! اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہے اس کو اس کے خدا نے مخاطب کیا اور کہا اے میرے بندے! میں تجھے اختیار دیتا ہوں کہ چاہے تُو دنیا میں رہ اور چاہے تو میرے پاس آ جا۔ اس پر اس بندے نے خدا کے قرب کو پسند کیا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تو حضرت ابوبکرؓ رو پڑے۔ حضرت عمرؓ کہتے ہیں ‘‘یہاں حضرت عمرؓ کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔ ’’حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ مجھے ان کا رونا دیکھ کر سخت غصہ آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی بندے کا واقعہ بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو خدا تعالیٰ کے پاس چلا جائے۔ اور اس نے خدا تعالیٰ کے قرب کو پسند کیا، یہ بڈھا کیوں رو رہا ہے؟ مگر حضرت ابوبکرؓ کی اتنی ہچکی بندھی، اتنی ہچکی بندھی کہ وہ کسی طرح رکنے میں ہی نہیں آتی تھی۔‘‘ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ابوبکر سے مجھے اتنی محبت ہے کہ اگر خدا کے سوا کسی کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابوبکرؓ کو بناتا۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دنوں کے بعد وفات پا گئے تو اس وقت ہم نے سمجھا کہ ابوبکرؓکا رونا سچا تھا اور ہمارا غصہ بیوقوفی کی علامت تھا۔‘‘

(اسوہ ٔحسنہ، انوار العلوم جلد17 صفحہ102)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ جن کو قرآن مجید کا یہ فہم ملا تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ (المائدہ: 4) پڑھی تو حضرت ابوبکرؓ رو پڑے۔ کسی نے پوچھا کہ یہ بڈھا کیوں روتا ہے؟ تو آپؓ نے یعنی حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ مجھے اس آیت سے پیغمبر خدا، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہ السلام بطور حکام کے ہوتے ہیں جیسے بندوبست کا ملازم جب اپنا کام کر چکتا ہے تو وہاں سے چل دیتا ہے۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام جس کام کے واسطے دنیا میں آتے ہیں جب اس کو کر لیتے ہیں تو پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ پس جب اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ کی صدا پہنچی تو حضرت ابوبکرؓ نے سمجھ لیا کہ یہ آخری صدا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا فہم بہت بڑھا ہوا تھا اور یہ جو احادیث میں آیا ہے کہ مسجد کی طرف سب کھڑکیاں بند کی جاویں۔ یہ کھڑکی کی وضاحت بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرما دی کہ کھڑکیاں بند کرنے سے کیا مراد ہے۔ فرمایا کہ یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ مسجد کی طرف سب کھڑکیاں بند کر دی جاویں مگر ابوبکر کی کھڑکی مسجد کی طرف کھلی رہے گی اس میں یہی سرّ ہے کہ

مسجد چونکہ مظہر اسرارِ الٰہی ہوتی ہے
اس لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرف یہ دروازہ بند نہیں ہو گا۔

اللہ تعالیٰ کے اسرار، راز، باتوں میں گہرائی، اللہ تعالیٰ کی باتوں میں جو حکمت ہے وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ہمیشہ کھلی رہے گی۔ بعد میں بھی کھلتی چلی جائے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام استعارات اور مجاز سے کام لیتے ہیں۔ جو شخص خشک ملاؤں کی طرح یہ کہتا ہے کہ نہیں ظاہر ہی ظاہر ہوتا ہے وہ سخت غلطی کرتا ہے۔ مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے سے یہ کہنا کہ یہ دہلیز بدل دے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سونے کے کڑے دیکھنا وغیرہ امور اپنے ظاہری معنوں پر نہیں تھے بلکہ استعارہ اور مجاز کے طور پر تھے۔ ان کے اندر ایک اَور حقیقت تھی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ غرض مدعا یہی تھی کہ حضرت ابوبکرؓ کو فہمِ قرآن سب سے زیادہ دیا گیا تھا اس لیے حضرت ابوبکرؓ نے یہ استدلال کیا۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر یہ معانی بظاہر معارض بھی ہوتے تب بھی تقویٰ اور دیانتداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ ابوبکر ہی کی مانتے یعنی لوگ انہی کی بات مانتے مگر یہاں تو ایک لفظ بھی قرآن مجید میں ایسا نہیں ہے جو حضرت ابوبکرؓ کے معنوں کا معارض ہو۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ مولویوں سے پوچھو کہ ابوبکر دانشمند تھے کہ نہیں۔ کیا وہ ابوبکر نہ تھے جو صدیق کہلایا۔ کیا یہی وہ شخص نہیں جو سب سے پہلے خلیفہ رسول اللہ کا بنا۔ جس نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی کہ خطرناک ارتداد کی وبا کو روک دیا۔ فرماتے ہیں: اچھا اَور باتیں جانے دو۔ یہی بتاؤ کہ حضرت ابوبکرؓ کو منبر پر چڑھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔ پھر تقویٰ سے یہ بتاؤ کہ انہوں نے جو مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ (آل عمران: 145) پڑھا تو اس سے استدلال تام کرنا تھا یا ایسا ناقص کہ ایک بچہ بھی کہہ سکتا کہ عیسیٰ کو موتیٰ سمجھنے والا کافر ہو جاتا ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد1 صفحہ441-442 ایڈیشن 1984ء) یعنی مکمل یہ آیت پڑھنے کا مطلب ہی یہ تھا کہ ایک بڑا واضح اور ٹھوس دلیل دی جائے نہ کہ ناقص دلیل۔

