• 15 اپریل, 2024

ہمارا خدا، پیارا خدا

بزم ناصرات
ہمارا خدا، پیارا خدا

پیارے بچو! آج ہم آپ کو جس عظیم ہستی کے بارے میں بتائیں گے وہ ہے ’’ہمارا پیارا خدا‘‘ جسے آج کے دَور میں دنیا داری میں حد سے زیادہ دلچسپی کی وجہ سے جانا نہیں جاتا اور اس کے مقام کو پہچانا نہیں جاتا۔ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دُکھ کی بات ہے کہ تقریباً سات ارب کی آبادی میں سے بہت کم لوگ ہیں جو اس کے مرتبہ کو شناخت کر تے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والوں میں سے زیادہ تر لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال اٹھتے ہیں مثلاً: ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھ کیوں نہیں سکتے؟ کیا اللہ تعالیٰ ہماری طرح کا جسم رکھتا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کو ہماری طرح کھانا کھانے کی ضرورت ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا نظام چلا رہا ہے تو کیا وہ ایسا کرتے ہوئے تھکتا نہیں یا اسے نیند یا اونگھ نہیں آتی؟ ہمیں کیسے پتا چلے کہ خدا ایک زندہ خدا ہے اورکیا وہ کسی سے بات بھی کرتا ہے؟

پیارے بچو! یہ اور اس سے ملتے جلتے بہت سارے سوالات آپ کے ننّھے منّے ذہنوں میں بھی ضرور آتے ہوں گے۔ تو پھر آئیے! ہم ان سوالات کے جوابات اللہ تعالیٰ کے خط (قرآنِ کریم) سے تلاش کرتے ہیں جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم تک پہنچا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تمام حمد اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔

(الفاتحہ: 2)

اور (کہا ) کہ یقیناً ہمارے ربّ کی شان بہت بلند ہے۔ اُس نے نہ کوئی بیوی اپنائی اور نہ کوئی لڑکا۔

(الجنّ: 4)

نہ اُس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔

(الاخلاص: 4)

یعنی اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے ماں باپ ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کا ہمارے جیسا جسم نہیں ہے تو اس کو کھانے کی حاجت بھی نہیں ہے۔ نیز فرمایا: آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے اور اُس کا بھی جو اُن دونوں کے درمیان ہے۔ کامل غلبہ والا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔

(ص: 67)

اللہ! اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا (اور) قائم بِالذات ہے۔ اُسے نہ تو اُونگھ پکڑتی ہے اور نہ نیند۔

(البقرہ: 256)

آنکھیں اس کو نہیں پا سکتیں ہاں وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہےاور وہ بہت باریک بین اور ہمیشہ با خبر رہنے والا ہے۔

(الانعام: 104)

اللہ آسمانوں اور زمین کا نُور ہے۔

(النّور: 36)

