• 18 اپریل, 2021

سیر الیون میں صدسالہ جشن تشکر کی تقریبات (23مارچ 1989ء)

جماعت احمدیہ عالمگیر کی تاریخ میں 23مارچ 1989ء کا دن ایک بہت یادگار اور عظیم الشان دن تھا۔ اس دن جماعت کو قائم ہوئے ایک سو سال کا عرصہ مکمل ہوا تھا۔

اس دن کو پوری شان وشوکت،جوش و جذبہ اور والہانہ انداز میں منانے کی غرض سے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر 1989ء سے 16 سال قبل ہی اعلان فرمادیا تھا۔اور اسے ’’صد سالہ جشنِ تشکر‘‘ کا نام عطاء فرمایا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ساری جماعت کو ’’حمدوعزم‘‘ کا موٹو اور نصب العین عطاء کیا۔ ’’حمد‘‘ کرتے ہوئے سوسال کے دوران اللہ تعالیٰ کے افضال و برکات فتوحات اور کامیابیوں کے حصول پر اور عزم آئندہ آنے والی صدی میں پورے زور ، ولولہ اور عزم وہمت و جرات و بہادری سے داخل ہونے کے مصمم ارادہ کے ساتھ۔

ان تقریبات کے لئے صد سالہ جشنِ تشکر فنڈ کا بھی حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا جو ’’جوبلی فنڈ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

ساری دنیا کی طرح 23مارچ 1989ء کا بابرکت دن اور اس کے بعد کے چند ایام سیرالیون میں یادگار طور پر منائے گئے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے خاکسار بھی ان ایام میں روکوپر کے قصبہ میں احمدیہ سیکنڈری سکول کے پرنسپل اور روکو پر ریجن کے مبلغ کے طور پر خدمت سر انجام دینے کی توفیق پارہا تھا۔ (سیر الیون میں میرا قیام یکم نومبر 1975ء سے 22جون 1990ء تک رہا۔)

سیر الیون میں صد سالہ جشن تشکر کی تقریبات کا مختصر ذکر اس جگہ کرنا مقصود ہے۔

23مارچ 1989ء کو نماز تہجد سے دن کا آغاز ہوا۔ہر جماعت میں باجماعت نمازِ تہجد ادا کی گئی۔نمازِ فجر کے بعد بکرے کی قربانی دی گئی۔مارچ پاسٹ اورجلسے ہوئے جبکہ بعض احباب نے اس دن روزہ بھی رکھا۔

فری ٹاؤن

جماعت احمدیہ کا مرکزی مشن ہاؤس سیرالیون کے دارالحکومت میں ہے اس لئے یہاں تقریبات پوری شان اور خوشی وخوش اسلوبی سے منائی گئیں۔

23مارچ کی شام کو احمدیہ سیکنڈری سکول فری ٹاؤن میں ‘یوم مسیح موعوؑد’ کے حوالہ سے بہت بڑا جلسہ عام ہوا۔ برادرم عبدالسلام ظافر صاحب اور خاکسار نے تقاریر کیں۔مولانا خلیل احمد مبشر صاحب امیر و مشنری انچارج نے صدارت فرمائی اور اختتامی کلمات کہے۔

اس موقعہ پر 7ہزار افراد کے لئے کھانا تیار کیا گیا تھا جس کے لیےایک گائے کی قربانی کی گئی۔

سیدنا حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اس جشن کے موقعہ پر قیدیوں کو بھی اچھا کھانا کھلایا جائے۔چنانچہ اسکی بھی تعمیل ہوئی اور اسیران کو بھی ہم نے اپنی خوشیوں میں شامل کیا۔

یادگاری ٹکٹ

سیر الیون کے محکمہ ڈاک خانہ نے اس یادگارموقع کی مناسبت سے ایک ڈاک کا ٹکٹ بھی جاری کیاجس پر جماعت احمدیہ کی پہلی صدی مکمل ہونے کا ذکر تھا۔

