• 9 اگست, 2022

شفاعت کی اصل جڑ

اصل جڑ شفاعت کی یہی محبت ہے جب اس کے ساتھ فطرتی تعلق بھی ہو کیونکہ بجز فطرتی تعلق کے محبت کا کمال جو شرطِ شفاعت ہے غیر ممکن ہے. اس تعلق کو انسانی فطرت میں داخل کرنے کے لئے خدا نے حوّا کو علیحدہ پیدا نہ کیا بلکہ آدم کی پسلی سے ہی اس کو نکالا۔ جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے وَخَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا یعنے آدم کے وجود میں سے ہی ہم نے اس کا جوڑا پیدا کیا جو حوّا ہے۔ تا آدم کا یہ تعلق حوّا اور اس کی اولاد سے طبعی ہو نہ بناوٹی۔ اور یہ اس لئے کیا کہ تا آدم زادوں کے تعلق اور ہمدردی کو بقا ہو کیونکہ طبعی تعلقات غیر منفک ہوتے ہیں مگر غیر طبعی تعلقات کے لئے بقا نہیں ہے کیونکہ ان میں وہ باہمی کشش نہیں ہے جو طبعی میں ہوتی ہے۔ غرض خدا نے اس طرح پر دونوں قسم کے تعلق جو آدم کے لئے خدا سے اور بنی نوع سے ہونے چاہئے تھے طبعی طور پر پیدا کئے۔ پس اس تقریر سے صاف ظاہر ہے کہ کامل انسان جو شفیع ہونے کے لائق ہو وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے ان دونوں تعلقوں سے کامل حصہ لیاہو اور کوئی شخص بجز ان ہر دوقسم کے کمال کے انسان کامل نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے آدم کے بعد یہی سنت اللہ ایسے طرح پر جاری ہوئی کہ کامل انسان کے لئے جو شفیع ہو سکتا ہے یہ دونوں تعلق ضروری ٹھہرائے گئے یعنی ایک یہ تعلق کہ ان میں آسمانی روح پھونکی گئی۔ اور خدا نے ایسا ا ن سے اتّصال کیا کہ گویا ان میں اتر آیا اور دوسرے یہ کہ بنی نوع کی زوجیت کا وہ جوڑ جو حوّا اور آدم میں باہمی محبت اورہمدردی کے ساتھ مستحکم کیا گیا تھا ان میں سب سے زیادہ چمکایا گیا اسی تحریک سے ان کوبیویوں کی طرف بھی رغبت ہوئی اور یہی ایک اول علامت اس بات کی ہے کہ ان میں بنی نوع کی ہمدردی کا مادہ ہے اور اسی کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں کہ خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ بِاَھْلِہٖ یعنے تم میں سے سب سے زیادہ بنی نوع کے ساتھ بھلائی کرنے والا وہی ہو سکتا ہے کہ پہلے اپنی بیوی کے ساتھ بھلائی کرے مگر جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظلم اور شرارت کا برتاؤ رکھتا ہے ممکن نہیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھی بھلائی کر سکے کیونکہ خدا نے آدم کو پید اکرکے سب سے پہلے آدم کی محبتؔ کا مصداق اس کی بیوی کو ہی بنایا ہے۔ پس جوشخص اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا اوریا اس کی خود بیوی ہی نہیں وہ کامل انسان ہونے کے مرتبہ سے گرا ہوا ہے اور شفاعت کی دو شرطوں میں سے ایک شرط اس میں مفقود ہے۔ اس لئے اگر عصمت اس میں پائی بھی جائے تب بھی وہ شفاعت کرنے کے لائق نہیں لیکن جو شخص کوئی بیوی نکاح میں لاتا ہے وہ اپنے لئے بنی نوع کی ہمدردی کی بنیاد ڈالتاہے کیونکہ ایک بیوی بہت سے رشتوں کا موجب ہو جاتی ہے اور بچے پیدا ہوتے ہیں ان کی بیویاں آتی ہیں اور بچوں کی نانیاں اور بچوں کے ماموں وغیرہ ہوتے ہیں اور اس طرح پر ایسا شخص خواہ نخواہ محبت اور ہمدردی کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کی اس عادت کا دائرہ وسیع ہو کر سب کو اپنی ہمدردی سے حصہ دیتا ہے لیکن جو لوگ جوگیوں کی طرح نشوونما پاتے ہیں ان کو اس عادت کے وسیع کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ اس لئے ان کے دل سخت اور خشک رہ جاتے ہیں۔

(عصمت انبیاء، روحانی خزائن جلد18 صفحہ660-661)

پچھلا پڑھیں

سیرالیون میں رمضان اور عید الفطر کی رونقیں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 جون 2022