• 15 اپریل, 2024

قریش کی وجہ تسمیہ اور تعارف (قسط 1)

قریش کی وجہ تسمیہ اور تعارف
از حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ
قسط 1

’’قریش مکہ کی قدیم قربانی اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے مورخہ11؍ اگست 2022ء کو روزنامہ الفضل آن لائن میں ایک مضمون شائع ہوا۔

https://www.alfazlonline.org/11/08/2022/66265/

آج کے مضمون میں قبیلہ قریش کی کچھ مزید وضاحت سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی بیان فرمودہ عدیم المثال تفسیر ’’تفسیر کبیر‘‘ کی جلد دس سے پیش خدمت ہے۔

(ایڈیٹر)

لفظ قریش کے معنیٰ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں:
مَیں لفظِ قریش کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں قُرَیْش کا لفظ قَرَش سے نکلاہے جس کا مضارع دونوں طرح آتا ہے قَرَشَ یَقْرُشُ اورقَرَشَ یَقْرِشُ۔ قَرْشًا اِن کا مصدر ہے۔اور قَرَشَ کے معنے ہوتے ہیں قَطَعَہٗ اُس کو کاٹ دیا۔اور قَرَشَ الشَیْءَ کے معنے ہوتے ہیں جَمَعَہٗ مِنْ ھُنَا وَمِنْ ھُنَا وَضَمَّ بَعضَہٗ اِلیٰ بَعْضٍ۔چیز کو کچھ یہاں سے اور کچھ وہاں سے لیا اور اکٹھا کر کے رکھ دیا۔اور قَرَشَ مِنَ الطَّعَا مِ کے معنے ہوتے ہیں اِصَابَ مِنْہُ قَلِیْلاً تھوڑا سا کھانا کھا لیا۔ اور قَرَشَ الْجَیْشَ بِالرِّ مَاحِ کے معنے ہوتے ہیں طَعْنُوْا بِھَا۔ لشکر نے نیزوں کے ساتھ اپنے دشمن کو مارا اور قرَشَ فُلَا نٌ لِعَیَالِہٖ کے معنے ہوتے ہیں کَسَبَ۔اُ س نے اپنے لئے یا اپنے خاندان کے لئے کمائی کی۔ اِسی سے ایک اَور لفظ قِرْش نکلا ہے جس کےمتعلق لکھا ہے دَٓابَّۃٌ تَکُوْنُ فِی الْبَحْرِ۔قرش سمندر میں رہنے والاایک جانور ہے۔ لَاتَدَعُ دَٓابَّۃً اِلَّا اَکَلَتْھَا وہ سب جانوروں کو کھا جاتا ہے۔ فَجَمِیْعُ الدَّوَّابِ تَخَافُھُا۔ اِس وجہ سے سارے سمندری جانور اُس سے ڈرتے ہیں وَقَبِیْلَۃٌمِّنْ الْعَرَبِ اور اس کےمعنے عرب کے ایک قبیلہ کے بھی ہیں۔وَاِنْ اَرَدْتَّ بِقُرَیْشِ الْحَیَّ صَرَفْتَہٗ اور اگر قریش کے معنے تم حی کے لو(حی کے معنے بھی قبیلہ کے ہوتے ہیں)تو پھر یہ لفظ منصرف ہو گا جیسے اِسی سُورۃ میں آتا ہے لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ اِس میں ‘ش’ کے نیچے تنوین آئی ہے یعنی اس جگہ یہ لفظ منصرف استعمال ہوا ہے وَاِنْ اَرَدْتَّ الْقَبَیْلَۃَ لَمْ تَصْرِفْہُ لیکن اگر قبیلہ کا لفظ مراد لو تو پھر یہ غیر منصرف ہو گا۔ یعنی قُرَیْش کے آخر میں تنوین نہ آسکے گی اور نہ اِس کے نیچے زیر آسکے گی۔

اِس قبیلہ کے آدمیوں کو قُرَشِیٌ بھی کہتے ہیں اور قُریْشیٌ بھی کہتے ہیں۔ سیبویہ جو نحوکے بہت بڑے ماہر اور امام سمجھے جاتے ہیں اُن کا یہ خیال ہے کہ حی سمجھ کر منصرف بنانا اصل قاعدہ ہے۔لیکن وہ کہتے ہیں کہ اسے قبیلہ قرار دیکر غیر منصرف بنانا بھی جائز ہے۔ اِس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا گویا چاہیں تو قُرَیْشَ پڑھ لیں اور اسے منصرف نہ بنائیں اِس صورت میں علَم اور تانیث دو وجہیں پیدا ہو جائیں گی جن کی وجہ سے یہ غیر منصرف ہو جائے گا۔

