• 18 اکتوبر, 2021

نارووال سے ربوه تک۔اسپیشل ٹرین

مجھے لکھنے کا سلیقہ تو نہیں مگر دل سے اٹھی آواز کو بہت اختصار کےساتھ ضبط تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلّی جھک جائیں اور ان کے اندر خداتعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زُہد اور تقویٰ اور خدا تَرسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور اِنکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔‘‘

(شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد6 صفحہ394)

جلسہ کے لئے سفر اختیار کرنے والوں کے لئے دعائیں

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہر یک صاحب جو اِس لِلّٰہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں، خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجرِ عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم و غم دُور فرماوے اور ان کو ہریک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور اُن کی مرادات کی راہیں اُن پر کھول دیوے اور روزِ آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پر اس کا فضل و رحم ہے اور تا اختتامِ سفر اُن کے بعد اُن کا خلیفہ ہو۔ اے خدا اے ذُوالْمَجْدِ وَالْعَطَاء اور رحیم اور مشکل کشایہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر یک قوت اور طاقت تجھ ہی کو ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد1 صفحہ342)

فرمایا:
’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمۂِ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات اَنہونی نہیں۔ عنقریب وہ وقت آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ اس مذہب میں نہ نیچریت کا نشان رہے گا اور نہ نیچر کے تفریط پسند اور اَوہام پرست مخالفوں کا، نہ خوارق کے انکار کرنے والے باقی رہیں گے اور نہ ان میں بیہودہ اور بے اصل اور مخالفِ قرآن روایتوں کو ملانے والے، اور خدا تعالیٰ اس اُمتِ وَسط کے لئے بَین بَین کی راہ زمین پر قائم کر دے گا۔ وہی راہ جس کو قرآن لایا تھا، وہی راہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سکھلائی تھی۔ وہی ہدایت جو ابتداء سے صدیق اور شہید اور صلحاء پاتے رہے۔ یہی ہو گا۔ ضرور یہی ہو گا۔ جس کے کان سننے کے ہوں سنے۔ مبارک وہ لوگ جن پر سیدھی راہ کھولی جائے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد1 صفحہ341تا 342)

جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود رکھی اور پہلا ایک روزہ جلسہ سالانہ 27؍دسمبر 1891ء کو قادیان دارالامان میں منعقد ہوا۔ جس میں 75 خوش قسمت مخلصین سلسلہ نے شرکت کی۔ (جو بہت دور دراز علاقوں سے بھی آئے) پھر ایک اشتہار کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ساری جماعت کو اطلاع دی کہ ہر سال 27،28،29 دسمبر کی تاریخوں میں جلسہ منعقد ہوا کرے گا۔ یہ سلسلہ تقسیم ہند تک جاری رہا۔ 1949ء کو نئے مرکز ربوہ میں 15؍اپریل تا 17؍اپریل جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔ 1966ء کو رمضان المبارک کی وجہ سے جلسہ سالانہ 26 تا 28؍مارچ 1967ء ربوہ میں منعقد ہوا۔ اسی طرح 1967ء کا جلسہ 11تا 13؍جنوری 1968ءمنعقد ہوا۔ پھر 1968ء میں دسمبر میں 26تا28؍دسمبر منعقد ہوا۔ گویا اس سال 2مرتبہ جلسہ منعقد ہوا۔ پھر جلسہ سالانہ 26 تا 28 دسمبر ہی ہوتا تھا، پھر 1971ء میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ کے باعث جلسہ سالانہ نہیں ہوسکا۔ 1983ء تک ربوہ میں سالانہ جلسے ہوتے رہے۔ 1984ء میں ایک ظالمانہ آرڈیننس کی وجہ سے ربوہ میں جلسہ منعقد نہ ہو سکا۔ 1984ء میں حضرت خلیفۃ المسیح کی ہجرت کے بعد 1985ء سے برطانیہ میں جلسے منعقد ہونا شروع ہو گئے۔ 2001ء میں جرمنی میں پہلا عالمی جلسہ من ہائم (Mannheim) کے مقام پر ہوا۔ اب تو کئی سالوں سے اکثر ممالک میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے جلسہ سالانہ ہوتے ہیں، ایک بند تو سو کھلے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