پیارے بچو! اس کایہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بے شک ہم اپنی ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے مگر اللہ تعالیٰ کے جلوے، اس کے ہمارے اوپر فضل، اُ س کی نعمتیں اور اپنی دعاؤں کی قبولیت کے ذریعہ سے ہم اس کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ چاند سورج، ستارے اور سیّارے، یہ دریا سمندر ندی، نالے، یہ رنگ برنگے چرند پرند، طرح طرح کے پھلوں اور خوش رنگ پھولوں سے لدے یہ درخت یہ پودے، سبزیاں اور سبزہ جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کوسجارکھا ہے یہ سب خداتعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ہیں۔ بہت ساری چیزیں ہم اپنی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتے مگر ان کے وجود سے انکار بھی نہیں کرتے مثلاً:کھانا گرم ہے یا ٹھنڈا، نمکین ہے یا میٹھا، ہمیں چکھنے سے پتا چلتا ہے۔ اسی طرح سے ہَوا کا، جس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے درختوں کے پتوں کے ہلنے ہمارے بالوں اور کپڑوں کے ہلنے سے پتا چلتا ہے۔ خوشبو اور بدبو کا علم سونگھنے کی حس سے ہوتا ہے۔ کسی کی قابلیت، ذہانت، طاقت اور بہادری کا اندازہ اس شخص کے عمل سے پتا چلتا ہے نہ کہ دیکھنے سے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہم جو کپڑے، جوتے،ٹوپی،جیکٹ اور جرابیں پہنتے ہیں ان سب کو کوئی بنانے والا ہے۔ گاڑی، جہاز، ٹرین اور سائیکل جن میں ہم سفرکرتے ہیں ان سب کو بھی کسی نہ کسی نے بنایا ہے۔ تو بچّو ! اسی طرح اس ساری کائنات کو بنانے والا بھی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے ایک جرمن ملاقات کے دوران ایک خاتون نے یہ سوال پوچھا کہ: ہم اللہ تعالیٰ کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ حضورؒ نے فرمایا:
’’اللہ میاں کو دل کی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے اور ہوا کو بھی نہیں دیکھ سکتے، اللہ میاں کو کیسے دیکھیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:؎

قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے

اللہ تعالیٰ کی قدرتیں، آپ کا پیدا ہونا، عجیب آپ کی شکل صورت ہر چیز، آنکھیں ناک کان یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نشان ہے وہ اپنی صنّاعی سے پہچانا جا تا ہے۔‘‘

(جرمن ملاقات، 5؍فروری 2003ء)

قرآنِ کریم میں فرمایا:اور اللہ ہی کی بہت سی اچھی صفات ہیں۔ پس تُم ان کے ذریعہ سے اس سے دعائیں کیا کرو۔

(الاعراف: 181)

اسی طرح ایک انگریزی مجلس سوال و جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے سوال پوچھا گیا کہ: روح کیسی لگتی ہے اور خدا کیسا لگتا ہے؟ آپ نے فرمایا رُوح Soul دیکھی نہیں جاسکتی اور نہ خدا کو دیکھ سکتے ہیں …آپ خدا اور رُوح کو اپنی ننگی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتے۔ مگر آپ ان دونوں کو ان کی صفات attributes کے ذریعہ سے سے دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ صفات ہیں ان صفات کے ذریعہ سے ہم اپنی روحانی آنکھ سے خداتعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں۔ جب آپ یہ دیکھیں گے کہ خدا رحمان ہے تو آپ کو یہ پتا چلے گا کہ رحمانیّت کیا ہے، تو پھر اُسی آنکھ سےجس سے آپ کو علم ہوا کہ رحمانیّت کیا ہے آپ یہ بھی جان لیں گے کہ خدا کیا ہے۔ تو اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی صفات ہمیں بتاتی ہیں کہ خدا کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دعاؤں میں ہمیں یاد کروایا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات پر توجہ دیں پھر یہی صفات ہمیں اللہ تعالیٰ سے متعارف کرائیں گی۔

(21؍مئی 2000ء انگریزی مجلس سوال و جواب)

اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد یہ سوال بھی آپ کے ذہن میں آتا ہو گا اور آنا بھی چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

بچّو! یہی سوال ایک بچّی نے 10؍جنوری 2020ء کی کلاس میں پوچھا جسے This week with Huzoor میں نشر کیا گیا۔ پیارے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سے اُس کی محبت مانگو۔نمازوں میں دُعا کیا کرو اللہ میاں سے کہ اللہ میاں ہمیں اپنی محبت عطا کیا کرے۔ ٹھیک ہے! پھر اللہ میاں مان لے گا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو تجھ سے مانگتا ہوں وہ دولت تمہی تو ہو۔ اللہ سے اللہ کی محبت مانگو۔‘‘

(بشریٰ نذیر آفتاب۔سسکاٹون، کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 5 دسمبر 2022

اگلا پڑھیں

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 19۔ حصہ دوم)