• 18 اکتوبر, 2021

آپریشن بے بی لفٹ Operation Babylift

جنگوں کی تاریخ نہایت دردناک و کربناک ہے۔ معلوم تاریخ سے آج تک جنگوں میں وحشت و بربریت کی ایسی کہانیاں رقم کی گئی اور کی جا رہی ہیں جنہیں سن، دیکھ اور پڑھ کر درددل رکھنے والے ہرشخص کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ موجودہ دور میں قیام امن کے نام پر ظلم و بربریت کی اسی روایت کو برقرار رکھا جا رہا ہےاور اس نام نہاد امن کی خاطر اب تک لاکھوں انسان صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے ہیں۔فی زمانہ جنگ و جدل کا بڑا سبب ایک دوسرے کے وسائل پر قبضے کی کوشش ہے۔ اس میں کامیابی ہو یا نا ہو مگر تاریخ کی ہر جنگ نے اپنے پیچھے کشت و خون سے عبارت کہانیاں چھوڑی ہیں۔ ایسی ہی ایک جنگ، جنگ ویتنام بھی ہے۔ یہ جنگ یکم نومبر 1955ء سے 30 اپریل 1975ء تک جاری رہی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس جنگ میں کل بیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں گیارہ لاکھ ویتنام کے فوجیوں کے ساتھ امریکی و اتحادی افواج میں ہلاکتوں کا اندازہ 280,000 ہے۔ جبکہ 15 لاکھ فوجی و عام شہری زخمی ہوئے۔ ان زخمیوں میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جو عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے تھے۔ اس جنگ کے اسباب ہمارا موضوع نہیں ہیں بلکہ اس میں ہونے والی ہلاکتوں کے نتیجے میں جنم لینے والا ایک انسانی المیہ ہے۔ ویتنام کی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی تو اپنے پیچھے لاکھوں کی تعداد میں یتیم ہونے والے بچے چھوڑ گئی۔ ان بچوں کا مستقبل کیا ہو گا اس امر نے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبزول کی۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے 38 ویں صدر گیرالڈ فورڈ نے انسانی ہمدردی کے تحت آپریشن بےبی لفٹ کا اعلان کیا۔اور ایک ملٹری انٹیلجنس ایجنسی Attache جو سائیگان، ویتنام میں ہی موجود تھی کے تعاون سے بچوں کے انخلاء کا منصوبہ بنایا۔

ان یتیم بچوں میں سے 33,000 ہزار بچے امریکہ، کینیڈا، جرمنی، فرانس اور آسٹریلیا میں بھجوا دیے گئے جہاں انہیں کئی خاندانوں نے گود لیا۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اڈاپشن بھی تھی۔ ویتنام سے ان بچوں کو نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا جسے آپریشن بے بی لفٹ کا نام دیا گیا۔ اس کا مقصد ان یتیم اور بے سہارا بچوں کو چھت اور بہتر مستقبل فراہم کرنا تھا۔ ان میں سے کچھ تعداد ایسے بچوں کی بھی تھی جن کےوالدین زندہ تھے لیکن بے گھر ہو چکے تھے۔ان کا کاروبار تباہ ہو چکا تھا،وہ خوف کا شکار تھے اور اپنے بچوں کےمستقبل کے حوالے سے پریشان تھے۔ ایسے والدین نے بھی اپنے بچوں کو اس آپریشن کے تحت یتیم بچوں کے ساتھ بھجوا دیا اور خود ویتنام میں ہی رہے۔

4 اپریل 1975ء کو پہلا Galaxy C-5A ملٹری کارگو جہاز سیگان سے ویتنامی بچوں کے ساتھ امریکہ کے لیے روانہ ہوا۔جہاز کو اڑان بھرے ابھی صرف 12 منٹ ہی ہوئے تھے کہ کسی فنی خرابی کے باعث اس کے پچھلے حصہ میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ریمپ ڈور (دروازہ جہاں سے جہاز میں سامان لوڈ کیا جاتا ہے) کھل گیا۔دروازہ کھلنے سے جہاز کے کیبن کا پریشر ختم ہوگیا اور جہاز تیزی سے زمین پر گرنے لگا۔ اس وقت جہاز 12,000 فٹ سے زائد بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ پائلٹ نے جہاز کو واپس ایئرپورٹ کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ تمام تر کوشش کے باوجود پائلٹ جہاز کو رن وے پر اتارنے میں ناکام رہا، بالآخر پائلٹ نے جہاز کو کریش لینڈ کروانے کا فیصلہ کیا۔ چاولوں کے کھیت میں کریش لینڈنگ کے دوران جہاز دوبار زمین سے ٹکرا کر فضاء میں بلندہونے کے بعد کریش ہوا اور نصف میل تک زمین پر گھسٹتا گیا۔ جس کے نتیجے میں دو ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ جہاز پر سوار 300 میں سے 138 افراد اس افسوس ناک حادثہ میں جاں بحق ہوئے جن میں آپریشن بے بی لفٹ کے تحت بھجوائے جانے والے 78 بچے بھی شامل تھے۔ 35 خواتین بھی مرنے والوں میں شامل تھیں جن کا تعلق ملڑی انٹیلجنس ایجنسی سے تھا۔ ان میں سے 5 خواتین کے سپرد بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری تھی۔