پھر ایک اَور موقع پر اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ کی آیت دو پہلو رکھتی ہے۔ ایک یہ کہ تمہاری تطہیر کر چکا۔ دوم کتاب مکمل کر چکا … کہتے ہیں جب یہ آیت اتری تو ابوبکر رو پڑے۔ کسی نے کہا اے بڈھے! کیوں روتا ہے؟ آپؓ نے جواب دیا کہ اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔ کیونکہ یہ مقرر شدہ بات ہے کہ جب کام ہو چکتا ہے تو اس کا پورا ہونا ہی وفات پر دلالت کرتا ہے۔ جیسا دنیا میں بندوبست ہوتے ہیں اور جب وہ ختم ہو جاتا ہے تو عملہ وہاں سے رخصت ہوتا ہے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓوالا قصہ سنا تو فرمایا سب سے سمجھدار ابوبکرؓ ہے اور یہ فرمایا کہ اگر دنیا میں کسی کو دوست رکھتا تو ابوبکر کو رکھتا اور فرمایا۔ ابوبکر کی کھڑکی مسجد میں کھلی رہے باقی سب بند کر دو۔ کوئی پوچھے کہ اس میں مناسبت کیا ہوئی‘‘ اس سے کیا مراد ہے کہ دوست رکھتا، پھر کھڑکی کھلی رہے گی۔ آپ مناسبت بیان فرما رہے ہیں کہ ’’تو یاد رکھو کہ مسجد خانۂ خدا ہے جو سرچشمہ ہے تمام حقائق و معارف کا۔ اس لئے فرمایا کہ ابوبکرؓ کی اندرونی کھڑکی اس طرف ہے تو اس کے لئے یہ بھی کھڑکی رکھی جاوے۔ یہ بات نہیں کہ اَور صحابہؓ محروم تھے۔‘‘ ان میں بھی بڑے بڑے فِراست والے تھے لیکن سب سے زیادہ حضرت ابوبکرؓ میں تھی ’’بلکہ

ابوبکرؓ کی فضیلت وہ ذاتی فراست تھی جس نے ابتداء میں بھی اپنا نمونہ دکھایا اور انتہاء میں بھی۔ گویا ابوبکرؓ کا وجود مَجْمُوْعَۃُ الْفِرَاسَتَیْن تھا۔‘‘

(ملفوظات جلد8 صفحہ399-400 ایڈیشن 1984ء)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ ’’(حضرت ابوبکر) صدیقؓ صاحبِ تجربہ اور صاحبِ فراست لوگوں میں سے تھے۔ آپؓ نے بہت سے پیچیدہ امور اور ان کی سختیوں کو دیکھا اور کئی معرکوں میں شامل ہوئے اور ان کی جنگی چالوں کا مشاہدہ کیا۔ اور آپؓ نے کئی صحرا و کوہسار روندے اور کتنے ہی ہلاکت کے مقامات تھے جن میں آپ بے دریغ گھس گئے۔ اور کتنی کج راہیں تھیں جن کو آپؓ نے سیدھا کیا۔اور کئی جنگوں میں آپؓ نے پیش قدمی کی اور کتنے ہی فتنے تھے جن کو آپ نے نیست و نابود کیا اور کتنی ہی سواریاں تھیں جن کو آپ نے سفروں میں دبلا کیا‘‘ یعنی بےشمار سفر کیے کہ سواریاں تھک جاتی تھیں ’’اور بہت سے مراحل طے کئے یہاں تک کہ آپ صاحب تجربہ و فراست بن گئے۔ آپؓ مصائب پر صبر کرنے والے اور صاحبِ ریاضت تھے۔ پس

اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو اپنی آیات کے مورد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لئے چنا اور آپؓ کے صدق و ثبات کے باعث آپؓ کی تعریف کی۔

