• 9 اگست, 2022

اے حق کے طالبو اور اسلام کے سچے محبّو!

اے حق کے طالبو اور اسلام کے سچے محبّو! آپ لوگو ں پر واضح ہے کہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کررہے ہیں یہ ایک ایسا تاریک زمانہ ہے کہ کیا ایمانی اور کیا عملی جس قدر امور ہیں سب میں سخت فساد واقع ہو گیا ہے اور ایک تیز آندھی ضلالت اور گمراہی کی ہر طرف سے چل رہی ہے۔ وہ چیز جس کو ایمان کہتے ہیں اسکی جگہ چند لفظوں نے لے لی ہے جن کا محض زبان سے اقرار کیا جاتا ہے اور وہ امور جن کا نام اعمال صالحہ ہے اُن کا مصداق چند رسوم یا اسراف اور ریا کاری کے کام سمجھے گئے ہیں اور جو حقیقی نیکی ہے اُس سے بکلّی بے خبری ہے۔ اس زمانہ کا فلسفہ اور طبیعی بھی روحانی صلاحیّت کا سخت مخالف پڑا ہے۔ اُس کے جذبات اُس کے جاننے والوں پر نہایت بد اثر کرنیوالے اور ظلمت کی طرف کھینچنے والے ثابت ہوتے ہیں۔ وہ زہریلے مواد کو حرکت دیتے اور سوئے ہوئے شیطان کو جگا دیتے ہیں اِن علوم میں دخل رکھنے والے دینی امور میں اکثر ایسی بد عقیدگی پیدا کر لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اصولوں اور صوم وصلوٰةوغیرہ کے عبادت کے طریقوں کو تحقیر اور استہزا کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اُنکے دلوں میں خدا تعالیٰ کے وجود کی بھی کچھ وقعت اور عظمت نہیں بلکہ اکثر ان میں سے الحاد کے رنگ سے رنگین اور دہریّت کے رگ وریشہ سے پُر اور مسلمانوں کی اولاد کہلا کر پھر دشمنِ دین ہیں۔ جو لوگ کالجوں میں پڑھتے ہیں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہنوز وہ اپنے عُلوم ضروریّہ کی تحصیل سے فارغ نہیں ہوتے کہ دین اور دین کی ہمدردی سے پہلے ہی فارغ اور مستعفی ہو چکتے ہیں۔ یہ میں نے صرف ایک شاخ کا ذکر کیا ہے جو حال کے زمانہ میں ضلالت کے پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔ مگر اس کے سوا صدہا اور شاخیں بھی ہیں جو اس سے کم نہیں!

(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد3 کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ4)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 03؍جون 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 جون 2022