• 12 اگست, 2020

اپنا سامان مختصر رکھیے

خاکسار گزشتہ کچھ عرصہ سے دنیا میں مادی اور روحانی نظام میں مطابقت پر کالم لکھ رہا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں مادی نظام جاری فرمایا اور پھر اس سے ملتا جلتا روحانی نظام بھی جاری کیا۔

آج اسی کے تسلسل میں ایک ایسےاہمیت کے حامل مضمون پر قلم اٹھارہا ہوں جو ہم میں سے ہر انسان پر کسی نہ کسی رنگ میں لاگو ہوتاہے اور وہ ہے انسان کا مختلف جہت کی طرف اپنے دنیوی و دینی کام کے لئے سفر کرنا۔ اس کے بارہ میں قرآن کریم اور احادیث میں مسلسل رہنمائی ملتی ہے۔ اس کے مقابل انسان کی اپنی زندگی بھی سفر کی مانند ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایاہےکہ انسان کی زندگی Train میں سفر کرنے والے مسافروں جیسی ہے جو اپنے اپنے اسٹیشن پر اُتر جاتے ہیں۔ ہر انسان کی زندگی کا بھی اپنا اپنا اسٹیشن مقرر ہے اور مقررہ اسٹیشن آنے پر وہ سواری (انسان) اُتر جائے گی۔ اسی لئے کسی نے کہا ہےکہ ’’زندگی بھی ایک سفر کی طرح ہے‘‘ اور سفِر آخرت اور رخت ِسفر باندھنا (مرنے کی تیاری کرنا) کے محاورے بھی اس مضمون پر اطلاق پاتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیوی اسفار کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’یہ بات ظاہر ہے کہ تمام مسلمانوں کو مختلف اغراض کیلئے سفر کرنے پڑتے ہیں کبھی سفر طلب علم ہی کیلئے ہوتا ہے اور کبھی سفر ایک رشتہ دار یا بھائی یا بہن یا بیوی کی ملاقات کیلئے یا مثلاً عورتوں کا سفر اپنے والدین کے ملنے کے لئے یا والدین کا اپنی لڑکیوں کی ملاقات کے لئے اور کبھی مرد اپنی شادی کے لئے اور کبھی تلاش معاش کے لئے اور کبھی پیغام رسانی کے طور پر اور کبھی زیارت صالحین کے لئے سفر کرتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت عمر نے حضرت اویس قرنی کے ملنے کے لئے سفر کیا تھا اور کبھی سفر جہاد کے لئے بھی ہوتاہےخواہ وہ جہاد تلوار سے ہو اور خواہ بطور مباحثہ کے اور کبھی سفربہ نیت مباہلہ ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرتﷺ سے ثابت ہے اور کبھی سفر اپنے مرشد کے ملنے کے لئے جیسا کہ ہمیشہ اولیاء کبار جن میں سے حضرت شیخ عبدالقادر اور حضرت بایزیدبسطامی اور حضرت معین الدین چشتی اور حضرت مجدد الف ثانی بھی ہیں اکثر اس غرض سے بھی سفر کرتے رہے جن کے سفر نامے اکثر ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے اب تک پائے جاتے ہیں۔ اور کبھی سفر فتویٰ پوچھنے کے لئے بھی ہوتا ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے اس کا جواز بلکہ بعض صورتوں میں وجوب ثابت ہوتا ہے اور امام بخاری کے سفر طلب علم حدیث کے لئے مشہور ہیں شاید میاں رحیم بخش کو خبر نہیں ہوگی اور کبھی سفر عجائبات دنیا دیکھنے کے لئے بھی ہوتا ہے جس کی طرف آیت کریمہ قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اشارہ فرمارہی ہے اور کبھی سفرصادقین کی صحبت میں رہنے کی غرض سے جس کی طرف آیت کریمہ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ہدایت فرماتی ہے اور کبھی سفر عیادت کے لئے بلکہ اتباع خیار کے لئے بھی ہوتا ہے اور کبھی بیمار یا بیمار دار علاج کرانے کی غرض سے سفر کرتا ہے اور کبھی کسی مقدمہ عدالت یا تجارت وغیرہ کے لئے بھی سفر کیا جاتا ہے اور یہ تمام قسم سفر کی قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی رو سے جائز ہیں بلکہ زیارت صالحین اور ملاقات اخوان اور طلب علم کے سفر کی نسبت احادیث صحیحہ میں بہت کچھ حث و ترغیب پائی جاتی ہے اور اگر اس وقت وہ تمام حدیثیں لکھی جائیں تو ایک کتاب بنتی ہے۔ ایسے فتویٰ لکھانے والے اور لکھنے والے یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کو بھی تو اکثر اس قسم کے سفر پیش آجاتے ہیں۔ پس اگر بجز تین مسجدوں کے اور تمام سفر کرنے حرام ہیں تو چاہئے کہ یہ لوگ اپنے تمام رشتے ناطے اور عزیزو اقارب چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور کبھی ان کی ملاقات یا ان کی غم خواری یا ان کی بیمار پرسی کے لئے بھی سفر نہ کریں۔ میں خیال نہین کرتا کہ بجز ایسے آدمی کے جس کو تعصب اور جہالت نے اندھا کردیا ہو وہ ان تمام سفروں کے جواز میں متامل ہوسکےصحیح بخاری کا صفحہ 16کھول کر دیکھو کہ سفر طلب علم کے لئے کس قدر بشارت دی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ مَنْ سَلَكَ طَرِيْقًا یَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللّٰهُ لَهُ طَرِيْقَ الْجَنَّةِ یعنے جو شخص طلب علم کے لئے سفر کرے اور کسی راہ پر چلے تو خداتعالیٰ بہشت کی راہ اس پر آسان کردیتا ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ 606-607)

