• 28 جنوری, 2023

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 19۔ حصہ دوم)

سیّدنا امیر المؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورہٴ امریکہ 2022ء
14؍اکتوبر 2022ء بروز جمعہ
اراکین مجلس عاملہ انصار اللہ امریکہ کی حضور انور سے ملاقات
قسط 19۔ حصہ دوم

نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ امریکہ کی میٹنگ

سات بجے نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ امریکہ کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ میٹنگ شروع ہوئی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے دعا کے ساتھ میٹنگ کا آغاز فرمایا۔

موبائل ایپ کا تعارف

میٹنگ کے آغاز میں انصار اللہ نے ایک موبائل ایپ کا تعارف پیش کیا۔ جس کے ذریعہ انصار ممبران اپنی رفتار کے مطابق قرآن کریم سیکھ سکتے ہیں۔ انصار اللہ کے ساتھ دیگر فیملی ممبران بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ مختلف سوال و جواب بھی دیئے گئے ہیں، جن کے ذریعہ لوگ قرآن کریم کے بارے میں اپنا فہم بڑھا سکتے ہیں۔

صدر صاحب انصار اللہ نے عرض کیا کہ ہمارا ٹارگٹ ہے کہ اس میں ایک ہزار سوالات شامل کر لئے جائیں۔ اب تک اس میں ساڑھے سات سو سوالات ہیں۔ ان سوالات کے تحت دیگر تفاسیر کے مختلف ریفرنسز بھی دیئے گئے ہیں۔ ہماری ریسرچ ٹیم اس حوالہ سے کام کر رہی ہے۔

اس موبائل ایپ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انصار ممبران اپنے بچوں کو قرآن کریم کی طرف توجہ دلائیں۔ مقابلہ کی روح قائم کرنے کے لئے ایک leader board بھی قائم کیا گیا ہے، جس میں مختلف فیملی ممبران اور دوست وغیرہ شامل کئے جا سکتے ہیں۔ جس قدر کوئی سوالات کے جواب دے گا، اس کا نام leader board پر اتنا ہی اوپر جائے گا۔ اسی طرح جس کے نمبر زیادہ ہوں گےاسے Badges بھی ملیں گے۔ یہ موبائل ایپ الاسلام پر بھی موجود قرآن کریم کے سرچ انجن سے منسلک ہے۔

بعد ازاں اس موبائل ایپ کا demo پیش کیا گیا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا کہ بچے تو بہت ذہین ہوتے ہیں، ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں، ا گر ان کے ذہن میں پیدا ہونے والا سوال اس پر موجود نہ ہوا تو انہوں نے کہنا ہے کہ اس کا جواب ہی نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس پر فیڈ بیک حاصل کریں اور مزید موصول ہونے والے سوالات کو شامل کرتے رہیں۔

اس حوالے سے عرض کیا گیا کہ آئندہ اس موبائل ایپ میں یہ بھی ایک سہولت ڈال دی جائے گی کہ اس پر سوال پوچھے جا سکیں گے۔ ان شاءاللّٰہ

موبائل گیم کا تعارف

اس کے بعد انصار اللہ کی طرف سے ایک موبائل گیم ایپ کا تعارف پیش کیا گیا۔ اس موبائل ایپ کا نام Tobaa Game رکھا گیا ہے۔ اس میں فیملی اور بچوں کے لئے دلچسپ انداز میں اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے انہیں عام کیا جائے گا۔ یہ ایک لفظ تلاش کرنے والی گیم ہے۔ایک ٹیم اس پر کوئی لفظ ذہن میں لا کر پیش کرے گی اور دوسری ٹیم اس لفظ کو تلاش کریں گے۔ اس حوالہ سے بعض اشارے بھی دیں گے۔ مثلا صلوٰۃ، زکوٰۃ، نبوت، کسی مذہب کا نام، کسی نبی کا نام وغیرہ۔ کوئی بھی نام سوچا جا سکتا ہے اور اس لفظ کو دیکھے بغیر اس تک پہنچنا ہے۔اس میں timer بھی ہے۔ اس موبائل گیم کا اصل مقصد یہ ہے کہ انصار اپنے گھروں میں دیگر فیملی ممبران سے مل کر یہ گیم کھیلیں تاکہ اچھے اور دلچسپ انداز میں بچوں کو اسلامی اصطلاحات سمجھ آجائیں۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اس موبائل گیم کا demo پیش کیا گیا۔ اس demo میں پہلی ٹیم نے لفظ ’’اسلام‘‘، سلیکٹ کیا تھا۔ دوسری ٹیم نے مختلف سوالات کر کے اس تک پہنچنا ہے۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں مجلس انصار اللہ کے رسالہ ’’النحل‘‘، کا سالانہ شمارہ پیش کیا گیا۔جس میں تمام سال کی مساعی کو تصویری شکل میں پیش کیا گیا تھا۔

نائب صدر صف اوّل کو ہدایات

اس پریذنٹیشن کے بعد نائب صدر صف اول نے اپنا تعارف پیش کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آپ کسی خاص شعبہ کی نگرانی کرتے ہیں۔

اس پر نائب صدر صف اول نے عرض کیا کہ میرے سپرد تمام ناظمینِ اعلیٰ اور زعماء کی جانب سے موصول ہونے والی رپورٹس کو چیک کرنا اور ان پر تبصرے بھجوانا بھی خاکسار کے ذمہ ہے۔

