• 18 اپریل, 2024

تماشق اور ہاوٴسا احمدی قبائل کی ایمان افروز داستانیں (قسط اول)

تماشق اور ہاوٴسا احمدی قبائل کی ایمان افروز داستانیں
قسط اول

صحرائے اعظم کے دور افتادہ ملک نائیجر (NIGER) کے دارلحکومت نیامی (NIAMEY) سے دو شاہراہیں برکینا فاسو (BURKINA FASO) بارڈر کی طرف بڑھتی ہیں۔ ایک سڑک شہر کے مشرقی حصے سے اور دوسری جنوبی طرف سے مگرشہر سے نکلنے کے چند کلومیٹر بعد ہی یہ دونوں سڑکیں برکینا فاسو بارڈر کی طرف مڑجاتی ہیں۔ شروع میں یہ راستے کچھ فاصلہ تک متوازی چلتے ہیں مگر اس کے بعد ان کادرمیانی فاصلہ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور یوں برکینا بارڈر تک پہنچتے پہنچتےان کے درمیان 235کلو میٹر کا فاصلہ حائل ہو جاتا ہے۔ مشرقی حصے سے نکلنے والی سڑک نائیجر کے سرحدی شہرتوروڈی (TORODI) سے گزرتے ہوئےبارڈر پھلانگ کر برکیانا فاسو کے سرحدی شہر فادا (FADA) پہنچتی ہے اور پھر آگے دارالحکومت واگادوگو (OUAGADOUGOU) میں داخل ہو جاتی ہے جبکہ جنوبی طرف سے نکلنے والی سڑک نائیجر کے سرحدی شہرتیرا (TERA) سے گزر کر برکینافاسو کے شہر ڈوری (DORI) پہنچتی ہے اور پھر آگے واگا دوگو کی طرف بڑھ جاتی ہے۔

موٴرخہ 20؍جنوری 2023ء کے خطبہ میں پیارے آقا نے برکینا فاسو کے ڈوری ریجن کے گاؤں مہدی آباد میں شہید کئے جانے والے 9 عظیم مجاہدین کی داستان جماعت کے سامنے رکھی جنہیں ایک ایک کرکے مقتل میں بلایا گیا۔ امام مہدی ؑ کے انکار پر جان بخشی کا کہا گیا مگر یہ پروانے، ایک سے بڑھ کر ایک آگے بڑھتے گئے اور ایمان کو سینہ سے لگائے گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں اپنے مولاکے حضور حاضری لگاتے چلے گئے۔ سلام تم پر اےزید بن دثنہؓ! اور عبداللطیف ؓکے وارثو! کہ تم نے اپنے خون سے ارض بلال ؓپر صداقت مسیح موعود علیہ السلام کی مہر لگا دی۔ خطبہ ختم ہوا تو میرے ماضی کی یادیں پرواز کے پر کھولے افریقہ کے صحراؤں میں جا پہنچیں جہاں کچھ عرصہ مجھے بھی ان عظیم بستیوں کے آس پاس خیمہ زن رہنے کا موقعہ ملا تھا۔

اگر ہم نیامی سے سفر کا آغاز کرنا چاہیں تو بلند و بالا میناروں والی سفید رنگ کی وسیع و عریض جامعہ مسجد، مدرسہ، مشن ہاؤس اور پرائمری سکول کا پانچ ایکڑ پر پھیلا خوبصورت احمدیہ کمپلیکس آپ کو الوداع کرنے کے لئے دعائیہ کلمات کے ساتھ موجود نظر آئے گا۔ اور اگر ہم تیرا کی طرف سے برکینا کی طرف آگے بڑھیں گے تو تیرا کے خارجی دروازہ پر گلابی رنگ کے خوبصورت میناروں اور گولڈن رنگ کے گنبد والی مسجد اور بارڈر گزرتے ہی ڈوری کے شہر کے بالکل داخلی دروازہ پر پیاری سی مسجد مشن ہاؤس اور احمدیہ اسکول کا وسیع و عریض کمپلیکس ہمارا منتظر نظر آئے گا۔ اسی طرح سے اگر ہم توروڈی کی طرف سے برکینا سرحد کی طرف آئیں تو بارڈر کے ایک طرف توروڈی کی خوبصورت مسجد الوداعی دعا کرواتی نظر آئے گی تو بارڈر گزرتے ہی فادا میں موجود احمدیہ مسجد بازو وا کیے سمیٹنے کے لئے بے تاب نظر آئے گی۔