فرمایا: ’’ملاقات نہایت ضروری ہے میں چاہتا ہوں کہ جس طرح ہوسکے 27دسمبر 1892ء کے جلسہ میں ضرور تشریف لاویں۔ ان شاء اللہ القدیر آپ کیلئے بہت مفید ہوگا۔ اور جو لِلّٰہ سفر کیا جاتا ہے وہ عنداللہ ایک قسم عبادت کے ہوتا ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ 357)

ہم جو سفر دنیا میں اختیارکرتے ہیں اس میں ہم کوشش کرکے اپنے سازوسامان کو مختصر رکھتے ہیں تاسفر آسانی سے کٹ جائے۔ خواہ یہ سفر پیدل ہوسائیکل یا موٹر بائیک پر ہو۔ اپنی گاڑی پر ہو۔ پبلک ٹرانسپورٹ یا ٹرین پر ہو اور یا ہوائی جہاز کا ہو۔ ہم اپنے آپ کو اور اپنے سازوسامان و توشہ کو ہلکا پھلکا رکھ کر سفر پر جاتے ہیں۔ ہوائی جہاز کے لئے بکنگ کراتے وقت جو ٹکٹ دستیاب ہوتی ہے اس پر تو وزن کا بھی تعین کر دیا جاتاہے اور اس مقررہ وزن سے اگر آپ زائد سامان لے کر جائیں گے تو آپ کو بطور Panalty زائد رقم ادا کرنا ہوتی ہے یا وہ سامان اپنے سے الگ کرنا ہوگا۔ اس زائد سامان کو Excess Luggage کہتے ہیں جس کو ساتھ لے کر آپ کو Fly کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

روزمرہ سفر کرنے والے جیسے کاروباری حضرات وغیرہ تو اپنا رختِ سفر ہمیشہ تیار رکھتے ہیں اور اسباب باندھے رکھتےہیں جو بہت مختصر ہوتاہے۔ یہی مضمون انسانی زندگی کے سفر پر لاگو ہوتا ہےجسے ڈاکٹر نگہت افتخار نے اپنی ایک نظم میں یوں بیان کیا ہے:

جانے کس وقت کوچ کرنا ہو
اپنا سامان مختصر رکھیے

دنیوی سفر میں سازوسامان مختصر رکھنے کا ذکر مذکورہ بالاسطورمیں گزر چکاہے۔ اس مضمون کو اگر زندگی کے سفر پر Apply کریں تو قرآن و حدیث میں بیان تمام بُرائیاں، اخلاق سیئہ جیسے جھوٹ، غیبت، چغلخوری، تجسّس، عیب جوئی، بد نظری، خیانت، بددیانتی، تشبہ بالغیر، تو ہم پرستی زائد سامان زندگی یعنی Excess Luggage ہیں۔ اصل سرمایہ حیات تونیکیاں اور وہ اعمال ہیں جو آنحضور ﷺ بجا لائے اور بجالانے کی تلقین فرماتے رہے کیونکہ یہی ہےجوانسان کے ساتھ جائے گا۔ اس ناطے ہمیں زائدسامان حیات جو ہمارے گلے کا طوق بننے والا ہے اسے اُتار پھینک کر ہلکا پھلکا ہوکررخت سفر جاری رکھنا چاہئے۔