قِرش کے متعلق مفسّرین اپنے زمانہ کے ملّاحوں کی رواتیوں کی بناء پر لکھتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا سمندری جانور ہے جو کشتیوں پر حملہ کرتا اور انہیں مار کر اُلٹا دیتا ہے اور سوائے آگ اور روشنی کے اور کسی چیز سے نہیں ڈرتا۔ جب یہ جانور حملہ کرے تو لوگ آگ جلا کر اُس کے مُنہ کے آگے رکھ دیتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اِس بیان سے جو لُغت میں آیا ہے وھیل مچھلی مراد ہے۔ وھیل مچھلی ہی ایک ایسی چیز ہے جو زورسے اپنی دُم مار کر جہازوں کو توڑ دیتی ہے۔یہ مچھلی افریقہ کے ساحل پر بہت ہوتی ہے اور کراچی کے قریب بھی کبھی کبھی آجاتی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ یہ بحیرٔہ احمر کے آگے سے گزرتی ہے اور عرب کا علاقہ بحیرٔہ احمر کا ہی ہے۔یہ روایت اِس بات کا ثبوت ہے کہ وھیل مچھلی عرب کے سمندر کے کناروں پر بھی کبھی کبھی دیکھی جاتی ہے۔چونکہ کراچی کے پاس بعض دفعہ وھیل مچھلی دیکھی گئی ہے۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیرٔہ احمر کے پاس سے گز رکر افریقہ کے ساحلوں سے یہ مچھلی گزرتی ہے یا پھر ہم قِرْش سے مراد شارک مچھلی بھی لے سکتے ہیں۔شارک بھی چھوٹی کشتیوں پر حملہ کر کے اُن کو اُلٹا دیتی ہے۔ یہ تو ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ باقی سارے جانوروں کو کھا جاتی ہے یا نہیں مگر عرب لوگ ممکن ہےکہ جن مچھلیوں سے آشنا تھے اُنہیں شارک کھا جاتی ہو۔

قریش کے متعلق عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اُنہیں اس مچھلی کی وجہ سے ہی قریش کہتے ہیں۔ چنانچہ مفسّرین نے اِس بارہ میں حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت درج کی ہے۔ اِسی طرح بعض اور بڑے بڑے عربوں کے اقوال بھی درج کئے ہیں چنانچہ روایات میں ہے کہ حضرت معاویہؓ نے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا کہ کیا تم بتا سکتے ہو کہ قریش کو قریش کیوں کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ قریش مچھلی کی وجہ سے جو سارے سمندری جانوروں سے بڑی ہوتی ہےاور اُن کو کھا جاتی ہے مگر اُسے کوئی نہیں کھا سکتا چونکہ قریش قبیلہ بھی عرب میں سب سے بڑا ہے اور سارے عرب قبائل اس سے ڈرتے ہیں اِس لئے اسے بھی قریش کہنے لگ گئے ہیں۔ اُنہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا تم اِس کا ثبوت عرب شاعروں کے کلام سے دے سکتے ہو۔یعنی یہ کیوں نہ سمجھ لیا جائے کہ تم نے یہ بات اپنے پاس سے بنائی ہے کہ اُن کا قریش نام اس وجہ سے تھا۔اگر یہ بات تم نے اپنے پاس سے نہیں بنائی تو عرب شعراء کا کوئی کلام اپنی تائید میں پیش کرو۔ اِس پر حضرت ابن عباسؓ نے کچھ شعر پڑھے جن میں یہ ذکر آتا تھا کہ قریش کو اِس لئے قریش کہتے ہیں کہ جس طرح قِرش مچھلی باقی تمام سمندری جانوروں پر غالب آجاتی ہے اِسی طرح قریش بھی تمام قبائل عرب پر غالب ہیں۔ مگر میرے اپنے خیال میں یہ روایت صحیح نہیں۔اِس لئے کہ جو نظم بتائی جاتی ہے اُس کے دیکھنے سے صاف پتہ لگتا ہے کہ وہ بنا وٹی ہے۔کیونکہ اُس میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ عنقریب ایک نبی ظاہر ہو گا جو تمام عرب کا مرجع اور ملجاءوماویٰ ہو گا۔اگر وہ اس قسم کے اشعار کہا کرتے تھے تو رسول کریم ﷺ کا انکار ہی کس طرح کر سکتے تھے۔اُنہوں نے تو بڑی بڑی مخالفتیں کیں اور رسول کریمﷺکا سخت مقابلہ کیا۔پس میں سمجھتا ہوں کہ یہ روایت بناوٹی ہے۔لیکن اِس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عربوں میں یہ خیال تھا اور اس کا تاریخوں سے بھی ثبوت ملتا ہے کہ قریش کا قریش نام اس جانور کی وجہ سے پڑا مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُنہیں قریش کیوں کہا گیا۔ اُس جانور کا نام تو قِرش ہے؟اِس کے دو جواب دئے گئے ہیں۔ایک تو یہ کہ جب اتنے بڑے جانور کا نام قِرش ہے جس سے تمام سمندری جانور ڈرتے ہیں اور جو اُن سب کو کھا جاتا ہے تو اِس چھوٹے سے قبیلہ کا نام تو قریش یعنی چھوٹا قِرش ہی موزون تھا۔گویا اُن کے نزدیک قریش کو قریش اِس لئے کہتے ہیں کہ یہ چھوٹا سا قبیلہ تھا۔اِس لئے لوگوں نے قِرش کہنے کی بجائے اُسے قریش کہنا شروع کر دیا جس سے مراد یہ ہے کہ یہ بھی ایک چھوٹی سی وھیل مچھلی ہے۔مگر بعضوں نے کہا ہے کہ یہ بات نہیں بلکہ تصغیر کا صیغہ بعض دفعہ اظہار عظمت کے لئے بھی آتا ہے۔اِس لئے قریش کے معنے بڑی قرش یعنی بڑی وھیل مچھلی کے ہیں اور مراد یہ ہے کہ یہ بڑی قوم ہے۔ مگر یہ سارے معنےایسے ہیں جن میں ایک حد تک تکّلف پایا جاتا ہے۔میَں سمجھتا ہوں کہ گویہ بات صحابہؓ سے بھی ثابت ہے اور عربوں سے بھی کہ قریش کو قریش اِس جانور کی وجہ سے کہتے ہیں مگر صحابہؓ کے زمانہ میں یہ نام نہیں رکھا گیا بلکہ اُن کے باپ دادا کے زمانہ سے یہ نام چلا آتا ہے۔پھر نہ قرآن کریم نے یہ معنے بتائے ہیں اور نہ رسول کریم ﷺنے بتائے ہیں۔اگر تو وہ بتا دیتے کہ قریش کو قِرش مچھلی کی وجہ سے قریش کہا جاتا ہے تو ہم کہہ دیتے کہ آمنّا وصدّقنا۔اور ہم سمجھ لیتے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کوغیب کا علم حاصل ہے اور اُس کے توسط سے خدا تعالیٰ کے رسول کو بھی بعض امور میں غیب کا علم حاصل ہو جاتا ہے اِس لئے انہوں نے جو معنے بتائے ہیں وہی صحیح ہیں مگر رسول کریم ﷺسے کوئی ایسی روایت مصدّقہ تو الگ رہی ضعیف بھی میَں نے نہیں دیکھی جس میں قریش کی وجہ تسمیہ یہ بتائی گئی ہو۔باقی رہے صحابہؓ سو جو بات انہوں نے قوم سے سُنی وہ انہوں نےآگے بیان کر دی۔ پھر ضروری نہیں کہ یہ روایت صحیح ہو ایسی روایتیں صحیح بھی ہوتی ہیں اور غلط بھی ہوتی ہیں ہم پابند نہیں کہ محض اس وجہ سے کہ اُن کی طرف یہ روایت منسوب ہوتی ہے اِسے درست تسلیم کر لیں اور قریش کی وجہ تسمیہ اِسی قِرش کو قرار دیں۔