نائب صدر صف دوم کو ہدایات

اس کے بعد نائب صدر صف دوم سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ آپ کے صف دوم کے کتنے انصار ہیں۔ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ 2 ہزار 294 انصار ہیں، جو کہ کل انصار کا 55فیصد بنتے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اس کا مطلب ہے کہ نوجوان انصار زیادہ ہیں۔ پھر آپ کی مجلس بہت فعال ہوگی۔

اس پر نائب صدر نے عرض کیا کہ اس کے باوجود تمام مقابلہ جات میں ہمارے صف اول کے انصار آگے ہیں۔

جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو اس پرنائب صدر نے عرض کیا کہ ان کے پاس وقت زیادہ ہوتا ہے۔

حضور انور نے مسکراتے ہوئے فرمایا: آپ کا صف دوم کے انصار کے لئے کیا پلان ہے؟

نائب صدر برائے صف دوم نے عرض کیا کہ جو ہماری آخری ورچوئل میٹنگ ہوئی تھی، اس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مختلف کھیلوں کے پروگرام رکھنے کا ارشاد فرمایا تھا۔ اس حوالہ سے ہم نے مختلف کھیلوں کے پروگرام رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک پروگرام 40+Fit کے نام سے رکھا گیا ہے۔ ہر ماہ اس حوالہ سے باقاعدہ پلان دیا جاتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ آپ میں سے کتنے انصار سائیکلنگ کرتے ہیں۔

اس پر عرض کیا گیا کہ باقاعدہ سائیکلنگ کرنے والے 15 سے 20 فیصد سے کم ہوں گے لیکن باقاعدگی سے ورزش کرنے والوں کی تعداد 30فیصد تک ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔ آپ کو سائیکلنگ کی طرف بھی توجہ دلانی چاہئے اور کراس کنٹری سا ئیکل ریس کے پروگرام رکھیں یا کم از کم سا ئیکل ٹور رکھیں، مثلاً یہاں سے ڈیلس تک کا سفر رکھ لیں۔ دو ہزار کلو میٹر ہوگا، کتنا سفر ہے؟

اس پر عرض کیا گیا کہ قریبا13 سو کلو میٹر ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا۔ کوئی بات نہیں۔ ہو سکتا ہے۔ حضور انور نے دریافت فرمایا کہ یہاں سے Pittsburgh کتنا سفر ہو گا؟

عرض کیا گیا کہ Pittsburghکا فاصلہ 300میل سے کم ہو گا۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ آغاز میں آپ یہاں سے Pittsburgh تک کا سفر رکھ لیں۔ اسی طرح مختلف ریجنز میں رکھیں، مثلا Seattle سے دو سو میل کا کوئی مقام دیکھ لیں۔ اسی طرح لاس اینجلس سے۔ مختلف ریجنز میں پروگرام رکھے جا سکتے ہیں۔ آجکل یوکے کے انصار کا ایک گروپ یوکے سے ہالینڈ گیا ہوا ہے۔ وہ پانچ سو میل کا سفر کر رہے ہیں۔ تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، جو میں آپ کو دے رہا ہوں۔ گزشتہ ماہ یہ فرانس گئے تھے اور قریبا 350میل کئے تھے۔ نائب صدرصف دوم کو فعال ہونا پڑے گا، فعال ہیں تو ایسے پروگرام آرگنائز کریں۔

ایک دوسرے نائب صدر صف اوّل کو ہدایات

بعد ازاں ایک ددسرے نائب صدرصف اول نے اپنا تعارف پیش کیا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا: کہ آپ کے سپرد کوئی خاص ذمہ داری کی گئی ہے؟

اس پر موصوف نے عرض کیا کہ خاکسار قائد ایثار کا انصار سکالر شپ پروگرام جو گزشتہ13 سال سے جاری ہے، اس میں معاونت کر رہا ہے۔ اسی طرح صدر مجلس نے خاکسار کو ڈاکٹر یوسف لطیف سکالر شپ کا چیئرمین مقرر کیا ہے، جو کہ ہم نے اس سال ہی شروع کی ہے۔

حضور انور کے دریافت فرمانے پر کہ یہ سکالر شپ کس کو دیا جاتا ہے؟ موصوف نے عرض کیا کہ یہ کالج کے طلباء کے لئے ہے۔ یہاں لوکل امریکن (مقامی احمدی) طلباء کو دیا جاتا ہے۔

معاون صدر آئی ٹی

بعد ازاں معاون صدر برائے آئی ٹی نے اپنا تعارف پیش کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ کیا آپ انصار اللہ کے تمام پروگرام چلاتے ہیں۔

موصوف نے عرض کیا کہ وہ اکثر پروگرام چلانے میں معاونت کرتے ہیں۔ Tobaa Game شعبہ تعلیم کے تحت شروع کی گئی ہے۔

قائد تبلیغ کے پلان بارے استفسار

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قائد تبلیغ سے اس کے پلان کے حوالہ سے استفسار فرمایا۔ اس پر قائد تبلیغ نے عرض کیا کہ ہماری توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ انصار باہر نکلیں اور گروپ میں تبلیغی پروگرام کریں۔

