• 2 جون, 2020

اضطرار قبولیت دعا کی شرط ہے

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’دعاؤں اور نیکیوں کے بجا لانے کی طرف خاص توجہ دینے کی ہر ایک کو ہروقت ضرورت ہے تا کہ ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پناہ گاہ میں رہیں۔ دعاؤں اور ذکر الٰہی پر زور دیں۔ ہماری دعاؤں کی کیا کیفیت ہونی چاہئے اور کس طرح ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں؟ اس بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے۔ جب تک کثرت سے اور بار بار‘‘ (کثرت سے بہت زیادہ اور بار بار) ’’اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی۔‘‘ (کثرت بھی ضروری ہے اور اضطراب بھی ضروری ہے وہ دعا نہیں کی جاتی) ’’وہ پروا نہیں کرتا‘‘۔ فرمایا ’’دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو یا کسی پر سخت مقدمہ آ جاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے؟ پس دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بےاثر اور بیہودہ کام ہے۔ قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 10صفحہ 137) فرمایا کہ قبولیت کے واسطے جو ضروری شرط ہے وہ اضطراب ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 30جون 2017ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ 07۔مئی2020ء