گو کہ پہلا جہاز کریش ہونے کی وجہ سے مشن کے تسلسل میں تعطل آیا لیکن آپریشن رکا نہیں اور 4 ہفتوں تک مسلسل بچوں کو ویتنام سے نکالا جاتا رہا۔ چار ہفتوں کے دوران 33,000 سے زائد بچوں کو کامیابی سے دوسرے ممالک میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایک امریکی بزنس مین رابرٹ میکالی نے جب سنا کہ ملڑی جہازوں کی کمی کے باعث بچوں کو اس طرح نکالنے میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے تو انہوں نے اپنے خرچ پر world airways سے ایک بوئنگ 747 جہاز کرائے پر حاصل کیا۔ جس پر مزید 300 یتیم بچوں کو ویتنام سے نکالا گیا۔ اس خرچ کے لیے انہیں اپنا گھر گروی رکھنا پڑا تھا۔ آپریشن جاری رہا لیکن تینزانیت ایئرپورٹ پر ہوئے ایک حملہ میں رن وے کو نقصان پہنچنے کے باعث مزید فلائٹ اڑانا ممکن نہیں تھا۔

اس آپریشن کے تحت بھجوائی گئے بچوں کو لوگوں نے گود لیا۔ ان میں سے کئی بچے جوان ہونے پر واپس ویتنام بھی گئے۔ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ اپنے لواحقین کا پتہ لگانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا سہارا بھی لیا گیا۔ آسٹریلیا میں مقیم ’’کرسٹینا‘‘ اس آپریشن کےتحت ویتنام سے بھجوائے جانے والے بچوں میں شامل تھی۔ کرسٹینا کی عمر اس وقت پینتیس سال تھی جب اس نےویتنام جا کر اپنے رشتہ داروں کو ڈھونڈنے کا سوچا۔ویتنام میں اس کے والدین کے ساتھ کیا ہوا اسے کچھ یاد نہیں تھا۔ اسے صرف اتنا یاد تھا کہ شدید زخمی حالت میں ہاسپٹل میں تھی اور اس کے والدین میں سے کوئی بھی اس کے پاس نہیں تھا۔اس نے اسٹیٹ گورنمنٹ اڈاپشن کے کاغذات کے ذریعے اپنے رشتہ داروں کو ڈھونڈا اور جب اپنی بیٹی کے ساتھ ائیرپورٹ پر اپنے رشتہ داروں سے ملی تو جنگ ویتنام کا لقمہ بن چکے اپنے پیاروں کو یاد کرکے ساتھ وہ سب پھوٹ پھوٹ کر روئے۔

اسی طرح کئی بچوں نے ویتنام واپس آ کر اپنے رشتہ داروں کو تلاش کیا۔ لیکن کئی بچے ایسے بھی تھے جو اپنے دردناک ماضی کے بارےمیں جاننا نہیں چاہتے تھے۔ آسٹریلیا میں مقیم ’’شین‘‘ بھی ان میں سے ایک تھا۔وہ چھ ماہ کا تھا جب اسے ایک آسٹریلین فیملی نے گود لیا تھا اور وہ پہلا بچہ تھا جسے کسی نے گود لیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ بالکل بھی اپنے حقیقی والدین اور دوسرے رشتہ داروں کو تلاش نہیں کرنا چاہتا جن کے بارے میں اسے یقین ہے کہ وہ جنگ کا نوالہ بن چکے ہوں گے۔ یقینا ًمیرا ماضی بہت دردناک رہا ہوگا،میں اپنی موجودہ زندگی سے خوش ہوں۔اس کا کہنا تھا کہ اگر میں کبھی گیا بھی تو صرف ویتنام کی ثقافت اور وہاں کے لوگوں کو دیکھوں گا، ویتنام کی سیر کروں گا اور اس ملک کو گھوم پھر کر دیکھوں گا جہاں میں پیدا ہوا تھا۔

(مدثر ظفر)

پچھلا پڑھیں

قرآن کریم نصائح سے لبریز ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 اکتوبر 2021