• 4 اکتوبر, 2022

انصار شہداء کی لازوال داستانیں (قسط 1)

فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ کی زندہ جاوید مثالیں
انصار شہداء کی لازوال داستانیں
قسط 1

مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیۡہِ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ ۫ۖ وَمَا بَدَّلُوۡا تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۴﴾

(الاحزاب: 24)

مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اُسے سچا کر دکھایا۔ پس اُن میں سے وہ بھی ہے جس نے اپنی مَنّت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہے جو ابھی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ہرگز (اپنے طرز عمل میں) کوئی تبدیلی نہیں کی۔

شہدائے احمدیت کی لازوال اور عجوبہ روزگار قربانیوں سے جماعت کی صدسالہ تاریخ معطر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جماعت احمدیہ میں انصار بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ اور خدا کے مامور زمانہ کی ندا مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ کے جواب میں ہمیشہ ایک ہی نعرہ بلند کیا نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ اور آخری سانس تک اپنے اس عہد کو نبھایا اور اس کی خوب لاج رکھی حتیٰ کہ دین کی راہ میں اپنی جانوں کی قربانی سے بھی گریز نہ کیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آنحضرتﷺ کے صحابہؓ کے پاک نمونوں کی روشنی میں قرآنی پیشگوئی وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِم کے مصداق مامور زمانہ عاشق رسولﷺ کی اتباع میں وہ رسول خدا ﷺ سے یہ سند پالیں گے ’’حُبُّ الْاَنْصَارِ مِنَ الْاِیْمَانِ‘‘ یعنی انصار کی محبت جزو ایمان ہے۔

یہ یقیناً وہی لوگ ہیں جن کے بارہ میں امام زمانہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے عہد مبارک میں کابل میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے وفا کے پتلے حضرت صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب شہید کے تذکرہ کے ضمن میں فرمایا تھا کہ: ’’جب میں اس استقامت اور جانفشانی کو دیکھتا ہوں جو صاحبزادہ مولوی محمد عبداللطیف مرحوم سے ظہور میں آئی تو مجھے اپنی جماعت کی نسبت بہت امید بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جس خدا نے بعض افراد اس جماعت کو یہ توفیق دی کہ نہ صرف مال بلکہ جان بھی اس راہ میں قربان کر گئے۔ اُس خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے جو صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کی رُوح رکھتے ہوں۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ75)

سیدالشہداء حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدجماعت احمدیہ میں وہ پہلے ناصر تھے جنہوں نے اللہ کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرکے قربانیوں جو بیج بویا وہ ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام احباب جماعت کو نصیحت یاد رکھنے کے لائق ہے:
’’صاحبزادہ عبداللطیف شہید کی شہادت کا واقعہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔ تذکرۃ الشہادتین کو بار بار پڑھو اور دیکھو کہ اس نے ایمان کا کیسا نمونہ دکھایا۔ اس نے دنیا اور اس کے تعلقات کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی۔ بیوی یا بچوں کا غم اس کے ایمان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکا۔ دنیوی عزت اور منصب اور تنعم نے اس کو بزدل نہیں بنایا۔ اس نے جان دینی گرارا کی مگر ایمان کو ضائع نہیں کیا۔ عبداللطیف کہنے کو مارا گیا یا مر گیا مگریقیناً سمجھو کہ وہ زندہ ہےاور کبھی نہیں مرے گا…………… وہ تھا کہ خدا کو مقدم کیا اور کسی دکھ کی جو خدا کے واسطے ان پر آنے والا تھا پرواہ نہ کی اور ثابت قدم رہ کر ایک نہایت عمدہ نمونہ اپنے کامل ایمان کا چھوڑ گئے۔ وہ بڑے فاضل عالم اور محدث تھے۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم صفحہ511۔512۔ جدید ایڈیشن)

تذکرہ میں ایک الہام 1884ء اور 1893ء کا اس طرح ذکر ہے:
’’شاتان تذبحان و کل من علیھا فان یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی………… اور موت سے کسی کو خلاصی نہیں‘‘ (تذکرۃ صفحہ: 69) اس سے مراد حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید اور ان کے شاگرد حضرت مولوی عبد الرحمٰن صاحب شہید ہیں