حضور انور نے فرمایا: کتنے آرگنائزڈ گروپ ہیں؟ اور کتنا لٹریچر تقسیم کیا ہے؟ موصوف نے عرض کیا کہ مجالس سے ماہانہ رپورٹس حاصل کرتے ہیں۔ لٹریچر کے لئے کوئی معین تعداد کا علم نہیں ہے لیکن ہم آئندہ سے یہ سوال بھی رپورٹ میں شامل کر لیں گے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، لٹریچر، لیف لیٹس وغیرہ کی مختلف ریجنز میں تقسیم آرگنائز ہونی چاہئے۔ اگر آپ کے منتظمین تبلیغ فعال ہوں تو وہ اپنے اپنے ریجنز میں آرگنائز کر سکتے ہیں۔

قائد مال اور ہدایات

بعد ازاں قائد مال سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سالانہ بجٹ کے حوالہ سے استفسار فرمایا۔ قائد مال نے بتایا کہ سالانہ بجٹ 31 ملین یو ایس ڈالرز ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استفسار پر قائد مال نے عرض کیا کہ ہمارے اکثر ممبران کمانے والے ہیں، لیکن اس حوالہ سے معین تعداد علم میں نہیں ہے۔ انصار اللہ کی کل تعداد 4ہزار 185 ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: صف دوم کے افراد 55فیصد ہیں اور صف اول میں بھی 80 فیصد کمانے والے انصار ہوں گے۔ تو کل کمانے والے ساڑھے تین ہزار انصار ہونے چاہئیں۔

حضور انور نے قائد مال سے دریافت فرمایا کہ کیا وہ چندہ وصولی سے مطمئن ہیں؟ اس پر قائد مال نے عرض کیا کہ اس میں بہتری کی گنجائش ہے۔ گزشتہ سال چندہ ادا کرنے والوں کی تعداد اڑھائی ہزار کے قریب تھی۔

حضور انور نے فرمایا۔ کیا آپ کو یہ تسلی ہے کہ آپ کے چندہ دہندگان، باقاعدہ شرح کے ساتھ چندہ ادا کر رہے ہیں؟

قائد مال نے عرض کیا کہ کچھ تعداد ایسی ہے، جو باشرح چندہ ادا نہیں کرتے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا۔ یہ تعداد پچاس فیصد ہوگی؟ قائد مال کے عرض کرنے پر کہ اس کا تعین بہت مشکل ہے۔ حضور انور نے فرمایا کہ کیوں مشکل ہے؟

اس پر موصوف نے عرض کیا کہ چونکہ ہمیں ان کی اصل انکم کا اندازہ نہیں ہے، اس لئے اس کا تعین مشکل ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جو انہوں نے اپنی انکم لکھوائی ہوئی ہے، اس کے مطابق پوچھ رہا ہوں۔ جس طرح وہ سٹیٹمنٹ میں اپنی انکم بتاتے ہیں، تو اس کے مطابق ان پر اعتبار کریں۔

قائد تجنید کو ہدایات

بعد ازاں قائد تجنید سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تجنید کے حوالہ سے رپورٹ طلب فرمائی۔

موصوف نے عرض کیا انصار کی کل تعداد 4ہزار 185 ہے۔ یہ جماعت کا آن لائن سسٹم ہے، جو ہم شیئر کرتے ہیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: جماعت کے AIMS ڈیٹا پر انحصار نہ کیا کریں۔ اپنا ڈیٹا اکٹھا کریں۔

قائد تجنید نے عرض کیا کہ مجلس انصار اللہ کا اپنا ڈیٹا بیس ہے اور ہم اسے الگ سے maintain کرتے ہیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: اس ڈیٹا میں آپ کی اپنی الگ انفارمیشن ہے،جو آپ نے مجالس سے اکٹھی کی ہوئی ہے؟

اس پر قائد تجنید نے عرض کیا کہ تمام مجالس کو ہمارے سسٹم تک رسائی ہے اور وہ اس میں متعلقہ ڈیٹا ڈالتے رہتے ہیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: کیا آپ کا منتظم یہ انفارمیشن اکٹھی کرنے کے لئے گھرگھر وزٹ کرتا ہے؟

اس پر قائد تجنید نے عرض کیا کہ ہم سال میں دو مرتبہ تجنید ڈیٹا اپ ڈیٹ کرتے ہیں اور ہمارا ٹارگٹ یہ ہوتا ہے کہ ہم ہر ناصر تک پہنچیں۔

ناظم اعلی شکاگو سے گفتگو

بعد ازاں ناظم اعلیٰ شکاگو ریجن نے اپنا تعارف کروایا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اس ریجن میں کتنے انصار ہیں؟ موصوف نے عرض کیا کہ تمام ریجن میں345 انصار ہیں۔

ناظم اعلی مڈویسٹ ریجن سے گفتگو

بعد ازاں ناظم اعلیٰ مڈ ویسٹ ریجن سے حضور انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کے ریجن میں کتنے انصار ہیں؟ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ173 انصار ہیں۔

اس پر فرمایا: بہت کم تعداد ہے۔ کیا یہ کسی خاص علاقہ میں اکٹھے ہیں یا پھر مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں؟

اس پر موصوف نے عرض کیا کہ یہاں انصار مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور یہاں کل پانچ مجالس ہیں۔