اگر ہم کچھ مزید پیچھے جا کر اپنے سفر کا آغاز ٹوگو سے کریں اور بینن کی طرف بڑھیں اور پھر بینن سے سرحد پار کرکے نائیجر آئیں اور نائیجر سے برکینا فاسو میں داخل ہوں تو ان ہزاروں کلو میٹر کے سفر میں آپ کو سڑک کے دائیں بائیں سینکڑوں احمدیہ بستیاں پھیلی ہوئی نظر آئیں گی۔ ٹوگو سے دوسری طرف چلے جائیں تو غانا سے لے کر سیرالیون تک اور پھر برکینا سے ایک طرف مالی اور دوسری طرف آئیوری کوسٹ تک اور بینن سے نائیجیریا تک شاہراوں کے چاروں طرف پھیلی یہ احمدیہ بستیوں کی خوبصورت کہکشاں اپنے دامن میں ہزاروں لاکھوں ایمان افروز داستانوں کو ڈھانپے ہوئے ہے۔یہ بستیاں صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندہ نشانیاں اور جماعتی قربانیوں کی روشن مثالیں ہیں۔

برکینا فاسو ڈوری ریجن کے مہدی آباد والے احمدی گاؤں کے دوسری طرف نائیجر میں (BOUPO) بوپو کا گاؤں واقع ہے۔

1997ءتا 1999ء کے سالوں میں مبلغ سلسلہ مکرم ناصر احمد سدھو صاحب کی تبلیغی کاوشوں سے ڈوری ریجن کے سینکڑوں دیہات جماعت میں شامل ہو چکے تھے۔انہی دنوں اپریل 1999ءمیں مکرم ناصر احمد صاحب ایک تبلیغی وفد کے ساتھ نائیجرکے علاقے میں بھی داخل ہو ئے اور تبلیغی نشستوں کا آغاز کر دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مکرم ناصر احمد سدھو صاحب کی تبلیغ کے نتیجے میں Boupo گاؤں کی اکثریت کو قبول احمدیت کی سعادت حاصل ہوئی۔ اوریوں Boupo گاوٴں کو نائیجر کی پہلی جماعت بننے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔چونکہ یہ علاقہ زیادہ تر وہابی لوگوں پر مشتمل ہے اس لئے قبول احمدیت کے ساتھ ہی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ احمدیوں کو ان کی آبائی مسجد سے نکال دیا گیا۔احباب جماعت نے اپنے گھروں کے پاس ہی کھلی زمین پرچھوٹے چھوٹے روڑے لگا کر ایک جگہ کی مسجد کی حیثیت سے نشاندہی کردی اورنماز پڑھنا شروع کردی۔ اب اس فقرے میں بیان چھوٹی سی بات کا مزہ لینے کے لئے نائیجرکے صحراکی گرمیوں کا درجہ حرارت جانیں، پھر کھلا آسمان اور ظہر و عصر کی باجماعت نماز کو تصور میں لائیں پھر تپتی ریت پر سجدے کے لئے خدا کے حضور جھکی ہوئی جبین کا سوچیں تو بلا توقف آپ کے دل سے بھی اپنےان بھائیوں کے لئے جگر مراد آبادی کی آواز میں یہ الفاظ نکلیں گے۔

؎ جو آساں ہوتے ہیں، وہ جلوے جو ارزاں ہوتے ہیں
ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں، خاموش بھی طوفان ہوتے ہیں
کتنے وہ مبارک قطرے ہیں جو صرف بہاراں ہوتے ہیں
جب وقت شہادت آتا ہے دل سینوں میں رقصاں ہوتے ہیں

آہستہ آہستہ بوپو کے خدام نے اپنی مددآپ کے تحت مٹی گارے سے چھوٹی سی کچی مسجد بنا لی 2006ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بوپو گاؤں میں پکی مسجد بنانے کا ارشاد فرمایا۔ اکتوبر 2006ء میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ہی تھا کہ مخالفین نے حسد اور مخالفت کی آگ کی وجہ سے عدالت میں جھوٹا مقدمہ کر دیا کہ جس جگہ پر مسجد بنائی جا رہی ہے یہ ان کی جگہ ہے۔لوئر عدالت سے جماعت کے حق میں فیصلہ ہونے پر یہ لوگ ہائی کورٹ چلے گئے اوریوں سال ہا سال کی مقدمہ بازی کے بعد آخر دسمبر 2015ء میں سپریم کورٹ نے جماعت کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مقدمے کو خارج کر دیا۔ اس مقدمے کے دوران ایک دفعہ مخالفین نے مقامی پولیس میں مقدمہ درج کروادیا کہ احمدی ہماری زمین پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں پولیس نے بوپو کی ساری جماعت کو گرفتار کرلیا اور کئی دن بعد رہائی ہوئی۔ پولیس، جیل، عدالتیں، سب اس غریب جماعت نے برداشت کیں لیکن صدق سے ایمان پر ڈٹے رہے۔

آج مہدی آباد برکینا فاسو کے شہداء نے ایک بار پھر سے، نہ صرف حضرت زید بن دثنہ ؓکی یاد تازہ کردی بلکہ اپنے خون سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فرمان پر بھی مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ ’’صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا‘‘۔ شہدا کا خون نہ صرف زندہ و جاوید رہتا ہے بلکہ زندگی بخش ہوتا ہے۔

