• 20 جولائی, 2024

ممکنہ تیسری عالمی جنگ (قسط 5)

ممکنہ تیسری عالمی جنگ
قسط 5

16۔ امریکہ کا جنگی جنون

جولائی 1939ء میں چند سائنسدانوں نے امریکن صدر رُوز ویلٹ سے ملاقات کی جس کے نتیجہ میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس میں آئن سٹائن کے علاوہ تین اور سائنسدان شامل تھے۔ بعد میں برطانیہ، فرانس اور دیگر چند ملکوں کے سائنسدان بھی شامل ہو گئے، اور یہ سب مل کر 1941ء میں دو قسم کے ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

اس میں سے ایک فیژن کے عمل پر مشتمل تھا جو ہیروشیما پر گرایا گیا اور دوسرا فیوژن کے عمل پر مشتمل تھا اور یہ ناگا ساکی پر بعد میں گرایا گیا۔

ہیروشیما پر بم 6؍اگست 1945ء کو بروز سوموار صبح آٹھ بجکر پندرہ منٹ پر جہازسے ایک پیرا شوٹ کے ذریعے سے گرایا اور جہاز اس وقت چوبیس ہزار فٹ کی بلندی پر تھا اور بم گرانے کے بعد جہاز تیزی سے وہاں سے آگے نکل گیا۔ بم دو ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر آکر پھٹا۔ ہیروشیما کی اس وقت آبادی چار لاکھ پچاس ہزار تھی۔ دھماکا کے چند سیکنڈ بعد ساٹھ فی صد آبادی ہلاک ہو چکی تھی، اس دھماکہ سے، عمارتیں گرنے سے، آگ سے جھلسنے سے، تابکاری کے اثرات سے اور اس درجہ حرارت سے جو سورج کی بیرونی سطح کے درجہ حرارت سے زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ کئی ہزار لوگ متاثر ہوئے اور چند دن بعد فوت ہو گئے۔ قریباََ ایک لاکھ لوگ اس بم سے مرے اور اتنے ہی شدید زخمی ہوئے۔ تین دن بعد 9؍اگست 1945ء کو ناگاساکی پر بم گرایا گیا جس کی آبادی تین لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔ اس بم سے ستر ہزار لوگ ہلاک ہوئے اور قریباََ اتنے ہی شدید زخمی ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ دنیا اب ایٹمی جنگ میں داخل ہو گئی ہے اور یہ انسانیت سوز جارحانہ فعل کرنے والا امریکہ تھا۔ 14؍اگست 1945ء کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے۔

(بشکریہ: نو مور وارز)

امریکن آرمی 1942ء سے 1945ء تک تین سال میں1.6 ملین سے بڑھ کرآٹھ سو ملین ہو گئی یعنی 500گنا اضافہ اور نیوی 430,000 سے بڑھ کر3,800,000 تک جا پہنچی یعنی قریباََ 9 گُنا اضافہ۔ اس کے علاوہ جنگی سامان کی پیداوار میں 680 فیصد اضافہ ہوا۔ 1944ء میں امریکہ نے ہوائی طاقت میں اتنی ترقی کر لی تھی کہ جاپان اس کی زد میں آچکا تھا۔ ٹوکیو پر پہلا حملہ جو کیا گیا اس میں 111 جہازوں نے حصہ لیا اور چار دن بعد دوسرا حملہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ بوئنگ بی29 سوپر فورٹریس کے ذریعے ہوائی حملے جاپان پر مسلسل ہو رہے تھے۔فروری میں 200 بوئنگ بی 29 جہازوں نے جاپان پر حملہ کیا اس کے فوراً بعد ہی دوسرا حملہ میں 300، بی29 سوپر فورٹریس نے حصہ لیا اور ایک ہزار ٹن وزنی بم گرائے گئے۔ ان گرائے جانے والے بموں کی قسم کا نام تھا ‘‘جیلی فائر بم’’ اس کے نتیجے میں پندرہ مربع کلومیٹر تک کوئی عمارت کھڑی نظر نہ آ رہی تھی۔ کثرت سے لوگ بے گھر ہو گئے تھے اور صنعتی اداروں میں دھول اُڑ رہی تھی۔