میرا اپنا خیال ہے کہ قریش کا لفظ قَرَشَ سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں اِدھراُدھر سے جمع کیا۔ علاّمہ قرطبی جو سپین کے ایک بہت بڑے عالم گزرے ہیں انہوں نے بھی اپنی تفسیر میں یہی معنے لکھے ہیں۔میں تو پہلے بھی یہی بیان کرتا تھا مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ علّامہ قرطبی بھی اِس کے یہی معنے کرتے ہیں۔ اب مجھے اُن کا حوالہ مل گیا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ اِن معنوں کا میں موجد نہیں بلکہ اِس بارہ میں میرا علّامہ قرطبی سے توارد ہو گیا ہے۔ علّامہ قرطبی سپینش مفسّر تھے۔اور یہ ایک عجیب بات ہے جو خدا تعالیٰ کی کسی حکمت پر دلالت کرتی ہے(شاید اس میں یہ بتایا گیا ہو کہ آئندہ زمانہ میں یورپ پھر اسی رنگ میں ترقی کرنے والا ہے)کہ سپین کے مسلمان مفسّربغداد کے مصنّفوں کی نسبت بہت زیادہ معقول لکھنے والے ہیں۔ چوٹی کی کتابیں جو مختلف علوم وفنون سے تعلق رکھتی ہیں وہ سب کی سب سپین میں لکھی گئی ہیں سوائے حدیث کے کہ حدیث وہاں نہیں گئی۔اس لئے کہ حدیث کا علم انہی لوگوں سے نکلنا تھا جو رسول کریم ﷺکے پاس رہنے والے تھے اور وہ وہی تھے جو بغداد کے رہنے والے تھے یا دمشق کے رہنے والے تھے یہی وجہ ہے کہ سپین میں حدیث کی کوئی کتاب اُس پایہ کی نہیں لکھی گئی جس پایہ کی کتابیں عرب کے یا اُس کے پاس کے علاقوں میں لکھی گئی ہیں مگر باقی جتنے علوم ہیں اُن پر سپین کے لوگوں کی طرف سے بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔مثلاً فلسفہ میں ابن رُشد جو چوٹی کا فلسفی سمجھا جاتا ہے سپین کا رہنے والا تھا۔تصوّف میں جس شخص کو تمام دنیا چوٹی کے مقام پر سمجھتی ہے یعنی حضرت محی الدین صاحب ابن عربی، وہ ہسپانیہ کے رہنے والے تھے۔ فقہ کے متعلق جو آخری کلام سمجھا جاتا ہے وہ علّامہ ابن حجر کا ہے اورعلّامہ ابن حجر بھی سپینش تھے۔مفسّرین میں قرطبی جو نہایت اعلیٰ درجہ کا مفسّر ہے وہ بھی اندلسی ہے۔ اور علّامہ ابو حیان جو بحرمحیط کے مصنّف ہیں وہ بھی اندلسی ہیں میرے نزدیک پُرانی تفسیروں میں سے بحر محیط کے پایہ کی کوئی اور تفسیرنہیں۔ علاّمہ ابوحیان احمدّیت سے پہلے ایک ہی شخص ہوئے ہیں جنہوں نے قرآن کریم میں ترتیب کا دعویٰ کیا ہے اور انہوں نے کوشش کی ہے کہ اپنے اِس دعویٰ کو ثابت کریں اور گو وہ ہمارے مقام تک نہ پہنچے ہوں مگر بہر حال وہ ایک ہی مفسّر ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ قرآن بے جوڑ کتاب نہیں بلکہ سارے قرآن میں ایک ترتیب پائی جاتی ہے۔اسی طرح نحو اور ادب میں بھی وہ امام کہلاتے ہیں،بہر حال اندلسی مفسّرقرطبی نے بھی یہی معنے کئے ہیں۔افسوس ہے کہ اُن کی ساری تفسیر چھپی نہیں۔مصر میں اُن کی تفسیر کی ابھی صرف دو تین جلدیں چھپی ہیں جو میرے پاس موجود ہیں باقی تفسیر ابھی تک نہیں چھپی۔ مگر جو چھپی ہے وہ اتنی خطر ناک طور پر غلط ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ کوئی حدیث ایسی نہیں جو صحیح لکھی ہوئی ہوساری کی ساری غلط ہیں۔پہلے انسان اعتبار کر کے حدیث نقل کر لیتا ہے مگر بعد میں وہ غلط نکل آتی ہے۔معلوم ہوتا ہے اُس تفسیر کو چھا پتے وقت احتیاط سے کام نہیں لیا گیا۔ بہر حال قرطبی نے بھی یہی کہا ہے کہ قریش، قَرَشَ سے نکلاہے جس کے معنے ہیں اِدھراُدھر سے جمع کیا۔ذبیانی نے بھی یہ معنے کئے ہیں مگر ساتھ ہی دوسرے معنے بھی لکھ دئے ہیں۔