انڈونیشیا کے مظلوم احمدی شہداء اور نائیجر

مہدی آباد کے شہداء کی خبر سے مجھے انڈونیشیا کے مظلوم شہداء اور ان کے خون کی برکت سے نائیجر پہ نازل ہونے والی برکت یاد آگئی ہے۔ یہ2010ء کی بات ہے انڈونیشیا میں نہتے احمدی احباب کو غیراحمدی مولویوں کی اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں بے دردی سے ڈنڈے مار مار کر شہید کر دیا گیاتھا اور ان کی شہادت کی ویڈیو کو فخریہ کارنامے کے طور پر سوشل میڈیا پر نشر کردیا گیا تھا۔ خاکسار نے اس اندوہناک نظارےکی ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرلی کیونکہ مجھ سے شام کو کچھ علماء کا وفد ملنے آرہا تھا اور میں ان کو دکھانا چاہتا تھا کہ مَااَنَا عَلَیْہِ وَ اَصْحَابِیْ کی سچی تفسیر منہ زبانی دعووٴں سے نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ توہر بلال، امیہ بن خلف کے پتھروں اور ابوجہل کے نیزوں کے ظلم سہہ کر کرتا ہے۔ وفد میں دیبےسو گاؤں کے امام معلم شافعی احمدبھی شامل تھےوہ تو اس ظالمانہ فلم کی چند سیکنڈ کی جھلک دیکھ کر ہی جس میں حملہ آور احمدی خادم کو ڈنڈوں سے مار بھی رہے تھے اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ بڑے زور سے دہرانے لگ گئے، اَوَ لَیْسَ ھٰذَا فِعْلُ الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارَیٰ اَوَ لَیْسَ ھٰذَا فِعْلُ الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارَیٰ۔ یہیں پر انہوں نے نہ صرف اپنی بیعت کا اعلان کیا بلکہ بعد میں ان کی تبلیغ سے اللہ کے فضل سے ان کے سارے گاؤں نے بھی بیعت کر لی۔

ہم تو صبح سے آپ کا انتظار کر رہے تھے

یہ محض خدا کا احسان ہے کہ خاکسار کو نہ صرف ٹوگو بینن برکینا فاسو بلکہ نائیجر کے نائیجیریا اور برکینا بار ڈر کے ساتھ ساتھ پھیلے تمام علاقوں میں خدمت کی توفیق ملی۔ 16؍فروری 2011ء کی شام اللہ تعالیٰ کی تائید کا ایک عجیب نظارہ رونما ہوا۔

خاکسار Malbaza کے علاقے میں تبلیغی مہم کے لئے نکلا ہوا تھا۔ سفر کرتے کرتے شام کے وقت ہم ایک گاؤں میں داخل ہوئے اور سیدھے مسجد پہنچے۔ موذن اذان دے رہا تھا اور امام صاحب اور دوسرے بہت سارے لوگ مسجد کے باہر کھڑے تھے۔ سلام دعا کے بعد مکرم امام صاحب نے جو پہلا فقرہ کہا وہ یہ تھا کہ میں تو صبح سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ میں اور میرے قافلے کے تمام لوگ بہت حیران ہوئے کہ ان کو کیسے پتہ کہ ہم لوگ کون ہیں؟ اورکب اس گاؤں میں آنے والے تھے؟ خیر نمازکا وقت تھا تفصیل نہیں پوچھی۔ عشاء کے بعد خاکسار نے پہلے جماعت کا تعارف کروایا اور اس کے بعد tv کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء احمدیت کی فوٹو اور پھر پوری دنیا میں جماعت کی مساجد جلسے اور تبلیغی پروگراموں کی فوٹو پر مبنی ایک ویڈیو دکھائی۔ اس سارے پروگرام کے بعد اعلان کیا کہ کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے تو پوچھے۔ لوگوں نے باری باری بہت سے سوال پوچھے مگر امام صاحب سر جھکا کر چپ کرکے بیٹھے رہے۔ خاکسار کے دل میں ایک وسوسہ آیا اس لئے میں نے ان سے سیدھا سوال کیا کہ کیوں امام صاحب آپ نے کوئی سوال نہیں پوچھا؟ اس پر امام صاحب سورۃ فاتحہ اور درود کی تلاوت کے بعد بڑے جوشیلے انداز میں فرمانے لگے کہ مجھے تو اللہ نے کل رات ہی بتا دیاہے کہ امام مہدی علیہ السلام آچکے ہیں اور میں تو کل رات ان کی بیعت بھی کر چکا اور اس نے مجھے یہ بھی بتا دیا تھا کہ تم ہمارے گاؤں آنے والے ہو۔ اس لئے میں تو صبح سے آپ لوگوں کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی خواب سنائی جس میں انہوں نے دیکھا کہ احمدی وفدگاؤں میں آیا ہے اور عین اس جگہ جہاں اس وقت ہم تبلیغی پروگرام کر رہے تھے لوگوں کو اکٹھا کرکے بتا رہا ہےکہ امام مہدی علیہ السلام آچکے ہیں ان کی جماعت میں شامل ہو کر جہاد کے لئے تیا ہو جاؤ۔پھر سب سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا تم سب امام مہدی علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کے لئے تیا ر ہو؟پورا گاؤں زور زور سے جواب دے رہا کہ ہم سب تیار ہیں اور اس حالت میں میری آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے حاضرین کے سامنے جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کیا اور پھر گاؤں والوں سے پوچھا کہ آپ کا کیا ارادہ ہے؟ سب نے بیک زبان اعلان کیا کہ ہم سب بھی امام مہدی علیہ السلام کی جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کے بعد مکرم امام صاحب نے بڑی التجا سے پوچھا کہ بتائیں! اب ہمیں کیا کیا کرنا ہے؟ اور فرمانے لگے کہ جلد ہم دو نوجوان آپ کے پاس بھیج دیتے ہیں آپ ان کی ٹریننگ کر دیں تا کہ ہم اسی طرح سے جماعت کے پیچھے چل سکیں۔