جہاں تک جزائر کا تعلق ہے، تو امریکہ نے بحرالکاہل میں جیما اوکی نارا فلپائن جزائر مارشل اور ماریانہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ آسٹریلیا نے نیو گنی پر حملہ کرکے وہاں سے جاپان کو پسپا کر دیا تھا۔ اکیاب جو مغربی برما میں جاپان کا بڑا بحری اور ہوائی اڈہ تھا اس پر برطانوی اور ہندی فوجوں نے قبضہ کرلیا تھا۔

امریکہ کی دوسرے ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت

ایکسپریس ٹریبیون کی 18؍فروری 2012ء کی اشاعت میں درج ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد پیش کی گئی ہے کہ امریکہ کیوں امداد فراہم کر رہا ہے ان کو جو بلوچ عوام پر ظلم کر رہے ہیں۔ کانگریس کے رکن دانا رورا بیکر نے کہا کہ بلوچ عوام کو اپنے لئے ایک آزاد ملک کا حق حاصل ہے۔ بلوچوں کو ما ورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف امریکی دفتر خارجہ نے شدت سے اس قرارداد کی مذمت کی ہے اور اس کو کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت قراردیا ہے اور اس کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکہ میں قائم بلوچ امریکن کانگریس (B A C) نے 26؍مارچ 2012ء کو کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کیا جائے۔ حال ہی میں امریکہ نے ایک خاتون کو آزاد بلوچستان کی صدر مقرر کر دیا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ دو تین ممالک نے اسے تسلیم بھی کر لیا ہے۔ یہ سب واقعات امریکہ کی جنونی کیفیت کے اوپر گواہ اور ثبوت ہیں۔

پاکستان کے ایک سیاستدان فضل الرحمان خان (مولانا) نے اپنے ایک انٹرویو میں ایک ٹی وی چینل ’’اب تک‘‘ کے پروگرام ’’دی رپورٹر‘‘ میں جو بیان دیا اس میں انہوں نے امریکہ کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن ایک عرصہ تک سینیٹر اور نائب صدر رہے ہیں اور ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور اب جبکہ وہ امریکی صدر ہیں تو ان کی سیاسی سوجھ بوجھ سے پوری دنیا کی انسانیت کو فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ یہ ایک ثبوت ہے کہ کس طرح امریکہ دوسرے ممالک کے لوگوں اور تنظیموں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا اور ان کے ذریعہ ان ممالک کے اندرونی معاملات میں اپنی من مانی کرتا ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانے کے لئے نو (9) بلین ڈالر تقسیم کئے جانے کی خبریں میڈیا میں ہیں۔ رقم تقسیم کی اس ساری کاروائی کے لئے سندھ ہاؤس استعمال ہوا اور سب کو دکھاکر اکیس سے تیئس کروڑ روپے وفا داری تبدیل کرنے کی فی ممبر قومی اسمبلی قیمت لگی۔اس کامیاب رجیم چینج کے بعد راہول گاندھی نے وزیراعظم نرندرا مودی سے طنزاً کہا کہ کئی سو بلین کا اسلحہ خریدنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ 9بلین میں پاکستان میں اپنی پسند کی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔

امریکہ کے بارے میں ایک ہندوستانی مصنف جس کا نام آروندہاتی رائے ہے نے امریکہ میں اپنی ایک تقریر میں کہا 2003ء سے یہ تقریر یو ٹیوب پر موجود ہے۔

‘‘U.S CAN DO WHAT THE HELL SHE WANTS TO DO AND THAT’S OFFICIAL’’

