• 9 اگست, 2022

فقہی کارنر

مجبور لوگوں کو مہنگے داموں غلہ فروخت کرنا جائز نہیں

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہم سب بھائی (یعنی خاکسار و بردران میاں جمال الدین مرحوم و میاں امام الدین صاحب) مسائل فقہی کی بناء پر گاہے بگاہے بدین طریق تجارت کرتے تھے کہ غلّہ خرید کر ضرورت کے موقع پر غرباء کو کسی قدر گراں نرخ پر بطور قرض دے دیتے اور فصل آ ئندہ پر وصولی قرضہ کر لیتے تھے۔ جب حضور علیہ السلام کا دعویٰ ظاہر ہو گیا تو اس وقت بھی ایک دفعہ غلّہ خرید کیا گیا کہ غرباء کو دستور سابق دیا جائے۔ جب قادیان گیا تو مجھے خیال آیا کہ حضور علیہ السلام سے اس کے متعلق دریافت کر لوں۔ چنانچہ حضورؑ کی خدمت میں سوال مفصل طور پر پیش کر دیا۔ حضور علیہ السلام نے جواباً فرمایا:۔
’’تمہیں ایسے کاموں کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ جس لہجہ سے حضورؑ نے جواب دیا وہ اب تک میری آ نکھوں کے سامنے ہے جس سے ثابت ہوا کہ حضور علیہ السلام کو ایسے کام بہت نا پسند ہیں۔ پس واپس آ کر ہم نے ارادہ ترک کر دیا اور بعد ازاں پھر کبھی یہ کام نہ کیا۔

(سیرت المہدی جلد2 صفحہ249-250)

(داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 03؍جون 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 جون 2022