• 22 ستمبر, 2021

مکرم و محترم راجہ خورشید احمد منیر

حالات زندگی
مکرم و محترم راجہ خورشید احمد منیر (مربی سلسلہ)

جماعت احمدیہ کےایک انتہائی مخلص اور دیرینہ خادم مکرم راجہ خورشید احمد منیر صاحب، مربی سلسلہ مؤرخہ 2 اپریل 2021ء بروز جمعہ، برسبن آسٹریلیا میں بقضائے الہٰی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ مرحوم کی تدفین 4 اپریل 2021ء بروز اتوار مقبرہ موصیان نمبر 1، مسجد بیت الہدیٰ سڈنی میں ہوئی۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 18 جون 2021ء میں مکرم ر اجہ خورشید احمد منیر صاحب، مربی سلسلہ کا ذکرِ خیر کیا اور غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی۔ ذیل میں مرحوم ر اجہ خورشید احمد منیر صاحب کے مختصر حالاتِ زندگی درج ہیں جو آپ کے بیٹے مکرم اسماعیل مبارک احمد صاحب، امیر ضلع مظفر آباد نے مرتب کیے ہیں۔

آپ کے والد کا نام اکبر علی اور دادا کا نام امان علی تھا۔ امان علی صاحب نے حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں ہی بیعت کی تھی۔ آپ کی والدہ روشن بی بی صاحبہ حضرت قاضی محمد اکبر صاحب (جن کے ذریعہ چار کوٹ کشمیر میں احمدیت کا نفوذ ہوا) کی ہمشیر ہ تھیں۔ آپ کی پیدائش 1928ء میں چار کوٹ میں ہوئی۔ آپکے والد آپکی پیدائش سے چار ماہ پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔ آپکی تربیت آپکی والدہ روشن بی بی صاحبہ نے کی جو پابند صوم و صلوٰۃ، عبادت گذار اور بہت نیک خاتون تھی۔ محترم راجہ خورشید احمد منیرصاحب کی تربیت پر اُن کا گہرا اثر تھا۔ ابتدائی تعلیم تعلیم الاسلام اسکول چار کوٹ میں حاصل کی۔ 1941ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل ہوئے۔ حضرت میر محمد اسحاق ؓ صاحب نے اس عمر میں ہی آپکی تہجد کی عادت کو دیکھتے ہوئے آپکی ڈیوٹی مدرسہ کے دوسری طلباء کو بھی اٹھانے پر لگا دی۔ آپ نے 1944ء میں اپنی زندگی خدمت اسلام کیلئے وقف کردی۔ تقسیم پاک ہند کے بعد احمد نگر چلے آئے جہاں سے جامعہ احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔وقتی طور پر جب آپکا وظیفہ جماعتی مشکلات کیوجہ سے بند ہو گیا تو جس کمرے میں آپ رہتے تھے اسی میں بچوں کے کھانے پینے کی چیزیں رکھکر دکان کھول لی مگر تعلیم بند نہ ہونے دی۔ خود بتاتے تھے کہ دکانداری کوئی خاص نہ تھی اس لئے مولانا ابو العطا صاحب جالندھری اکثر آپ سے خریداری کرتے تاکہ آپ تعلیم جاری رکھ سکیں۔ 1948ء میں تحریک کشمیر کی لٹرائی میں آپ کو احمدیہ فرقان بٹا لین میں باغ سر بھمبر کے مقام پر کام کرنیکا موقعہ ملا۔