امریکہ نے 3؍جولائی 1988ء کو خلیج فارس میں موجود میزائل کو حادثاتی طور پر چلا دیا اور اس (ایران ائیر لائن) نے ایک مسافر بردار ہوائی جہازکو گرا دیا جس کے نتیجے میں 290مسافر جان بحق ہو گئے تو اس وقت کے امریکی صدر جارج بش (اول) نے جو اس وقت اپنی انتخابی مہم پر تھا جب اس کو تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو اس نے کہا کہ ’’میں کبھی بھی امریکہ کی طرف سے معذرت نہ کروں گا، قطع نظر اس کے کہ حقائق کیا ہیں‘‘۔ جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو اس وقت نیویارک ٹائمز نے ایک سروے کے مطابق بتایا کہ 42 فیصد لوگوں کو یقین ہے کہ صدام حسین 11؍ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹا گان پر ہونے والے حملوں میں براہ راست ملوث تھا۔ پھر ایک سروے میں بتایا گیا کہ 55 فیصد امریکن لوگوں کو یقین ہے کہ صدام حسین براہ راست القائدہ کو امداد دے رہا تھا۔ ان اندازوں میں سےکوئی بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ سب کا سب ایک بنا بنایا جواب کسی کے منہ میں ڈال کر اس سے کہلوانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ لہٰذا یہ سب پروپیگنڈا ہے جس کو نام نہاد آزاد صحافت کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ صحافت اپنی ذات میں ایک کھوکھلاستون ہے جس پر امریکہ کی جمہوریت کا انحصار ہے۔ امریکہ کے عراق پرحملہ کی حمایت میں جوکثیر منزلہ عمارت امریکی میڈیا نے تیار کی تھی یہ ہی وہ غلط بیانی اور دھوکا دہی ہے جس کو یوایس حکومت کی پوری حمایت حاصل ہوتی ہے۔

جس طرح ہم (امریکہ) نے عراق اور القائدہ کے تانے بانے دریافت کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا تھا اسی طرح عراق نے جو وسیع تر تباہی کے ذمہ دار ہتھیار تیار کئے تھے ان کا بھی ہم نے سراغ لگا لیا تھا۔ جارج بش (جونیئر) وہ تو اس حد تک چلا گیا کہ اس نے کہا کہ یہ تو ایک خود کش حماقت ہوگی اگر امریکہ عراق پر حملہ نہ کرے۔

اسی طرح ایک غریب عوام پرمشتمل ایک ملک پارانویا پر حملہ کرکے امریکہ نے اسے تباہ و برباد کر دیا، یہ امریکہ کا تازہ ترین ظالمانہ فعل ہے۔ جبکہ اس نے اس سے قبل کیوبا، نکاراگووا، لیبیا، گراناڈا اور پانامہ کو تباہ کر دیا تھا۔ اس وقت امریکہ نے ایک نیا جال ایک نئی شکل کے ساتھ پھینکا ہے جس میں اس کی حکمت عملی کو دوسرے لفظوں میں کہا جاتا ہے کہ

U.S CAN DO WHAT THE HELL SHE WANTS TO DO, AND ITS OFFICIAL.

