• 21 ستمبر, 2020

کاغذی کرنسی

کہتے ہیں مذہب کی طرح کرنسی بھی انسان کو کنٹرول کرتی ہے۔ لیکن مذہب کے برعکس کرنسی حکومتوں کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔ کرنسی سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی کہلاتی ہے۔ روپیہ، پیسہ، نقدی، رقم سکّہ یا کرنسی سے مراد ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیز خریدی یا بیچی جا سکے۔ خدمت خریدی یا بیچی جا سکے۔ (خدمت کا معاوضہ، اجرت، مزدوری، تنخواہ، فیس، کمیشن ادا کیا جا سکے۔)

کرایہ، قرض، بھتہ اور محصول دیا اور لیا جا سکے۔ تحفہ، چندہ، خیرات وغیرہ دی اور لی جا سکے۔

خون بہا اور مہر ادا کیا جا سکے بچت کی جا سکے۔کرنسی کو زر یا زرمبادلہ بھی کہتے ہیں۔ روپیہ کی ایجاد سے پہلے لین دین اور تجارت ’’چیز کے بدلے چیز‘‘ (یعنی بارٹر نظام) کے تحت ہوتی تھی مثلاً گندم کی کچھ بوریوں کے عوض ایک گائے خریدی جا سکتی تھی۔ اسی طرح خدمت کے بدلے خدمت یا کوئی چیز ادا کی جاتی تھی۔ لیکن گندم اور گائے کی صورت میں لمبی مدت کے لئے بچت ممکن نہیں ہوتی۔ اس لئے کسی دوسری کرنسی کی ضرورت موجود تھی جس میں بچت بھی آسان ہو۔

ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد کاغذی کرنسی بتدریج ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

جب سکے سونے چاندی کے وزن کے لحاظ سے ہوا کرتے تھے اس وقت کرنسی واقعی سماجی رواج ہوا کرتی تھی۔ لیکن حکومت اور بینک کے گٹھ جوڑ سے بنی کاغذی یا ڈیجیٹل کرنسی سماجی بناوٹ کی بجائے قانونی مجبوری بن کر رہ گئی ہے۔

کرنسی دراصل ایک حق کا نام ہےجو کسی دوسرے سے کچھ طلب کرنے کا حق دیتی ہے۔

بغیر محنت کرنسی تخلیق کرنے کا حق صرف بینکوں کے پاس ہے۔ جبکہ محنت مشقت کر کے قرض ادا کرنے کی ذمہ داری صرف عوام کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ اگر عوام قرض نہ لیں تو بھی انہیں حکومت کا لیا ہوا قرضہ بھرنا پڑتا ہے۔ حکومتی قرض وہ واحد قرض ہے جسے لینے والا کوئی اور ہوتا ہے اور بھرنے والا کوئی اور۔ حکومتی قرضوں نے اُن بچوں کو بھی مقروض بنا دیا ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔

کرنسی چھاپنے والا شخص، ادارہ یا ملک ایک عجیب و غریب صلاحیت کا مالک بن جاتا ہے۔ وہ مارکیٹ سے کوئی بھی چیز خرید کر اسے کم قیمت میں فروخت کر سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے نقصان کو نوٹ چھاپ کر پورا کر سکتا ہے۔ دنیا میں کوئی اور یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس طرح وہ مارکیٹ میں کسی بھی چیز کی قیمت گرا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تیسری دنیا کی پیداوار کی قیمت گرتی جا رہی ہے جبکہ کیپیٹلسٹ ممالک کی پیداوار مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہیں۔ جب تک کرنسی سونے چاندی کے سکوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی تب تک یہ ممکن نہ تھا۔ کرنسی تخلیق کرنے والا اسٹاک مارکیٹ میں کسی بھی شیئر کی قیمت گرا یا بڑھا سکتا ہے۔

9؍اپریل 2020ء تک امریکی سینٹرل بینک کی بیلنس شیٹ ڈیجیٹل کرنسی تخلیق کر کے صرف ایک مہینے میں 4000 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6000 ارب ڈالر ہو گئی ہے تاکہ اسٹاک اور بونڈ مارکیٹ کے ڈوبنے سے بچایا جا سکے۔

1919ء میں ہٹلر یہ جان کر سخت حیران ہوا تھا کہ اسٹاک ایکسچینج میں استعمال ہونے والے کیپیٹل (بینکنگ کریڈٹ) اور (معیشت کو) قرض دئیے جانے والے کیپیٹل (تجارتی کریڈٹ) میں بڑا فرق ہے۔ اُسے سمجھ میں آ گیا تھا کہ بین الاقوامی سرمائے سے اپنے ملک کو بچانے کیلئے ملکی معیشت کو اسٹاک مارکیٹ سے الگ رکھنا پڑے گا۔ 1926ء میں اپنی خودنوشت مائن کیمف (میری جدوجہد) میں وہ لکھتا ہے۔

“For the first time in my life I heard a discussion which dealt with the principles of stock exchange capital and capital “which was used for loan activities.