اللہ نے میری دعا قبول کی ہے
کہ آپ ہمارے گاؤں آئے

18؍ مارچ 2011ء کی بات ہے خاکسار تبلیغی مہم کے دوران ملبازا (malbaza) کے علاقے میں ایک گاؤں گڈاں مسالاچی (gidan masalachi) پہنچا۔ گاؤں کے چیف نے بتایا کہ امام صاحب تو کہیں گئے ہوئے ہیں تاہم آپ کو تبلیغ کی اجازت ہے۔ تبلیغی پروگرام کے بعد گاؤں کے لوگوں نے کہا کہ وہ کوئی جواب اپنے امام صاحب سے مشورہ کرکے بتائیں گے آپ ایک ہفتے بعد دوبارہ آئیں۔ایک ہفتے بعدجب ہم لوگ دوبارہ اس گاؤں گئے تو امام صاحب موجود تھے اور ہمیں دیکھ کر ان کی خوشی دیدنی تھی ایسے ملے کہ لگتا تھا جیسے برسوں کے بچھڑے دوست مل رہے ہوں۔میں کافی حیران تھا اس لئے وجہ پوچھ لی۔ جس پر انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک لمباعرصہ آبی جان آئیوری کوسٹ میں گزارا ہے وہیں پر میں نے بیعت کی اور مستقل جماعت کا ممبر رہا پھر جب میں یہاں آگیا تو یہاں کوئی جماعت کو جانتا نہ تھا اس لئے میں چپ رہا مگر اپنے اللہ سے ہر روز دعا کرتا رہا اور یہ میری دعاؤں کی قبولیت ہے کہ آپ خود اس دوردراز علاقے میں جماعت کا پیغام لے کر پہنچ گئے ہیں۔ جس دن سے آپ گئے ہیں میں تواس دن سے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی برکات اور نظام سلسلہ کے بارے میں بتا رہا ہوں کیسے جلسے ہوتے ہیں؟ کیسے تربیتی پروگرام ہوتے ہیں؟اور اس طرح سے ہم سب آپ کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔ بیعت فارم لائیں یہ سب بیعت کے لئے تیارہیں۔ان کو بیعت فارم دے دیے گئے ہیں جسے انہوں نے پُر کردیا۔ اب یہ گاوٴں اللہ کے فضل سے جماعت کا حصہ ہے اور اخلاص میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔مالی نظام میں با قاعدگی سے حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح سے جلسہ سالانہ اجتماعات اور دوسری تمام تقریبات میں باقاعدگی سے حاضر ہوتے ہیں۔