یہ اشارہ تھا اس بات کا کہ آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیاروں میں سے سب سے بڑھ کر ہیں۔ آپؓ حریت کے خمیر سے پیدا کئے گئے اور وفا آپؓ کی گھٹی میں تھی۔ اس وجہ سے آپؓ کو خوفناک اہم امر اور ہوش رُبا خوف کے وقت منتخب کیا گیا اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ وہ تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا اور پانیوں کو ان کے (مناسبِ حال) سرچشموں سے جاری کرتا ہے۔ سو اس نے ابن ابی قحافہ پر نگاہِ التفات ڈالی اور اس پر خاص احسان فرمایا۔ اور اسے ایک یگانۂ روزگار شخصیت بنا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور وہ بات کرنے والوں میں سب سے سچا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا، اللہ تعالیٰ بات کرنے والوں میں سے سب سے سچا ہے۔ کیا فرمایا۔ ’’اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدۡ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذۡ اَخۡرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثۡنَیۡنِ اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ اِذۡ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡہَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا السُّفۡلٰی ؕ وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الۡعُلۡیَا ؕ وَاللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ (سورۃ التوبۃ آیت 40) اگر تم اس (رسول) کی مدد نہ بھی کرو تو اللہ (پہلے بھی) اس کی مدد کر چکا ہے جب اسے ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا (وطن سے) نکال دیا تھا اس حال میں کہ وہ دو میں سے ایک تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر یقینا ً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نے کبھی نہیں دیکھا اور اس نے ان لوگوں کی بات نیچی کر دکھائی جنہوں نے کفر کیا تھا اور بات اللہ ہی کی غالب ہوتی ہے اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔‘‘

(سر الخلافہ مترجم صفحہ60-62، روحانی خزائن جلد8 صفحہ339)

حضرت ابوبکرؓ کو تعبیر الرؤیا کا فن بھی بہت آتا تھا۔

لکھا ہے کہ علم تعبیر میں حضرت ابوبکر صدیقؓ بڑا ملکہ رکھتے تھے۔ علم تعبیر میں آپؓ کو سب سے زیادہ فوقیت حاصل تھی۔ یہاں تک کہ حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں آپؓ خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے تھے۔ امام محمد بن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ سب سے بڑے معبّر تھے۔

(حضرت ابوبکرصدیقؓ از محمد الیاس عادل صفحہ174)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان کردہ چند خوابوں کی تعبیریں بیان کی جاتی ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ احد سے واپسی کے موقع پر ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہؐ! میں نے خواب میں ایک بادل دیکھا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ لوگ اپنے ہاتھوں میں اس سے لے رہے تھے۔ کوئی زیادہ لینے والا کوئی تھوڑا لینے والا اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان تک پہنچی ہوئی تھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ نے اسے پکڑا اور اس کے ذریعہ اوپر چلے گئے۔ اس کے بعد ایک اَور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اس کے ذریعہ اوپر چلا گیا۔ اس کے بعد ایک اَور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ پھر اس کے بعد ایک اَور شخص نے اس رسی کو پکڑا اور وہ ٹوٹ گئی۔ پھر اس کے لیے جوڑ دی گئی اور وہ اس کے ذریعہ اوپر چڑھ گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اس کی تعبیر کرنے دیجیے۔ اجازت ہو تو میں تعبیر کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی تعبیر کرو تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا کہ سایہ کرنے والا بادل تو اسلام ہے اور جو شہد اور گھی اس میں سے ٹپک رہا تھا وہ قرآن ہے۔ اس کی شیرینی اور اس کی لطافت اور لوگ اس سے جو شہد اور گھی لے رہے ہیں اس سے مراد قرآن حاصل کرنے والا ہے۔ یعنی قرآن کریم کا علم حاصل کرنے والا زیادہ یا تھوڑا۔ اور وہ رسی جو آسمان تک پہنچی ہوئی ہے تو وہ حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لیا اور اس کے ذریعہ آپؐ بلند ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کو ایک اَور آدمی لے گا اور اس کے ذریعہ بلند ہوگا۔ پھر ایک اَور، وہ بھی اس کے ذریعہ بلند ہو گا۔ پھر ایک اَور، اور وہ منقطع ہو جائے گی۔ پھر اس کے لیے جوڑی جائے گی اور وہ اس کے ذریعہ بلند ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کچھ صحیح کہا اور کچھ غلطی کی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دیتا ہوں آپؐ مجھے ضرور بتائیے جو میں نے ٹھیک کہا اور جو میں نے غلطی کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر قسم نہ دو۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب تعبیر الرؤیا باب تعبیر الرؤیا، حدیث نمبر 3918)

یعنی آپ نہیں چاہتے تھے کہ جو صحیح تعبیر ہے وہ اس وقت واضح طور پر بتائی جائے۔ اس لیے آپؐ نے فرمایا کہ قسم نہ دو۔ بس ٹھیک ہے جتنی تم نے کر دی ہے وہی کافی ہے۔