قائد تربیت نومبائعین کو ہدایات

بعد ازاں قائد تربیت نو مبائعین سے حضور انور نے دریافت فرمایا: آپ صدر جماعت زائن ہیں اور قائد نو مبائعین ہیں۔ سب کچھ آپ نے ہی سنبھالا ہوا ہے۔ کیا آپ نو مبائع ہیں؟

اس پر قائد تربیت نو مبائعین نے عرض کیا کہ میں نو مبائع نہیں ہوں۔

اس پر حضور انور نے صدرصاحب مجلس سے دریافت فرمایا کہ: آپ کو کوئی نو مبائع نہیں ملا؟

اس پر صدر صاحب مجلس انصار اللہ نے عرض کیا کہ گزشتہ مرتبہ حضور کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق ہم نے ایک نائب قائد نو مبائعین مقرر کیا تھا جو کہ نو مبائع ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کےدریافت فرمانے پر قائد تربیت نو مبائعین نے عرض کیا کہ ہمارے پاس 48 نو مبائع ہیں اور جو بیعتیں ہوئی ہیں اس میں مجلس انصار اللہ کے ذریعہ اور بعض دیگر ذرائع سے حاصل ہوئی بیعتیں شامل ہیں۔ اسی طرح لجنہ اماءاللہ کے ذریعہ بھی حاصل کردہ بیعتیں شامل ہیں۔

ناظم اعلی ورجینیا کو شاباش

بعد ازاں ناظم اعلیٰ ورجینیا کو حضور انور نے فرمایا ماشاءاللّٰہ۔ آپ کی مجلس تو بہت بڑی ہے۔

اس پر ناظم اعلیٰ نے عرض کیا کہ ہماری مجالس میں کل 525ممبران ہیں۔

اس پر فرمایا: ان سب سے رابطہ کیسے کرتے ہیں؟

تو ناظم اعلیٰ نے عرض کیا کہ ان میں سے اکثر مختصر ڈرائیو پر رہائش پذیر ہیں۔تو خاکسار ان کے اجلاسات عام میں شرکت کرتا ہے اور ان سے انفرادی رابطہ کرتا ہے۔

اس پر حضور انور نے فر مایا: کیا آپ ان مجالس سے جا کر خود میٹنگ کرتے ہیں؟

ناظم اعلیٰ نے عرض کیا کہ ان کے اجلاسات عام میں شرکت کرتا ہوں تاکہ ان سے رابطہ قائم رہے۔

ناظم اعلی ساؤتھ ویسٹ سے استفسار

بعد ازاں ناظم اعلیٰ ساؤتھ ایسٹ ریجن نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جغرافیہ کے لحاظ سے ان کا ریجن بہت بڑا علاقہ ہے۔ میں اٹلانٹا میں رہتا ہوں اور میامی بھی ہمارے ریجن میں ہے، جو کہ12 گھنٹہ کی مسافت پر ہے۔ اس ریجن میں پانچ مجالس ہیں۔ اسی طرح Orlando سات گھنٹہ کی مسافت پر ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: تو پھر کس طرح رابطہ کرتے ہیں؟کیا آپ ان تمام مجالس میں گئے ہوئے ہیں؟

اس پر ناظم اعلیٰ نے عرض کیا کہ تمام مجالس میں نہیں گیا ہوا۔ خاص کر کووڈ کی وجہ سے کافی جمود کی سی کیفیت ہے،جسے ٹوٹنے کی ضرورت ہے۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا: بہرحال کووڈ نے آپ کو ایک اچھا بہانہ دے دیا ہے۔ اب مزید کوئی بہانہ نہیں ہونا چاہئے۔اب تو آپ کے مقامی قوانین کے مطابق کووڈ ٹیسٹ پازیٹو آنے کے تین دن بعد چاہے کووڈ نیگیٹو آیا ہو یا نہ آیا ہو، آپ نے ہر صورت کام پر جانا ہے۔ اسی طرح آپ کا انصار اللہ کے کاموں میں رویہ ہونا چاہئے۔

ناظم اعلی نیو یارک سے گفتگو

اس کے بعد ناظم اعلیٰ نیو یارک ریجن سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان کے ریجن کے انصار کی تعداد کے حوالہ سے استفسار فرمایا۔

اس پر ناظم اعلیٰ نے عرض کیا کہ 359انصار ہیں اور ہماری تین مجالس دو میٹرو نیویارک اور ایک لانگ آئی لینڈ ہے۔

ناظم اعلی نارتھ ایسٹ ریجن سے گفتگو

بعد ازاں ناظم اعلیٰ نارتھ ایسٹ ریجن سے مخاطب ہوتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ گیمبیا سے ہیں۔ آپ کے ریجن میں کتنے انصار ہیں۔

اس پرموصوف ناظم اعلیٰ نے عرض کیا کہ262 انصار ہیں اور 8مجالس ہیں۔

اس پر حضور انور نے فر مایا: کیا یہ مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور آپ ان سے رابطہ کیسے کرتے ہیں؟

اس پر ناظم اعلیٰ نے عرض کیا کہ یہ تمام مجالس دور دور ہیں۔ریجن کے ایک کنارے سے دوسری طرف کل 9گھنٹہ کی مسافت ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: کیا آپ تمام مجالس میں خود گئے ہوئے ہیں؟