جماعت احمدیہ مسلمہ کے سالانہ جلسہ کا سفر شروع سے کٹھن راستوں اور طویل سفروں کی ایک دلگداز، پرعزم اور عقیدت مندانہ داستان رہا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل قادیان جاتے تو بھی لمبے سفر طے کر کے جاتے تھے۔ قادیان جلسہ سالانہ پر ضلع سیالکوٹ،گوجرانوالہ، شیخوپورہ یا دیگر علاقوں سے لوگ قادیان جاتے تو بہت سے لوگ بدوملہی سے ہی گزر کر جاتےتھے۔ بدوملہی سے رعیہ اور کچھ لوگ راوی دریا یہاں سے کراس کرتے)کچھ لوگ شکرگڑھ کے قریب ڈیرا بابا نانک کے پل کےراستے جاتے۔ جلسہ کا سفر ہر ایک کے لیے ولولہ اور عقیدت مندانہ جذبات کا حامل ہوتا ہے۔

جلسہ پر جانے والے مہمانوں کی ضیافت

مکرم حمیداللہ ظفر صاحب جرمنی کا ایک بیان درج کرنا چاہتا ہوں:
’’تقسیم ہند سے پہلے لوگ دورنزدیک سے میلوں کاسفر پیدل طے کر کے جلسہ سالانہ قادیان میں شامل ہوتے تھے۔ میرے والد صاحب اکثر بتایا کرتے تھے کہ ہم کچھ احمدی اکٹھے ہو کرداتہ زید کا (سیالکوٹ) سے بدوملہی اور پھر وہاں سے دریائے راوی کو جو سردیوں میں خشک ہو جاتا تھا اور کہیں کہیں تھوڑا پانی کھڑا ہوتا تھا عبور کر کے بستی بستی گزر کر قادیان جلسہ پر پہنچا کرتے تھے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبولیتِ دعا کا ایک واقعہ جواس سفر کے دوران ہر سال سُنتے، بڑے مزے سے سنایا کرتے تھے کہ جب ہم ایک جگہ سے گزرتے تو وہاں ایک سکھ صاحب بیٹھے ہوتے تھے۔ ساتھ ہی ان کے کھیت تھے جہاں سےگنا کاٹ کر بیلنے پر اس کا رس نکالا جارہا ہوتا تھااور وہ جلسہ پر جانے والے ہرمہمان کو کہتے گنے کا رس پی کر جائیں۔ ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ تو بتایا کہ میرے والد صاحب کے ہاں اولاد نہیں تھی جبکہ شادی کو ایک لمبا عرصہ گزر چکا تھا۔ کسی نے میرے والد صاحب کو کہاکہ تم قادیان والے مرزاصاحب کے پاس جاؤاوران سے دعا کرواؤتو اللہ تمہیں اولاد دے گا۔ چنانچہ میرے والد صاحب مرزا صاحب کے پاس قادیان گئے اور دعا کے لئے کہا۔ مرزا صاحب نے دعا کا وعدہ کیا اور فرمایا میراا للہ تمہیں اولاد عطا فرمائے گا۔ چنانچہ مرزا صاحب کی دعا قبول ہوئی اور اللہ نے میرے والد کو بیٹا دیا۔اوروہ بیٹا مَیں ہوں۔ میں مرزا صاحب کی دعا سے پیدا ہوا۔ اب میرا اتنا تو فرض بنتاہے کہ میں ان کے مریدوں کی یہ تھوڑی سی خدمت کروں۔‘‘

جلسہ سالانہ ربوہ کاسفر

جلسہ سالانہ ربوہ جہاں منفرد روحانی جوش و ولولہ رکھتاتھا، وہاں عارضی رہائش گاہوں میں رہنابھی سیون اسٹار ہوٹل سے بڑھ کر لگتا تھا۔ مصروف راستوں پہ صبر وتحمل مثالی ہوتا۔ عبادات میں انہماک و تضرع۔ کھانوں کا اعلیٰ روایتی معیار و ذائقہ۔ کٹھن راستوں کا طویل سفر تھکان سے بالاتر ہوتا۔ سفر اختیار کرتے وقت ہر ایک کے دل میں خیال آتا تھا کہ خدا تعالیٰ کے مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بن رہے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔

نارووال اسپیشل ٹرین

پاکستان کے سب علاقوں سے ہی جلسہ ربوہ کیلئے اسپیشل ٹرینیں چلتی تھیں، مگر نارووال اسپیشل ٹرین، میرے خیال میں سب سے بڑی ٹرین تھی۔ اس ٹرین کو سجایا جاتا تھا، مسافروں کی یعنی عازمین جلسہ سالانہ کی ضروریات کے لیے ہر طرح کا خیال رکھا جاتا تھا، یہ سب کام بھی ایک منظم طریق سے قائد خدام الاحمدیہ ’’بدوملہی‘‘ کے ذمہ ہوتا تھا۔ جن کو امرائے حلقہ جات کی معاونت بھی حاصل ہوتی تھی۔

ٹرین کے درمیان میں انتظامیہ کیلئے کمپارٹمنٹ ہوتا تھا جس سے لاؤڈاسپیکر اور دوسرے انتظام کنٹرول کیے جاتے تھے۔ جو میرے والد حکیم محمد امین صاحب مرحوم کے سپرد ہوتے تھے۔ وہی جھنڈیوں، قمقموں اور بینرز سے سجا کراس کمپارٹمنٹ میں لاؤڈا سپیکر کا انتظام کرتے۔ شام ہوتی تو ٹرین کے آرائشی قمقمے اور روشن لڑیاں جنریٹر سے منسلک کر دیئے جاتے۔ ابا جان اور مستعد خدام نے ایک سٹیشن پہ 4 بوگیوں کو کنیکٹ کیا تو اگلے پہ چار کو، ساتھ ٹرین کا عملہ بھی تعاون کرتا تھا۔

میرے تایا ڈاکٹر لطیف احمد صاحب، خواجہ مسعود احمد صاحب، امانت اللہ صاحب نجم اور سب سے بڑھ کر ہمارے صدر جماعت نیک سیرت عبدالغنی صاحب مرحوم، ماسٹر غلام احمد صاحب مرحوم سیکریٹری امور عامہ سفر میں کنٹرول اور ٹرین کیلئے ریلوے حکام کے ساتھ بھی روابط میں اہم کردار ادا کرتےرہے۔ضلع سیالکوٹ (تب ضلع نارووال بھی ضلع سیالکوٹ کا حصہ تھا) کے کچھ امرائےحلقہ بدوملہی سمیت باری باری سفر کے امراء قافلہ بنتے تھے۔ منتظمین ٹرین، خدمت خلق کے کارکنان اور مقرر کئے گئےعہدیداران کی اطاعت کی جاتی۔

ٹرین میں اعلانات ہوتے، نعرے لگتے، نظموں کے مطالبے کہ فلاں نظم فلاں پڑھے۔، نظم پڑھنے والوں میں ایک اچھی آواز عبدالقدوس قمر صاحب کی تھی۔ جنہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ سپیشل نارووال ٹرین کے اہم کردار تھے۔

جب سکھیکی، چوہڑ کانا (فاروق آباد)، چنیوٹ جیسے اسٹیشن آتے تو گالی گلوچ اور پتھر برسانے والے وہاں پہنچے ہوتے۔ تب لاؤڈ ا سپیکر سے اعلان کیا جاتا کہ کھڑکیاں بند کی جائیں اور محمدﷺ کے پیروکار صبر سے اس مرحلے سے گزر جاتے۔

ٹرین میں نہ فرسٹ اور سیکنڈ کلاس ہوتی، نہ کھانے کا کمپارٹمنٹ اور نہ کوئی اسپیشل سہولت، سب کیلئے ایک جیسی سیٹیں، سیٹ ملے نہ ملے ٹرین میں فرش پہ بھی بے شمار بیٹھے ہوتے تھے۔مگر سب خوش، مطمئن اورپرجوش برکات کے حصول کے مبارک للہی سفر میں شریک۔

یہ ٹرین نارووال سے، شاہدرہ باغ جنکشن، پھر شیخوپورہ، سکھیکی، چوہڑ کانا (فاروق آباد) سے لمبے روٹ پہ سانگلہ ہل، چک جھمرہ جنکشن سے ہوتی ہوئی رات نو بجے کے قریب چنیوٹ کی طرف مڑتی، پھر ربوہ پہنچتی تھی۔