پہلے ہمارا چندہ وصول کریں

Malbaza کے علاقے سے ہی ایک اور گاؤں gidan barauo کے امام صاحب کی طرف سے پیغا م آیا کہ براہ مہربانی آپ ہمارے گاؤں بھی پیغام لے کر آئیں۔ چنانچہ 15؍اکتوبر 2011ء کو خاکسار اپنے وفد سمیت اس گاؤں پہنچاتو دیکھا کہ امام صاحب ایک بہت بڑی تعداد کے ساتھ پہلے سے ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔ خاکسار نے حسب معمول نماز مغرب کے بعد جماعت کا تفصیلی تعارف کروایا اور نماز مغرب کے بعد ویڈیو کے ذریعہ سے امام دوراں مسیح پاک علیہ السلام اور خلفاء احمدیت کی فوٹو مبارک اوران کا مختصر تعارف اور پھر دنیا بھرمیں پھیلی ہوئی جماعت کے تبلیغی اور تربیتی پروگرام، جلسہ جات، مساجد، خدمت قرآن اور اس تناظرمیں بیت المال کے قیام، مالی قربانی کی اہمیت اور اس کے ثمرات کو بھی بیان کیا۔ خاکسار کے بیان ختم کرنے پراللہ کی عجیب شان اور ایک عجیب واقعہ ہوا جس سے پہلے تو خاکسار بہت پریشان ہو گیا۔ یونہی خاکسار نے بیان ختم کرکے اعلان کیا کہ کوئی سوال ہو تو پوچھیں امام صاحب اٹھے اور سارے لوگوں کو مسجد سےلے کر باہر چلے گئے۔ ساری مسجد خالی ہو گئی اور صرف خاکسار کے وفد کے لوگ رہ گئے۔ خیر خاکسار کو جتنی دعائیں یاد تھیں ان کو دہراتا رہا۔ کچھ دیر بعد مکرم امام صاحب سارے لوگوں کے ساتھ دوبارہ داخل ہوئے اور آتے ہی شکریہ ادا کرنے کے بعد معذرت کرکے جانے کی وجہ بتانے لگے کہ دراصل جب میں نے 1400 سو سال بعد امام مہدی علیہ السلام کے ذریعہ ایک دفعہ پھر سے بیت المال کے آغاز کے بارے میں سنا تو میرے دل میں تحریک اٹھی کہ ہمیں فوری طور پراس میں شامل ہونا چاہئے چنانچہ ہم نے یہ8000 فرانک رقم اکھٹی کی ہے اسے ہماری طرف سے بیت المال میں قبول فرمائیں اور ہم سب بیعت کر کے امام مہدی علیہ السلا م کی جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ یوں اس سارے گاؤں نے بیعت کی سعادت حاصل کی اور اب اللہ کے فضل سے اپنے اخلاص میں ترقی کررہاہے۔

حاسد وہابی مولویوں کی شرارت اور خدائی تائید

کونی ریجن میں جہاں اللہ تعالیٰ جماعت کو ترقیات سے نواز رہا تھا وہیں وہابی مولوی حسد میں جلنا شروع ہو گئے تھے۔ یہ27؍ مئی2011ء کی بات ہےجماعت کے صدران اور امام حضرات کی ریجنل میٹنگ تھی جس میں آئے ہوئے gidan kibiya جماعت کے احمدی امام نے بتایا کہ وہابی مولویوں کا وفد ان کے گاؤں پہنچا اور ان سے کہا کہ ہم یہاں کئی بار تبلیغ کے لئے آئے تھے اور ہم نے کہا تھا کہ وہابی ہو جاؤ ہم بہت بڑی مسجد بنا کر دیں گے مگر تم نے انکار کر دیا اور اب احمدی آئے اور تم ان کی جماعت میں شامل ہو گئے ہو۔ انہوں نے تو مسجد بھی بنا کر نہیں دی۔ ہم تمہارے پاس دوبارہ آئے ہیں کہ احمدیت چھوڑ دو ہم فوری بڑی مسجد بناکر دیں گے اور ساتھ امام صاحب کی ماہانہ تنخواہ بھی لگا دیں گے۔ جس پر امام سمیت تمام جماعت نے یک زبان ہوکر ان سے کہا کہ جماعت احمدیہ نے ہمیں نفرتوں کی بجائے محبت سکھائی ہے اور لینے کی بجائے بیت المال کا راستہ دکھایا ہے آپ کا ہم پر یہی بڑا احسان ہو گا کہ آپ ہمیں گمراہ کرنے کے لئے دوبارہ تشریف نہ لائیں۔ اس احمدی گاؤں سے نکل کر یہ وہابی وفدقریبی گاؤں debeso گئے اور اپنی تبلیغ میں یہ بتایا کہ کہیں احمدی نہ ہو جا نا وہ آج کل پیسے تقسیم کرکے لوگوں کو احمدی بنا رہے ہیں۔ اس گاؤں کےزیر تبلیغ امام دوران تقریر ہی کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ صاف جھوٹ ہے میں گواہ ہوں کہ یہ صاف جھوٹ ہے ان کا تو ہر فرد بیت المال کے لئے قربانی کرتا ہے جس پر مولوی صاحب غصے سے ناراض ہو کر بغیر تقریر مکمل کئے واپس برنی کونی لوٹ گئے۔

ایک سادہ لوح احمدی کی
خواب کے ذریعہ راہنمائی

مکرم محمد ثالث صاحب برنی کونی شہرکے ایک سادہ سے نوجوان تھے اور ایک بینک میں صفائی ستھرائی کا کام کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھنا شروع کیں پھر درس سننا اور تربیتی پروگراموں میں شامل ہونا شروع کیا اور یوں انہوں نے بیعت کر لی۔ نہ انہوں نے کوئی زیادہ سوال کیے اور نہ جماعت کے بارے میں کوئی زیادہ پڑھا۔ بس جماعت کے نظام اور تربیتی پروگراموں کی وجہ سے بیعت کرلی۔