17۔ عالمی جنگیں اورجاپان

جاپان میں 1853ء میں صنعتی ترقی کافی عروج پر تھی لیکن اس کو خام مال کی کمی کا سامنا تھا جس کے حصول کے لئے جاپان نے مختلف ممالک کی طرف چڑھائی کی۔ 1875ء اور 1879ء کے درمیان جاپان نے کیوریل، بونین اور جزائر رے یوکیو پر قبضہ کر لیا اور 1891ء میں اس نے والکانو گروپ پر قبضہ کرلیا۔ 1894ء اور 1895ء میں چین کے ساتھ جنگ میں جاپان نے فارموسا، پسکاڈو، اور آرتھر کی بندرگاہ پر قبضہ کرلیا مگر روس، جرمنی اور فرانس کے دباؤ میں اس کو یہ بندرگاہ خالی کرنا پڑ گئی۔ روس کے ساتھ کامیاب لڑائی کے بعد 1905ء میں جاپان نے دوبارہ یہ بندرگاہ قبضہ کر لی اور اس کے ساتھ سخالین جزیرہ کا جنوبی حصہ اور کوریا پر قبضہ کرلیا۔ 1910ء میں جاپان نے کوریا کو مکمل طور پر اپنی نو آبادی بنا لیا۔ جاپان نے 1919ء میں جزیرہ گوم کے علاوہ ماریانہ، کارولین اور مارشل جزائر کے اوپر قبضہ حاصل کر لیا۔ 1931ء میں جاپان نے منچوریا پر قبضہ کرلیا اور اس کو اپنا صوبہ بنا لیا اور اس کا نام مان چو کووا رکھ دیا۔ اس طرح سے جاپان کی دشمنی چین کے ساتھ شروع ہو گئی اور جاپان کی فوجوں نے 1937ء جولائی کو مارکوپولو پل کراس کرکے چین پر حملہ کردیا۔ اس ساری اپنی غاصبانہ اور توسیع پسندانہ کاروائیوں کو جاپان نے ’’عظیم مشرقی ایشیا کی باہمی ترقیاتی کا محیط‘‘ کا نام دیا اور اس کا در پردہ مقصد یہ تھا کہ جاپان کو منچوریا سے آسٹریلیا تک اور جزائر فجی سے خلیج بنگال تک کے علاقہ پر معاشی برتری حاصل ہو جائے۔ 1941ء میں چین اور جاپان کے مابین جنگ ہو رہی تھی اس جنگ میں امریکہ اور برطانیہ بھی دلچسپی رکھتے تھے کیونکہ امریکہ کچھ عرصہ سے چین کو مسلسل مالی امداد دے رہا تھا۔ فرانس نے جاپان کو عارضی طور پر قبضہ کی پیشکش کردی جب جاپان کے جہاز خلیج کامرانہ میں پہنچے تو امریکہ نے جاپان پر پابندیاں لگا دیں اور 33000000 پونڈ سٹرلنگ کے بنک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا۔ اس کےعلاوہ برطانیہ نے جاپان کےساتھ اپنے معاہدات کو ختم کرنے کی دھمکی دے دی۔ 1942ء میں جاپان نے فلپائن، انڈونیشیا، برما اور ملایاپر قبضہ کر لیا۔ اسی سال جون میں امریکی بحری بیڑے نے جاپان کو مڈوے کی بحری مہم میں شکست دے دی۔ 1943ء میں سقوط منیلا کے بعد جاپانیوں کے راستے میں ایک ہی امریکن دفاعی پوسٹ تھی جو باتاں میں بنی ہوئی تھی اس لئے اب فوجیں نو زون میں داخل ہونا شروع ہو گئیں۔ ہزاروں جاپانی فوجی پیدل اور ٹرکوں کے ذریعے باتاں میں داخل ہو گئے۔ جاپان جلد از جلد فلپائن پر قبضہ مکمل کرنا چاہتا تھا۔ یہ آسٹریلیا جانے کے راستے میں آخری رکاوٹ تھی، جاپان چاہتا تھا کہ انڈونیشیا، انڈیا وغیرہ کو فتح کر لے تا وہ اتنے وسائل حاصل کر لے کہ باقی ماندہ ایشیا پر قبضہ کرسکے۔ فلپائن پر قبضہ کے بعد جاپان نے اپنا بھاری توپ خانہ ماری ویلز کے پہاڑ پر قائم کردیا تھا اور اس طرح اپنے دشمنوں کی توپوں کو خاموش کروادیا، اور خار دار تار جو لگی ہوئی تھی اس کو خاص طور پر تباہ کر دیا۔ لیکن اس کے بعد امریکہ نے جاپان کی دندناتی افواج کی کمک کے راستے میں رکاوٹیں پیداکرنی شروع کر دیں۔ 1944ء امریکہ نے جاپان کے مختلف شہروں پر ہوائی حملے شروع کر دیئے اور پھر اگلے سال ہی 1945ء میں امریکہ نے وہ کام کردیا گیا جس کا تصور ہی تاریخ انسانی میں موجود نہ تھا، جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر یکے بعد دیگرے ایٹم بم گرادیئے گئے۔ تباہی جو اس کے نتیجہ میں ہوئی اس کا ذکر بہت ہی ہولناک ہے اور اب جاپان کے پاس جنگ سے دستبردار ہونے کے سوا چارہ نہ تھا۔