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے عہد کےان دو جانثاروں کا ذکر خیر کرتے ہوئے اپنی کتاب تذکرۃ الشہادتین میں تحریر فرماتے ہیں:
’’یاد رہے کہ اولیاء اللہ اور وہ خاص لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں۔ وہ چند دنوں کے بعد پھر زندہ کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ (اٰل عمران: 170) یعنی تم ان کو مردے مت خیال کرو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندے ہیں۔ پس شہید مرحوم کا اسی مقام کی طرف اشارہ تھا۔ اور مَیں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا۔ کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ۔۔۔۔جو نہایت خوبصورت اور سرسبز تھی ہمارے باغ میں سے کاٹی گئی ہے۔ اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے۔ تو کسی نے کہا کہ اس شاخ کو اس زمین میں جو میرے مکان کے قریب ہے۔ اُس بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کاٹی گئی تھی۔ اور پھر دوبارہ اُگے گی اور ساتھ ہی مجھے یہ وحی ہوئی کہ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا۔ اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ تخم کی طرح شہید مرحوم کا خون زمین پر پڑا ہے۔ اور وہ بہت بار ور ہوکر ہماری جماعت کو بڑھاوے گا۔ اس طرف میں نے یہ خواب دیکھی اور اس طرف شہید مرحوم نے کہا کہ چھ روز تک میں زندہ کیا جاؤں گا۔ میری خواب اور شہید مرحوم کے اس قول کا مآل ایک ہی ہے۔ شہید مرحوم نے مرکر میری جماعت کو ایک نمونہ دیا ہے۔ اور درحقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونہ کی محتاج تھی۔ اب تک ان میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو شخص ان میں سے ادنیٰ خدمت بجا لاتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے بڑا… کام کیا ہے۔ اور قریب ہے کہ وہ میرے پر احسان رکھے۔ حالانکہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اس خدمت کے لئے اس نے اس کو توفیق دی۔ بعض ایسے ہیں کہ پورے زور اور پورے صدق سے اس طرف نہیں آئے۔ اور جس قوت ایمان اور انتہا درجہ کے صدق و صفا کا وہ دعویٰ کرتے ہیں آخر تک اس پر قائم نہیں رہ سکتے۔ اور دنیا کی محبت کے لئے دین کو کھو دیتے ہیں۔ اورکسی ادنیٰ امتحان کی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ خدا کے سلسلے میں بھی داخل ہو کر اُن کی دنیا داری کم نہیں ہوتی۔ لیکن خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے۔ کہ ایسے بھی ہیں کہ وہ سچّے دل سے ایمان لائے اور سچے دل سے اس طرف کو اختیار کیا۔ اور اس راہ کے لئے ہر ایک دُکھ اُٹھانے کے لئے طیار ہیں۔ لیکن جس نمونہ کو اس جواںمرد نے ظاہر کردیا۔ اب تک وہ قوتیں اس جماعت کی مخفی ہیں۔ خدا سب کووہ ایمان سکھاوے۔ اور وہ استقامت بخشے جس کا اس شہید مرحوم نے نمونہ پیش کیا ہے۔ یہ دنیوی زندگی جو شیطانی حملوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے کامل انسان بننے سے روکتی ہے۔ اور اس سلسلہ میں بہت داخل ہوں گے۔ مگر افسوس کہ تھوڑے ہیں کہ یہ نمونہ دکھائیں گے۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ57-58)

عشق و وفا کی یہ داستانیں خلفائے سلسلہ کی زبان مبارک سے بھی دہرائی جاتی رہی ہیں۔ چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو ہدایت فرمائی کہ: ’’تذکرۃ الشہداء کے نام سے ایک کتاب تیار ہوجس میں تاریخی طور پر تمام شہداء کے حالات جمع ہوتے رہیں تا آئندہ نسلیں ان کارناموں پر مطلع ہوتی رہیں۔‘‘