جس دن اس ٹکٹ کی فروخت کا ڈاکخانہ والوں کی طرف سے آغاز کیا گیا اس دن سارا فری ٹاؤن شہر نعرہ ہائے تکبیر اور درودوسلام کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ احمدیہ سیکنڈری سکول، پرائمری سکول اور سٹاف کے علاوہ جماعت احمدیہ فری ٹاؤن اور پاکستان سے گئے خدمت پر مامور واقفین نے پوری Pump and Show سے شہر کی سڑکوں پر مارچ پاسٹ کیا۔سکول کا Band اور طلباء کے چاک و چوبند دستہ نے بھی بھر پور حصہ لیا اور سب شرکاء نے اظہار تشکر کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی۔

جب یہ ہجوم مرکزی ڈاک خانہ پہنچا تو ایک دلکش باوقار تقریب ڈاکخانہ کے ہال میں منعقد ہوئی۔ مولانا خلیل احمد مبشرصاحب اس سارے قافلہ کے سالار تھے۔ اور اس روز احمدیت کی شان و شوکت ایک نئے روپ میں جلوہ گر تھی۔ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا اور دل اللہ تعالیٰ کی تعریف سے لبریز تھے۔ الحمداللہ علیٰ ذالک۔

اس یادگاری ٹکٹ کی مالیت 3لیون تھی۔اور خاکسار نے 600لیون میں 200ٹکٹ خریدے اور ساری دنیا میں اپنے عزیز و اقارب کو بھجوائے اور خط و کتابت میں بھی استعمال کئے۔

پاکستان آکر ایک ٹکٹ مکرم فضیل احمد عیاض صاحب ایڈیٹر ماہنامہ تشحیذ الاذھان کو بھی تحفہ کے طور پر پیش کیا جو انہوں نے رسالہ تشحیذ الاذھان میں شائع بھی کیا۔

یہ تقریب آٹھ جون 1989ء کو منعقد ہوئی اور سارے سیر الیون میں خدمت بجا لانے والے مرکزی واقفین (مبلغین، ڈاکٹر صاحبان،اساتذہ کرام )کی اکثریت اس دن فری ٹاؤن میں تھی۔ مکرم مولانا خلیل مبشر صاحب امیر و مشنری انچارج نے بطور خاص بہترین کھانے کا انتطام کروایا تھا۔ فجزاہ اللّٰہ خیراً۔

روکوپر

ان دونوں خاکسار روکوپر میں احمدیہ سیکنڈری سکول کا پرنسپل اور روکوپر ریجن کا مبلغ بھی تھا۔روکوپر میں بھی یہ جشن ہم نے دل وجان سے منایا۔ نمازِ تہجد سے دن کا آغاز ہواجو خاکسار نے پڑھائی ۔نمازِ فجر کے بعد ایک بکرا قربان کیا گیا جو اس وقت روکوپر جماعت کے نائب صدر مکرم ایل ایم بنگورا صاحب نے اپنی طرف سے تحفہ کے طور پر پیش کیا تھا۔

جب ذرادن چڑھا تو احمدیہ سیکنڈری سکول کے طلباء،اساتذہ اور جماعت کے احباب نے روکوپر کی مرکزی سڑک پر مارچ پاسٹ کیا۔طلباء نے Bannersبھی اٹھائے ہوئے تھے۔جس پر نمایاں طور پر لکھا ہوا تھا:

Ahmadiyyat is True Islam,
Islam means Peace, The Promised Messiah has Come , Imam Mehdi has come,
Today Ahmadiyya is 100 Years Old

اس سڑک کا اختتام Wharfپر ہوتا ہے جو سمندر کے کنارے تک جاتی ہے۔

روکوپر میں چاول پر تحقیق کرنے والا ایک ادارہ Rice Research Stationبھی ہے۔ اس ادارہ میں ہمارے احمدی مرد و خواتین بھی ملازمت کرتے ہیں۔ خاکسار نے وقت سے پہلے RRS کے Director سے ملکر گذارش کی تھی کہ 23مارچ کو ہماری تقریباتِ صد سالہ جوبلی ہونی ہیں۔ لہٰذا آپ احمدی ملازمین کو اس دن کام سے رخصت دے دیں تاکہ وہ بھی شامل ہوسکیں۔ موصوف نے تعاون کیا اور احمدی ملازمین کو ہمارے پروگراموں میں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔اللہ ان کا بھلا کرے اور اس وقت وہ جہاں بھی ہیں اللہ کی رحمت کے سایہ میں ہوں۔