ابن شہاب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب کو حضرت ابوبکرؓ کے سامنے بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ جیسے میں اور تم ایک زینے پر چڑھے ہوں اور میں تم سے اڑھائی زینے آگے بڑھ گیا ہوں۔ انہوں نے کہا خیر ہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ آپؐ کو اس وقت تک باقی رکھے گا کہ آپؐ اپنی آنکھوں سے وہ چیز دیکھ لیں جو آپؐ کو مسرور کرے اور خوش کرے اور آپؐ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے۔ آپ نے ان کے سامنے اسی طرح تین مرتبہ دہرایا۔ تیسری مرتبہ فرمایا کہ اے ابوبکر! میں نے خواب دیکھا کہ جیسے میں اورتم ایک زینے پر چڑھے۔ میں تم سے اڑھائی سیڑھی آگے بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ آپؐ کو اپنی رحمت اور مغفرت کی طرف اٹھا لے گا اور میں آپؐ کے بعد اڑھائی سال تک زندہ رہوں گا۔

(الطبقات الکبری جلد3 صفحہ132 دارالکتب العلمیۃ بیروت 2012ء)

حضرت ابوبکرؓ نے اس کی یہ تشریح کی اور اسی طرح ہوا۔

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے خواب میں اپنے حجرےمیں تین چاند گرتے ہوئے دیکھے تو میں نے اپنی خواب اپنے والد حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سامنے بیان کی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین حضرت عائشہؓ کےحجرے میں عمل میں آئی تو حضرت ابوبکرؓ نے آپؓ سے کہا یہ تمہارے چاندوں میں سے ایک ہے اور یہ ان میں سے بہترین ہے۔

(مؤطا کتاب الجنائز باب ما جاء فی دفن المیت حدیث نمبر 546 دارالفکر بیروت 2002ء)

حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ کالی بکریوں کا ریوڑ میری پیروی کر رہا ہے اور ان کے پیچھے خاکستری رنگ کی بکریوں کا ریوڑ ہے۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ عرب آپ کی پیروی کریں گے اور پھر عجم ان کی پیروی کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے نے بھی یہی تعبیر کی ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ جلد10 صفحہ125 کتاب الایمان والرؤیا حدیث 31101، الفاروق للحدیثہ 2008ء)

یہ تو خوابوں کا ذکر تھا۔

اب یہ ذکر ہے کہ

مَردوں میں سب سے پہلے مسلمان کون تھا؟

تو اس بارے میں یہی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا ہی کہا جاتا ہے۔ حضرت عمار بن یاسرؓ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ابتدائی زمانے میں دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف پانچ غلام اور دو عورتیں اور حضرت ابوبکرؓ تھے۔

(صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب قول النبیﷺ لو کنت متخذا خلیلا: حدیث نمبر 3660)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اپنی تصنیف سیرت خاتم النبیین میں تفصیلی نوٹ لکھا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں اور انہوں نے یہ بحث کی ہے کہ سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کون ایمان لایا تھا؟ چنانچہ آپؓ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے مشن کی تبلیغ شروع کی تو سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہؓ تھیں جنہوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی تردّد نہیں کیا۔ حضرت خدیجہؓ کے بعد مَردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے کے متعلق موٴرخین میں اختلاف ہے۔ بعض حضرت ابوبکر عبداللہ بن ابی قحافہ کا نام لیتے ہیں۔ بعض حضرت علیؓ کا جن کی عمر اس وقت صرف دس سال کی تھی اور بعض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہؓ کا۔ مگر ہمارے نزدیک یہ جھگڑا فضول ہے۔ حضرت علیؓ اور زید بن حارثہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے آدمی تھے اور آپؐ کے بچوں کی طرح آپؐ کے ساتھ رہتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا تھا اور ان کا ایمان لانا۔ (یعنی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا اس پر ان کو یقین تھا اور ایمان تھا اس لیے یہ کہنا کہ آپ ایمان لائے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کیونکہ ان کی عمر چھوٹی تھی اور گھر کے فرد تھے) بلکہ ان کی طرف سے تو شاید کسی قولی اقرار کی بھی ضرورت نہ تھی۔ پس ان کا نام بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں اور جو باقی رہے ان سب میں سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمہ طور پر مقدم اور سابق بالایمان تھے۔