اس پر ناظم اعلیٰ نے عرض کیا کہ گزشتہ سال کے دوران تمام مجالس میں نہیں گیا۔ اس سے پہلے تمام مجالس میں گیا ہوا ہوں۔

قائد صحت و جسمانی کو ہدایات

بعد ازاں قائد صحت جسمانی سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ انصار اللہ کی صحت سے مطمئن ہیں؟

اس پر قائد صحت جسمانی نے عرض کیا کہ30 فیصد انصار صحت مند ہیں اور باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں۔ ہم نے نائب صدر دوم کے ساتھ سائیکل سفر کے پروگرام رکھے ہیں۔ اس سال ہم نے مقابلہ کا انعقاد کیا ہے۔
حضور انور نےفرمایا : آپ کو پچاس فیصد انصار کو سائیکلنگ کی طرف لگانا چاہئے۔

قائد اشاعت کو ہدایات

اس کے بعد قائد اشاعت سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے استفسار فرمایا کہ یہ میگزین جو دکھایا گیا ہے، کیا یہ آپ نے تیار کروایا ہے۔ اس کا ایڈیٹر کون ہے؟

اس پر قائد اشاعت نے عرض کیا کہ خاکسار ایڈیٹر بھی ہے۔ قائد اشاعت نے بتایا کہ ہم نے پندرہ روزہ ایک الیکٹرانک نیوز لیٹر بھی جاری کیا ہوا ہے،جو بذریعہ ای میل تمام انصار کو جاتا ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: کتنے انصار ہیں جو اس کو کھولتے ہیں اور پڑھتے ہیں؟

قائد اشاعت نے عرض کیا کہ900 کے لگ بھگ انصار پڑھتے ہیں۔ تقریبا 25فیصد بنتے ہیں۔

قائد ایثار سے گفتگو

بعد ازاں قائد ایثار سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ان کے تحت جاری پروگرام کے حوالہ سے دریافت فرمایا۔

موصوف نے عرض کیا کہ تین پروگرام ہیں، ایک خدمت خلق کے پروگرام ہیں،دوسرا وقار عمل سے متعلقہ ہے اور بعض مالی معاونت کے پروگرام ہیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: کیا آپ افریقہ میں کوئی ماڈل ویلیج بھی فنڈ کرتے ہیں؟

قائد ایثار نے عرض کیا کہ اس سال نہیں ہے۔

اس پر حضور انور نےفرمایا: آپ آسانی سے ہر سال ایک ویلیج فنڈ کر سکتے ہیں۔ آپ کے انصار اتنے غریب تو نہیں ہیں۔ انصار کی کافی بڑی تعداد نفع بخش جاب اور بزنس وغیرہ کر رہے ہیں۔ اس پر75 ہزار ڈالرز خرچ ہوں گے۔آپ یہ آسانی سے اکٹھے کر سکتے ہیں۔

قائد تعلیم القرآن کو ہدایات

اس کے بعد قائد تعلیم القرآن نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

حضور انور نے فرمایا: آپ کے شعبہ کا مکمل نام تعلیم القرآن و وقف عارضی ہے۔ کیا آپ نے کبھی وقف عارضی کی ہے؟

اس پر قائد تعلیم القرآن و وقف عارضی نے عرض کیا کہ ماضی قریب میں تو وقف عارضی نہیں کی۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:آپ کی عاملہ کے تمام افراد کو ہر سال ایک سے دو ہفتہ کے لئے وقف عارضی کرنی چاہئے۔آسانی سے کر سکتے ہیں۔ جب نیشنل، ریجنل اور لوکل سطح پر تمام عاملہ ممبران وقف عارضی کر رہے ہوں گے تو آپ دیگر انصار کے سامنے اپنا نمونہ پیش کرنے والے ہوں گے اور پھر ان کو بھی کہہ سکیں گے۔

قائد تعلیم القرآن و وقف عارضی نے عرض کیا کہ اس حوالہ سے جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ دیگر جگہوں پر جاتے ہیں، مثلا ہیومینٹی فرسٹ کے تحت اور دیگر پروگراموں کے تحت جاتے ہیں لیکن یہ وقف عارضی کے طور پر رجسٹر نہیں کرتے۔یہ ہیومینٹی فرسٹ کے تحت جاتے ہیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: وہ ہیومینٹی فرسٹ کا کام ہے، وقف عارضی نہیں ہے۔

قائد تعلیم القرآن و وقف عارضی نے عرض کیا کہ اگر وہ وقف عارضی کا وعدہ کر کے ہیومینٹی فرسٹ کے کام سے جائیں، کیا تب بھی وہ وقف عارضی نہیں ہوگی؟

اس پر حضور انور نےفرمایا :نہیں۔یہ کام بالکل الگ ہونا چاہئے۔اگر وہ کہتےہیں کہ ان کے پاس مزید وقت نہیں ہے اور وہ ہیومینٹی فرسٹ یا میڈیکل ایسوسی ایشن کے تحت جاتے ہیں تو وہ الگ چیز ہے لیکن اگر آپ کا ان سے رابطہ ہے تو اس دوران وہ وقف عارضی بھی کر سکتے ہیں۔

کم ازکم آپ تو سال میں دو ہفتہ کے لئے وقف عارضی کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ تعلیم القرآن کا کیا کام کیا ہے؟

