• 23 ستمبر, 2021

افراد جماعت دینی علوم میں مہارت حاصل کریں

کہتے ہیں کہ نقل کے لئے عقل چاہیے مگر جس طرح کی نقل ان دنوں ہمارے ہاں چل رہی ہے تو کہنا پڑے گا کہ عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی۔ اتفاق سے میں ایک دن پاکستانی ٹی وی ٹاک شو پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں پروگرام کے میزبان وزیر تعلیم سے گفتگو فرما رہے تھے اور چیخ چیخ کر وزیر موصوف سے پوچھ رہے تھے کہ امتحانات میں نقل کا رجحان بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور طلباء بڑی دیدہ دلیری سے سرعام نقل لگاتے ہیں ایک ویڈیو میں یہ منظر دیکھا تو واقعتاً عقل گم ہو گئی کہ یہ ہو کیا رہا ہے بچے اپنے موبائل کے واٹس ایپ پرآنے والے سوالات کے جوابات کی تازہ رسد سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ابھی میں اس انتظار میں ہی تھا کہ کب میری گمشدہ عقل واپس آتی ہے کہ مجھے بھی واٹس ایپ پرایک‘‘بُوٹی ’’ ملی جس پر ہنسی کے حوالے سے غالب کاایک شعر مجھے چھیڑنے لگا:

؎پہلے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی

مگر یہ ہنسی کا گم ہو جانا تو حساس ہونے کا نتیجہ ہے۔ تفکر کی نشانی ہے اور سنجیدہ سوچ کی غمازی ہے مگر جہاں اقدار کا بیڑہ غرق ہو گیا ہواور پوری نسل ہی انحطاط کا شکار ہو وہاں نظام کا بھٹہ تو بیٹھے گا خیر جب وزیر تعلیم جلی کٹی سن کر ذرا سنجیدہ ہوئے تو کہنے لگے سائیں یہ کلچر ہے اب کس کس کو روکا جا سکتا ہے۔

ہماری جماعت میں ذیلی تنظیموں بالخصوص مجلس انصاراللہ کےامتحانات کےحوالہ سےگزشتہ سال خاکسار کا ایک مضمون ‘‘قیادت تعلیم کے تحت تعلیمی امتحانات کی اہمیت’’ کے عنوان سے روزنامہ الفضل آن لائن مؤرخہ 2جولائی 2020ء کی اشاعت میں شائع ہوا تھا ۔جو روزنامہ الفضل آن لائن کی ویب سائٹ پر بھی پڑھا جاسکتا ہے ۔آج ضرورت محسوس ہورہی ہے کہ اس میں سے چند حوالے پیش کئے جائیں جن سے ان امتحانات کو نقل سے پاس کرنے کی شائد کوئی حوصلہ شکنی ہوسکے۔

مرکزی تعلیمی امتحانات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش یہ تھی کہ افراد جماعت دینی علوم میں مہارت حاصل کریں اور پھر ان کے امتحانات بھی ہو ں تاکہ ان کے علمی معیار کا اندازہ لگایا جاتا رہے ۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’چونکہ یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ ہماری اس جماعت میں کم از کم ایک سو آدمی ایسا اہل فضل اور اہلِ کمال ہو کہ اس سلسلہ اور اس دعویٰ کے متعلق جو نشان اور دلائل اور براہین قویّہ قطعیہ خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں ان سب کا اس کو علم ہو ۔پس ان تمام امور کے لئے یہ قرار پایا ہے کہ اپنی جماعت کے تمام لائق اوراہلِ علم اور زیرک اور دانشمند لوگوں کو اس طرف توجہ دی جائے کہ وہ 24 دسمبر 1901ء تک کتابوں کو دیکھ کر اس امتحان کے لئے تیار ہو جائیں ۔تعطیلوں پرقادیان پہنچ کر امور متذکرہ بالا میں تحریری امتحان دیں۔‘‘

(فرمودہ 9 ستمبر 1901ء بحوالہ مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ429 تا 430)