قریش سے مراد

قریش دراصل نام ہے بنو نضربن کنانہ کا۔جیسے خود رسول کریمﷺ سے یہ مروی ہے۔چنانچہ آپ سے جب سوال کیا گیا کہ قریش کن کو کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا اَلْقُرَیْشُ مِنْ وُّلْدِ النَّضْر۔ نضر کی جو اولاد ہے وُہ قریشی کہلاتی ہے۔اِسی طرح احادیث میں آتا ہے قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی کَنَالَۃَ مِنْ بَنِیْ اِسْمٰعِیْلَ وَاصْطَفٰی مِنْ کَنَالَۃَ قُرَیْشًا وَاصْطَفٰی مِنْ قُرَیْشٍ بَنِیْ ھَاشَمَ وَاصْطَفَانِیْ مِنْ بَنِیْ ھَاشَمَ (سراج منیر)یعنی اللہ تعالیٰ نے کنانہ کو بنی اسمٰعیل میں سے فضیلت دی۔کنانہ میں سے قریش قبیلہ کو فضیلت دی۔قریش قبیلہ میں سےاللہ تعالیٰ نے نبوہاشم کو فضیلت دی اور بنو ہاشم میں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے فضیلت دی۔اِس حدیث میں رسول کریم ﷺنے قریش کو بنو کنا نہ قرار دیا ہے اور دوسری حدیث میں آتا ہے کہ مِنْ وُّلْدِ النَّضْر۔دراصل کنانہ کے کئی بیٹے تھے۔رسول کریم ﷺنے یہ تشریح فرمادی کہ اُن میں سے صرف نضر کی اولاد قریش کہلاتی ہے ساری اولاد نہیں۔

بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قریش صرف مالک بن نضر کی اولاد کا نام ہے۔ بلکہ بعض نے یُوں بھی کہا ہے کہ نضر کی اولاد میں سے صرف مالک کی ہی اولاد چلی ہے باقی کی نہیں۔ مگر یہ تاریخی شعبد ہ بازی ہے جو مذہبی جھگڑوں سے تعلق رکھتی ہے چنانچہ جب ہم رواتیوں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شیعوں کی روایت ہے۔چونکہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ ،مالک بن نضر کی اولاد نہیں بلکہ ایک دوسرے بیٹے کی اولاد ہیں۔اِس لئے اُن کو قریش میں سے نکالنے کےلئے اُن کے دشمنوں نے یہ روایت گھڑی ہے وہ اِس روایت کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ دیکھورسول کریم ﷺنے فرمایا ہے اَلْاَ ئِمَۃُ مِنْ قُرَیْشٍ مگر ابوبکرؓ اور عمرؓ دونوں قریش میں سے نہیں۔چنانچہ اُنہوں نے اِس قسم کی روایتیں گھڑ کر شامل کر دیں کہ نضر کی اولاد میں سے صرف مالک کی اولاد چلی ہے اِس لئے یہ قریشی ہی نہیں ہیں۔پس یہ حدیث شیعہ سُنّی جھگڑے کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ قصی بن حکیم بن نضر کی اولاد تھے۔پس اُن کو قریشیوں میں سے نکالنے کے لئے یہ روایت وضع کی گئی ہے کہ قریش صرف مالک بن نضر کی اولاد کا نام ہے۔