18۔ عالمی جنگوں میں جرمنی کا تذکرہ اور احوال

ہٹلر کے ایک قریبی اور بہت معتمد رفیق کا ر نے اپنی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ ہٹلر کا خیال تھا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کا مالک ہے صنف نازک کے لئے اور وہ یہ بھی کہا کرتا تھا کہ جب کوئی عورت مجھ سے متاثر ہوتی ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ جرمن چانسلر سے متاثر ہو رہی یا روڈولف ہٹلر سے۔ ایوا براؤن کا تعلق ایک درمیانے طبقے کے گھرانے سے تھا اوراُس کے والدین آخر وقت تک اپنی اُسی گمنامی میں رہنا پسند کرتے رہے۔ ایوا براؤن بھی سادہ طبیعت کی مالک تھی سادہ لباس پہنتی وہ قیمتی زیورات جو کرسمس وغیرہ پر تحفہ میں ملتے تھے کم ہی استعمال کرتی تھی۔ روسی موسم سرما 1942ء میں ہٹلر نے شکست کے غم سے پریشان جوانوں کو بتایا کہ ہم جنگ اس لیے ہارے تھے کہ ہماری فوج کو غیر آریائی لوگوں کے ہاتھوں فروخت کردیا گیا تھا۔ جرمن جو کہ خالص آریائی باشندے ہیں ہر لحاظ سے بر تر و افضل ہیں اور ایک دفعہ جب دنیا میں اُن کی حکومت ہو گی تو دنیا جنت بن جائے گی۔ جون 1941ء کو جرمنی نے روس پر حملہ کیا تو اس وقت جرمن فوجی اپنے آپ کو نجات دہندہ گردان رہے تھے اور جوں جوں ان کو کامیابیاں ملتی رہیں تو ہر رینک کا جرمن اس نشے میں سرشار تھا کہ وہ بالاتر اور افضل ہیں۔ جوں جوں جرمن فوجیں ماسکو کے قریب ہو رہی تھیں روسی دفاع مضبوط ہوتا جا رہا تھا اور دوسری طرف موسم سرما میں شدت آتی جا رہی تھی۔ صورتحال اس قدر مخدوش ہو گئی کہ فوج اور ان کے ٹینک اس منجمد ماحول میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ لیکن ان کے مورال کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ایک جرمن خاتون نے چند خطوط جو اپنے منگیتر کو لکھے تھے اور وہ محاذ پر ہلاک ہو چکا تھا ان خطوط کو ایک اس کے ساتھی نے کھول کر پڑھا اور اس خاتون کو جواب میں لکھا ’’ایک عورت کا مقام اس کا گھر اور اس کے بچے ہیں۔ ہماری فتح کا مطلب ہو گا ایک عظیم تر جرمنی اور یہ ایک معمولی قربانی جو آپ کے منگیتر نے دی ہے یہ اس کی طرف اور آپ کی طرف واپس آئے گی ہزار گنا بڑی ہو کر اور اس میں تمام جرمن قوم کا مفاد ہے‘‘ اسی فوجی نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ جنگ عظیم دوم میں انٹرنیشنل ریڈ کراس نے جرمن شہریوں اور فوجیوں کی کوئی مدد نہیں کی اور اس کی وجہ تھی کہ جرمن ریڈکراس کو گسٹاپو چلا رہی تھی۔ البتہ خطوط اور پارسل کی ترسیل تک انٹرنیشنل ریڈکراس نے جرمن فوجیوں کی مدد کی تھی۔

(بشکریہ: اے ٹیسٹ آف وار)

جنگ عظیم اول کے اختتام پر ورسیلز کے معاہدہ میں جرمنی کو پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنے تمام جنگی جہاز تباہ کردے گا۔ مزید برآں جرمنی کو سختی سے منع کیا گیا تھا کہ وہ اپنی ائیرفورس نہیں بنائے گا۔ اس معاہدہ کے مطابق بس گلائیڈر اور چھوٹے سپورٹس جہازوں پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی اس صورتحال میں جرمنی ہوائی جہاز کی صنعت سے متعلق جو ادارے تھے ان کو دوسرے ملکوں میں جانا پڑا تا وہ نئے ہوائی جہازوں کے ڈیزائن اس معاہدہ کے ہوتے ہوئے بنا سکیں۔ البتہ مئی 1926ء میں جرمنی کو روس کے متوقع حملہ کے سدِ باب کی خاطر جہاز بنانے اور ہوائی حملہ سے قبل انتباہ کا نظام قائم کرنے کی اجازت مل گئی اور 1932ء میں جرمنی یہ نظام بنانے کے قابل ہو گیا۔ لیکن در پردہ حقیقت یہ تھی کہ جرمنی نے ’’اینٹی ائیر کرافٹ‘‘ نظام اور جنگی جہازوں کو ہوائی حملہ کی صورت میں مار گرانے کا نظام تیار کر لیا ہوا تھا۔ جب 1933ء میں ہٹلر نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت تھیوری کی حد تک تمام تیاریاں مکمل تھیں اور ایک مضبوط ائیر فورس کا قیام بالکل ممکن تھا۔ 1937ء میں گورنگ نے چار انجن والے جنگی جہاز کی پیداوار کو روک کر چھوٹے جنگی جہاز جو جنگی محاذ پر زمینی فوجوں کے مدد گار ہوں بنانے شروع کر دیئے تھے۔ اسی جرمنی میں جتنے امیدوار کمرشل پائلٹ بننے کے لئے آتے ان سب کو مشورہ دیا جاتا کہ وہ سپین چلے جائیں اور لڑاکا پائلٹ بن کر واپس آئیں۔جنگ عظیم اول کے بعد صدر روزویلٹ نے ہتھیاروں کی ترسیل پر جنگجو ممالک پر پابندی لگا دی تھی۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان انگلینڈ اور فرانس کو ہوا۔ معاہدہ کرنے والوں نے گو جرمنی کو اس نشانہ پر لیا تھا مگر وہ تو اپنے مالِ غنیمت میں سے اسلحہ کی مرمت کا کام اور تشکیل نو کرتا رہا۔ پھر 1940ء میں صدر روزویلٹ نے کہا کہ ہم ریپبلکن، ڈیموکریٹس اور آزاد اس بات پر متفق ہیں کہ برطانیہ کو تمام ممالک اپنی صنعتوں کی مصنوعات ارسال کریں۔ برطانیہ نے نومبر 1940ء تک چار اعشاریہ پانچ بلین ڈالر کا اسلحہ خرید چکا تھا۔ مگر مسئلہ یہ در پیش تھا کہ خوراک اور مشینری اور مزید اسلحہ کی خریداری کہاں سے کرے؟ جرمنی ہر ماہ چالیس آبدوزیں تیار کر رہا تھا اور کئی جہازوں کو جو برطانیہ کے لئے سپلائی لے کر جا رہے تھے ڈبو رہا تھا۔ اُس وقت کینیڈا کے پاس ایک بحری جہاز تھا جو 150 فٹ لمبا تھا اور اس پر آگے اور پیچھے توپیں لگی ہوئی تھیں۔اس کا نام کورویت تھا اور اس میں یہ بھی خوبی تھی کہ یہ آبدوز کی نشان دہی کر لیتا تھا۔

(بشکریہ: اے ٹیسٹ آف وار)

19۔ خواب، رؤیا، پیش خبریاں اور جنگ

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’یاد رہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے۔ پس یقیناً سمجھو کہ جیسا کہ پیشگوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے۔ ایسا ہی یورپ میں بھی آئے اور نیزایشیا کے مختلف مقامات میں آئیں گے اور بعض ان میں قیامت کا نمونہ ہوں گے اور اس قدر موت ہو گی کہ خون کی نہریں چلیں گی۔ اس موت سے پرند چرند بھی باہر نہیں ہوں گے اور زمین پر اس قدرسخت تباہی آئے گی کہ اُس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہو گی اور اکثر مقامات زیر و زبر ہو جائیں گے کہ گویا ان میں کبھی آبادی نہ تھی اور اس کے ساتھ اور بھی آفات زمین اور آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی۔ یہاں تک کہ ہر ایک عقل مند کی نظر میں وہ باتیں غیر معمولی ہو جائیں گی اور ہیئت اور فلسفہ کی کتابوں کے کسی صفحہ میں ان کا پتا نہیں ملے گا۔ تب انسانوں میں اضطراب پیدا ہو گاکہ یہ کیا ہونے والا ہے؟ اور بہتیرے نجات پائیں گے اور بہتیرے ہلاک ہو جائیں گے۔ وہ دن نزدیک ہیں بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ دروازے پر ہیں کہ دنیا ایک قیامت کا نظارہ دیکھے گی اور نہ صرف زلزلے بلکہ اَور بھی ڈرانے والی آفتیں ظاہر ہوں گی۔ کچھ آسمان سے اور کچھ زمین سے۔ یہ اس لئے کہ نوع انسان نے اپنے خدا کی پرستش چھوڑ دی ہے اور تمام دل اور تمام ہمت اور تمام خیالات سے دنیا پر ہی گر گئے ہیں۔ اگر میں نہ آیا ہوتا تو ان بلاوٴں میں کچھ تاخیر ہو جاتی۔ پَر میرے آنے کے ساتھ خدا کے غضب کے وہ مخفی ارادے جو ایک بڑی مدت سے مخفی تھے ظاہر ہو گئے۔ جیسا کہ خدا نے فرمایا ہے۔ وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیۡنَ حَتّٰی نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ﴿۱۶﴾ (بنی اسرائیل: 16)‘‘ (یعنی ہم کسی قوم کو عذاب نہیں دیتے جب تک ہم وہاں کوئی نبی مبعوث نہ کر لیں اور مسیح محمدی تو ساری دنیا کے لئے آئے ہیں )۔ فرمایا: ’’اور توبہ کرنے والے امان پائیں گے اور وہ جو بلا سے پہلے ڈرتے ہیں ان پر رحم کیا جائے گا۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔ انسانی کاموں کا اس دن خاتمہ ہو گا۔ یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک ان سے محفوظ ہے۔ میں تو دیکھتا ہوں کہ شاید ان سے زیادہ مصیبت کامنہ دیکھوگے۔‘‘ اس کے آگے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ اقتباس بھی ہے جو اکثر پڑھا جاتا ہے۔ جس میں آپ نے فرمایا کہ: ’’اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مددنہیں کرے گا۔ میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔ وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چُپ رہا۔ مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔ میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پَر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔ میں سچ سچ کہتاہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔ نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آ جائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشمِ خود دیکھ لو گے۔ مگر خدا غضب میں دھیما ہے توبہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ268-269)

حضرت مسیح موعو دؑ کا ایک رؤیا

آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’میں نے دیکھا کہ زار روس کا سونٹا میرے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ وہ بڑا لمبا اور خوبصورت ہے۔ پھر میں نے غور سے دیکھا تو وہ بندوق ہے اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بندوق ہے بلکہ اس میں پوشیدہ نالیاں بھی ہیں گویا بظاہر سونٹا معلوم ہوتاہے اور وہ بندوق بھی ہے اور پھر دیکھا کہ خوارزم بادشاہ جو بوعلی سینا کے وقت میں تھا اس کی تیر کمان میرے ہاتھ میں ہے۔ بو علی سینا بھی پاس ہی کھڑا ہے اور اس تیر کمان سے میں نے ایک شیر کو بھی شکار کیا۔‘‘

(الحکم 31؍جنوری 1903ء صفحہ15)

پانچ عالمگیر تباہیاں

حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے خطبہ جمعہ موٴرخہ 20؍اکتوبر 1967ء میں ارشاد فرمایا:
’’ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسیح موعود و مہدی معہود کے زمانہ میں دو طاقتیں ایسی ابھریں گی کہ دنیا ان میں بٹ جائے گی اور کوئی اور طاقت ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی پھر وہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ کر کے اپنی تباہی کا سامان پیدا کریں گی لیکن یہ صرف اس ایک جنگ کے بارے میں ہی پیشگوئی نہیں تھی بلکہ بانی سلسلہ احمدیہ نے پانچ عالمگیر تباہیوں کی خبر دی ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے متعلق آپؑ نے فرمایا تھا کہ دنیا سخت گھبرا جائے گی مسافروں کے لئے وہ وقت سخت تکلیف کا ہوگا ندیاں خون سے سرخ ہو جائیں گی یہ آفت یک دم اور اچانک آئے گی۔اس صدمہ سے جوان بوڑھے ہو جائیں گے پہاڑ اپنی جگہوں سے اڑا دئیے جائیں گے بہت سے لوگ اس تباہی کی ہولناکیوں سے دیوانے ہو جائیں گے یہی زمانہ زارِ روس کی تباہی کا ہوگا۔۔۔حکومتوں کا تختہ الٹ دیا جائے گا شہر قبرستان بن جائیں گے۔اس تباہی کے بعد ایک اور عالمگیر تباہی آئے گی جو اس سے وسیع پیمانے پر ہوگی اور زیادہ خوفناک نتائج کی حامل ہوگی۔وہ دنیا کا نقشہ ایک دفعہ پھر بدل دے گی اور قوموں کے مقدر کو نئی شکل دے دے گی۔کمیونزم بہت زیادہ قوت حاصل کرلے گی اور اپنی مرضی منوانے کی طاقت اس میں پیدا ہو جائے گی اور وہ وسیع و عریض رقبہ پر چھا جائے گی۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا مشرقی یورپ کے بہت سے حصے کیمونسٹ ہو گئے اور چین کے سترکروڑ باشندے بھی اسی راستے پر چل پڑے اور ایشیا اور افریقہ کی ابھرتی ہوئی قوموں میں کیمونزم کا اثرونفوذ بہت بڑھ گیا ہے دنیا دو متحارب گروہوں میں منقسم ہو گئی ہے جن میں سے ہر ایک جدید ترین جنگی ہتھیاروں سے لیس ہے اور اس بات کے لئے تیارہے کہ انسانیت کو موت و تباہی کی بھڑکتی ہوئی جہنم میں دھکیل دے۔