اسی تناظر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دسمبر کے آخر میں جو احباب کے واسطے امتحان تجویز ہوا ہے اس کو لوگ معمولی بات خیال نہ کریں اور کوئی اسےمعمولی عْذر سے نہ ٹال دے۔یہ ایک بڑی عظیم الشان بات ہے اور چاہیئے کہ لوگ اس کے واسطے خاص طور پر اس کی تیاری میں لگ جاویں۔‘‘

(ذکر حبیب صفحہ288)

پھر حضور ؑجماعت کو تفقہ فی الدین کی جانب توجہ دلا تے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت کو علم دین میں تفقّہ پیدا کرنا چاہیے ۔۔ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ آیاتِ قرآنی و احادیث نبوی اور ہمارے کلام میں تدّبر کریں،قرآنی معارف و حقائق سے آگاہ ہو ں۔اگر کوئی مخالف ان پر اعتراض کرے تو اسے کافی جواب دے سکیں ۔ایک دفعہ جو امتحان لینے کی تجویز کی گئی تھی،بہت ضروری تھی ۔اس کا ضرور بندوبست ہونا چاہئے۔‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 212تا211)

دینی تعلیم سیکھنے کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ کا ایک ارشاد

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں :
’’ان تینوں مجالس کو کوشش کر نی چاہئے کہ ایمان بالغیب ایک میخ کی طرح ہر احمدی کے دل میں اس طرح گڑ جائے کہ اس کا ہر خیال،ہر قول اور ہر عمل اس کے تابع ہو اور یہ ایمان قرآن کریم کے علم کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا ۔جو لوگ فلسفیوں کی جھوٹی اور پُر فریب باتوں سے متاثر ہوں اور قرآن کریم کا علم حاصل کرنے سے غافل رہیں وہ ہر گز کوئی کام نہیں کر سکتے ۔پس مجالس انصار اللہ،خدام الاحمدیہ اور لجنہ کا یہ فرض ہے اور ان کی یہ پالیسی ہونی چاہئے کہ وہ یہ باتیں قوم کے اندر پیدا کر یں اور ہر ممکن ذریعہ سے اس کے لئے کوشش کرتے رہیں ۔لیکچروں کے ذریعہ،اسباق کے ذریعہ اور بار بار امتحان لےکران باتوں کو دلوں میں راسخ کیا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو بار بار پڑھا جائے۔‘‘

(تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1941ء بحوالہ سبیل الرشاد حصہ اوّل صفحہ 58 تا 59)

مطالعہ کتب اورامتحانات کے بارے میں قیادت تعلیم کو ہدایات

مورخہ5جولائی2005ء بروز منگل اراکین نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ کینیڈا کے ساتھ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےمیٹنگ کے دوران قائد تعلیم کو ہدایت فرمائی کہ ’’مطالعہ کتب میں اور امتحانات میں مجلس عاملہ کو بھی شامل کر یں اور ان سے رپورٹ لیتے رہا کریں کہ کتنے صفحات کا مطالعہ کیا ہے ۔مقصد یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے خزانے میں سے حصہ لیتے رہیں ۔‘‘

(بحوالہ سبیل الرشادحصہ چہارم صفحہ93، 19اگست2005ء الفضل انٹرنیشنل)

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنےدورہ جرمنی2005ء میں قائد تعلیم انصاراللہ کوفرمایا:
’’عاملہ ممبران کا بھی جائزہ لیں کہ کتنوں نے یہ کتاب پڑھی ہے ۔مرکزی طور پر سارے ملک کے انصار سے امتحان لیں فرمایا کسی کتاب کے چند صفحے دے دیں ۔بے شک کتاب دیکھ کر حل کردیں ۔یہ کام کرلیں بہت بڑا کام ہے ۔‘‘

(بحوالہ سبیل الرشاد حصہ چہارم صفحہ 98)

(خالد محمود شرما۔ ایڈیشنل قائد تعلیم انصاراللہ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

سانحہ ارتحال

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اگست 2021