مبارک للّٰہی سفر کا آغاز عبادات سے

نارووال مسجد میں بھی ایک دن پہلے ہی شکرگڑھ،ظفروال اور قلعہ احمد آباد کے علاقوں سے احمدی پہنچے ہوتے۔ گھٹیالیاں، داتہ زیدکا،تلونڈی بھنڈراں، بھوڈی، تلواڑہ، عہدی پور، کوٹ گھمن، دھرگ میانہ،خانہ میانوالی، کھوکھوالی،قلعہ کالروالہ کے علاقہ کی جماعتوں کا رات کو بدوملہی مسجد میں اجتماع ہوتا۔ لنگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بابرکت آغاز ہو جاتا۔صبح تہجد، فجر، درس اور ناشتہ کے بعد ا سٹیشن کو روانگی ہوتی۔

سب مسافر صبح نو بجے سے قبل بدوملہی اسٹیشن پہ پہنچ جاتے، مقامی خدام مدد کرتے تھے۔ مسافروں کی کثیر تعداد ہونے کی وجہ سے، خدام کو ٹکٹ خریدنے کیلئے ڈیوٹی پہ تعین کیا جاتا تھااور کئی دلچسپ باتوں سے ایک مجھے یاد ہے۔ نارووال سے بھی اور بدوملہی سے بھی ربوہ کا کرایہ پانچ روپے ہی تھا، اسٹیشن ماسٹر کو بھی پہلے بتا دیا جاتا تھا کہ اتنی ٹکٹ دے دیں، اور چند خدام ہی لے کر بانٹ دیتے تھے۔پانچ روپے ٹکٹ ہونے کے باوجود بہت سے مسافروں کے مالی حالات کمزور ہونے پہ بہت سے مخیر حضرات خود ہی آواز دے کر کہہ دیتے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں۔

جماعتوں کا جم غفیر
اپنے قریبی اسٹیشنوں سے سوار ہوتا

نارووال کے بعد رعیہ خاص اور اگلی بڑی تعداد داؤد اسٹیشن سے سوار ہوتی جو ڈیریانوالہ اور ملحقہ علاقوں کے مکین ہوتے۔ رعیہ خاص،یہ گاؤں حضرت سید عبدالستار شاہ رضی اللہ عنہ کے ہسپتال کی وجہ سے بھول نہیں سکتا۔یہاں سے بھی مند پورہ، پمپ احمد آباد، ساہووال، نارنگ چینہ،رعیہ تھانہ،رعیہ گاؤں، داعی والہ، باٹھانوالہ اور ملحقہ بستیوں کے مکین اسٹیشن آتے۔

حضرت چوہدری سر ظفراللہ خان رضی اللہ عنہ
کے عزیزو اقارب

ایک قابل ذکر بات کہ حضرت چوہدری سر ظفراللہ خان رضی اللہ عنہ کے سب عزیز بھی اسی سفر میں داتہ زیدکا، اور ملحقہ علاقوں سے ہمارے ساتھ نارووال اسپیشل ٹرین میں سوار ہوتے۔

راستوں کے حقوق اور اعلیٰ تربیت بھی تبلیغ ہے

آنحضرت ﷺ نے اس کو بھی ایمان کا حصہ قرار دیا ہے کہ رستوں کا حق ادا کرو۔ ٹرین کئی بار سنسان علاقوں میں رک جاتی اور گنے کا سیزن ہوتا۔انتظامیہ نظر بھی رکھتی مگر کبھی ہوا نہیں کہ لوگ کھیتوں سے گنے توڑیں، جو اس زمانہ میں عام سی چیز تھی۔صرف جلسہ دیکھنے جانے والے ایک غیر احمدی نے بتایا کہ مجھے احمدی مسافروں کے گنا نہ توڑنے نے ازحد متاثر کیا تھا۔ گو یہ سفرمیں نظر آنے والے اخلاق کی وجہ سے ہی احمدی ہو چکے تھے۔ یہ بات بعد میں بھی مجھے بتائی کہ کسی نے گنا توڑنے کی کوشش کی مگر انتظامیہ نے اچھے الفاظ میں نصیحت کی۔