محاذ جنگ میں بھی کچھ عرصہ رہے 1949ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ 1952ء میں جامعہ احمدیہ کی شاہد کی پہلی کلاس سے امتحان پاس کرنے کے بعد مربی سلسلہ کی حیثیت سے پاکستان کے مختلف مقامات اور کشمیر میں دینی خدمات انجام دیتے رہے۔ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے نگرانی میں احمدیہ مسجد تعمیر کروائی۔ چکوال کی مسجد کی توسیع کروائی۔ گرمولہ ضلع گوجرانوالہ کی مسجد کا 1959ء میں سنگ بنیاد رکھا۔ (حال ہی میں اس مسجد کے مینار مخالفین کی طرف سے گرائے گئے اور کلمۂ طیبہ مٹایا گیا)۔ آپ نے راولپنڈی چھاؤنی میں اپنا پرانا گھر مسمار کرکے نیاتعمیر کرنے کے بعد جماعت کو عطیہ کردیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے از راہ شفقت قبول فرمایا۔ اور یہ بیت خورشید کے نام سے دینی مقاصد کے لئے جماعت کے زیر استعمال ہے۔ یہاں برس ہا برس سے نمازیں اور جمعہ بھی ادا کیا جاتا رہا جو َاب گذشتہ چند ماہ سے بوجہ سرکاری حکم نامہ پر ادا نہیں ہو رہے ہیں۔ 1974 ء فسادات کے دوران آپ مربی سلسلہ مظفر آباد۔ باغ تراڑ کھل تعنیات تھے۔ جون 1974ء میں ایک مشتعل ہجوم نے اس گھر پر حملہ کردیا جہاں آپ رہائش پذیر تھے۔ آپ نے لائسنس یافتہ بندوق سے ہوائی فا ئر کرتے ہوئے پونے گھنٹے ہجوم کو روکے رکھا اور گھر میں نہ گھسنے دیا اسی دوران آپ ہجوم کے پتھراؤ سے زخمی بھی ہوئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپکو اور گھر میں موجود بھانجے کی فیملی کوھجوم سے محفوظ رکھا۔ اس حملہ کے بعد بھی آپ نے احباب جماعت سے رابطوں اور انہیں ثابت قدمی کی تلقین کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ دور دراز پہاڑوں پر رہائش پذیر احباب جماعت سے ملاقات کیلئے گھنٹوں پیدل سفر کرکے پہنچتے۔ اس حملے کے بعد جولائی 1974ء میں آپ چناری بازار(جو مظفر آباد سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے) سے دریائے جہلم کے پاس کچھ مسافت پر رھائش پذیر دو احمدی احباب سے ملاقات کیلئے چناری بازار پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو معلوم ھو گیا کہ یہ ایک احمدی مبلغ ہے اس پر انہوں نے آپکو پکڑ کر مارپیٹ کی اور احمدی احباب سے ملنے نہ دیا۔ آپ واپس مظفر آباد آ گئے اور اگلے روز پھر چناری چلے گئے۔ دریا پار کرکے احمدی احباب کے پاس پہنچے۔ خیریت دریافت کی اور تسلی دی کہ خدائی جماعتوں پر مشکلات اور ابتلاء آتے رہتے ہیں گھبرانا نہیں چا ہیئے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چا ہیے۔ آپ کے پہنچنے کے کچھ دیر بعد خبر پھیلنے پر انکی برادری اور قصبے کے لوگ وہا ں آ گئے آپ کو باہر نکال کر احمدی احباب کو باہرسے کنڈی لگا کر کمرے میں بند کردیا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا تم بہت ڈھیٹ آدمی ہو کل مار کھا کر آج پھر آگئے ہو اور انکو مارتے ہوئے کہنے لگے اسے چناری بازار کی مسجد میں لے چلو۔ کچھ فاصلے پر بنے کھیت میں نرم ز مین پر آپ نے لیٹ کر ایڑیاں پھنسا لیں۔ لوگ مارتے اور زور لگاتے رہے مگرخاص تگ و دو کے بعد بھی چند گز سے آگے نہ لیجا سکے۔ پھر وہ کہنے لگے کہ اسکو دریا میں پھینک دو اسی دوران وہ آپکو مارتے اور زور لگاتے تھک جاتے تو بیٹھ جاتے اور کچھ دیر بعد پھر مارنا اور زور لگانا شروع کردیتے۔ لیکن وہ آپکو دریا کے قریب نہ لیجا سکے۔ اور عصر کا وقت ہونے پر آپ کو دھمکیاں دیتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔مظفر آباد ہنگامے میں آنکھ پر لگنے والی چوٹ ابھی مندمل نہ ہوئی تھی کہ اب ٹانگوں اور جسم کے دوسرے حصوں پر چو ٹیں لگیں۔کچھ دیر بعد آپ وہاں سے25 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک اور احمدی دوست کے گھر چلے گئے۔ اسی طرح آپ دیگر دور دراز کے جماعتوں پریم کوٹ۔ تراڑ کھل وغیرہ میں احمدی احباب سے ملکر انہیں ثابت قدمی کی تلقین کرتے۔

آپ بتایا کرتے تھے کہ ‘‘بعد ازاں جب مربیان کی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ سے ملاقات ہوئی تو صدر صاحب انجمن احمدیہ حضور کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔میری باری آنے پر حضور نے انکی طرف اشارہ کرکے فرمایا‘‘میں نے ان سے کہا تھا کہ ہمیں اس مربی کے فکر نہیں یہ مربی تگڑا ہے’’