ایک دن ان کے بینک کے افسران اور ان کے ساتھیوں نے انہیں گھیر لیا اور تنگ کرنے لگ گئے کہ جماعت نے آپ کو کوئی بڑی رقم دی ہے جس کی وجہ سے آپ احمدی ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے بڑا دکھ ہوا کہ یہ مجھ پر کیوں الزام لگا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس رات میں نے جماعت کی سچائی کے حوالے سے اپنے اللہ سے بہت دعا کی کہ اللہ میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں تو خود میری رہنمائی فرما۔ بظاہر تو یہ جماعت اسلام کی خدمت میں سب سے آگے ہے مگر اندر کی بات تو مجھے سمجھا۔ کہتے ہیں اس رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا اجتماع ہے۔ حد نظر لوگ ہی لوگ ہیں اور سب نے سفید کپڑے پہن رکھے ہیں اور درمیان میں ایک بلند سٹیج ہے جس پر صرف حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کھڑے ہیں اور آپ نے بھی سفید کپڑے زیب تن فرمائے ہوئے ہیں اور آپ اونچی آواز میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دہرا رہے ہیں اور سارا مجمع بھی آپ کے ساتھ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دہرا رہا ہے اور یہ ایک عجیب سرور کی سی کیفیت ہے وہ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں میری آنکھ کھل گئی اور میری زبان پر بھی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جاری تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پر میرے دل میں یہ بات میخ کی طرح گھڑ گئی کہ اس دور میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کاحفاظت کا ذمہ اللہ نے جماعت احمدیہ کے خلیفہ کو دیا ہواہے اس لئے میرا جماعت میں شامل ہونے کا فیصلہ درست تھا۔ یہ سچی اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی وارث جماعت ہے۔

خلیفہٴ وقت کو خط کی برکت کا میں گواہ ہوں

خاکسار نے ایک دن، جمعہ کی نماز کے بعد تمام ممبران جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ آپ کو حضور اقدس کی خدمت میں دعائیہ خطوط لکھنے چاہئیں۔ اس پر ہمارے ایک احمدی دوست مکرم ابراہیم متراڑے صاحب کھڑے ہو گئے اور انہوں نے سب کے سامنے حلفیہ بیان کیا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ میں مرگی کا مریض تھا میرے پاس علاج کے لئے کوئی پیسہ نہیں تھا۔ میں شہر میں گھوم پھر کر ریڑھی پر اپنی چیزیں بیچتاہوں جہاں دورہ پڑتا گر جاتا۔ بعض لوگ مجھے پاگل سمجھتے۔ اور مجھ سے دور بھا گتے۔ اسی دوران مجھے بیعت کی توفیق ملی اور پھر میں نے اپنے مربی صاحب مکرم شاکر مسلم صاحب کو کہا کہ وہ میری طرف سے حضور انورحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں دعا کا لکھیں اور میری بیماری اور میری مالی حالت کے بارے میں لکھیں کہ میرے پاس تو کھانے کے لئے مشکل سے پیسے ہیں دوائی کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ صرف پیارے آقا کی دعا کا آسرا ہے۔ مربی صاحب نے یہ خط لکھا اور پیارے آقا کی طرف سے جواب آیا اللہ فضل کرے گا۔ آپ سب گواہ اور سارا شہر گواہ ہے کہ اس واقعہ کو کئی سال گزر گئے ہیں میں نے ایک بھی گولی نہیں کھائی اور اللہ کے فضل سے بالکل درست ہوں اس کے بعدسے مجھے آج تک اس بیماری کا کوئی حملہ نہیں ہوا۔ ورنہ کبھی میں یہاں گرا ہوتا تھا اور کبھی وہاں اور یہ صرف اور صرف میرے آقا کی اس غریب کے لئے دعاؤں کا اعجاز ہے۔

بزرگ امام کی فوتگی سے پہلے وصیت کہ امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہے اس کے مبلغین جلد یہاں آنے والے ہیں