جوبلی سپورٹس

ہمارے سکول میں ہر سال کھیلوں کا انعقاد کیا جاتا تھا لیکن 1989ء کی سالانہ کھیلوں کا نام ہم نے ’’جوبلی سپورٹس‘‘ رکھا اور گذشتہ سالوں سے بڑھ کر سجاوٹ اور مہمان نوازی کا انتظام کیا۔ محترم امیر صاحب ہمارے مہمان خصوصی تھے۔

چراغاں

روکوپر کی احمدیہ مسجد اور احمدیوں کے گھروں پر چراغاں کا بھی انتظام تھا۔مٹی کے تیل کے ساتھ مٹی کی تھالیوں میں روئی کی مدد سے چراغاں کیا گیا۔

الحاج نذیر احمد علی سٹریٹ

روکوپر کا قصبہ Megbema Chiefdom میں ہے اور جہاں کا پیراماؤنٹ چیف Kambia کے ضلعی مقام پر رہتا ہے۔ ان دنوں جو Paramount Chief تھے ان کا سرکاری نام P.C Bai Farmatass Bubu Angbak III تھا۔خاکسار نے Kambia جاکر ان سے ملاقات کی اور بتایا کہ 23مارچ کو احمدیت ایک سوسال کی ہوجائے گی اورفری ٹاؤن کے بعد روکوپر میں سب سے پہلے احمدیت کا پودا لگا۔اور اس مناسبت سے میری خواہش ہے کہ آپ ہماری صدسالہ تقریبات کے موقعہ پر روکوپر کی کسی ایک سٹر ک کا نام ہمارے پہلے مبلغ الحاج مولانا نذیر احمد علی صاحب کے نام پر‘‘الحاج نذیر احمد علی سٹریٹ’’رکھ دیں۔ الحمدللہ موصوف نے یہ درخواست قبول کرلی اور 23مارچ کو ہمارے مارچ پاسٹ میں شامل ہوئے اور Ribbon کاٹ کر ایک سڑک کانام حضرت مولانا نذیر احمدعلی صاحب کے نام پر رکھا۔

موصوف فیتہ کاٹنے کے بعد جلوس کے سربراہ کے طور پر آگے آگے چلے جارہے تھے اور ٹمنی زبان میں اعلان کرتے جاتے تھے کہ آج سے یہ سٹرک ’’الحاج نذیراحمد علی سٹریٹ‘‘ ہے۔

دارو Daru

Daru سیرالیون کی فوج کی چھاؤنی ہے جہاں فوج کے سپاہیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد مقیم ہے۔23مارچ کی مناسبت نے یہاں کی فوج نے ہمارے اس وقت کے مبلغ محترم یونس خالد صاحب کو باقاعدہ سلامی دی اور سیر الیون میں جماعت احمدیہ کی بھرپور خدمات کاکھل کر اعتراف کیا۔

1921ء سے جماعت احمدیہ سیرالیون اسلام کے پرچار کے ساتھ ساتھ سکولوں اور طبی اداروں کے ذریعہ اس ملک میں خدمت بجا لارہی ہے۔ Daru میں فوج کی ہمارے مبلغ کو سلامی اور مارچ پاسٹ ان خدمات کے اعتراف کا ایک خوبصورت اظہار تھا۔

اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے فی الوقت میدانِ عمل میں موجود واقفینِ کو اولین سے بڑھکر خدمات بجا لانے کی سعادت اور شرف عطاء کرے اور ان کی سعی میں بہت برکت اور کامیابیاں عطاء فرمائے۔ آمین

(ابن منور)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اپریل 2021