قبیلہ قریش کی مکہ میں آباد ہونے کی غرض

حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے تو حضرت اسمٰعیلؑ کو خانہ کعبہ میں اِس لئے بٹھا یا تھا کہ وہ خانۂ کعبہ کی حفاظت کریں۔ لیکن حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد میں آگے یہ جوش دیر تک قائم نہ رہا جیسے آج بعض سیّد چور بھی ملتے ہیں اور ڈاکو بھی ملتے ہیں۔کچھ نسل تک تو انہوں نے اِس وعدہ کو یاد رکھا لیکن اِس کے بعد وہ اس وعدے کو بھول گئے اور حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد سارے عرب میں پھیل گئی۔بلکہ عرب کے علاوہ شام تک بھی چلی گئی۔ آخر قرب زمانۂ نبویؐ میں قصّی بن حکیم بن نضر کے دل میں خیال آیا کہ ابراہیمی وعدہ کو تو ہم پورا نہیں کر رہے ہمارے دادا نے تو یہ کہا تھا کہ تم یہاں رہو۔اِس گھر کی صفائی رکھو۔خانہ کعبہ کے حج اور طواف کے لئے جو لوگ آئیں اُن کی خدمت کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنا وقت گزارو مگر ہم ادھر اُدھر بکھر گئے اور اس خدمت کو جو ہمارے دادا نے ہمارے سپرد کی تھی بھول گئے۔یہ خیال اُن کے دل میں اتنے زور سے پیدا ہوا کہ انہوں نے بنونضر کے اندر یہ تحریک شروع کی کہ آؤ ہم لوگ اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر مکّہ میں جا بسیں اور خانۂ کعبہ کی خدمت کریں۔یہ مناسب نہیں کہ ہم دنیوی اغراض کے لئے حضرت ابراہیمؑ کے وعدہ کو بھُول جائیں اور جو نصیحت انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی اُس کی پروانہ کریں۔انہوں نے جب ہمارے سپرد یہ کام کیا تھا کہ ہم خانہ کعبہ کی خدمت کریں تو ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم مکّہ میں چلے جائیں اور خانہ کعبہ کی خدمت کریں۔ چنانچہ اُن کی قوم نے اُن کی بات مان لی اور وہ سب مکّہ میں اکٹھے ہو گئے۔ یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی جو انہوں نے کی۔ وہ باہر بڑی بڑی اچھی چراگا ہوں میں رہتے تھے،وہ تجارتیں بھی کرتے تھے، وہ زمینداریاں بھی کرتے تھے،وہ اَور کئی قسم کے کاروبار میں بھی حصہ لیتے تھے مگر یکدم ساری قوم نے اپنی زمینیں چھوڑ یں،گلّہ بانی چھوڑی،زمینداری چھوڑی، تجارت چھوڑی،اور ایک وادئ غیر ذی زرع میں جہاں آمدن کی کوئی صورت نہیں تھی آبیٹھے۔ میں سمجھتا ہوں اِس قربانی کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی کہ ایک قوم کی قوم اپنے پیشے چھوڑ کر محض اِس لئے ایک وادئ غیر ذی زرع میں آبیٹھی کہ اُن کے دادا ابراہیم ؑ نے اپنی اولاد کو یہ نصیحت کی تھی کہ تم مکّہ میں رہو اور جو لوگ یہاں حج اور طواف اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے آئیں اُن کی خدمت کرو۔ یہ ایک بہت بڑی قربانی تھی جو انہوں نے کی۔پس چونکہ یہ لوگ متفرق ہونے کے بعد پھر اپنے گھر بار چھوڑ کر مکّہ میں جمع ہو گئے تھے تاکہ ابراہیمی وعدہ کو پورا کریں اِس لئے اُن کا نام قریش رکھا گیا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں قَرَشَ کے معنے جمع کرنے کے ہیں پس قریش وہ قبیلہ ہے جو حضرت ابراہیمؑ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے مکّہ میں جمع کیا گیا اور اِسی لئے اُن کا نام قریش ہوا۔اُنہیں اس لئے قریش نہیں کہتے تھے کہ وہ باقی تمام قبائل عرب پر غالب تھے اور قِرش کی طرح اُن کوکھا جاتے تھے۔ قریش کو عربوں میں یہ شہرت اور عزّت رسول کریم ﷺ کے قریب زمانہ میں حاصل ہوئی ہے ورنہ اس سے پہلے تو یہ لوگ مجاوروں کی طرح وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور قبائل عرب پر ان کو کوئی غلبہ حاصل نہیں تھا۔پس قریش کے معنے ہیں وہ قبیلہ جو اردگرد سے اکٹھا کر کے قصّی بن کلاب بن نضر نے مکّہ میں آبٹھایا تھا یا یوں کہو کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی کچھ اولاد قریش کہلائی کیونکہ وہ اردگرد سے لا کر مکّہ میں بیت اللہ کی خدمت کےلئے لابٹھائی گئی تھی۔