(انوارالعلوم جلد8 صفحہ468)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے جماعت کو نصیحت فرمائی کہ ’’زندہ قومیں خدا کی راہ میں شہید ہونے والوں کو کبھی مرنے نہیں دیا کرتیں۔ وہ خدا کی راہ میں قربانی کرنے والوں کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں تا کہ قیامت تک آئندہ آنے والی نسلیں ان کو دعائیں دیتی رہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 11فروری 1983ء، خطبات طاہر جلد2 صفحہ84) حضرت مرزا طاہر احمد، خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبات جمعہ میں جماعت احمدیہ میں شہادت کا بلند مرتبہ پانے والے خوش نصیب احمدیوں کے ذکر خیر کا سلسلہ فرمایا تھا اس کو طاہر فاونڈیشن ربوہ نے کتابی شکل میں مرتب کرکے شائع کیا۔ اس میں آغاز احمدیت سے لیکر خلافت رابعہ تک کے شہداء کی قابل تقلید قربانیوں، پاکیزہ زندگی اور اوصاف حمیدہ کا دلنشین اور پر اثر تذکرہ ہے۔

مورخہ 14 اپریل 1999ء کو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قابل فخر فرزند محترم صاجزادہ مرزا غلام قادر صاحب نے شہادت کا اعزاز پایا اور 16 اپریل کو خطبہ جمعہ میں حضورؒ نے شہید مرحوم کا تذکرہ فرمایا، اگلے جمعہ میں سید الشہداء حضرت سید عبداللطیف صاحب رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر فرمایا، اس کے بعد حضور ؒ نے شہدائے احمدیت کے تذکرہ پر مبنی سلسلہ شروع فرمایا جو 23 جولائی 1999 تک جاری رہا، یہ کل 15 خطبات جمعہ تھے۔

اسی طرح خلافت خامسہ میں ہونے والی شہادتوں بالخصوص 28 مئی 2010ء کی عظیم الشان اجتماعی قربانی میں شامل تمام شہداء کا دلگداز تذکرہ ہمارے پیارے امام سیدنا حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زبان مبارک سے خطبات جمعہ میں تسلسل سے جاری ہے۔

سال 2010ء میں 28مئی کو جمعۃ المبارک کا دن تاریخ احمدیت میں ہمیشہ زندہ رہے گا جب لاہور شہر کی مرکزی مساجد میں دنیا کی مصروفیات چھوڑ کر محبت الٰہی کی خاطر جمع ہونے والے سینکڑوں نہتے اور معصوم احمدیوں پر مسلح اور سفاک دہشت گردوں نے نہایت بے دردی سے گولیوں اور گرنیڈوں کی بوچھاڑ کردی اور ان احمدی پیروجوان نے اجتماعی شہادت کو مومنانہ شان سے قبول کیا اور خدا کے پیارے ٹھہرے۔ جماعتی تاریخ کی اس سب سے دردناک اور سب سے بڑی اجتماعی قربانی میں 86 احمدی شہید اور متعدد شدید زخمی ہوئے۔یہ سب لوگ احمدیت کی تاریخ میں ان شاء اللہ ہمیشہ روشن ستاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔سانحۂ لاہور میں قربان ہونے والے 86جانثاروں میں بھی 62 اراکین انصار اللہ تھے۔ جن میں 92 اور 93 سال کے بوڑھے بھی شامل تھے۔ یہ سب استقامت کے وہ شہزادے ہیں جنہوں نے کمال جوان مردی اور صبرسے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے گلے لگایا۔آخری لمحات میں بھی ان کی زبانوں پر کلمہ کا ورد، دعائیں اور درود شریف تھا۔

مجلس انصار اللہ پاکستان کواس تاریخی سانحہ کے موقع پر شہداء اور ان کے لواحقین کی خدمت کی خصوصی سعادت نصیب ہوئی۔ جماعتی فیصلہ کے مطابق شہداء کی میّتوں کو لاہور سے لانے کے بعد انصار اللہ کے زیریں حال میں رکھا گیا اور یہیں شہداء کے دیدار اور نماز جنازہ کا انتظام تھا۔ انصار اللہ پاکستان کے عہدیداران اور کارکنان مہمان نوازی کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ انصار اللہ پاکستان کے تینوں گیسٹ ہاؤسز میں شہداء کی فیملیز اور لواحقین کے قیام و طعام کا انتظام کیا گیا۔