عوام کی کرنسی اور بینک کی کرنسی (کریڈٹ) دو بالکل مختلف چیزیں ہوتی ہیں۔عوام نوٹ یا سکے استعمال کرتے ہیں لیکن بینک کھاتہ کرنسی (زر اعتبار) استعمال کرتے ہیں جیسے چیک، ڈرافٹ وغیرہ۔

عوام کے لئے کرنسی تبادلے کا وسیلہ ہوتی ہے لیکن جاری کنندہ کے لئے کرنسی عوام کی دولت چوسنے کا آلہ ہوتی ہے۔ کاغذی دولت پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کا ایک بہترین اوزار ہے۔

’’مقروض آدمی با آسانی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ مقروض ملک بھی با آسانی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ قرض کا جال خفیہ ہوتا ہے اور اس مفروضے پر انحصار رکھتا ہے کہ یہ سب کی آزادانہ مرضی ہے جبکہ یہ سب (خود ساختہ) ’قانون‘ کے بوجھ تلے ہوتا ہے۔۔۔ قرض کی بنیاد پر کرنسی کے اجرا نے پچھلے ہزار سالوں میں معاشرت کو بالکل بدل ڈالا۔ اس نے زبردستی کی غلامی کو رضاکارانہ غلامی میں تبدیل کر دیا جس کا فائیدہ صرف چند بینکرز کو ہوتا ہے۔‘‘

سونے چاندی یا دوسری دھاتوں کے ذریعہ کی جانے والی لین دین مقایضہ نظام (بارٹر سسٹم) ہی کی ایک شکل ہوتی ہے جس میں ادائیگی مکمل ہو جاتی ہے (یعنی قوت خرید منتقل ہوتی ہے)۔ کاغذی کرنسی سے کی جانے والی ادائیگی درحقیقت ادائیگی نہیں بلکہ محض آئندہ ادائیگی کا وعدہ ہوتی ہے۔ اسی لئے کرنسی نوٹوں پر ’’حامل هٰذا کو مطالبے پر ادا کرے گا‘‘ وعدہ بنک کی طرف سے لکھا ہوتا ہے۔ جو کبھی پورا نہیں ہوتا۔ یعنی کاغذی کرنسی میں ادائیگی دراصل قرض کی منتقلی ہوتی ہے۔ اس قرض کی ادائیگی کا ضامن سینٹرل بینک ہوتا ہے جس کی پشت پناہی حکومت کرتی ہے۔ بینک کے قوانین ہر چند سال بعد تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن سونا ہزار سال بعد بھی تبدیل نہیں ہوتا۔

’’دنیا میں درحقیقت صرف ایک حکومت ہے اور وہ سرمائے کی حکومت ہے۔ ہر حکومت جو کاغذی سرمائے کو اپنی معیشت میں داخل ہونے دیتی ہے وہ سرمائے کی حکومت کی غلام ہے۔‘‘

ساڑھے تین سال کی مدت میں 5600 میل کا سفر طے کر کے جب مئی، 1275ء میں مارکو پولو پہلی دفعہ چین پہنچا تو چار چیزیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ یہ چیزیں تھیں۔ جلنے والا پتھر(کوئلہ)، نہ جلنے والے کپڑے کا دسترخوان (ایسبسٹوس)، کاغذی کرنسی اور شاہی ڈاک کا نظام۔ مارکو پولو لکھتا ہے ’’آپ کہہ سکتے ہیں کہ (قبلائی) خان کو کیمیا گری (یعنی سونا بنانے کے فن) میں مہارت حاصل تھی۔ بغیر کسی خرچ کے خان ہر سال یہ دولت اتنی بڑی مقدار میں بنا لیتا تھا جو دنیا کے سارے خزانوں کے برابر ہوتی تھی۔ لیکن چین سے بھی پہلے کاغذی کرنسی جاپان میں استعمال ہوئی۔ جاپان میں یہ کاغذی کرنسی کسی بینک یا بادشاہ نے نہیں بلکہ پگوڈا نے جاری کی تھی۔

مارکوپولو کی چین سے واپسی کے بعد یورپ میں پہلی دفعہ بینکنگ کا آغاز ہوا جو رفتہ رفتہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔

جولائی 2006ء کے ایک جریدہ وسہل بلور کے ایک مضمون کا عنوان ہے کہ ڈالر جاری کرنے والا امریکی سینٹرل بینک ’’فیڈرل ریزرو اس صدی کا سب سے بڑا دھوکا ہے۔‘‘ مشہور برطانوی ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے کہا تھا کہ مسلسل نوٹ چھاپ کر حکومت نہایت خاموشی اور رازداری سے اپنے عوام کی دولت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیتی ہے۔ طریقہ اکثریت کو غریب بنا دیتا ہے مگر چند لوگ امیر ہو جاتے ہیں۔1927ء میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر جوسیہ سٹیمپ (جو انگلستان کا دوسرا امیر ترین فرد تھا) نے کہا تھا کہ ’’جدید بینکاری نظام بغیر کسی خرچ کے رقم (کرنسی) بناتا ہے۔ یہ غالباً آج تک بنائی گئی سب سے بڑی شعبدہ بازی ہے۔ بینک مالکان پوری دنیا کے مالک ہیں۔ اگر یہ دنیا ان سے چھن بھی جائے لیکن ان کے پاس کرنسی بنانے کا اختیار باقی رہے تو وہ ایک جنبش قلم سے اتنی کرنسی بنا لیں گے کہ دوبارہ دنیا خرید لیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ بینک مالکان کی غلامی کرتے رہو اور اپنی غلامی کی قیمت بھی ادا کرتے رہو تو بینک مالکان کو کرنسی بنانے دو اور قرضے کنٹرول کرنے دو۔ بنجمن ڈی اسرائیلی نے کہا تھا کہ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ملک کے عوام بینکاری اور مالیاتی نظام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے کیونکہ اگر وہ یہ سب کچھ جانتے تو مجھے یقین ہے کہ کل صبح سے پہلے بغاوت ہو جاتی۔ روتھسچائلڈ نے 1838ء میں کہا تھا کہ مجھے کسی ملک کی کرنسی کنٹرول کرنے دو۔ پھر مجھے پروا نہیں کہ قانون کون بناتا ہے۔‘‘

[Source [ https://ur.wikipedia.org/wiki]

(کاشف احمد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 6 اگست 2020

اگلا پڑھیں

عالمی اپڈیٹ – Covid-19