• 20 مئی, 2024

برکینا فاسو میں مدرسة الحفظ کا قیام

قرآن مجید سے الفت و محبت اور عشق جماعت احمدیہ کے ہر فرد کا طرہ امتیاز ہے۔ امام آخر الزمان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید سے عشق کی ایسی داستان رقم کی ہے جس کی نظیر دکھانا فی زمانہ ممکن نہیں۔ قرآن مجید سے عقیدت کے متعلق آپ کی تحریرات اور عملی نمونہ ہر مومن کے لئے مشعل راہ ہے۔ نظم و نثر میں آپ کی بے شمار تحریرات میں سے چند فقرے ہی ’’جولوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے‘‘ ’’حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں‘‘ نوع انسان کے لئےروئے زمین پرکوئی کتاب نہیں مگر قرآن‘‘ ’’الخیر کلہ فی القرآن‘‘ ایک صاحب فراست کو آپ کے عشق قرآن کا اندازہ کرنے پر مجبو رکر دیتے ہیں۔

آپ کی پیدا کردہ جماعت قرآن مجید کی خدمت کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہی وجہ سے کہ قرآن مجید پڑھنے پڑھانے کی بات ہو کہ اس پر عمل کرنے کی، تراجم کی تیاری کا بھاری بھرکم فریضہ ہو کہ اشاعت قرآ ن کی ذمہ داری، غیر مسلموں تک قرآن پہنچانے کاکام ہو کہ اس کی حفاظت کا، خدمت قرآن کے لئے مبلغ پیدا کرنے کا معاملہ ہو کہ خدمت قرآن کے ادارے قائم کرنے کی ضرورت۔ ہر میدان میں جماعت احمدیہ اس بلندی پر کھڑی ہے جہاں دور دور تک آج ا س کا کوئی ثانی نہیں۔

دنیا کی نظر میں اندھیروں میں ڈوبے براعظم افریقہ کو قرآن مجید کے نور سے منور کرنے کا بیڑہ آج جماعت احمدیہ نے اٹھا رکھا ہے۔ خدمت قرآن کے بے شمار منصوبے، قرآن مجید پڑھانے کی ہزاروں کلاسز، سینکڑوں مبلغین دن رات اس مقصد کی تکمیل میں کوشاں ہیں کہ ؎

جہاں تک نہ پہنچی ہو آواز حق
وہاں جا کے قرآن سنائیں گے ہم

مغربی افریقہ کا ملک برکینا فاسو زمینی لحاظ سے سمندر کے پانیوں سے دور واقع ہے اور کسی طرف سے ساحل سمندر تک رسائی نہیں رکھتا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کے فرحت بخش جام سے پوری طرح سیراب ہورہا ہے۔ اس سر زمین کو خلافت خامسہ کی قدم بوسی کی توفیق عطا ہوئی تو اس کے نصیب جاگ اٹھے۔ ترقیات کا ایک جہاں کھلا۔ مسابقت کی نئی جہات اور آگے بڑھنے کے نئے زاوئیے عطا ہوئے۔ اس سر زمین کے لئے خلافت کی بے شمار برکات جن کا مشاہدہ آئے روز ہم کرتے ہیں میں سے ایک اور انعام برکینا فاسو کے صحرائی ملک کو علم قرآن سے روشن کرنے کی خاطر مدرسة الحفظ کا قیام ہے۔

ابتدائی خدو خال

ابھی گزشتہ سال برکینا فاسو میں مدرسة الحفظ کا قیام ایک سوچ اورایک خیال ہی تھا۔ بے سرو سامانی ایسی کہ ابھی کچھ سال مدرسہ کے قیام کا خیال محال لگتا تھا۔ مارچ 2022ء میں مکرم شریف عودہ صاحب جلسہ سالانہ برکینا فاسو کے جلسہ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ کے طور پر تشریف لائے۔ آپ نے واپسی پر اپنی رپورٹ میں برکینا فاسو میں مدرسة الحفظ کی ضرورت کا لکھ کر اس کے قیام کی سفارش کر دی۔ اس پر مرکز نے جائزہ رپورٹ طلب کر لی۔ دس طلبہ پر مشتمل کلاس شروع کرنے کی رپورٹ ارسال کی تو حضرت امیر الموٴمنین نے ازراہ شفقت مدرسہ کے قیام کی منظوری عطا فرمادی۔