نماز ظہر اور دوپہر کا کھانا

شاہدرہ جنکشن پر بہت دیر ٹرین کو رکنا پڑتا اور راستہ ملنے پر ٹرین شیخوپورہ کے ٹریک روٹ کوپکڑتی۔یہاں ہی نماز ظہر کا اہتمام ہوتا۔ دوپہر کے وقت جب ٹرین شیخوپورہ کے قریب سے گزرتی تو دوپہر کے کھانے کا اسپیکر سے اعلان ہوتا۔ گھروں سے پراٹھے سالن، دیہاتی سوغاتوں کی پٹاریاں، مغزیات ملا گڑ، مختلف قسم کی پنجیریاں، پنیاں، خطائی، رس، ابلے انڈے، مالٹے، مونگ پھلی، ریوڑی، چلغوزے اور بہت کچھ۔ اعلان ہو رہے ہوتے۔ ’’بوگی نمبر 8 میں 34 پراٹھے زیادہ ہیں۔ سالن بھی ہے۔ جس کوضرورت ہے وہاں پہنچا دیئے جائیں گے۔ پانی وافر مقدار بوگی نمبر 12 میں ہے جس کو ضرورت ہے وہاں پہنچا دیا جائے گا‘‘ گویا ہر بوگی کی ضروریات کی اطلاع سپیکر والے کمپارٹمنٹ میں ہوتی۔ یہ روابط شخصی ہوتے تھے۔ کچھ خدام کی صرف یہ ڈیوٹی ہوتی کہ وہ اسٹیشن پر ٹرین رکتے ہی اسٹیشن کے نلکوں سے پانی بھرلیں تاکہ دوران سفر کام آئے۔ بہت خوبصورت ماحول، ہر ایک دوسرے کی مدد کو پیش پیش، ہر ایک دوسرے پر فدا۔

دوپہر کے کھانے کے کچھ بعد بعض اور اسٹیشنوں پر جب ٹرین رکتی خاص کر جب جنکشن آتا تو ٹرین کافی دیر رکتی۔ تب کانوں میں آوازیں آتیں۔ ’’سموے ایک روپے کے آٹھ‘‘ ’’پکوڑے ایک روپے کا بڑا لفافحہ‘‘، ’’مالٹے ایک روپے کے بارہ‘‘ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا اور لوگ بھی خوب خریدتے۔

احمدی کی ایمانداری کا اثر غیروں پر

اسٹیشنوں کے دکانداروں اور اسٹال والوں کو بھی پتہ ہوتا کہ نارووال کی اسپیشل ٹرین آرہی ہے اور اس طرح کی چیزوں کی بڑے پیمانے پہ فروخت ان کی بھی عید کا باعث ہوتی۔ چائے کے عادی لوگ بھی اپنی ضرورت پوری کرنے میں دیر نہ لگاتے۔ دکاندار بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ رقم اور خالی کپ واپس آنے میں محنت درکار نہیں ہوگی، یہ سب احمدی مسافر خود ہی دے جائیں گے۔

ربوہ پہنچنے کا جوش

جب احمدی مسافر ربوہ کی قربت،جوش ایمانی اور دعاؤں کے ساتھ دریائے چناب کے پل کو کراس کرتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان بننے اور ان کی دعاؤں کے وارث ہونے کی خوشی میں چنیوٹ کے پتھر اور گالیاں یاد نہ رہتیں۔ دریائے چناب پر ٹرین پہنچنے پر نعرہ ہائے حمد اور شکر کا وہ جوش اور ولولہ الفاظ میں ڈھل نہیں سکتا، اس کی کیفیت کابیان ممکن نہیں۔ چنیوٹ بھول کر خلافت کے دیوانے تکبیر و تحلیل میں مصروف ہوتے۔

استقبال

ریلوےاسٹیشن ربوہ پہنچنے پرجلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کا اَھْلاً وَّ سَھْلاً وَّ مَرْحَباً اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ کی روح آفریں اور پرجوش صداؤں سے استقبال کیا جاتا۔ ٹارچیں پکڑے خدام سامان اور بچے اٹھا لیتے اور قیام گاہوں میں پہنچا دیتے۔ اقامت گاہوں تک پہنچنے کا عمل بھی منٹوں میں ایسے ہوتا کہ جیسے سفر کی تھکاوٹ ہے ہی نہیں۔ مہمان رہائش گاہوں پہ فوری مخصوص خوشبودار اور انتہائی ذائقہ دار لنگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے لطف اندوزہوتے۔ سب بلا تامل صبح تہجد ادا کرتے۔

سفر کی برکات سے نیک فطرت ہدایت پا جاتے

سارے سفر میں ایک دوسرے سے تعاون اور ربوہ کے اسٹیشن پہ اس اعلیٰ خدمت خلق کی مثال دنیا کو حیران کرتی اور بہت سی سعادت مند اور نیک تشنہ روحیں جن کو ہم اپنے ساتھ جلسہ پہ لے کر جاتے۔ ابھی انہوں نے جلسہ اگلے دن صبح دیکھنا ہوتا مگر وہ احمدیت کی آغوش میں آجاتیں۔