آپ ایک نڈر، خود دار اور ہر عُسر یُسر میں خدا تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے انسان تھے۔ کوئی مشکل پیش آتی یا کوئی کام کرنا درکار ہوتا تو پہلے فوراً نوافل ادا کرتے پھر وہ کام کرتے۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد و نوافل با قائدگی سے بلاناغہ ادا کرنے والے تھے۔ 2005 ء میں آنیوالے خوفناک زلزلہ کے وقت آپ مظفر آباد میں، جہاں زلزلہ سے ہزاروں ہلا کتیں ہو ئیں، اپنے کمرے میں اشراق کے نوافل ادا کر رہے تھے۔ زلزلہ دو اڑہائی منٹ جاری رہا لیکن آپ نے نماز نہیں توڑی۔ نماز مکمل کرنے کے بعد جب زلزلہ ختم ہو گیا آپ باہر آئے۔ تہجد میں باقاعدگی کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ جب کے آپکی عمر 85/86 برس کی ہوگی فیملی کے ساتھ کاغان ناران کی سیر کیلئے گئے وہاں ہو ٹل میں بھی نماز تہجد ادا کی اور اونچی آواز میں تلاوت کی۔87 سال کی عمر تک باقاعدگی سے پورے روزے اور رمضان کے بعد شوال کے روزےرکھتے رہے۔ اس کے بعد جب ڈاکٹر نے بڑھاپے کیوجہ سے روزہ رکھنے سے منع کردیا تو اس پرسخت افسوس کا اظہار کرتے۔ رمضان میں دو یا تین بار قرآن کا دور مکمل کرتے۔ اپنے بچوں کو بھی ان باتوں کے علاوہ خدا تعالی سے پختہ تعلق خلیفۂ وقت سے رابطہ، کامل اطاعت اور حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب کے مطالعے کی وقتاوقتاً تلقین کرتے رہتے۔

آپ گذشتہ 6 برس سے برسبن (آسٹریلیا) میں اپنے بیٹے کے پاس مقیم تھے اور برسبن میں آپ کی وفات ہوئی اور سڈنی میں مقبرہ موصیان، ملحق مسجد بیت الہدیٰ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔

آپکی شادی حضرت رحیم شرما صاحبؓ کی بیٹی محترمہ امۃ الطیف صاحبہ سے ہوئی۔ آپکا نکاح حضرت غلام رسول راجیکی صاحب ؓ نے 1961ء میں ربوہ میں پڑھایا اور دعا کروائی۔ آپکے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔

بیٹے

1۔ اسماعیل مبارک احمد صاحب۔ امیر ضلع مظفر آباد
2۔ ڈاکٹر عمران احمد خورشید صاحب۔ نائب صدر جماعت لوگن ایسٹ (برسبین آسڑیلیا)
3۔ ذوالقرنین احمد صاحب، سیکرٹری تعلیم جماعت کینبرا آسڑیلیا
4۔ ذو المعارج احمد صاحب۔ پاکستان

بیٹیاں

1۔ خلعت باری صاحبہ اہلیہ تسنیم احمد صاحب یوکے
2۔ رفعت باری صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر مبشر احمد شرما صاحب کینیڈا
3۔ عطیہ باری صاحبہ اہلیہ حافظ عبدالکریم بھٹی صاحب وائس پرنسپل مدرسۃالحفظ ربوہ۔
4۔ صبیحہ باری صاحبہ اہلیہ طاہر احمد ملک صاحب۔ اسلام آباد پاکستان

آپ کہا کرتے تھے جو بیعت شدہ احمدی ہے وہ دین کے لئے ایک لحاظ سے وقف ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے آپکی اولاد اپنی اپنی جگہ پر حسب توفیق اللہ کے فضل سے جماعتی خدمت کی توفیق پا رہی ہیں۔آپکے پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں میں (9) واقفین نو اور (2) حا فظ قرآن ہیں۔

اپنے بیٹے مکرم ذوالقرنین احمد صاحب کو بیرون ملک روانگی پر اپنے ہاتھ سے 9 نصائح لکھ کر دیئے جن میں ایک نصیحت بھی دنیا داری سے متعلق نہیں تھی۔ وہ نصائح درج ذیل ہیں:

1۔ ’’شرائط بیعت ہفتہ میں کم از کم ایک بار اور کشتی نوح میں‘‘ ہماری تعلیم، مہینہ میں ایک بار ضرور توجہ سے پڑھیں۔ اور انکی ہدایات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔

2۔ حسب سابق صبح کی نماز کے بعد بلند اور خو بصورت آواز میں قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے ضرور کرتے رہیں اور قرآن کریم کے متعلق تدبر، اور غور و فکر ضرور کرتے رہیں۔ ہو سکے تو حضرت مصلح موعود ؓ کی تفسیر کا مطالعہ بھی کرتے رہیں۔ اس سے آپ کو بہت علمی اور روحانی فوائد حاصل ہوں گے۔

3۔ سیدنا حضرت مسیح موعود ؑکی کتب اور سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر کا مطالعہ جاری رہے اور دوسرے احمدیوں کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں۔ یہ دجال کے جال سے بچنے اور اسکو توڑنے کیلئے نہایت کارآمد نسخہ ہے۔

4۔ جہاں جا ئیں یا رہیں وہاں امیر یا مبلغ سے قریبی رابطہ رکھیں اور انکے دینی کاموں میں جہاں تک ہوسکے ممدون ومعاون رہیں۔ ان میں یا کسے احمدی میں ذاتی کمزوری دیکھیں تو حتی الوسع چشم پوشی سے کام لیں اور مناسب رنگ میں انہیں توجہ دلا ئیں۔ کسی کی ذاتی کمزوری دوسروں میں ہرگز نشر نہ کریں اور نہ خود کسی کی ذاتی کمزوری سے ٹھوکر کھا ئیں۔ ہاں اگر نظام سلسلہ میں کمزوری دیکھیں تو انہیں توجہ دلا ئیں اور اگر اصلاح نہ ہو تو خلیفۂ وقت کو مطلع کریں۔

5۔ احمدیوں کی تربیت اور دعوت الی اللہ کا کام ہمیشہ ہر روز جاری رکھیں۔ دعوت الی اللہ کا کام کبھی بند نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کو توفیق بخشے اور روح القدس تا ئید سے نوازتا رہے۔

6۔ اپنے صحت کا ہر روز ضرور خیال رکھیں۔اگر صحت نہ ہوگی تو دینی یا دنیوی کام نہ ہو سکے گا۔ دوا کوئی ورزش سے بہتر نہیں۔ یہ نسخہ ہے کم خرچ بالا نشین

7۔ ہمیشہ خلیفۂ وقت سے رابطہ ضرور رکھیں۔ اس میں کبھی کوتاہی نہ ہو۔ خلیفۂٔ وقت سے رابطہ رکھنے کیلئے مندرجہ ذیل طریق ہو سکتے ہیں:

(I) خلیفۂ وقت سے خط و کتابت۔ مہینے میں کم از کم دو دفعہ دعا کیلئے ضرور لکھیں۔ مناسب سمجھیں تو اپنے امور کے متعلق مشورہ اور خلیفۂ وقت جو مشورہ دیں اس پر ضرور عمل ہو۔
(II) حالات اجازت دیں تو اڑ کر خلیفۂ وقت کی خدمت میں حاضرہوں۔
(III) خلیفۂ وقت کی صحت و سلامتی، درازی عمر، انکی دینی و دنیوی ممقاصد میں کامیابی اور جو منصوبے وہ غلبے اسلام کیلئے بنائیں ان میں انکی کامیابی۔ اور جو دعائیں وہ غلبے اسلام کیلئے کر رہے ہوں۔ انکی ان دعاؤں کی قبولیت کیلئے عاجزانہ طور پر ہر روز دعائیں کرتے رہیں۔

8۔ اور پہلی اور آخری بات یہ ہے کہ دعاؤں سے کبھی ایک لمحے کیلئے بھی غافل نہ ہوں۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے دعاؤں آپکی زبان سے جاری رہیں۔ ہر ضرورت ہر مشکل کے وقت ماں سے بڑھکر پیار کرنیوالے اللہ تعالیٰ پر نظر رہے۔ ہر عسر اور یسر کے حالت میں اس سے تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہو۔ دنیا و آخرت میں یقینا وہی ایک ہے جو ہمارے کام آنیوالا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر لمحہ آپکے اور آپکی نسلوں کے ساتھ ہو۔ آمین ثم آمین‘‘۔

اللہ تعالی ہمیں اور ہماری نسلوں کو اسکی توفیق عطا فرماوے اور انکی دعاؤں کا وارث بنائے۔ آمین

(محمد امجد خاں۔ آسٹریلیا)

پچھلا پڑھیں

مکرم ضمیر احمد ندیم کی یاد میں

اگلا پڑھیں

دعا کی درخواست