• 20 جولائی, 2024

پنڈت لیکھرام کے متعلق آپ ؑ کی جو پیشگوئی تھی

پنڈت لیکھرام کے متعلق آپ ؑ کی جو پیشگوئی تھی
اس کے مطابق وہ کیفر کردار تک پہنچا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
پانچواں واقعہ جو آپؑ نے بتایا وہ لیکھرا م کا واقعہ ہے۔ اس کے متعلق پیشگوئی تھی اس کے مطابق وہ کیفر کردار تک پہنچا۔ جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی انتہا ءکی ہوئی تھی۔ آخر اللہ تعالیٰ کی پکڑ نے، اپنے پیارے نبی کی غیرت نے اس کو پکڑا اور اس کی تمام تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بتائی کہ مَیں اس کو پکڑوں گا اور کس طرح اس کا انجام ہو گا۔ آپ نے اس بارے میں پیشگوئی فرمائی اور باوجود تمام تر حفاظتی تدابیر کے کوئی اس کو بچا نہ سکا۔ یہ بھی ایک لمبی کہانی ہے۔ بہرحال اس کے قتل کے بعد اس پیشگوئی کی بنا پر جو حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کے انجام کی کی تھی حکومت کے کارندوں نے بھی کوششیں کیں اور لوگوں نے بڑا شور مچایا اور آپ پر الزام لگایا گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کی ہر لحاظ سے یہاں بھی بریت فرمائی۔ آپ کے گھر کی تلاشی بھی لی گئی لیکن پولیس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ اور اس قتل کے بعد تو آریوں کے جذبات بڑے سخت مشتعل ہو گئے تھے۔ ہرطرف آگ لگ گئی تھی۔ پولیس بڑی کوشش کر رہی تھی کہ مجرم کو پکڑے۔ اس شخص کا جس نے قتل کیا تھا حلیہ بھی اشتہار میں دیا گیا لیکن ایک آدمی جو اس حلیہ کا پکڑ اگیا تو لیکھرام کی بیوی نے کہا :نہیں، یہ وہ نہیں۔ یہ کوئی کشمیری تھا۔ ایک احمدی کو بھی پکڑا گیا۔ بعد میں وہ بھی رہا کر دئیے گئے۔ پکڑ دھکڑ کے علاوہ تلاشیاں بھی ہوئیں۔ اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے گھر کی بھی تلاشی ہوئی جیسا کہ مَیں نے کہا۔ جب پولیس نے تلاشی لینی تھی تو افسروں کے آنے سے چند منٹ پیشتر آپ سراج منیر کی ایک کاپی پڑھ رہے تھے۔ جس میں یہ مضمون تھا کہ لیکھرام کے قتل سے آپ پر ویسا ہی ابتلا آیا جیسے مسیح علیہ السلام کے دشمنوں نے خود بھی ایذا رسانی کی کوششیں کی تھیں اور گورنمنٹ کے ذریعہ سے بھی تکلیف دی تھی۔ مگر میرے معاملے میں تو اب تک صرف ایک پہلوہے۔ کیا اچھا ہوتاکہ گورنمنٹ کی دست اندازی کا پہلو بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور اور انسپکٹر میاں محمد بخش (جس نے پہلے بھی کئی کوششیں کی تھیں) اور کچھ ہیڈ کانسٹیبلز اور پولیس کی بھاری نفری نے آکر حضرت مسیح موعود ؑ کے گھر کو گھیر لیا۔ اس سے پہلے حضرت میرناصر نواب صاحب نے پولیس کے آنے کی خبر کہیں سے سن لی تھی۔ وہ سخت گھبرائے ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں جا کر بڑی پریشانی کے عالم میں عرض کی کہ پولیس گرفتاری کے لئے آرہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسکرائے اور فرمایا میر صاحب! دنیا دار لوگ خوشیوں میں سونے چاندی کے کنگن پہنا کرتے ہیں، ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔ پھر ذرا تامّل کے بعد فرمایا’’مگرایسا نہ ہو گا کیونکہ خداتعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں (اپنے طریقے ہیں اللہ تعالیٰ کی گورنمنٹ کے۔ ) اس وقت حضرت پیر منظور محمد صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بتایا کہ حضرت اقدس پر پولیس کی اطلاع کا ہلکا سا بھی اثر نہیں تھا۔ اور بدستور اپنی کاپی پڑھتے جا رہے تھے۔ لیکن جب پولیس نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ نے کام بند کر دیا اور فوراً جا کر دروازہ کھول دیا۔ پھر وہ جو سپرنٹنڈنٹ پولیس تھے۔ انہوں نے ٹوپی اتار کر کہا کہ مجھے حکم آ گیا ہے کہ مَیں قتل کے مقدمے میں آپ کے گھر کی تلاشی لوں۔ تلاشی کا نام سن کر آپ کو اس قدر خوشی ہوئی جتنی اس ملزم کو ہو سکتی ہے جسے کہا جائے کہ تیرے گھر کی تلاشی نہیں ہو گی۔ چنانچہ حضو ر نے فرمایا کہ آپ اطمینان سے تلاشی لیں۔ اور مَیں مدد دینے میں آپ کے ساتھ ہوں۔ اس کے بعد آپ اسے دوسرے افسروں سمیت مکان میں لے گئے۔ اور پہلے مردانہ اور پھر زنانہ مکان میں تمام بستے(بیگ) وغیرہ ان کو دکھائے۔ تو ایک بیگ جب کھولا تو اس میں وہ کاغذات برآمد ہوئے جو پنڈت لیکھرام نے نشان نمائی کے لئے اپنے قلم سے حضور کے نام لکھے تھے۔۔۔

(تاریخ احمدیت جلد1صفحہ599-601جدیدایڈیشن)
(خطبہ جمعہ 7؍ جولائی 2006ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

آداب معاشرت (ملاقات کے آداب) (قسط 7)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مارچ 2023