مئی 2012ء کی بات ہے، ماداوا (MADOUA) کے علاقے سے دو نوجوانوں کا ایک وفد برنی کونی مشن ہاؤس آیا۔ اور سلام دعا کے بعد اللہ کا بار بار شکر اداکرنا شروع کردیا۔چونکہ وہ بار بار دہرا رہے تھے اس لئے خاکسار نے وجہ پوچھ لی انہوں نے جواباً کہا کہ یہ تین باتوں کا شکر ہے مگر ان کو جاننے کے لئے آپ کو ہمارے گاؤں آنا ہو گا۔ چنانچہ خاکسار 9 رکنی وفد کے ساتھ اس گاؤں پہنچا تو تمام گاؤں والوں نے ہمارا استقبال کیا اور اس کے بعدتمام گاؤں کی طرف سے چیف نے کھڑے ہو کر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد حلفیہ یہ بات بیان کی کہ آج سے 12 سال قبل (یعنی 2000ءمیں) اس گاؤں کے ایک بہت بڑے عالم دین مکرم محمد ابراہیم صاحب نے اپنی وفات سے قبل سب گاؤں والوں کے سامنے اعلان کیا تھا کہ، اللہ نے مجھے آج رات بتایا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو چکا ہے اور عنقریب اس کے اپنے لوگ جو سفید رنگ کی جلد والے ہو نگے بیعت کا پیغام لے کر آپ تک خود پہنچیں گے اور تمہارے افریقی بھائی ان کے ساتھ ہو نگے تم اس کی بیعت ضرور کرنا۔ اس کے بعد چیف نے گاؤں والوں سے پوچھا کیا یہ بات درست ہے سب نے بیک زبان کہا کہ بالکل درست ہے ہم سب اس کے گواہ ہیں۔ اس کے بعد وہ نوجوان جو ہمیں دعوت دینے کے لئے آیا تھا اس نے کھڑے ہو کر حلفیہ کہا کہ جب امام صاحب نے یہ اعلان کیاتھا تو اس کے اگلے دن میں نے خواب دیکھی تھی کہ امام مہدی علیہ السلام کی بیعت کرنے والا میں پہلا شخص ہوں گا اور یہ میرا دوست ادریس دوسرا ہوگا اور یہ بات آج سے 12 سال قبل سے میں نے سب کو بتائی ہوئی تھی جسے سب جانتے ہیں اس لئے میں کونی مشن میں اللہ کا بار بار شکر ادا کررہا تھا کہ اللہ نے مجھے تینوں باتیں دکھا دیں۔

  • امام مہدی علیہ السلام کا ظہور
  • اس کے اپنے سفید جلد والے مبلغ کا تبلیغ کے لئے ہمارے درمیان موجود ہونا
  • اور میرا اپنے گاؤں میں سے سب سے پہلے بیعت کرنا

اس کے بعد خاکسار تمام گاؤں کے ساتھ اس بزرگ عالم دین کی قبر پر گیا اور ہم سب نے ان کیلئے دعا کی۔ 2013ء جلسہ سالانہ کےموقعہ پر جب مکرم طاہر ندیم صاحب لندن سے حضور انور کے نمائندہ کے طور پر حاضر ہوئے تو انہوں نے اس گاؤں کا دورہ بھی کیااور ان بزرگ کی قبر پر جا کر دعا بھی کی اور یہ واقعہ خود ان گائوں والوں سے بھی سنا۔

دشوار گزار پہاڑوں کے پیچھے چھپے ایک اور گاؤں سے صداقت مسیح موعودؑ کی گواہی
ایک بزرگ کی گواہی

14؍دسمبر 2011ء کی بات ہے۔تبلیغی مہم کے دوران ہم گالماں galman کے علاقے میں dullo دلّو گاؤں پہنچے۔ یہ گاؤں پکی سڑک سے 15 کلومیٹر دور دشوار گزار پہاڑوں کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ گاؤں کے امام صاحب سے ہم نے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ہم حضرت امام مہدی علیہ السلام کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ امام صاحب ہمیں جلدی سے بٹھا کر باہر چلے گئے۔ پھر کیا تھا گاؤں میں ایک غیر معمولی بھاگ دوڑ شروع ہو گئی۔ اور جلد ہی کیا بچے اور کیا بوڑھے سب ہی اکھٹے ہو گئے۔ ہمارے لئے بیٹھنے کا بہترین انتظام کیا گیا۔ سب لوگوں کی خوشی دیدنی تھی۔ ہم سب حیران تھے کہ ہم تو یہاں پہلی دفعہ آئے ہیں اور نہ ہی ہم نے ان سے کوئی بات کی ہے مگر یہ لوگ ہمیں ایسے مل رہے ہیں جیسے ہمارا ان سے کوئی پرانا تعلق ہے۔ خیر سب لوگوں کے آنے پر خاکسار نے تبلیغ شروع کی اور اپنے طور پر تفصیل سے جماعت کا پیغا م بیان کیا۔ اس کے بعد خاکسار نے ان سے کہا کہ جو کوئی سوال کرنا چاہتا ہے وہ کر سکتا ہے اس پر امام صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم سب بیعت کرنا چاہتے ہیں خاکسار نے ان سے کہا کہ جلدی نہیں کرنی چاہیے ابھی جیسے خاکسار آپ کے گاؤں آیا ہے، اب آپ ایک وفد بنا کر دو دن کے لئے ہمارے پاس برنی کونی آئیں تاکہ قرآن او رحدیث سے مزید آپ کو تسلی سے جواب سمجھائے جا سکیں اس پر مکرم امام صاحب نے کہا کہ میں تو 10 سال سے آپ کا انتظار کر رہا تھا۔ اور یہ سب گاؤں والے اس پر گواہ ہیں کہ میرے استاد نے اپنی وفات سے قبل مجھے نصیحت کی تھی مجھے اللہ نے بتایا ہے کہ امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ وہ دنیا کے کس حصے میں ہے اگر تم تک اس کی آواز پہنچے تو بلا حیل و حجت اس کی بیعت کرنا۔ اس لئے میں کونی ضرور آؤں گا مگر بیعت کے بعد۔مجھ سے حیل وحجت نہ کروائیں۔اس کے بعد ہمارے لئے کوئی مزید گنجائش نہیں تھی اس لئے ان کو بیعت فار م دے دئیے گئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ یہ گاؤں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو چکا ہے۔مالی نظام کا حصہ بھی بن چکا ہے اور مکرم طاہر ندیم صاحب نمائندہ حضور انور نے 2013ء میں اس گاؤں کا دورہ کیا۔یہ واقعہ خود سنا اور اس گاؤں میں احمدیہ مسجد کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