میں اُوپر بتا چکا ہوں کہ قریش کا نام قریش کیوں پڑا۔ میَں نے بتایا ہے کہ اس بارہ میں میری تحقیق یہ ہے کہ اُن کا یہ نام کسی سمندری جانور کی وجہ سے نہیں رکھا گیا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قصّی بن کلاب کے وعظ کرنے پر اور یہ توجہ دلانے پر کہ چونکہ ہمارے دادا ابراہیمؑ نے ہمیں مکّہ میں رہنے کا ارشاد فرمایا تھا اور ہمارے سپرد خانہ کعبہ کی خدمت کی تھی ہمیں چاہئے کہ ہم اِردگرد کے علاقوں کو چھوڑ کر مکّہ میں جا بسیں اور وہیں اپنی زندگی بسر کریں۔وہ مکّہ میں آکر رہنے لگ گئے تھے۔پس چونکہ وہ قصّی بن کلاب بن نضر کے توجہ دلانے پر مختلف مقامات سے اُٹھ کر مکّہ میں جا کر بس گئے اِس لئے وہ قریش کہلائے یعنی جمع شدہ لوگ۔ اِس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ قریش تو تصغیر کا صیغہ ہے اور معنے یہ ہیں کہ مکّہ میں جمع ہو جانے والا ایک چھوٹا سا ٹکڑہ یا ایک چھوٹا سا گرو ہ پھر کیا وجہ ہے کہ آل اسمعیلؑ کو ایک چھوٹا سا گروہ یا چھوٹا سا ٹکڑہ کہا گیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ حکم تو سارے بنو اسمٰعیلؑ کو تھا کہ وہ مکّہ میں رہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور پرستش کریں اور جو لوگ حج اور طواف کے لئے آئیں ان کی خدمت کریں۔ مگر چونکہ بنوکنانہ میں سے صرف نضربن کنانہ کی اولاد مکّہ میں آ کر بسی اور چونکہ وہ سارے بنو اسمٰعیلؑ میں سے ایک چھوٹا سا گروہ تھا اِس لئے وہ قریش کہلائے یہ بتانے کے لئے کہ ہم تھوڑے سے آدمی ہیں جو اپنے دادا ابرہیم کی بات مان کر یہاں جمع ہو گئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور جو لوگ خانہ کعبہ کے حج کے لئے آئیں اُن کی خدمت کریں۔اور شاید اس نام میں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ دوسرے قبائل کو بھی مکّہ میں جمع ہونے کی تحریک ہوتی رہے اور حضرت اسمٰعیلؑ کی باقی اولاد کے دل میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا رہے کہ جب ہم سے تھوڑے سے لوگ وہاں بس گئے ہیں اور اُنہوں نے ہر قسم کی تکلیف کو برداشت کر لیا ہے تو ہم بھی تو اولادِ ابرہیمؑ میں سے ہیں اگر ہم بھی وہاں جا بسیں اور اپنے دادا کے حکم کو مان لیں تو اِس میں حرج کیا ہے۔پس شاید اس تصغیر میں ایک یہ بھی حکمت ہو کہ اس نام سے باقی بنو اسمٰعیل کے دل میں تحریک ہوتی رہے اور وہ بھی اپنے دادا ابراہیم ؑ کی بات کو مانتے ہوئے خدا تعالیٰ کے گھر کی خدمت کے لئے مکّہ میں آبسیں۔ پس ممکن ہے کہ اس نام سے اُنہوں نے دوسرے قبائل کے اندر تحریک کرنے کی ایک صورت پیدا کی ہو اور مکّہ میں اُن کے جمع ہونے کےلئے ایک تحریک جاری کی ہو۔