حضرت ابو بکرؓ اپنی شرافت اور قابلیت کی وجہ سے قریش میں بہت مکرم و معزز تھے اور اسلام میں تو ان کو وہ رتبہ حاصل ہوا جو کسی اَور صحابی کو حاصل نہیں تھا۔ حضرت ابو بکرؓ نے ایک لمحہ کے لیے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ میں شک نہیں کیا بلکہ سنتے ہی قبول کیا اور پھر انہوں نے اپنی ساری توجہ اور اپنی جان اورمال کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی خدمت میں وقف کر دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ میں ابو بکر کو زیادہ عزیز رکھتے تھے اور آپؐ کی وفات کے بعد وہ آپؐ کے پہلے خلیفہ ہوئے۔ اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی انہوں نے بے نظیر قابلیت کا ثبوت دیا۔ حضرت ابو بکرؓ کے متعلق یورپ کا مشہور مستشرق سپرنگر لکھتا ہے کہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آغازِ اسلام میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خواہ دھوکا کھانے والے ہوں مگر دھوکا دینے والے ہر گز نہیں تھے بلکہ صدقِ دل سے اپنے آپ کو خدا کا رسول یقین کرتے تھے۔اور سرولیم میور کو بھی سپرنگر کی اس رائے سے کُلّی اتفاق ہے۔

حضرت خدیجہؓ، حضرت ابوبکرؓ، حضرت علیؓ اور زید بن حارثہؓ کے بعد اسلام لانے والوں میں پانچ اشخاص تھے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ سے ایمان لائے اور یہ سب کے سب اسلام میں ایسے جلیل القدر اور عالی مرتبہ اصحاب نکلے کہ چوٹی کے صحابہ میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ اول حضرت عثمان بن عفانؓ، دوسرے عبدالرحمٰن بن عوف، تیسرے سعد بن ابی وقاص، چوتھے زبیر بن عوام، پانچویں طلحہ بن عبیداللہ۔ یہ پانچوں اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں یعنی ان دس اصحاب میں داخل ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے خاص طور پر جنت کی بشارت دی تھی اور جو آپ کے نہایت مقرب صحابی اور مشیر شمار ہوتے تھے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ121تا 123)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک موقع پر جماعت کو مالی تحریک کر رہے تھے تو اس میں آپ نے اس کو اس واقعہ کے ساتھ بھی جوڑا۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ ’’مومن ایسی تحریکوں پر گھبراتا نہیں‘‘ یعنی مالی تحریکوں پر یا قربانی کی تحریکوں پر ’’بلکہ خوش ہوتا ہے اور اس کو فخر ہوتا ہے کہ تحریک سب سے پہلے مجھ تک پہنچی۔ وہ ڈرتا نہیں بلکہ اس پر اس کو ناز ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا وہ شکریہ ادا کرتا ہے اور سب سے زیادہ اس کی راہ میں قربانی کرتا ہے اور درجہ بھی سب سے بڑھ کر پاتا ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو جو قربانیاں حضرت ابوبکرؓ نے کیں یا جس جس خدمت کا ان کو موقع حاصل ہوا ہے وہ آرزو کرتے تھے کہ مجھے سب سے پہلے ان قربانیوں کا کیوں موقع ملا۔‘‘ کبھی سوچا ہوگا، خواہش کی ہو گی کہ کیوں مجھے موقع ملا۔ ’’انہوں نے بڑی خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالا اور خدا کی راہ میں تکلیفیں اٹھائیں۔ اس لئے انہوں نے وہ درجہ پایا جو حضرت عمرؓ بھی نہ پا سکے۔ کیونکہ جو پہلے ایمان لاتا ہے اس کو سب سے پہلے قربانیوں کا موقع ملتا ہے حالانکہ خطرات حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کے وقت بھی تھے۔ تکلیفیں دی جاتی تھیں۔ نمازیں نہیں پڑھنے دیتے تھے۔ صحابہ وطنوں سے بے وطن ہو رہے تھے۔ پہلی ہجرتِ حبشہ جاری تھی۔ ترقیوں کا زمانہ ان کے ایمان لانے کے بہت بعد شروع ہوا مگر پھر بھی جو مرتبہ حضرت ابوبکرؓ کو ابتدا میں ایمان لانے اور ابتداء میں قربانیوں کا موقع میسر آنے کی وجہ سے حاصل ہوا، حضرت عمرؓ اس کی برابری نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے ایک دفعہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا اختلاف ہو گیا توآپؐ نے فرمایا کہ تم لوگ جس وقت اسلام سے انکار کر رہے تھے اس وقت ابوبکر نے اسلام کو قبول کیا اور جس وقت تم اسلام کی مخالفت کر رہے تھے اس نے اسلام کی مدد کی اب تم اس کو کیوں دکھ دیتے ہو۔ تو ان کے پہلے ایمان لانے اور قربانیوں کا اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ تکلیفیں حضرت عمرؓ نے بھی اٹھائیں اور قربانیاں انہوں نے بھی کی تھیں۔ پس حضرت ابوبکرؓ کو اس سبقت پر فخر حاصل تھا۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ یہ چاہتے ہوں گے کہ کاش! فتح مکہ کے وقت ان کو ایمان لانے کا موقع ملتا بلکہ اگر دنیاکی بادشاہت کو بھی ان کے سامنے رکھ دیا جاتا تو حضرت ابوبکرؓ اس کو نہایت حقیر بدلہ قرار دیتے اور منظور نہ کرتے بلکہ وہ اس مرتبہ کے معاوضہ میں دنیا کی بادشاہت کو پاؤں سے ٹھوکر مارنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کرتے۔‘‘