اخلاص و فدائیت کا عجیب ایمان افروز واقعہ

خاکسار نے موسینکا گاؤں میں تبلیغی پروگرام ختم کیا تو معلم نے یاد دہانی کرائی کہ آپ نے جمعہ جمعی گاؤں میں آج کے دن کا وعدہ کیا تھا۔اور یہ بھی بتایا کہ مونیسکا سے بھی ایک پگڈنڈی جمعہ جمعی گاؤں میں جاتی ہے۔خاکسار نے کہا ٹھیک ہے اللہ کا نام لے کر چلو۔ چنانچہ ہم 7 افراد کایہ قافلہ اس صحرائی پگڈنڈی پر جمعہ جمعی کیلئے روانہ ہو پڑا۔

سب جانتے ہیں کہ نائیجر میں دسمبر اور جنوری میں تیز ہوائیں چلتی ہیں جس میں ریت بہت کچھ چھپا دیتی ہے۔ یہی ہمارے ساتھ ہوااور اندازے سے ہم لوگ آگے بڑھتے رہے۔ادھر شام کے پانچ بج رہے تھے اور ادھر دور دور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہیں مل رہا تھا۔تاہم 5بج کر30منٹ پر خاکسار نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہا اور اتر کر دعا کروائی۔ اس کے بعد ڈرائیور سے کہا اب جو بھی پہلی پگڈنڈی ملے اس پر دائیں چلنا شروع کر دینا۔چنانچہ شام 6بجے ہمیں چرواہوں کی کچھ جھونپڑیاں نظرآئیں۔ اس پر ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا۔جب ہم پاس پہنچے تو کچھ بزرگان نے سلام دعا کی ان میں گاؤں کے امام بھی تھے۔خاکسار نے اپنا تعارف اس طرح کروایا کہ ہم لوگ حضرت امام مہدیؑ کی آمد کا پیغام گاؤں گاؤں پہنچا رہے ہیں۔مونیسکا سے جمعا جمعی جانا چاہتے تھے لیکن یہاں آن پہنچے ہیں۔یہ سن کر وہ بزرگ بغیر کوئی جواب دیئے فوری لوٹ گئے۔اس کے بعد کبھی وہ ایک جھونپڑی میں اور کبھی دوسری جھونپڑی میں داخل ہونے لگے۔ ہم سب حیران ہو کریہ منظر دیکھ رہے تھے کہ امام نے کوئی جواب بھی نہیں دیا اور ادھر اُدھر بھی بھاگ رہے ہیں۔آخر امام صاحب واپس آئے اور بہت التجا سے ذکر کیاکہ آپ لوگ حضرت امام مہدی کی آمد کا پیغام لے کر آئے ہیں اور میرے پاس آپ کو کھلانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے۔یہ 2500فرانک ہم نے جمع کیے ہیں جب آپ شہر جائیں تو میری طرف سے کھانا کھا لیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ نائیجر سے نائیجیریا میں آگئے ہیں۔ اور کافی دور تک آگئے ہیں اب یہ میرا بیٹا آپ کے ساتھ جائے گا۔اور آپ کو راستے تک چھوڑے گا۔ہم نے کہا کہ یہ پھر واپس کیسے آئے گا۔انہوں نے فرمایا کہ یہ آپ کا مسئلہ نہیں یہ آجائے گالیکن آپ پھر دن کے وقت تشریف لائیں اور ہمیں بھی امام مہدیؑ کی جماعت میں شامل کریں۔ چنانچہ ان کا بیٹا ہمارے ساتھ کافی دور بڑی پگڈنڈی تک ہمیں چھوڑنے آیا۔

(باقی بدھ موٴرخہ 8؍فروری کو ان شاءاللّٰہ)

(اصغر علی بھٹی۔ سابق مبلغ بر کینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

ایک تصحیح

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 فروری 2023