اس پر قائد تعلیم القرآن نے عرض کیا کہ ہم انصار اللہ کو شعبہ اتقاء کے تحت قرآن سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ یہ شعبہ نیشنل جماعت کے شعبہ تعلیم القرآن و وقف عارضی کے تحت چل رہا ہے۔ پھر ہم انہیں ترغیب دیتے ہیں کہ یہاں سے سرٹیفکیٹ حا صل کرنے کے بعد طاہر اکیڈمی اور دیگر پروگراموں کے تحت پڑھائیں۔

قائد وقف جدید

بعد ازاں قائد وقف جدید سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا:

مجلس انصاراللہ کا چندہ وقف جدید میں کتنا حصہ ہے؟

اس پر قائد وقف جدید نے عرض کیا کہ 2.1 ملین ہے اور جماعت کا وقف جدید بجٹ 2.2ملین تھا۔

اس پر فرمایا: نصف سے زائد بنتا ہے۔ یہ تمام انصاراللہ کا حصہ تھا، کمال ہے۔ پھر لجنہ اماء اللہ اور خدام الاحمدیہ کا تو بہت کم حصہ ہوا۔

قائد تحریک جدید

اس کے بعد قائد تحریک جدید نے بتایا کہ کل تجنید کے 44 فیصد تحریک جدید میں شامل تھے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: 100 فیصد کیوں نہیں تھے؟

قائد تحریک جدید نے عرض کیا کہ اس کے لئے دعا کی درخواست ہے، کیونکہ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا:صرف دعا نہیں۔ آپ کو قائل کرنے کی بھی صلاحیت چا ہئے۔ با قاعدہ پلان بنائیں اور پھر فالو اپ کرتے رہیں۔ اپنے متعلقہ منتظمین تحریک جدید سے رابطے کریں۔

حضور انور نے دریافت فر مایا: گزشتہ سال کتنی رقم تحریک جدید میں اکٹھی ہوئی تھی اور کل جماعت کے بجٹ کا کتنا حصہ مجلس انصاراللہ نے اکٹھا کیا؟

اس پر قائد تحریک جدید نے عرض کیاکہ 1.2ملین تھی۔ تاہم مجھے چونکہ جماعت کے تحریک جدید کے بجٹ کا علم نہیں، اس لئے معلوم نہیں کہ انصاراللہ کا کتنا شیئر تھا۔

اس پر حضور انور نے ہدایت دیتے ہو ئے فرمایا:یہ آپ کو معلوم ہونا چا ہئے۔

ناظم اعلی ہیڈ کوارٹرز اور سنٹرل ایسٹ ریجن سے گفتگو

بعد ازاں ناظم اعلیٰ ہیڈ کوارٹرز نے اپنا تعارف کروایا۔ خاکسار کے ذمہ میری لینڈ، پٹس برگ، یارک اور بالٹی مور کی مجالس ہیں۔

ناظم اعلیٰ سنٹرل ایسٹ ریجن نے بتایا کہ ان کے ذمہ فلاڈلفیا، نارتھ جرسی، سنٹرل جرسی، Willingboro کی مجالس ہیں۔ ہمارے انصاراللہ کی تعداد 409 ہے۔

آڈیٹر سے گفتگو

اس کے بعد آڈیٹر نے حضو ر انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے استفسار پر عرض کیا کہ تمام رسیدوں اور بلز کی کلیئرنس خاکسار کرتا ہے۔ ہر ایک رسید پر دستخط نہیں کرتا لیکن جائزہ لیتا ہوں اور اگر کوئی وضاحت چاہئے ہو تو معلوم کرتا ہوں۔

حضور کے دریافت فرمانے پر موصوف نے بتایا کہ وہ بجٹ کمیٹی کے ممبر نہیں ہیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: آپ کو اس کا حصہ ہونا چا ہئے۔

قائد تربیت کو ہدایات

بعد ازاں قائد تربیت سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تربیت پلان کے حوالہ سے استفسار فرمایا۔

قائد تربیت نے عرض کیا کہ ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سو فیصد انصار پنجوقتہ نمازیں ادا کر رہے ہوں اور روزانہ تلاوت قرآن کریم کرتے ہوں اور اسی طرح تمام انصار حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنتے ہوں۔ یہ ہمارا ٹارگٹ ہے۔ لیکن رپورٹس کے مطابق ہمارے 60 فیصد انصار پنجوقتہ نمازیں ادا کر رہے ہیں۔

حضور انور نے فرمایا: آپ کے کتنے فیصد انصار روزانہ تین نمازیں باجماعت ادا کر رہے ہیں۔

اس پر قائد تربیت نے عرض کیا کہ اس کی تعداد اور بھی کم ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: کیا انہیں اس عمر میں بھی یہ احساس نہیں ہو رہا کہ اب ان کی زندگی ختم ہونے والی ہے۔

قائد تربیت نے عرض کیا کہ ہم اس حوالے سے کوشش کر رہے ہیں۔ یکم اکتوبر تا 10؍اکتوبر بھی اس حوالہ سے عشرہ منایا گیا ہے۔ مکمل کوشش ہے کہ مسجد یا نماز سنٹرز میں آکر نماز ادا کی جائے۔ نماز سنٹرز کو بھی فعال کیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللّٰہ امید ہے کہ یہ تعداد بڑھا سکیں گے۔

