• 21 مئی, 2022

مربی عباس بن سلیمان صاحب کی گھانا مستقل واپسی کی تقریب

ہمسایہ ملک سوازی لینڈ کے مربی عباس بن سلیمان صاحب
کی گھانا مستقل واپسی کی تقریب

ابتدائی تعارف

حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے دور میں جب دعوت الی اللہ کی تحریک زوروں پر تھی اس وقت ساؤتھ افریقہ جماعت کے سپرد کچھ ہمسایہ ممالک کئے گئے تا وہاں احمدیت کا پودا لگایا جاسکے ان ممالک میں ایک سوازی لینڈ بھی تھا، چنانچہ ساؤتھ افریقہ جماعت سے وہاں وفود بجھوانے کا سلسہ شروع ہوا او راس طرح کچھ لوگ جماعت میں شامل ہوگئے، انہیں ایام میں غانا کے جامعۃ المبشرین سے فارغ التحصیل دو مربیان کی تقرری ساؤتھ افریقہ ہوئی جن میں سے ایک عباس بن سلیمان صاحب تھے اپ نے کچھ عرصہ یہاں کیپ ٹاؤن میں قیام کیا اور پھر اپ کی تقرری سوازی لینڈ میں کردی گئی۔

جن دنوں مربی عباس صاحب کی تقرری اس ملک میں ہوئی ان دنوں سیرالیون کے ایک احمدی پروفیسر مسٹر ابو سیسے بھی وہاں کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے آپ بھی پرجوش داعی الی اللہ تھے اور عباس صاحب کے لئے سلطان نصیر ثابت ہوئے، ابتدائی ایام میں مربی صاحب مکرم پروفیسر صاحب کے ہاں مقیم رہے پھر جماعت نے ان کے لئے کرایہ پر علیحدہ مکان لے دیا۔

عباس بن سلیمان صاحب کو عرصہ بیس سال سے زائد اس ملک میں خدمت کا موقع ملا دوران قیام انہیں کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر انہوں نے وقف کی روح کو مد نظر رکھتے ہوئے بڑے ہی خندہ پیشانی کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سےوہاں جماعت قائم کردی۔

دوران قیام انہیں 2007 ء میں جس علاقے سے احمدیت کا آغاز ہوا تھا مسجد تعمیر کرنے کا موقع ملا، اس کے علاوہ انہوں نےمانزینی کے ایک علاقہ کےچیف سے ہسپتال بنانے کے لئے کوئی چھ ایکڑ زمین بھی حاصل کی۔

خاکسار کا تبادلہ غانا سے 2014 میں ساؤتھ افریقہ ہوا اور جائزہ لیا گیا کہ جماعت کا اپنا مشن ہاؤس ہو نا چاہئے چنانچہ اس پر مرکز کی منظوری سے عباس صاحب نے ایک مکان جو کہ مانزینی شہر میں ہے کے خریدنے کی تجویز دی اور پھر اسے مرکز کی منظوری سے نہایت مناسب قیمت پرخرید لیا گیا، یہ مکان چار بیڈ روم کا ہے اور اس کے ساتھ دو علیحدہ کمرے بھی ہیں جو کہ ملازم کو رکھنے کے کام اسکتے ہیں اس زمین کا رقبہ ڈیڑھ ایکڑ ہے، یہاں پر اب مسجد کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوگیا ہے، ان شاءاللہ جلد جماعت کی دوسری مسجد بھی ہوگی۔

حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے مربی عبدالرحمان احمد صاحب کی تقرری ہوئی اور پھر ان کی آمد اور ان کے ضروری کاغذات ایمیگریشن میں ورکنگ ویزہ اور چارج لینے کے بعد اپریل کے پہلے ہفتے میں مربی عباس صاحب کی واپسی کا انتظام کیا گیا، اور مورخہ یکم اپریل 2022 کو بعد نماز جمعہ ایک سادہ اور پر وقارالوداعی تقریب منعقد ہوئی، خاکسار نے اس تقریب کی صدارت کی جس میں سوازی لینڈ کی مختلف جماعتوں سے احباب شامل ہوئے نیزمقامی چیف کے نمائندہ اور علاقے کے کونسلر نے بھی شرکت کی اور مربی صاحب کےسوازی لینڈ میں قیام اور کام کو سراہا۔ ساؤتھ افریقہ کے شہرڈربن جماعت سے دو افراد احمد اوجو صاحب اور شاہین آکوں صاحب بھی شامل ہوئے، کیپ ٹاؤن اور دیگر جماعتوں کے کئی احمدی احباب نے مربی عباس صاحب کو تحائف اور تحریری پیغام بجھوائے اور انہیں اپنی دوعاؤں سے رخصت کیا، مجلس انصاراللہ ساؤتھ افریقہ نے اپنے ان لائن پروگرام میں مربی صاحب کے قیام ساؤتھ افریقہ اور سوازی لینڈ کو سراہا، یہاں یہ امر قابل بھی قابل ذکر ہے کہ عباس صاحب مع فیملی صرف ایک دفعہ رخصت پر غانا گئے دوسری دفعہ جب ان کے جانے کا وقت آیا تو حالات ہی ایسے بن گئے کہ وہ فیملی کے ساتھ ناں جاسکے اس طرح وہ اور ان کی اہل و عیال قریبا 11 سال کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے، خاکسار سمجھتا ہے کہ یہ ایک بڑی قربانی تھی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ موصوف کو مع اہل و عیال خیریت سے رکھے اور اجر عظیم سے نوازے آمین۔

قارئین الفضل سے سوازی لینڈ جماعت کی ترقی کے لئے دعا کی درخواست ہے۔

(منصور احمد زاہد۔ نمائندہ الفضل آن لائن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