(من انصاری الیٰ اللہ، انوار العلوم جلد9 صفحہ30-31)

پس یہ ان کی قربانیوں کا صلہ تھا اور اس طرح اللہ تعالیٰ درجہ بہ درجہ صلہ دیتا ہے۔

غلاموں کے آزاد کروانے کے بارے میں

لکھا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ اَبُوْبَکْرٍ سَیِّدُنَا وَاَعْتَقَ سَیِّدَنَا یَعْنِیْ بِلَالًا۔

(صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ بَابُ مَنَاقِبِ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا حدیث نمبر3754)

ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار کو آزاد کیا۔ ان کی مراد حضرت بلالؓ سے تھی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آغاز اسلام میں اپنے مال سے سات غلاموں کو آزاد کروایا جنہیں اللہ کی وجہ سے تکلیف دی جاتی تھی۔ ان غلاموں کے نام یہ ہیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ۔ عامر بن فُہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ زِنِّیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ نَہْدِیّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کی بیٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کی بیٹی بنی مُؤَمَّل کی ایک لونڈی اور اُمّ عُبَیْس۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جلد3 صفحہ247، عبد اللّٰہ بن عثمان، دارالفکر بیروت 2001ء)

مخالف بھی حضرت ابوبکرؓ کی نیکی اور اخلاق فاضلہ کے قائل تھے

چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ابوبکرؓ جیسا انسان جس کا سارا مکہ ممنونِ احسان تھا۔ وہ جو کچھ کماتے تھے غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کر دیتے تھے۔ آپؓ ایک دفعہ مکہ کو چھوڑ کر جا رہے تھے کہ ایک رئیس آپؓ سے راستہ میں ملا اور اس نے پوچھا ابوبکر تم کہاں جا رہے ہو؟ آپؓ نے فرمایا اس شہر میں اب میرے لئے امن نہیں ہے میں اب کہیں اَور جا رہا ہوں۔ اس رئیس نے کہا تمہارے جیسا نیک آدمی اگر شہر سے نکل گیا تو شہر برباد ہو جائے گا۔ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں تم شہر چھوڑ کر نہ جاؤ۔ آپؓ اُس رئیس کی پناہ میں واپس آ گئے۔ آپؓ جب صبح کو اٹھتے اور قرآن پڑھتے تو عورتیں اور بچے دیوار کے ساتھ کان لگا لگا کر قرآن سنتے کیونکہ آپؓ کی آواز میں بڑی رِقّت، سوز اور درد تھا اور قرآن کریم چونکہ عربی میں تھا ہر عورت، مرد، بچہ اس کے معنی سمجھتا تھا اور سننے والے اس سے متاثر ہوتے تھے۔ جب یہ بات پھیلی تو مکہ میں شور پڑ گیا کہ اس طرح تو سب لوگ بے دین ہو جائیں گے۔ آخر لوگ اُس رئیس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ تم نے اس کو پناہ میں کیوں لے رکھا ہے۔ اس رئیس نے آ کر آپؓ سے کہا کہ آپ اس طرح قرآن نہ پڑھا کریں۔ مکہ کے لوگ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا پھر اپنی پناہ تم واپس لے لو میں تو اس سے باز نہیں آ سکتا۔ چنانچہ اس رئیس نے اپنی پناہ واپس لے لی۔ یہ آپؓ کے تقویٰ اور طہارت کا کتنا زبردست ثبوت ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ لوگ شدید دشمن تھے اور آپ کو گالیاں بھی دیا کرتے تھے لیکن ابوبکرؓ کی پاکیزگی کے وہ اتنے قائل تھے کہ اس رئیس نے کہا آپ کے نکل جانے سے شہر برباد ہو جائے گا۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد10 صفحہ327)

امامتِ نماز کے بارے میں

آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں جن چند احباب کو مسجد نبوی میں نماز پڑھانے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں حضرت ابوبکرؓ بھی ہیں اور حضرت ابوبکرؓ کی ایک خصوصی سعادت یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام میں تو بالخصوص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق نمازیں پڑھانے کی سعادت میسر آئی۔ اس بارے میں متفرق روایات ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ جن میں ابوبکر ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے علاوہ کوئی اَور ان کی امامت کروائے۔

