• 26 فروری, 2024

غزل آپؐ کے لئے

غزل آپؐ کے لئے
(کلام حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ)

گلشن میں پھول، باغوں میں پھل آپؐ کے لئے
جھیلوں پہ کھل رہے ہیں کنول آپؐ کے لئے

میری بھی آرزو ہے، اِجازت ملے تو میں
اَشکوں سے اِک پروؤں غزل آپؐ کے لئے

مژگاں بنیں، حکایتِ دل کے لئے قلم
ہو رَوشنائی، آنکھوں کا جل آپؐ کے لئے

اِن آنسوؤں کو چرنوں پہ گرنے کا اِذن ہو
آنکھوں میں جو رہے ہیں مچل آپؐ کے لئے

دِل آپؐ کا ہے، آپؐ کی جان، آپؐ کا بدن
غم بھی لگا ہے جان گسل آپؐ کے لئے

میں آپؐ ہی کا ہوں، وہ مری زندگی نہیں
جس زندگی کے آج نہ کل آپؐ کے لئے

گو آ رہی ہے میرے ہی گیتوں کی بازگشت
نغمہ سرا ہیں دَشت و جبل آپؐ کے لئے

ہر لمحہٴ فراق ہے عمرِ درازِ غم
گزرا نہ چین سے کوئی پل آپؐ کے لئے

آ جائیے کہ سکھیاں یہ مل مل کے گائیں گیت
موسم گئے ہیں کتنے بدل آپؐ کے لئے

ہم جیسوں کے بھی دید کے سامان ہو گئے
ظاہر ہوا تھا حسن ازل آپؐ کے لئے

(جلسہ سالانہ یوکے 1989ء)

پچھلا پڑھیں

نیشنل اجتماع مجلس انصار اللہ گیمبیا 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 فروری 2023