• 15 اگست, 2022

عید الفطر و عید ملن پارٹی ساؤتومے و پرنسپ

مؤرخہ 2 مئی 2022ء کو ساؤ تومے ملک کے دونوں جزیروں پر نماز عید ادا کی گئی۔ ساؤتو مے میں مکرم انصر عباس صاحب مبلغ انچارج وصدر جماعت احمدیہ ساؤتومے نے نماز عید پڑھائی اور پرنسپ جزیرہ میں لوکل معلم مکرم سلیمان یوسف صاحب نے عید پڑھائی۔ ساؤ تومے میں نماز عید صبح 9 بجے کیپیٹل کے مشہور پارک (Parque Popular) میں ادا کی گئی۔ یہ ساؤتومے کی تاریخ کا سب سے بڑا مسلم اجتماع تھا۔ 500 سے زائد افراد نے نماز عید میں شرکت کی۔ اس دن صبح ہی سے شدید بارش شروع ہو گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلصین جماعت بشاشت اور شوق سے سفر کر کے نماز کیلئے تشریف لائے۔ نیشنل ٹیلیویژن اور ساؤتومے کی آفیشل پریس (STP Press) نے خبر نشر کی۔ صحافی بڑی حیرت سے باربار احباب جماعت سے پوچھتا رہا کہ تم سب لوگ مسلمان ہو اور نماز پڑھنے کیلئے آئے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ اتنی شدید بارش میں کوئی تماشادیکھنے تو نہیں آتا۔ ہم آج عید کی نماز ادا کرنے یہاں آئے ہیں۔ لجنہ اماء اللہ نےبڑی محنت سے 500 لوگوں کیلئے کھانا تیار کیا۔ لوکل معلمین اور مرکزی مبلغین نے لوگوں کو اکٹھا کرنے کیلئے بہت زیادہ محنت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے فضل نازل فرمائے۔ فَجَزَاہُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَآء

نماز عید کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے سیاسی، سماجی، حکومتی عہدیداروں، اداروں اور سفارتکاروں کو بھجوائی گئیں۔ وزیر اعظم صاحب اور سپیکر قومی اسمبلی نے حیرانی سے پوچھا کہ ملک میں کتنے احمدی ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ دوہزار کے قریب ہیں۔ ملک میں 14 مساجد ہیں، 80 سے زائد مقامات پر جماعت قائم ہے۔

عید ملن پارٹی

عید کے روز ہی رات کو جماعت کی طرف سے ایک عید ملن پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس میں حکومتی، سیاسی، سماجی، مذہبی، صحافی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب نے شرکت کی۔ ان میں وزیر اعظم صاحب ساؤتومے بمع اہلیہ، وزیر کھیل بمع اہلیہ، ساؤتومے میں فرانس کی کونسلر، مئیر ڈسٹرک کانتا گالو، ڈائریکٹر نیشنل ٹی وی، ریڈ کراس (RED CROSS) کا سیکرٹری جنرل، ڈائریکٹر س سنٹرل ہسپتال، صدر مملکت کی ایڈوائزر، برازیل ایمبیسی کا نمائندہ، پولیس افسران، فائر فائٹرز، 7 لبنانی شیعہ مسلمان، اس طرح کل ایک سو مہمان شامل ہوئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سب لوگ بہت زیادہ خوش ہوئے۔ محترم مبلغ انچارج صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ رمضان المبارک اور عید الفطر کے موقع پر اپنی خوشیاں دوستوں کے ساتھ مل کر منانا ہی حقیقی عید ہے۔ مہمانوں کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد جناب وزیر اعظم صاحب نے خطاب کیا اور کہا کہ وہ جماعت احمدیہ کا بہت پرانا دوست ہے۔ جماعت احمدیہ نے اپنے اس خوشی کے موقع پر ہمیں مدعو کیا ہے۔ وہ بےحدممنون ہیں۔ میں جماعت احمدیہ کو عید کی مبارک باد پیش کرتاہوں۔ پھر انہوں نے کہا کہ جماعت احمدیہ ہمارے ملک میں بے لوث خدمت کر رہی ہے۔ ہرمعاملہ میں جماعت نے ہماری مدد کی ہے۔ آج مختلف مذاہب کے لوگوں کا یہاں موجود ہونا بھی مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ جماعت احمدیہ نے رمضان کے مہینہ میں اپنا کھانا بچا کر غرباء کی مدد کی ہے۔ رمضان کے بارے میں مجھے پہلے زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ اب جماعت کے ذریعے بہت معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ جماعت احمدیہ جوکہتی ہے اپنے عمل سے کر کے دکھاتی ہے۔ میں یہاں جماعت کے ساتھ اس دعوت میں شامل ہو کر بہت خوش ہوں۔

تمام مہمان تقریباً دوگھنٹے تک بیٹھے رہے۔ کھانا کھایا۔ بہت ساری باتیں کیں۔ ہمارے ایک نومبائع اوشتیلیو صاحب جو سابق ممبر نیشنل اسمبلی بھی ہیں۔ تمام پارلیمنٹرین ان کو جانتے ہیں۔ وہ بھی وزیر اعظم صاحب والی ٹیبل پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم صاحب کو بتایا کہ وہ ایک عیسائی چرچ کے پادری تھے۔ اسلام کا انہیں کچھ علم نہیں تھا۔ جماعت احمدیہ کے ذریعے اسے اسلام کی معلومات حاصل ہوئیں۔ ان کی زندگی کا یہ پہلا رمضان تھا۔ رمضان المبارک کے پہلی دفعہ روزے رکھے ہیں۔ عادت نہ ہونے کی وجہ سے روزے بہت مشکل تھے لیکن روحانی لحاظ سے مجھے بہت سکون ملا۔ وزیر اعظم کو کہنے لگا کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ پہلا مذہب دیکھا ہے جو دوسروں کی تکلیف دورکرنے کی بات کرتاہے۔ بتایا کہ رمضان کے مہینے میں ہم کیتھولک چرچ کے بوڑھوں کے مرکز میں ڈونیشن دینے گئے۔ تو وہاں عورتیں اور مرد سب حیران ہوئے کہ آپ مسلمان ہو کر کیتھولک مرکز کی مدد کرنے کیوں آئے ہیں۔ اس پر ہم نے انہیں سمجھایا کہ ہمارا خدا دوسروں کی مدد کرنے کا ہمیں حکم دیتاہے یہ کسی پر احسان نہیں ہے۔ احمدی ہونے پر میرے اندر احساس پیدا ہوا ہے کہ ہماری زندگی کا کوئی مقصد ہے۔

بہت سارے غیر مسلم دوستوں نے بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اتنی شدید بارش میں بہت بڑی تعداد کا ملک کے مختلف حصوں سے یہاں پہنچنا بہت بڑی با ت ہے۔

(رپورٹ: انصر عباس۔ مبلغ انچارج و صدر جماعت ساؤتومے و پرنسپ)

پچھلا پڑھیں

انڈیکس مضامین مئی 2022ء الفضل آن لائن لندن

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