مدرسہ کے لئے جگہ کا انتخاب

بستان مہدی میں جامعۃ المبشرین کے احاطے میں موجود ایک کوارٹرکو مدرسہ میں تبدیل کرنے کا پروگرام بنا۔ اس کوارٹر میں تین کمرے، ایک ڈرائنگ روم، اندر اور باہر واش روم، صحن اور باہر ایک اسٹور تھا۔ باہر والے اسٹور کو گرا کر دوبارہ وسیع تعمیرکر کے اسے ڈائننگ ہال میں تبدیل کر دیا گیا۔باقی عمارت میں حسب ضرورت مرمت کا کام کرکے اسے مدرسہ کے لئے تیار کر لیا گیا۔ دو کمروں میں طلبہ کی رہائش، ایک کمرے میں نگران ہوسٹل کی رہائش، جبکہ ہال کو بطور کلاس روم استعمال کیا جائے گا۔

دس طلبہ کے قیام کی بہترین گنجائش ا س عمارت میں نکل آئی ہےاور ان بچوں کی ضرورت کی ہر چیز مدرسہ کے احاطے میں موجود ہے۔ مدرسہ کے طلبہ کا کھاناجامعۃ المبشرین کے کچن میں تیا رہو گا جبکہ ان کا میس الگ ہوگا۔ نمازوں کے لئے جامعہ کی مسجد جبکہ کھیل کے لئے بستان کا وسیع میدان موجود ہے۔

افتتاحی تقریب

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 31 ویں جلسہ سالانہ برکینا فاسو منعقدہ دسمبر 2022ء کے موقع پر جناب عصام الخامسی صاحب صدر جماعت احمدیہ مراکش کو مرکزی نمائندہ کے طو رپر برکینا فاسو بھجوایا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جلسہ کے بعد مدرسہ الحفظ کے افتتاح کی تقریب رکھی گئی۔ چنانچہ جمعرات 29؍دسمبر 2022ء کا دن افتتاح کے لیے مقرر ہوا۔

شام چار بجے مہمان خصوصی مکرم امیر صاحب کے ساتھ بستان مہدی تشریف لائے۔ آپ کا استقبال جامعۃ المبشرین کے پرنسپل کی معیت میں جامعہ کے اسٹاف اور طلبہ نے کیا۔ اس موقع پر طلبہ صاف ستھرا لباس پہنے دو رویہ قطاروں میں کھڑے تھے۔ طلبہ نے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے اور خوبصورت آواز میں اجتماعی طورپر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا ورد کیا۔ مہمانان گرامی کو احترا م کے ساتھ پنڈال تک لایا گیا جہاں تقریب کا اہتمام ہونا تھا۔

تقریب کے لئے مدرسہ کے قریب مارکی لگا کر پنڈال تیا رکیا گیا تھا۔ شرکا میں سب سے اول قطار میں مدرسہ الحفظ کے طلبہ بیٹھے تھے۔ افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو جامعہ کے سال دوم کے طالب علم عزیزم حافظ Atchede salam صاحب نے کی۔ بعد ازاں درجہ ثالثہ کے طالب علم عزیزم تنگارا عبد الوہاب صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا عربی قصیدہ بابت مدح قرآن مجید خوش الحانی سے پڑھا اور فرنچ ترجمہ پیش کیا۔ پھر مکرم لقمان چندر بیگو صاحب نے جامعۃ المبشرین برکینا فاسو کا تعارف کروایا۔ آپ نے بتایا کہ 2017ء میں بے سروسامانی کے کے ساتھ شروع ہونے والا جامعہ اب ایک ادارے کی صورت جماعت کی خدمت میں مصروف ہے۔ تین کلاسز کے 49 مبلغین فارغ التحصیل ہو کر میدان عمل میں جا چکے ہیں۔اس وقت بارہ ممالک کے 75 طلبہ جامعہ میں زیر تعلیم ہیں اور آج جامعہ کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے کہ جامعہ کی زیر نگرانی مدرسة الحفظ کا آغاز ہو رہا ہے۔

اس کے بعد مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب امیر جماعت برکینا فاسو نے تقریر کی۔ آپ نے جامعۃ المبشرین کے قیام کی بنیاد بننے والے ابتدائی عاجزانہ مدرسہ کے قیام کا تذکرہ کر کے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کیا۔ جماعت کے خدمت قرآن کے عزم کو دہرایا اور اس نعمت خداوندی پر اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکیا کہ برکینا فاسو میں مدرسة الحفظ کے قیام ہو رہا ہے۔پروگرام کی آخری تقریر مہمان خصوصی کی تھی۔ اس سے قبل نعیم احمد باجوہ صاحب پرنسپل جامعۃ المبشرین برکینا فاسو نے مہمان خصوصی کا تعارف کروایا۔ مہمان خصوصی نے اپنی تقریر میں کہا آج کا دن جماعت احمدیہ برکینا فاسوکی تاریخ کا ایک روشن دن ہے۔ آنحضرت ﷺ نے قرآن پڑھنے اورپڑھانے والے کو بہترین قرار دیا ہے اور اس مدرسہ میں قرآن مجید حفظ کروانے کا بابرکت کام سرانجام دیا جائے گا۔قیامت کے روز حفاظ قرآن خدا تعالیٰ کے فضلوں کے سائے تلے ہوں گے۔