آئیے مزید دیکھتے ہیں کہ دنیوی سفر کے آداب، ہدایات اور نصائح کو ہم اپنی زندگی کے سفر پر کیسے لاگو کر سکتے ہیں۔

1۔ سفر پر جانے سے قبل دُعا کی جاتی ہے اور دوران سفر بھی دُعا کرنے کی تلقین ملتی ہے بلکہ آنحضورﷺ نے تین بندو ں کی دُعاؤں کوقبولیت کی خوشخبری سنائی ہے۔ ان میں ایک مسافر کی دعا ہے۔ آپؐ سواری پر بسم اللّٰہ کہہ کر سوار ہوتے ۔ کوئی بلندی آتی تو تکبیر یعنی اللّٰہ اکبر کہتے۔ قرآن کریم نے سفر کے لیے دودعائیں بھی سکھلائی ہیں۔ بِسۡمِ اللّٰہِ مَ‍‍جۡؔرٖىہَا وَ مُرۡسٰىہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (سورۃھود:42) سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہٗ مُقۡرِنِیۡنَ۔ وَ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ (سورۃالزخرف:14-15)

حضرت عمر ؓنے ایک دفعہ آنحضورﷺ سے عمرہ پر جانے کی اجازت چاہی۔ آپؐ نے اجازت دیتے ہوئے فرمایا۔ پیارے بھائی! اپنی دُعاؤں میں ہمیں نہ بھولنا (ابوداؤد) ان تمام ہدایات کی تعمیل ایک مسلمان پر اپنی ساری زندگی کے سفر میں لازم ہے۔ صبح وشام دعائیں پڑھنے کی تلقین ملتی ہے۔ اپنے بھائیوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ بسم اللّٰہ پڑھنے کی تلقین بار بار ملتی ہے۔

2۔ سفر میں کثرت سے استغفار کرنے کی تلقین ہے۔ (ابوداؤد) یہی تلقین زندگی کے سفر میں ملتی ہے۔

3۔ سفرمیں زادراہ لیا جاتا ہے۔ زندگی کے سفر کا زادِراہ تقویٰ ہے۔ فرمایا: تَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰی (سورۃالبقرہ:198)

ایک شخص نے آنحضورﷺ سے زادِراہ عطا کئے جانے کی درخواست کی۔ آپؐ نے فرمایا: زَوَّدَكَ اللّٰهُ التَّقْوَىیعنیاللہ تقویٰ کو تیرا زادراہ کرے۔ (ترمذی)

4۔ سفر میں ساتھیوں کا خیال رکھا جاتاہے۔ آنحضورﷺ سفر کے دوران قافلہ کے پیچھےہوجا یا کرتے تھے اور کمزور سواری کو ہانکتے بلکہ بعض کمزور صحابہ کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپؐ نے کمزور صحابہ کو اپنی سواری پر سوار کروا دیا اور خود سواری کے ساتھ پیدل سفر کیا۔ ( ابوداؤد)

بعینہ زندگی کے سفر میں اپنے ماحول میں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہئے اور کمزوروں کو ساتھ لے کر چلیں۔

5۔ سفر میں نماز ادا کرنی ضروری ہے۔ زندگی کے سفر میں بھی نمازوں کو شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

6۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ٹکڑا ہے۔ زندگی کے سفر میں بھی عذاب سے بچے رہنے کی تلقین قرآن و حدیث میں بیان ہے۔

7۔ سفر میں شر سے بچنے کی دعا ان الفاظ میں ملتی ہے۔ أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَکہ میں اللہ کے کامل اور مکمل کلمات کی پناہ میں آتاہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا۔

زندگی کے سفر میں بھی اس دعاکی کثرت سے ضرورت رہتی ہے۔

8۔ آنحضورﷺ جب سفرپرکسی کو بھجواتے تو اس دعا کے ساتھ رخصت فرماتے: أَسْتَوْدِعُ اللّٰهَ دِيْنَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيْمَ عَمَلِكَ (ترمذی) کہ میں تیرے دین، امانت اور تیرے عملوں کے خاتمہ کو اللہ کے سپر د کرتا ہوں۔ انسان کو بھی اپنی زندگی کے سفر کے اختتام کے لئے خاتمہ بالخیر کی دعا کثرت سے کرنی چاہئے۔ جماعت کے معروف و مشہورشاعر جناب عبدالکریم قدسی نے اس مضمون کو یوں بیان کیا ہے۔

گھر میں رہ کر سفر میں رہتا ہوں
یہ سفر مدّتوں سے جاری ہے

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 8 جولائی 2020ء