قریش کو مکہ میں درپیش مشکلات

غرض قصّی بن کلاب کی تحریک پر یہ لوگ آئے اور مکّہ میں بس گئے مگر ابتداء میں عرب کی توجہ حج کی طرف اتنی نہیں تھی کہ وہ مکّہ میں کثرت سے آتے جاتے اور خانہ کعبہ کی برکات سے مستفیض ہوتے۔اِس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ قوم جو اپنے دادا کی ہدایت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی پیشگوئیوں کے باوجود خانہ کعبہ کو چھوڑ کر چلی گئی۔اگر حاجی کثرت سے مکّہ میں آتے ہوتے تو اِن لوگوں کے رزق کے سامان پیدا ہوتے رہتے اور اُن کو مکّہ چھوڑنے کی مجبوری پیش نہ آتی۔پس آل اسمعٰیل کا مکّہ کو چھوڑ کر دوسرے عرب علاقوں میں پھیل جانا اِس امر کا ثبوت ہے کہ اس وقت تک خانہ کعبہ کے حج کا رواج عرب میں کم تھا اور بہت تھوڑے لوگ حج کے لئے آتے تھے۔ مجاوروں کو ہی دیکھ لو اُن کا کام کتناذلیل ہے اُسے دیکھ کر شرم آنے لگتی ہے۔مگر کیا وہ اس ذلیل کام کو بھی آسانی سے چھوڑنے کےلئے تیار ہوتے ہیں۔ باوجوداِس کے کہ وہ ایک قابل نفرت کام میں اپنی زندگی کے دن بسر کر رہے ہوتے ہیں پھر بھی اس کام سے اُن کا جتنا رزق وابستہ ہو تا ہے چاہے وہ رزق ذلّت سے ہی آئے اُسے وہ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ پس اگر بنو اسمٰعیل نے مکّہ چھوڑ ا تو یقیناً اس کے معنے یہ تھے کہ اُس زمانہ میں بہت ہی کم لوگ حج کیا کرتے تھے اور اُن کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں تھی۔اِس لئے یہ لوگ مکّہ سے نکلے اورتمام عرب میں پھیل گئے۔ جب قصی بن کلاب کی تحریک پر یہ لوگ مکّہ میں جا بسے تو یہی وقّت اُن کو پھر پیش آئی۔وہ بس تو گئے مگر چونکہ حاجی بہت کم آتے تھے اور یہ لوگ وہیں مکّہ میں رہتے تھے باہر کہیں آتے جاتے نہیں تھے۔نتیجہ یہ ہؤا کہ وہ سخت تنگی اور عُسر کی حالت میں مبتلا ہو گئے اور اُن کے گزارہ کی کوئی صورت نہ رہی بلکہ بعض لوگوں کی تو فاقہ تک نوبت پہنچ گئی اور اُن کے لئے اپنی عزّت اور زندگی کا قائم رکھنا مشکل ہو گیا۔ مگر پھر بھی قریش کو داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے ان تمام صعوبتوں کو بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا اور اپنی زبان پر وہ ایک لمحہ کے لئے بھی حرفِ شکایت نہ لائے اوّل تو اُن کی یہی بہت بڑی قربانی تھی کہ انہوں نے اپنے کام کاج چھوڑے، پیشوں کو ترک کیا، تجارتوں کو نظر انداز کیا، زمینداریوں سے مُنہ موڑا اور ایک وادی ٔغیرذی زرع میں جہاں روزی کا کوئی سامان نہ تھا،اہل وعیال کو لے کر رہنا شروع کر دیا۔مگر پھر بھی کوئی کہہ سکتا تھا کہ قریش کا مکّہ میں بسنا کوئی ایسی قربانی نہیں جس کی تعریف کی جا سکے کیونکہ مکّہ کی عزت لوگوں میں بہت پھیلی ہوئی تھی اور لوگ وہاں حج کے لئے آتے جاتے تھے اِس لئے ممکن ہے وہ دولت یا عزت کی خواہش کی وجہ سے مکّہ میں جا کر بس گئے ہوں۔سو چونکہ یہ اعتراض پیدا ہو سکتا تھا اِس لئے خدا تعالیٰ نے اُن کی عزت ظاہر کرنے کے لئے پھر دوسری دفعہ اُن کوقربانی کا موقع دیا۔ مکّہ میں بسنے کی وجہ سے اُن کے گزارہ کی کوئی صورت نہ رہی۔ حج کی طرف عربوں کو بہت کم توجہ تھی نتیجہ یہ ہوا کہ فاقوں کی وجہ سے جانوں کے اتلاف تک نوبت پہنچ گئی۔ یہ لوگ کافر بھی تھے،مشرک بھی تھے،بے دین بھی تھے اور اُن میں سینکڑوں قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔لیکن اس قوم میں بعض غیر معمولی خوبیاں بھی تھیں۔ مکّہ کے لوگوں میں جب کسی خاندان کے پاس کھانے پینے کا سامان بالکل ختم ہو جاتا اور اُس کی حالت غیر ہو جاتی۔وہ دوست بھی جو ان کی حالت سے آگاہ ہوتے مدد سے لاچار ہوتے کیونکہ وہ خود بھی غریب ہی ہوتے تھے تو وہ فاقہ کش لوگ قصّی پر اعتراض نہیں شروع کر دیتے تھے کہ اُس نے ہمیں غلط تعلیم دی تھی ہم مکّہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم نے بیوقوفی کی کہ ایسی جگہ آبسے جہاں روٹی کا کوئی سامان نہیں تھا بلکہ وہ خاندان اُسی وقت اپنا خیمہ اٹھا کر مکّہ سے ذرا باہر چلا جاتا (مکانوں کا رواج عرب میں بہت کم تھا بلکہ اب تک بھی بادیہ کے لوگ خیموں میں رہتے ہیں) اور مکّہ سے دوتین میل پرے اپنا خیمہ لگا لیتا اور اپنے بیوی بچوں کو بھی وہیں لے جاتا تاکہ اُس کے رشتہ داروں، دوستوں اور محلہ والوں کو اُس کی اِس بری اور خراب حالت کا پتہ نہ لگے۔ اور وہیں وہ سب کے سب بھوکے مرجاتے۔میں سمجھتا ہوں یہ اس قسم کی قربانی ہے کہ اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ لوگ بھوکے ہوتے ہیں تو وہ فوراً کسی دوسری جگہ جا کر اپنی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں،وہ دوسروں سے سوال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور صبر اور برداشت کی قوت کو بالکل کھو بیٹھتے ہیں۔ہمارے صوفیاء نے ایک لطیفہ لکھا ہے کہ کوئی بزرگ تھے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں شہر چھوڑ کر باہر جنگل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کروں گا وہ کھانا بھیج دے گا تو کھالوں گااور اگر نہ بھیجے گا تو فاقہ کروں گا۔جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ انہوں نے شہر سے باہر ڈیرے لگا لئے ہیں تو اُن کی بزرگی اور تعلقات کی وجہ سے دوستوں نے اُن کو باقاعدہ صبح وشام کھانا پہنچاناشروع کر دیا مگر ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ انہیں کھانا نہ پہنچا۔شاید اُن سے زیادہ تعلق رکھنے والے لوگ کہیں باہر چلے گئے تھے یا شاید اُن میں سے ہر ایک نے یہ سمجھا کہ دوسرے نے کھانا بھیج دیا ہو گا۔اور اس طرح کوئی شخص بھی کھانا نہ لایا۔ایک وقت گزرا اور اُنہیں کھانا نہ ملا۔دوسرا وقت آیا تب بھی کھانانہ آیا۔اِس کے بعد تیسرا وقت آگیا مگر اُنہیں پھر بھی کھانا نہ پہنچا۔تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں اور پانچویں کے بعد چھٹا فاقہ اُن پر آگیا۔جب چھ فاقے ہو گئے تو اب اُن کے لئے برداشت کرنا مشکل ہو گیا وہ کسی طرح گرتے پڑتے شہر میں آئے اور اپنے کسی دوست کے ہاں جا کر اُس سے خواہش کی کہ وہ اُنہیں کچھ کھانے کو دے۔ اُس نے تین روٹیاں اور اُن پر کچھ سالن رکھ کر پیش کیا۔ انہوں نے روٹیاں اٹھائیں سالن لیا اور باہر جنگل کو چل پڑے۔کچھ دُور جا کر انہوں نے دیکھا کہ گھر کے مالک کا کُتا بھی اُن کے پیچھے چلا آرہا ہے۔اُنہیں خیال آیا کہ اس کُتے کا بھی اِن روٹیوں پر حق ہے۔اس پر انہوں نے ایک روٹی لی اُس پر سالن کا تیسرا حصہ رکھا اور کتے کے آگے ڈال دیا۔ اُس نے جلدی جلدی روٹی کھائی اور پھر اُن کے پیچھے چل پڑا۔وہ تھوڑی دُور گئے ہو ں گے کہ پھر اُن کو خیال آیا کہ کُتا توابھی پیچھے چلا آرہا ہے معلوم ہو تا ہے ابھی اِسے سیری نہیں ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں کتا شاید اس لئے اُن کے پیچھے گیا ہو گا کہ وہ اُس کے مالک کے دوست تھے اور کتا اُن کو اکثر آتے جاتے دیکھتا ہو گا۔کتّا جہاں اپنے آقا کے ساتھ محبت رکھتا ہے وہاں وہ اپنے آقاکے ساتھ ملنے والوں کو بھی خوب پہچانتا ہے بہت ہی ذہین جانور ہے۔ مگر انہوں نے تصوّف کے اثر کے نیچے یہ سمجھا کہ شاید یہ اپنا حق مانگتا ہے۔چنانچہ انہوں نے کتّے کودیکھ کر کہا بے شک تیرا حق مجھ سے زیادہ ہے تُو تو ہر وقت وہاں بیٹھا رہتا ہے مگر میں تو کبھی کبھار جاتا ہوں۔یہ کہہ کر انہوں نے دوسری روٹی لی اُس پر بقیہ سالن کا نصف حصہ رکھا اور اُسے کتّے کے آگے ڈال دیا۔کتےّ نے وہ روٹی بھی کھا لی مگر پھر بھاگ کر اُن کے پیچھے چل پڑا۔اب جو کتا اُن کے پیچھے چلا تو اُنہیں بہت غصہ آیا اور جب انسان کو غصہ آتا ہے تو وہ جانوروں سے بھی باتیں کرنے لگتا ہے۔ہمارے ملک میں بَیل چلانے والے بَیل سے باتیں کرتے ہیں۔گدھے چلانے والے گدھوں سے باتیں کرتے ہیں۔ اِکّے والے آدھی باتیں سواری سے کرتے ہیں اور آدھی باتیں گھوڑے سے کرتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں شاباش قدم اٹھائے چلا جائیں تجھے خوب گھاس کھلاؤں گا،کبھی نہیں چلتا تو غصّہ میں اُسے گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں۔اِسی طرح جب انہوں نے بھی دیکھا کہ کتّا ابھی تک پیچھے چلا آرہا ہے تو انہوں نے غصّہ سے اُس کی طرف دیکھا اور کہا بے حیا دو روٹیاں تو میں ڈال چکا ہوں مگر پھر بھی تُو میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ انہوں نے یہ بات کہی ہی تھی کہ ان پر کشفی حالت طاری ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ وہی کتّا اُن کے سامنے کھڑا ہے۔کشف میں جانور بھی باتیں کر لیتے ہیں۔زمین بھی بات کر لیتی ہے۔لکڑی بھی بات کر لیتی ہے اِس لئے کتّےکی بات پر تعجب نہیں کرنا چاہئے انہوں نے دیکھا کہ کتّا اُن کے سامنے کھڑا ہے اور وُہ اُن سے کہہ رہا ہے کہ بے حیا میَں ہوں یا تم۔ میں جس انسان کے دروازہ پر بیٹھا ہوں اُسے میَں نے کبھی نہیں چھوڑا خواہ فاقوں پر فاقے کیوں نہ آئیں۔مگر تم محض خدا کے لئے جنگل میں جا بیٹھے تھے لیکن چند فاقے ہی آئے تھے کہ شہر کی طرف اُٹھ بھاگے۔اُس نے اتنا کہا اور کشفی حالت جاتی رہی۔انہوں نے تیسری روٹی اور باقی سالن بھی کتّےکے آگے ڈال دیا اور خودخالی ہاتھ جنگل کی طرف چل پڑے۔وہاں پہنچے ہی تھے کہ تھوڑی دیر میں اُن کے دوست اور کئی دوسرے لوگ کھانا لئے ہوئے آپہنچے اور اُن سے معذرت کرنے لگے کہ پچھلے چند دنوں وہ اس خدمت سے محروم رہے۔اُن بزرگ نے کہا اِس میں تمہارا کوئی قصور نہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرا متحان لیا گیا تھا۔اب اِس قصہ کو مکّہ کے لوگوں کے حالات سے مقابلہ کر کے دیکھو وہ لوگ مشرک تھے لیکن اُن میں محمد رسولؐ اللہ کی اُمت بننے کی قابلیت خدا تعالیٰ پیدا کر رہا تھا۔یہ کتنی بڑی قربانی ہے کہ وہ مکّہ سے کچھ فاصلہ پر خیمے لگا لیتے اور اپنے بیوی بچوں سمیت وہیں بُھوک سے تڑپ تڑپ کر مرجاتے مگر مکّہ کو نہ چھوڑتے تھے اورنہ دوسرے لوگوں سے سوال کرتے۔اِس سے ایک طرف تو اُن کے اُس جوش کا پتہ لگتا ہے جو اُن کے دلوں میں خانہ کعبہ کی خدمت کے متعلق تھا اور دوسری طرف اُن کی قناعت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ وہ لوگوں پر بار نہیں بننے تھے۔ کسی سے کچھ مانگتے نہیں تھے۔الگ تھلگ ایک خیمہ میں پڑے رہتے اور وہیں سب کے سب مر جاتے۔

(باقی کل ان شاءاللہ)

(محمد انور شہزاد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 اکتوبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