اس کے بعد مہمان خصوصی مدرسہ کی عمارت کی طرف گئے اور مکرم امیر صاحب کے ساتھ اکٹھےفیتہ کاٹ کر اجتماعی دعا کروائی۔ اس طرح مدرسہ کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔

مہمانوں نے مدرسہ کا دورہ کیا۔ کلاس روم، رہائش گاہ، واش روم، اور ڈائننگ ہال کا وزٹ کیا۔ طلبہ کے لئے Bunk Beds رکھے گئے ہیں۔ ایک کمرے میں چھ طلبہ کی رہائش ہو گی جبکہ دوسرے میں چارکی۔تمام معزز مہمانوں نے مدرسہ کے انتظامات اور صفائی کو سراہا۔ دورے کے اختتام پر مدرسہ کے طلبہ کی تصویر مہمان خصوصی کے ساتھ تصویر بنائی گئی۔

افتتاحی تقریب میں ممبران نیشنل مجلس عاملہ، اسٹاف جامعۃ المبشرین، مبلغین کرام، ممبران نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اور دیگر جماعتی عہدیداران اور معززین شامل ہوئے۔

یو ٹیوب پر براہ راست نشریات

تقریب کی مکمل کارروائی جماعت احمدیہ برکینا فا سوکے آفیشل یو ٹیوب چینل پر براہ راست نشر ہوئی۔ یو ٹیوب پر اس تقریب کی کارروائی کو سات صد لوگ دیکھ چکے ہیں۔

نگران مدرسہ

سیدنا حضرت امیر الموٴمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم حافظ آدم نمی صاحب کی بطور نگران مدرسہ منظوری عطا فرمائی ہے۔ جبکہ بحیثیت مجموعی مدرسہ الحفظ، جامعۃ المبشرین برکینا فاسو کی زیر نگرانی کام کرے گا۔

مدرسة الحفظ کا لوگو (Logo)

مدرسہ الحفظ کا ایک خوبصورت لوگو تیا رکروایا گیا ہے۔ مدرسہ کے قیام کے ساتھ ہی خیال آیا کہ اس کے لئے ایک خوبصورت لوگو بھی ہونا چاہئے۔ اس کے لئے بہت سارے نمونے تیار ہوئے جن میں سےمکرم ملک سعید الدین صاحب کا بنایا ہوا لوگو اختیا رکیا گیا۔ اس لوگو کو مدرسہ کے باہر ایک بڑے بورڈ پر آویزاں کیا گیا ہے۔

مدرسة الحفظ کی پہلی کلاس

مدرسہ میں داخلہ کے لئے بہت ساری درخواستیں موصول ہوئیں جس میں سے دس طلبہ کو منتخب کیا گیا۔ ان طلبہ کے نام درج ذیل ہیں:

کلاس کا آغاز

موٴرخہ 31؍دسمبر 2022ء بروز ہفتہ مدرسہ کی کلاس کا آغاز صبح سوا آٹھ بجے ہوا۔ ا س موقع پر طلبہ کو دو قطاروں میں کھڑا کر کے اسمبلی کی گئی۔ ایک طالب علم نے تلاوت قرآن مجید کی۔ ا س کے بعد پرنسپل جامعۃ المبشرین برکینا فاسو نے طلبہ کو بعض بنیادی باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حفظ قرآن کے لئے ضروری ہے کہ قرآن مجید کا احترام دل میں قائم ہو۔ علم قرآن کے حصول کے لئے ظاہری و باطنی صفائی بنیادی حیثیت رکھتی ہے ا س کی طرف توجہ رہے۔ اسی طرح مدرسہ میں نظم و ضبط اور سب سے بڑھ کر اطاعت کو اپنا شعار بنائیں۔ آخر پر آپ نے دعا کروائی۔

اللہ تعالیٰ مدرسہ الحفظ برکینا فاسو کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقیات سے نوازے۔ اسے ایک مضبوط ادارہ بنائے اور یہاں سے حقیقی معنوں میں عاشق قرآن پید اہوں۔

(چوہدری نعیم احمد باجوہ۔ نمائندہ الفضل آن لائن برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 فروری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی