• 5 اکتوبر, 2022

بعض افریقن غیر از جماعت معزز مہمانوں کے دلی جذبات جو جلسہ میں شامل تھے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
ایک دامیبا بیاتریس صاحبہ (Damiba Beatrice) ہیں جو بورکینا فاسو سے جلسہ میں شامل ہوئیں اور بورکینا فاسو پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا کے لئے ہائر اتھارٹی کمیشن کی صدر ہیں۔ دو دفعہ ملک کی فیڈرل منسٹر رہ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ اٹلی اور آسٹریا میں چودہ سال تک بورکینا فاسو کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔ نیز یو این او میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ یہ کہتی ہیں کہ اس جلسہ میں شمولیت میرے لئے زندگی میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ میں یواین او میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کر چکی ہوں جہاں میں نے کئی ملکوں کے نمائندے دیکھے ہیں مگر اس جلسہ میں بھی اسّی سے زائد ملکوں کے نمائندے شامل تھے اور سب ایک لڑی میں پروئے ہوئے تھے۔ موتیوں کی مالا نظر آتے تھے۔ مجھے کوئی شخص کالا، گورا یا انگلش یا فرنچ نظر نہ آیا بلکہ ہر احمدی مسلمان بغیر رنگ و نسل کے امتیاز کے اپنے خلیفہ کا عاشق ہی نظر آیا۔ پھر کہتی ہیں کہ سب سے زیادہ جس بات سے میں متاثر ہوئی وہ یہ تھی کہ ہر شخص خدا کی خاطر ایک commitment کے ساتھ اس جلسہ میں شامل ہوا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ سارے ہی مہمان ہیں اور سارے ہی میزبان ہیں۔ مرد، عورتیں، بڑا، چھوٹا غرضیکہ ہر شخص میزبانی کے لئے حاضر تھا اور ان کی محبت دکھاوے کے لئے نہ تھی بلکہ دل کی گہرائیوں سے تھی۔ پھر کہتی ہیں کہ عورتوں کو مردوں سے الگ تھلگ ایک جگہ دیکھنا میرے لئے باعث حیرت تھا اور مجھے یوں لگا کہ شاید یہاں بھی عورتوں سے دوسرے مسلمانوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ لیکن جب میں ان عورتوں کے ساتھ رہی تو کچھ ہی دیر میں میرا یہ تأثر بدل گیا۔ میں نے دیکھا کہ فوٹو اتارنے والی بھی عورت تھی، کیمرے پر بھی عورت تھی، استقبال پر بھی عورتیں تھیں، کھانا تقسیم کرنے والی بھی عورتیں تھیں، غرضیکہ ہر کام عورتیں ہی کر رہی تھیں اور یہ سچ ہے کہ عورت کا پردہ ہرگز اُس کی آزادی کو ختم نہیں کرتا۔ اگر کسی کو اس کا یقین نہ آئے تو احمدیوں کے ہاں آ کر دیکھ لے۔

پھر کہتی ہیں کہ جب مَیں امام جماعت احمدیہ کے دفتر میں گئی تو حیران تھی کہ اتنا چھوٹا سا دفتر بھی دنیا کا محور ہو سکتا ہے۔ پھر کہتی ہیں مجھے مردوں کی مارکی میں بیٹھ کر بھی امام جماعت احمدیہ کا خطاب سننے کا موقع ملا اور جب وہ آتے تو سب لوگوں کا سکون اور بڑے ادب سے کھڑے رہنے کا منظر ایسا تھا کہ بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے ایسا تو کبھی کسی ملک کے صدر کے لئے بھی نہیں دیکھا۔

پھر کہتی ہیں کہ ان کے خطاب کے دوران ہزاروں افراد جن میں بچے، بوڑھے اور جوان سب شامل تھے، اتنی خاموشی سے اُن کا بیٹھنا ایک ایسا منظر تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ یہاں انسان نہیں بلکہ شاید انسان نما پتلے بیٹھے ہیں۔ یہ سب عزت و احترام اور ادب میری زندگی کا ایک انوکھا تجربہ تھا۔

پھر سیرالیون سے وزیرِ داخلہ اور امیگریشن جے بی داؤدا صاحب شامل ہوئے۔ کہتے ہیں مختلف شعبوں کا منسٹر ہونے کی وجہ سے ساری دنیا میں سفر کرتا رہا ہوں اور بڑی بڑی کانفرنسوں میں شرکت کرتا ہوں لیکن آج تک ایسی شاندار کانفرنس کبھی نہیں دیکھی جہاں محبت، پیار، بھائی چارا اور روحانیت نمایاں تھی۔

پھر سیرالیون کی ایک مہمان خاتون آنریبل جسٹس موسیٰ دمیبو ہیں۔ یہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ہیں۔ یہ بھی جلسہ میں شامل ہوئی تھیں۔ کہتی ہیں کہ جلسہ بہت اچھے طریقے سے آرگنائز کیا گیا جس میں ہر شعبہ بشمول مہمان نوازی، ٹرانسپورٹ، سیکیورٹی، کمیونیکیشن وغیرہ نے عمدہ طور پر اپنے فرائض ادا کئے۔ یہ جلسہ مختلف ثقافتوں اور سماجوں کے درمیان فاصلہ کم کرنے کے لئے انتہائی اہم فورم ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ integration کرنے کے لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اصول وضع فرما دیا ہے کہ اسلام میں ہر ایک بھائی بھائی ہے۔ تمام مقررین نے بہترین انداز میں تقاریر کیں جس کی وجہ سے سارے جلسے کے دوران earphone کان سے نہیں اترا۔ کہتی ہیں کہ جلسہ کے دوران لوگ بے لوث ہو کر ایک دوسرے پر فدا ہو رہے تھے۔ مہمان نوازی کا کوئی جواب نہیں تھا۔ صرف خدمت ہی نہیں کی جا رہی تھی بلکہ واضح طور پر محسوس ہوتا تھا کہ آپ کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔ پھر کہتی ہیں کہ کام کرنے والے تمام افراد اپنے چہرے پر مسکراہٹ لئے ہوئے تھے جس میں احمدیت کے موٹو ’’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ کی صحیح معنوں میں عکاسی ہوتی تھی۔

(خطبہ جمعہ 6؍ستمبر 2013ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

مجلس انصاراللہ کی بنیادی ذمہ داری

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اگست 2022