• 23 ستمبر, 2021

مغلوب الغضب سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام مَردوں کو توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مَرد اپنے گھر کا امام ہوتا ہے۔ پس اگر وہی بداثر قائم کرتا ہے تو کس قدر بداثر پڑنے کی امید ہے۔ مرد کو چاہئے کہ اپنے قویٰ کو برمحل اور حلال موقع پر استعمال کرے مثلاً ایک قوت غضبی ہے۔جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔ جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ208 ایڈیشن 1984ء)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو جو شخص سختی کرتا ہے اور غضب میں آجاتا ہے اس کی زبان سے معارف اور حکمت کی باتیں ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ وہ دل حکمت کی باتوں سے محروم کیا جاتا ہے جو اپنے مقابل کے سامنے جلدی طیش میں آ کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ گندہ دہن اور بے لگام کے ہونٹ لطائف کے چشمے سے بے نصیب اور محروم کئے جاتے ہیں۔غضب اور حکمت دونو جمع نہیں ہو سکتے۔ جو مغلوب الغضب ہوتا ہے اس کی عقل موٹی اور فہم کند ہوتا ہے۔ اس کو کبھی کسی میدان میں غلبہ اور نصرت نہیں دئیے جاتے۔ غضب نصف جنون ہے جب یہ زیادہ بھڑکتا ہے تو پُورا جنون ہو سکتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ126-127 ایڈیشن 1984ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 7 ستمبر 2021

اگلا پڑھیں

چھوٹی مگر سبق آموز بات