• 21 ستمبر, 2020

والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
…… والدین کے ساتھ احسان کرو۔ لیکن احسان کے لفظ سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں اس احسان کا بدلہ اتار رہا ہوں جو انہوں نے بچپن میں مجھ پر کیا ہے۔ اس احسان کا مطلب ہے کہ ان سے ہمیشہ اچھا سلوک کرو۔ دوسری جگہ فرمایا ہے کہ (فَلَا تَقُل لَّہُمَآ اُفٍّ) (بنی اسرائیل:24) یعنی کبھی بھی کسی بات پر بھی، ناپسندیدگی پر بھی ان کو اُف نہ کہنا۔ احسان جتانے والا تو احسان جتا دیتا ہے۔ یہاں فرمایا کہ احسان جتانا تو ایک طرف رہا تم نے اُف بھی نہیں کہنا۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ یہ الفاظ دہرائے کہ ’’مٹی میں ملے اس کی ناک مٹی میں ملے اس کی ناک‘‘۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہؐ کس کی ناک مٹی میں ملے، کون شخص قابل مذمت اور بدقسمت ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’وہ شخص جس نے بوڑھے ماں باپ کو پایا اور پھر ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوا‘‘۔ انسان اپنے ماں باپ کے احسان کا جو انہوں نے اس پر بچپن میں کئے ہیں، کا بدلہ اتار ہی نہیں سکتا۔ اس لئے قرآن کریم نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے، اولاد کو یہ دعا سکھائی ہے کہ والدین کے لئے دعا کرو کہ (وَقُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا) (بنی اسرائیل:25) کہ اے میرے رب ان پر مہربانی فرما کیونکہ انہوں نے بچپن کی حالت میں میری پرورش کی تھی۔ والدین کے لئے یہ جو دعا ہے، یہ دعا کے ساتھ ساتھ بچپن میں والدین کے بچوں پر جو احسان ہوتے ہیں اُن کی بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان احسان یاد کرکے دعا کر رہا ہوتا ہے۔

پھر فرمایا کہ قریبی رشتہ داروں سے بھی شفقت اور احسان کا سلوک کرو۔ ایک حدیث میں آتا ہے آنحضرتؐ نے فرمایا کہ جو شخص رزق کی فراخی چاہتا ہے یا خواہش رکھتا ہے کہ اس کی عمر اور ذکر خیر زیادہ ہو،لوگ اس کو اچھا سمجھیں۔ اسے صلہ رحمی کا خُلق اختیار کرنا چاہئے۔رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہئے۔ قریبی رشتہ داروں میں، رحمی رشتہ داروں میں، جہاں ماں باپ کے سگے رشتے ہیں یا اپنے سگے رشتے ہیں وہاں بیوی کی طرف سے بھی سگے رشتے ہوتے ہیں۔ توفرمایا کہ ان قریبی رشتوں کا خیال رکھو۔ اُن کے حقوق ادا کرو بلکہ ان سے احسان کا سلوک کرو۔ اگر کوئی تکلیف دے تب بھی اس سے نیک سلوک کرنے سے ہاتھ نہیں کھینچنا۔ ایک صحابی ؓ نے آنحضرتؐ کی خدمت میں عرض کی کہ مَیں اپنے رشتہ داروں سے بنا کر رکھوں تب بھی وہ تعلق توڑتے ہیں۔ حسن سلوک کروں تو بدسلوکی سے پیش آتے ہیں۔ نرمی کروں تو جہالت سے پیش آتے ہیں۔ آپؐ نے یہ نہیں فرمایا کہ پھر یہ حسن سلوک نہ کرو۔ آپؐ نے فرمایا کہ جو تو کہہ رہا ہے اگر سچ ہے تو ان پر تیرا احسان ہے۔ اور جب تک تو اس حالت میں ہے اللہ ان کے خلاف تیری مدد کرتا رہے گا۔ ان کی بدسلوکیاں تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔ اللہ کا فضل حاصل ہوتا رہے گا۔ تم نیکی کرتے جاؤ۔ پس رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے رہنا چاہئے۔ رمضان کے دنوں میں دل نرم ہوتے ہیں۔ انسان رشتہ داروں سے بہتر سلوک کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ بعض دفعہ احسان کے رنگ میں بھی سلوک کررہا ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ رنگ جاری رکھو اور جب اللہ تعالیٰ کی خاطر یہ احسان کر رہے ہو گے تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرے گا۔ ہو سکتا ہے اس سلوک کی وجہ سے ہی اُن کی اصلاح ہو جائے۔ ایک خاندان تمہارے حسن سلوک کی وجہ سے ہی راہ راست پر آ جائے۔ وہ بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کرلے۔ اگر نہیں تو کم از کم جیسا کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا تم اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کر رہے ہو گے، اس کا فضل حاصل کر رہے ہو گے۔……

(خطبہ عید فرمودہ 4نومبر 2005ء) (الفضل انٹرنیشنل 25نومبر تا یکم دسمبر 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اگست 2020

اگلا پڑھیں

عالمی اپڈیٹ – Covid-19