• 20 جولائی, 2024

رکھتا ہے وہ افطار میں کیا کیا میرے آگے

اک نعمت عظمیٰ ہے یہ روزہ میرے آگے
میں پیاس کا صحرا ہوں تو دریا میرے آگے

ہر وقت فحش گوئی سے بچنا مجھے لازم
تب جا کے نکلتا ہے نتیجہ میرے آگے

دن بھر جسے چھوڑا ہے فقط اس کی رضا میں
رکھتا ہے وہ افطار میں کیا کیا میرے آگے

منزل پہ تو کلیاں ہیں، شگوفے ہیں، شجر ہیں
گرچہ ہے یہ پرخار سا رستہ میرے آگے

روزے کے توسط سے جزا خاص ملے ہے
اے کاش کہ ہو جلوہ مولی میرے آگے

اک یار مہربا.ں پہ ہےقربان سبھی کچھ
یہ جام و سبو، ساغر و بادہ میرے آگے

دل دے کے فراز !! اس کی محبت کو سمیٹا
ہر چند کہ آنکھوں میں تھی دنیا میرے آگے

(اطہر حفیظ فراز)

پچھلا پڑھیں

رمضان کے پہلے عشرہ رحمت کی مناسبت سے ادعیہ ماثورہ

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