(سنن الترمذی کتاب المناقب باب مناقب ابی بکرؓ حدیث نمبر 3673)

اسود بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھے کہ اتنے میں ہم نے نماز پر باقاعدگی اور اس کی عظمت کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری سے بیمار ہوئے جس میں آپؐ فوت ہو گئے تھے تو نماز کا وقت ہوا اور اذان دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو آپؐ سے عرض کیا گیا کہ ابوبکر رقیق القلب ہیں۔ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو وہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر وہی عرض کیا گیا کہ رقیق القلب ہیں تو آپؐ نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا اور کہا

تم یوسف والیاں ہوں۔ یعنی اس طرح کی باتیں کر رہی ہو۔
ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

تب حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھانے کے لیے نکلے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپؐ کو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دیا جا رہا تھا۔ وہ کہتی ہیں مجھے یہ ایسا ہی یاد ہے گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ آپؐ کے پاؤں بیماری کی وجہ سے زمین پر لکیریں ڈال رہے تھے یعنی صحیح طرح چل نہیں سکتے تھے۔ پاؤں اٹھا نہیں سکتے تھے تو پاؤں زمین میں گھسٹ رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جب آپ کو اس طرح آتے ہوئے دیکھا تو چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارةً فرمایا کہ اپنی جگہ پر ہی رہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لایا گیا یہاں تک کہ آپؐ حضرت ابوبکرؓ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ اعمش سے کہا گیا اور کیا نبیؐ نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکرؓ آپ کی نماز کی اقتدا میں پڑھتے تھے اور لوگ حضرت ابوبکرؓ کی نماز کی اقتدا میں پڑھتے تھے توانہوں نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ کے بائیں طرف بیٹھے اور حضرت ابوبکرؓ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔

(صحیح بخاری کتاب الاذان باب حد المریض ان یشھد الجماعۃ حدیث نمبر664)

حضرت انس بن مالک انصاریؓ نے، یہ راوی کہتے ہیں کہ، مجھے بتایا۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی اور خدمت کی اور آپ کی صحبت میں رہے۔ پھر بتایا کہ ابوبکر اُن لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری میں جس میں آپؐ کی وفات ہو گئی یہاں تک کہ جب پیر کا دن ہوا اور وہ نماز میں صفوں میں تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرے کا پردہ اٹھایا۔ آپؐ ہمیں دیکھ رہے تھے اور آپؐ کھڑے ہوئے تھے۔ گویا کہ آپؐ کا چہرۂ مبارک قرآنِ مجید کا ورق تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر تبسم فرمایا اور ہمیں خیال ہوا کہ ہم نبیؐ کو دیکھنے کی وجہ سے خوشی سے آزمائش میں پڑ گئے ہیں۔ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی ایڑھیوں کے بل پیچھے ہٹے تا وہ صف میں مل جائیں اور وہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارةً فرمایا کہ اپنی نماز پوری کرو اور پردہ ڈال دیا اور آپؐ اسی دن فوت ہو گئے۔

(صحیح بخاری کتاب الاذان باب اھل العلم والفضل احق بالامامۃ حدیث نمبر680)

ایک روایت میں ہے کہ انہی دنوں میں ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے نماز پڑھائی تھی۔ اس کی تفصیل یوں ملتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زَمْعَہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی اور مَیں مسلمانوں کی ایک جماعت میں آپؐ کی خدمت میں موجود تھا۔ حضرت بلالؓ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ حضرت عبداللہ بن زمعہؓ باہر نکلے تو دیکھا حضرت عمرؓ لوگوں میں تھے اور حضرت ابوبکرؓ موجود نہ تھے۔ کہتے ہیں مَیں نے کہا کہ اے عمرؓ! کھڑے ہو جائیں اور لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ وہ آگے بڑھے اور اللّٰہ اکبر کہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی، (حضرت عمرؓ کی آواز، بلند آواز ہوتی تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ اس کا انکار کرتا ہے اور مسلمان بھی۔ اللہ اس کا انکار کرتا ہے اور مسلمان بھی۔ آپ نے حضرت ابوبکرؓ کو بلا بھیجا۔ وہ آئے اور بعد اس کے کہ حضرت عمرؓ نماز پڑھا چکے تھے پھر انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ یہ بھی ایک روایت ہے۔

ایک اَور روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کی آواز سنی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپؐ نے اپنا سر مبارک اپنے حجرہ سے بلند کر کے دیکھا۔ پھر فرمایا: نہیں۔ نہیں۔ نہیں۔