اجتماعی قربانی کے اس واقعہ پر حضرت امیر المومنین مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 28 مئی سے 9 جولائی تک اپنے7 خطبات جمعہ میں ان شہداء اور زخمیوں کی جرأت وبہادری، عزم و ہمت اور ان کے پسماندگان کے صبر و استقامت کے عظیم الشان اور درخشندہ نمونوں اور شہدائے لاہور کے اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ کا بہت ہی قابل رشک اور دلگداز تذکرہ فرمایا۔ اسی تسلسل میں حضور انور نے جلسہ سالانہ جرمنی 2010ء کے موقع پر 27 جون کو نہایت ہی پرشوکت، جلالی شان والا اور ولولہ انگیزاختتامی خطاب فرمایا تھا۔ حضورایدہ اللہ تعالیٰ نے اس خطاب میں فرمایا تھا کہ یہ مخالفتیں اور ظلم جماعت کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتیں اور متنبہ فرمایا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہزار کوششوں کے باوجود بھی جماعت کو پھلنے پھولنے اور بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔جہاں باپ کے شہید ہونے پر اس کے نو دس سالہ بیٹے کو ماں نے اگلے ہی جمعہ پڑھنے کے لئے یہ کہہ کر بھیجا کہ وہیں کھڑے ہو کر جمعہ پڑھنا جہاں اس کا باپ شہید ہوا تھا تاکہ اسے یہ احساس رہے کہ موت اسے اس عظیم مقصد کے حصول سے کبھی خوفزدہ نہیں کر سکتی جس کے لئے اس کا باپ شہید ہوا تھا تو کوئی دشمن، کوئی دنیاوی طاقت ان کی ترقی کو نہیں روک سکتی۔

آخر میں فرمایا کہ: ’’پس ہماری کوشش ہونی چاہیئے کہ ان واقعات نے جو جماعتی قربانی کی صورت میں ہوئے جس طرح پہلے سے بڑھ کر ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف راغب کیا ہے، اس جذبے کو، اس ایمانی حرارت کو اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی آہ و بکا کے عمل کو، اپنے اندر پاک تبدیلیوں کی کوشش کو کبھی کمزور نہ ہونے دیں، کبھی کمزور نہ ہونے دیں، کبھی اپنے بھائیوں کی قربانی کو مرنے نہ دیں جو اپنی قربانیاں دے کر ہمیں زندگی کے نئے راستے دکھا گئے… پس خدا کے حضور جھک جائیں اور اپنے خدا کے حضور جو سب طاقتوں کا مالک ہے جو مجیب الدعوات ہے اس طرح چلّائیں کہ عرش کے کنگرے بھی ہلنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی ایسی دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔

حضور کے ان خطبات سے ایک بات تو بہر حال سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان شہداء کو بہت سی خوبیوں سے متصف کیا تھا۔ نمازوں کا اہتمام، تلاوت میں باقاعدگی، خلافت سے محبت اور اخلاص، بچوں کی نیک تربیت اور اس پہلو سے مسلسل نگرانی جیسے اوصاف ان سب شہداء میں نمایاں طور پرپائے جاتے تھے۔ وہ دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے اور ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے تھے۔اپنے ماتحتوں اور ساتھ کام کرنے والوں سے حُسن سلوک اور خوش اخلاقی سے پیش آنا، غریبوں سے ہمدردی، تمام رشتوں کا خیال رکھنا ان کے بنیادی اخلاق کا حصہ تھے۔ یقیناً ان میں سے ہر ایک اپنا عہد کو پورا کرنے والا ایک روشن اور چمکدار ستارہ تھا۔