نائب صدر برائے شعبہ اشاعت

اس کے بعد نائب صدر انصاراللہ نے بتایا کہ صدر مجلس نے ان کے ذمہ شعبہ اشاعت کیا ہے اور مجلس انصاراللہ کے سوشل میڈیا کی نگرانی کی ہے۔

سوشل میڈیا کے حوالہ سے حضور انور کے استفسار پر موصوف نے عرض کیا کہ انصاراللہ کو سوشل میڈیا کی ٹر یننگ دینے کے لئے اور جوابات دینے کے لئے طریقہ کار سمجھایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی سمجھ بوجھ بڑھانے کے لئے کلاسز وغیرہ لی جا رہی ہیں۔ انصار کی طرف سے ابھی سوشل میڈیا میں شرکت کافی کم ہے۔ انصار کو توجہ دلا رہے ہیں لیکن ٹریننگ کلاسز میں رجسٹر کرنے والے انصار کی تعداد کم ہے۔

معاون صدر برائے سپیشل پروجیکٹس

بعد ازاں معاون صدر برائے سپیشل پروجیکٹس نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ امسال Family day پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں یہ Tobaa Game بھی تیار کی گئی ہے، جو کہ میٹینگ کے آغاز میں دکھائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مختلف ورکشاپس کا انعقاد کرنا، نیشنل اور ریجنل اجلاسات، انصاراللہ کانفرنسز اور ریجنل اجتماعات خاکسار کے ذمہ ہیں۔

نائب صدر برائے مال و تربیت

بعد ازاں نائب صدر نے بتایا کہ ان کے ذمہ شعبہ مال اور تربیت ہے۔

حضور انور نے فرمایا: کیا صرف 44فیصد انصار چندہ میں باقاعدہ ہیں۔

اس پر عرض کیا گیا کہ حضور 60فیصد ہیں۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نائب صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ پھر آپ کیا نگرانی کر رہے ہیں۔

نائب صدر نے عرض کیا کہ گزشتہ سال سے خاکسار قائد مال کے طور پر خدمت بجا لا رہا ہے اور اس حوالہ سے بہتری آ رہی ہے۔ لیکن بہت محنت کی ضرورت ہے۔ ہم گھر گھر وزٹ کر رہے ہیں اور اس سے کافی فائدہ ہوا ہے اور ہرسال 5سے 8 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔

قائد عمومی سے گفتگو

اس کے بعد قائد عمومی سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ ہر ماہ کتنی رپورٹس موصول ہوتی ہیں؟

اس پر موصوف نے عرض کیا کہ 95 سے 100فیصد تک موصول ہو جاتی ہیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: کمال ہے۔ اور کیا ان رپورٹس پر تبصرے بھی بھجواتے ہیں؟

قائد عمومی نے عرض کیا کہ تمام مجالس کو ہر ماہ تو نہیں لیکن بعض جماعتوں کو ہر ماہ تبصرے جاتے ہیں۔

حضور انور نے دریافت فرمایا: آپ تبصرہ بھجواتے ہیں یا پھر صدر مجلس یا پھر متعلقہ قائد اپنے شعبہ کے حوالہ سے تبصرے بھجواتے ہیں۔

اس پر قائد عمومی نے عرض کیا کہ تمام مجالس صدر کو رپورٹس بھجواتی ہیں اور قائدین کو بھی اس کی نقل جاتی ہے۔ ہر شعبہ سے یہ توقع کی جا تی ہے کہ وہ زعماء کو تبصرے بھجوائیں۔

حضور انور نے دریافت فرمایا: کیا قائدین کا اپنے متعلقہ منتظمین سے ذاتی رابطہ ہے۔

اس پر قائد عمومی نے عرض کیا کہ ان کو تمام لوکل عاملہ کے رابطہ نمبرز وغیرہ فراہم کئے جاتے ہیں۔ ان کے پاس اپنے متعلقہ منتظم کے رابطہ نمبرز وغیرہ ہوتے ہیں۔

بعد ازاں ناظم اعلیٰ نارتھ ویسٹ ریجن اور ناظم اعلیٰ سنٹرل ویسٹ ریجن اور نا ظم اعلیٰ ساوتھ ویسٹ ریجن نے اپنے اپنے ریجن کی مجالس کے حوالہ سے بتایا۔

قائد تعلیم

بعد ازاں قائد تعلیم سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دریافت فرمایا کہ آپ کا اس سال کا کیا پروگرام ہے؟

قائد تعلیم نے عرض کیا کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دو کتب منتخب کی ہیں۔ ایک ضرورۃ الامام اور لیکچر لاہور۔

حضور انور نے دریافت فرمایا: کتنے انصار نے گزشتہ سال کتب مکمل کی تھیں۔

اس پر قائد تعلیم نے عرض کیا کہ گزشتہ سال33 فیصد انصار نےاپنا تعلیم کا پرچہ دیا تھا۔ اس سال امتحان جا ری ہے، ابھی تک ہمارے پاس ڈیٹا نہیں ہے۔

حضور انور نے فرمایا: کیا یہ کتب کا مطالعہ بھی کرتے ہیں یا پھر صرف ٹیسٹ کے لئے دیکھ کر امتحان دے دیتے ہیں؟