مجھے اپنے دادا جان حکیم محمد شریف مرحوم کی تبلیغ کی کچھ باتیں یاد ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ ’’اگر شہر میں تھانیدار آئے اور کہے میں تھانیدار ہوں، سیدھے ہو جاؤ۔ تو سب لوگ مانیں گے اور یقیناً ان کے ذہن میں یہ خیال ہوگا کہ اگر یہ سچا نہیں تو آئی جی پوچھ لے گا‘‘ پھر کہتے۔ ’’اور یہی سمجھو گے کہ اگر سچا ہونے پہ اطاعت نہ کی تو مار ہی پڑے گی۔اب میری بات سمجھو کہ آنے والا کہہ رہا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوں۔ تو کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید نہیں کی؟ اگر جھوٹا ہوتا تو کیوں نہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو ختم کردیتا؟‘‘۔ تب سننے والوں کے چہروں پہ شعور چمکتا۔ تمام بات پندرہ منٹ سے پہلے ختم ہو جاتی اور نیک فطرت ضرور ہدایت پا جاتے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ

نارووال جلسہ سالانہ اسپیشل ٹرین کے ایک دن کاسفر بھی ایسا ہے کہ اس سفر کی اعلیٰ قدروں اور مثالوں کو نہیں لکھا جا سکتا۔ یہ ٹرین بہت بڑی ہوتی تھی مگر احمدی مسافر جگہ سے زیادہ ہوتے۔ لیکن جگہ کی تنگی دلوں کو تنگ نہ کرپاتی۔ للہی سفر میں ایک دوسرے سے پیار، محبت، دلی تعلق، ایک دوسرے کی خدمت یہ کسی علاقے کی اقدار نہیں ہیں بلکہ یہ سب تو جماعت احمدیہ مسلمہ کا خاصہ ہے۔

ٹرین کی جگہ اب جہاز ہیں

پاکستان میں ظلم سے یہ ٹرین اور جلسے تو بند کردیئے گئے لیکن اب ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے ملکوں ملکوں جلسے شروع کروا دیئے ہیں۔ ٹرین کی جگہ ہوائی جہاز اور بعض اوقات اسپیشل فلائیٹس نے لے لی ہے۔

یہ چند سطریں لکھنےکا مقصد تو ذہن کے چند نہ مٹنے والے نقوش کی جھلک دکھانا ہے، بچے اپنے بڑوں کے اخلاق کو جانیں گے، اور اپنی نسلوں کو بتائیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایده الله فرماتےہیں:
’’یہ جلسے جو ہر سال دنیا کے مختلف ممالک میں وہاں کی جماعتیں منعقد کرتی ہیں اُس جلسے کی تتبع میں ہیں جن کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا۔ جس کا مقصد افرادِ جماعت کو اُن حقیقی برکات کا وارث بنانا تھا جو افرادِ جماعت کی دنیا و عاقبت سنوارنے کا باعث بنیں اور جن کو وہ اپنی زندگیوں کا مستقل حصہ بنا کر ان برکات کے وارث بنتے چلے جائیں اور یہ برکات حقیقی تقویٰ اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسہ میں شامل ہونے والے ہر احمدی سے اس معیار کے حاصل کرنے کی توقع کی ہے اور ان معیاروں کو حاصل کرنے کی طرف توجہ نہ دینے والوں سے سخت بیزاری کا اظہار فرمایا ہے۔

پس ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُس دلی خواہش کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جو جلسہ میں شامل ہونے والوں کی حالت کے بارے میں آپ کے دل میں تھی، اُس مقصد کے حصول کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے جو جلسہ سالانہ کے منعقد کرنے کا آپ کے دل میں تھا اور جس کا اظہار آپ نے ان الفاظ میں بھی کیا ہے کہ اس دنیا سے زیادہ آخرت کی طرف توجہ ہو۔‘‘

(خطباتِ مسرور۔جلد10 صفحہ395،394)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو جلسہ کے مقاصد کو پورا کرنے والا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کا حقیقی وارث بنائے۔ آمین

(ڈاکٹر نصیر احمد۔ ویلز برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

مقابلہ نظم بزبان اردو جامعۃ المبشرین گھانا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اکتوبر 2021