خاکسار بھی اس تاریخی سانحہ کے وقت ماڈل ٹاؤن مسجد میں موجود تھا اور ہونے والے واقعات کا چشم دید گواہ بھی۔ عجیب جذبہ تھا۔ اس وقت کے جذبات خاکسار نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بھی تحریر کئے۔ حضور نے از راہ شفقت اس کو قبول فرمایا اور سعادت بخشی کہ میرے اس خط کا کچھ حصہ خدام الاحمدیہ یو کے کے سالانہ اجتماع 2010ء کے موقع پر پڑھ کر سنایا۔ ان جذبات کا حضور کے الفاظ میں سننے اور پڑھنے کا ایک عجیب لطف ہے۔ حضور نے فرمایا:
’’ایک خط میں لاہور کے انصار اللہ کے ہمارے ایک عہدیدار مجید بشیر ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ نماز جمعہ کے لئے اس دن بیت النور میں تھا۔ کہتے ہیں: حضور! اس طرح نہتے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں، بم پھینکے گئے، گولیاں کس طرح دائیں بائیں سے گزرتی رہیں اس کا بیان ناممکن ہے۔ جب حملہ شروع ہوا تو مولانا شاد صاحب نے قرآن مجید کی آیت وَلَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا (النور: 56) کی تفسیر بیان کی۔ اس دوران تفسیر بیان کر رہے تھے۔ اس واقعہ کے بعد ہمارا ایمان اور بھی تازہ ہوا کہ ان شاء اللہ ضرور بالضرور خوف کو اللہ تعالیٰ امن میں بدلے گا اور ان سے ضرور بدلہ لے گا جنہوں نے احمدیوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکا۔ پھر لکھتے ہیں موت کو سامنے دیکھ کر ایک ہی دعا تھی جو زبان پر جاری رہی کہ اے قادر خدا! یہ تیرے پیارے مسیح کو ماننے والے ہیں، کمزور ہیں، اور صرف تجھ پر ہی یقین رکھتے ہیں۔کیا تو ان کو ختم کر دے گا۔ ہرگز نہیں، تو تمام احمدیوں کی خود حفاظت فرما۔ کس طرح لوگ گرمی میں محبوس رہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے احباب نے ایک دوسرے کی مدد کی۔ ٹوپیوں میں پانی ڈال کر زخمیوں کو پلایا۔چھوٹے چھوٹے بچے خوفزدہ اور بوڑھے گرمی سے بے حال ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ پھر لکھتے ہیں کاش میں بھی شہید ہو کر امر ہو جاتا۔یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتا۔دل کٹ رہے ہیں دماغ ماؤف ہیں۔ کیا قصور تھا ان نہتے اور معصوم احمدیوں کا؟ یہی نہ کہ وہ آنحضرتﷺ کی اطاعت میں اس مسیح کو ماننے والے ہیں اور اطاعت گزار ہیں۔ اتنے امن پسند اور اطاعت گزار لوگ ہیں کہ باوجود حملے کے جب مربی صاحب اعلان کرتے ہیں کہ سب بیٹھ جائیں، بیٹھے رہیں اور دعاؤں پر زور دیں، درود شریف پڑھیں، اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوُرِھِمْ پڑھیں۔ تو تمام لوگ اس جگہ بیٹھ جاتے ہیں اور گولیان کھاتے رہے اور اپنے سینوں پر لیتے رہے۔ اپنے بچوں کو اپنے ساتھ چپکائے ہوئے ان کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔اور ڈیڑھ دو گھنٹے تک مسلسل دہشت گردی چلتی رہی۔

(الفضل انٹرنیشنل 22 اکتوبر 2010ء صفحہ11)

بہر حال جماعت احمدیہ کے آغاز سے ہی مختلف ادوار میں اراکین انصار اللہ کو یہ سعادت نصیب رہی ہے کہ انہوں نےحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئے ہوئےاپنے عہدوں کو خوب نبھا یا اور احمدیت کی خاطر تن من دھن کی بازی لگا دی۔ یہ وہ سعادت مند ہیں جوانہی رستوں پر چل کرجو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید ہمارے لئے بنا گئے تھے،ہمیشہ اپنے جانوں کے نذرانے پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ جن میں افغانستان، پاکستان، ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، عراق، البانیہ اور امریکہ کے انصار بھی شامل ہیں۔ ان میں صحابہؓ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام، حفاظت مرکز قادیان کے شہداء، شہداء فرقان بٹالین، واقفین زندگی شہداء، شہید مربیان، ڈاکٹرز، اساتذہ اور زندگی کے دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

(باقی کل ان شاءاللہ)

(پروفیسر مجید احمد بشیر)

پچھلا پڑھیں

مجلس انصاراللہ کی بنیادی ذمہ داری

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 اگست 2022