اس پر قائد تعلیم نے عرض کیا کہ ہم انصار کو توجہ دلاتے ہیں کہ کتب کا مطالعہ کریں۔ ہر مجلس میں book club قائم کئے جا رہے ہیں، جہاں وہ کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں، ان کے حوالہ سے بات چیت کر سکتے ہیں۔ اس طرح کتب کا مطالعہ کرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے۔

اس طرح مختلف طریق پرکوشش کی جاتی ہے۔ انہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مطالعہ کے دوران اگر انہیں کوئی اقتباس زیادہ پسند آتا ہے۔ یا وہ اپنا پسندیدہ اقتباس سلیکٹ کرکے گروپ میں پوسٹ کریں اور اسے discuss کر سکتے ہیں۔

صدر مجلس کے سوالات کے جوابات

اس کے بعد صدر مجلس نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بعض سوالات کرنے کی اجازت حاصل کی۔

نائب صدر صاحب نے سوال کیا کہ حضور نے گزشتہ خطبہ جمعہ کے آخر پر فرمایا تھا کہ یہاں مسجد 28سال سے قائم ہے، تو ہم نے اپنے اندر کیا تبدیلی کی ہے۔ حضور یہ جملہ میرے لئے بہت چونکا دینے والا تھا۔ حضور ہم کیسے اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم کس معیار پر ہیں؟میں یہاں بطور خادم رہا ہوں اور اب میں ناصر ہوں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: آپ اپنا جائزہ لے سکتے ہیں۔یہاں کافی عرصہ سے مسجد ہے اور آپ کس طرح اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ پھر آپ تجزیہ کر سکتے ہیں کہ آپ کی روحانیت میں اس دوران کیا بہتری ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کے لئے کیا کوششیں کی ہیں۔تو یہ تو آپ کو اپنے آپ سے پو چھنا چاہئے۔

بعد ازاں صدر مجلس انصار اللہ نے انصار ہاؤسنگ پروجیکٹ کمیونٹی سنٹر کے حوالہ سے دعا کی درخواست کی اور کہا کہ یہ پروجیکٹ تکمیل کے قریب ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ حضور اس کا وزٹ کریں۔

اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا: کہ میں نے اس کی تصاویر دیکھیں ہیں۔ بہرحال اب وزٹ کا وقت تو نہیں ہے۔ میں دیکھوں گا اگر وقت نکل سکا۔

صدر مجلس نے عرض کیا کہ حضور دعا کریں کی یہ کمیونٹی ایک ماڈل کمیونٹی بن جائے اور یہاں زیادہ احمدی فیملیز آباد ہو جائیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: اس کا افتتاح نہیں ہوا؟ وہاں نمازیں شروع کی ہیں؟

صدر مجلس انصار اللہ نے عرض کیا کہ باقاعدہ آفیشل طور پر ابھی ہمیں یہاں occupancy permit نہیں ملا۔ لیکن اگر حضور کے پاس وقت ہو تو اس کے باقاعدہ افتتاح کے لئے سپیشل انتظامات کئے جا سکتے ہیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا:اب تو میرے پاس صرف دو دن ہیں،یہ کس طرح ہو گا۔ دیکھیں گے۔

اس کے بعد معاون صدر صاحب نے سوال کیا کہ میں بطور لوکل صدر جماعت بھی ہوں۔ کس طرح زعیم انصار اللہ لوکل سطح پر بہتر انداز میں جماعت کی خدمت کر سکتا ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: لوکل جماعت کا جو بھی پلان ہو، آپ اپنے لوکل انصار کو کہیں کہ اس میں معاونت کریں۔ کوشش کریں کہ انصار اللہ کی ان پروگراموں میں شمولیت سب سے زیادہ ہو۔ دیگر تنظیموں سے بڑھ کر پروگراموں میں اپنا حصہ ڈالیں۔ آپ سمجھ دار بڑی عمر کے لوگ ہیں۔ آپ کا نام انصار اللہ ہے۔ آپ ان کی راہنمائی بھی کریں۔ اگر ان کے پاس پلان نہ ہو تو ان کی راہنمائی کریں۔

بطور احمدی آپ ممبر جماعت ہیں۔ آپ کے دو رولز ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ممبر جماعت ہیں دوسرا آپ ممبر انصار اللہ ہیں۔ دونوں جگہ آپ کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ خدمت کر نے کے نئے ذرائع تلاش کریں۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگوں کے بہت ذہین دماغ ہیں۔ آپ کر سکتے ہیں۔

میٹنگ کے آخر پر مجلس عاملہ انصار اللہ کے ممبران نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنانے کی سعادت پائی۔

مجلس انصار اللہ کی یہ میٹنگ آٹھ بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لے آئے۔

ساڑھے آٹھ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت الرحمٰن میں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء پڑھائی۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

اَللّٰھُمَّ اَیِّدْ اِمَامَنا بِرُوْحِ الْقُدُسِ وَ بَارِکْ لَنَا فِیْ عُمُرِہٖ وَ اَمْرِہٖ

(کمپوزڈ بائی: فائقہ بشرٰی۔ بحرین)

(رپورٹ: عبدالماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

جلسہ سالانہ آسٹریا 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 دسمبر 2022