پھر فرمایا: ’’لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ ایک انذاری پیشگوئی ہے اور انذاری پیشگوئیاں توبہ اور استغفار سے التواء میں ڈالی جاسکتی ہیں بلکہ ٹل بھی سکتی ہیں اگر انسان اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور توبہ کرے اور اپنے اطوار درست کر لے۔ وہ اب بھی خدائی غضب سے بچ سکتا ہے اگر وہ دولت اور طاقت اور عظمت کے جھوٹے خداؤں کی پرستش چھوڑ دے اور اپنے رب سے حقیقی تعلق قائم کرے فسق و فجورسے باز آجائے۔

حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے لگے اور بنی نوع انسان کی سچی خیر خواہی اختیار کرلےمگر اس کا انحصار تو ان قوموں پر ہے جو اس وقت طاقت اور دولت اور قومی عظمت کے نشہ میں مست ہیں کہ آیا وہ اس مستی کو چھوڑ کر روحانی لذت اور سرور کے خواہاں ہیں یا نہیں؟ اگر دنیا نے دنیا کی مستیاں اور خرمستیاں نہ چھوڑیں توپھر یہ انذاری پیشگوئیاں ضرور پوری ہونگی اور دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی مصنوعی خدا دنیا کو موعودہ ہولناک تباہیوں سے نہ بچا سکے گا۔ پس اپنے پر اور اپنی نسلوں پر رحم کریں اور خدائے رحیم و کریم کی آواز کو سنیں، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اور صداقت کو قبول کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا کرے۔‘‘

(خطبات ناصر جلد اول صفحہ932۔ 935)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکا رؤیا

آپ اپنے خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1989ء میں بیان فرماتے ہیں:
جن دنوں ایران میں انقلاب آرہا تھا1977ء – 1978ء کی بات ہے۔۔۔

’’میں نے رؤیا میں دیکھا۔۔۔ ایک بڑے وسیع گول دائرے میں نوجوان کھڑے ہیں اور وہ باری باری عربی میں بہت ہی ترنم کے ساتھ ایک فقرہ کہتے ہیں اور پھر انگریزی میں گانے کے انداز میں اس کا ترجمہ بھی اسی طرح ترنم کے ساتھ پڑھتے ہیں اور باری باری اس طرح منظر ادلتا بدلتا ہے۔ پہلے عربی پھر انگریزی پھر عربی پھر انگریزی اور وہ فقرہ جواس وقت یو ں لگتا ہے جیسے قرآن کریم کی آیت ہے۔ لا یعلم اِلا ھو۔ لا یعلم اِلا ھو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے۔ کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے۔۔۔پھر میری نظر پڑتی ہے عراق کی طرف۔ شام مجھے یاد ہے، عراق یادہے، اور پھر ایران کی طرف، پھر افغانستان پھر پاکستان، مختلف ملک باری باری سامنے آتے ہیں او رمضمون دماغ میں یہ کھلتا ہے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے جو عجیب واقعات رونما ہو رہے ہیں جو انقلابات آرہے ہیں ان کا آخری مقصد سوائے خدا کے کسی کوپتا نہیں۔ہم ان کو اتفاقی تاریخی حادثات کے طور پر دیکھ رہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اتفاقاً رونما ہونے والے واقعات ہیں مگر روٴیا میں جب وہ مل کر یہ گاتے ہیں تو اس سے یہ تاثر زیادہ قوی ہوتا چلا جاتا ہے کہ یہ اتفاقاً الگ الگ ہونے والے واقعات نہیں ہیں بلکہ واقعات کی ایک زنجیر ہے جو تقدیر بنا رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں مگر ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہو رہا ہے۔ لا یعلم اِ لا ھو۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘

(خطبات طاہر جلد8 صفحہ782-783)

(سید انور احمد شاہ۔بُرکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

نیشنل اجتماع مجلس انصار اللہ گیمبیا 2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 فروری 2023