چاہیے کہ ابن ابی قُحافہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

آپؐ نے یہ ناراضگی سے فرمایا۔

(سنن ابو داؤد کتاب السنۃ باب فی استخلاف ابی بکرؓ، حدیث نمبر 4660-4661)

اس روایت کی مزید تفصیل مسند احمد میں یہ ملتی ہے کہ جب حضرت عمرؓ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن زَمْعَہؓ سے جنہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا تھا کہ آپ نماز پڑھائیں کہا کہ مَیں نے تو سمجھا تھا کہ تمہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے نماز پڑھانے کا کہا جائے وگرنہ مَیں کبھی بھی نماز نہ پڑھاتا۔ تو اس پر انہوں نے، عبداللہ بن زمعہؓ نے کہا کہ نہیں۔ مَیں نے جب دیکھا کہ حضرت ابوبکرؓ نظر نہیں آ رہے تو خود ہی یہ سوچا کہ اس کے بعد آپ ہی نماز پڑھانے کے اہل ہیں۔ اس لیے میں نے خود آپؓ کی خدمت میں نماز پڑھانے کی درخواست کی تھی۔ مجھے براہ راست نہیں کہا گیا تھا۔ یہ مسند کی روایت ہے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد6 صفحہ412-413 حدیث عبداللہ بن زمعۃ حدیث نمبر 19113 عالم الکتب بیروت 1998ء)

آپؓ کی شفقتِ اولاد

کے بارے میں لکھنے والے لکھتے ہیں، ایک مصنف نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کو اپنی اولاد سے بہت محبت تھی۔ اپنے قول و عمل سے وہ اکثر اس بات کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔ بڑے صاحبزادے حضرت عبدالرحمٰن الگ مکان میں رہتے تھے لیکن ان کے گھر کا خرچ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ کی بڑی صاحبزادی حضرت اسماءؓ کی شادی حضرت زبیر بن عوامؓ سے ہوئی تھی۔ وہ شروع شروع میں بہت تنگدست تھے۔ گھر میں کوئی خادم یا خادمہ رکھنے کی مقدرت نہ تھی اس لیے حضرت اسماءؓ کو بہت کام کرنا پڑتا۔ وہ آٹا گوندھتی تھیں۔ کھانا پکاتی تھیں۔ پانی بھرتی تھیں۔ ڈول سیتی تھیں اور کافی فاصلے سے کھجور کی گٹھلیاں سر پر لاد کر لاتی تھیں یہاں تک کہ گھوڑے کو چارہ بھی کھلاتی تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو جب ان حالات کا علم ہوا تو انہوں نے ایک خادم بھیجا جو گھوڑے کو چارہ کھلاتا اور اس کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ حضرت اسماءؓ کہتی ہیں کہ خادم بھیج کر گویا ابا جان نے مجھے آزاد کر دیا۔

(صحیح البخاری کتاب النکاح، باب الغیرۃ حدیث نمبر 5224)

ایک اَور واقعہ لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ کو اپنی بیوی عاتکہ سے محبت تھی۔ اس کی وجہ سے انہوں نے جہاد پر جانا چھوڑ دیا تھا۔ حضرت ابوبکرؓ یہ برداشت نہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ کو حکم دیا کہ تم نے بیوی کی وجہ سے جہاد پر جانا چھوڑ دیا ہے تو اسے طلاق دے دو۔ تو انہوں نے اس حکم کی تعمیل تو کر دی لیکن عاتکہ کے فراق میں بڑے پُردرد اشعار کہے۔ حضرت ابوبکرؓ کے کانوں تک یہ اشعار پہنچے تو ان کا دل پسیج گیا اور انہوں نے حضرت عبداللہؓ کو رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔

(سیرۃ خلیفۃ الرسول ﷺ سیدنا حضرۃ ابو بکر صدیقؓ از طالب ہاشمی صفحہ349 تا351،حسنات اکیڈمی لاہور)

حضرت بَراءؓ نے بیان کیا کہ میں حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ ان کے گھر والوں کے پاس اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ ان کی بیٹی حضرت عائشہؓ لیٹی ہوئی ہیں۔ انہیں بخار ہو گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ انہوں نے یعنی حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عائشہؓ کے رخسار پر بوسہ دیا اور ان کی طبیعت پوچھی کہ اے میری بیٹی! تم کیسی ہو؟

(صحیح بخاری کتاب مناقب الانصار باب ھجرۃ النبیؐ واصحابہ حدیث نمبر 3918)

یہ ذکر ان شاء اللّٰہ آئندہ بھی کچھ بیان ہوگا۔

(الفضل انٹرنیشنل 2؍دسمبر 2022ء صفحہ 5 تا 9)

پچھلا پڑھیں

تاریخ ساز پہلا جلسہ سالانہ لگزمبرگ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 دسمبر 2022