• 20 مئی, 2024

دل پاک نہیں ہو سکتا جب تک آنکھ پاک نہ ہو (مسیح موعودؑ)

انسانی اعضاء کا آپس میں بڑا گہرا اور مربوط ربط ہوتا ہے جو ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے اور ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح روحانی معنوں میں بھی ایک مومن کے مادی اعضاء ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:

’’دل پاک نہیں ہو سکتا
جب تک آنکھ پاک نہ ہو۔‘‘

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ164-165)

انسانی اعضاء میں دل اور دماغ کو خاص مقام حاصل ہے۔ یہی دو بڑے ارگنز ہیں جو انسانی اعضاء کو کنڑول کرتے ہیں۔ دل فیل ہو جائے تو تمام اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔خاکسار کے مختلف اعضاء پر 6 مضامین بعنوان ’’انسانی اعضاء کا بر محل استعمال‘‘ روزنامہ الفضل ربوہ پاکستان میں شائع ہو چکے ہیں۔جن میں دل اور آنکھ کے متعلق اسلامی تعلیم بیان کی گئی ہے۔آج اس کے ایک پہلو پر روشنی ڈالنی مقصود ہے۔جس میں آنکھ کو دل پر روحانی پاکیزگی میں اولیت حاصل ہے۔ویسے تو دل کی پاکیزگی بھی ضروری ہے لیکن آنکھ کی پاکیزگی، دل کو پاکیزہ کرنے اور رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اسی طرح آنکھ کو دیگر اعضاء میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔یہ ایک فطری کیمرہ ہے جو دماغ سے منسلک ہے اور روشنی حاصل کر کے دماغ تک پہنچا کر ایک تصویر بناتا ہے۔ اس تصویر کا عکس دل پر بھی ابھرتا ہے۔اگر وہ تصویر صاف و پاک ہے تو دل پر پاک و صاف تصویر بنے گی۔اگر تصویر گندی ہے تو دل پر بھی اس کا اثر ہوگا۔

سب سے اول اگر ہم آنکھ کومحبت کرنے کا پہلا زینہ سمجھیں جیسا کہ ہے کہ عشق کا آغاز ہوتا ہی آنکھ سے ہے جو دل پر اثر کر کے دو دل آپس میں ملتے ہیں۔ اس حوالہ سے اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے غض بصر کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مومن مردوں اور مومن عورتوں کو علیحدہ علیحدہ مخاطب ہو کر غض بصر کی تلقین فرمائی ہے اور مردوں کو پہلے مخاطب ہو کر فرمایا:

قُل لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصٰرِہِمۡ وَیَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ۚ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ۗ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ

(النور: 31)

ترجمہ: مومنوں کو کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ بات ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کا موجب ہے۔ یقیناً اللہ، جو وہ کرتے ہیں، اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔

اور عورتوں کو غض بصر سے کام لینے کی یوں نصیحت فرمائی:

وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصٰرِہِنَّ وَیَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَلَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا ۖ وَلۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۖ وَلَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوٰنِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوٰنِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمٰنُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۖ وَلَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ۚ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

(النور: 32)

ترجمہ: اور مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کیا کریں سوائے اس کے کہ جو اس میں سے ازخود ظاہر ہو اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے یا اپنے باپوں یا اپنے خاوندوں کے باپوں یا اپنے بیٹوں کے لئے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں یا اپنی بہنوں کے بیٹوں یا اپنی عورتوں یا اپنے زیرنگیں مردوں کے لئے یا مردوں میں ایسے خادموں کے لئے جو کوئی (جنسی) حاجت نہیں رکھتے یا ایسے بچوں کے لئے جو عورتوں کی پردہ دار جگہوں سے بے خبر ہیں اور وہ اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ (لوگوں پر) وہ ظاہر کردیا جائے جو (عورتیں عموماً) اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں اور اے مومنو! تم سب کے سب اللہ کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

آنکھ کا لذت کے ساتھ بھی بہت گہرا تعلق ہے خواہ وہ شہوانی لذت ہی کیوں نہ ہو۔اگر یہ لذت پاک ہو تو دل پر نیک اثر کرے گی اور اگر یہ لذت بد ہے تو دل پر بدی کے آثار نمایاں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے وہاں وَتَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ (الزخرف: 72) کہہ کر فرمایا کہ ان نعمتوں سے ان کی آنکھیں لذت پائیں گی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق جو یہ فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ یہاں ٹھنڈک سے مراد لذت ہی ہے جو دل پر اثر کرتی ہے۔

دل اور آنکھ کی مناسبت سے ایک حدیث یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدنظری ابلیس یعنی شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے۔ جو شخص اسے میرے خوف کی وجہ سے ترک کر دے وہ ایک ایسی ایمانی قوت پائے گا جس کی لذت اور حلاوت دل میں محسوس ہوگی۔

(الترغیب و التر ھیب جلد3 صفحہ153)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی۔ اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔ اگر ہم ایک بھوکے کتے کے آگے نرم نرم روٹیاں رکھ دیں اور پھر امید رکھیں کہ اس کتے کے دل میں خیال تک ان روٹیوں کا نہ آوے تو ہم اپنے اس خیال میں غلطی پر ہیں۔سو خداتعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کارروائیوں کا موقع بھی نہ ملے اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آوے جس سے بدخطرات جنبش کر سکیں۔

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ343-344)

غیر محل پر نگاہ ڈالنا ایک معاشرتی بدی ہے جس سے رکنے کا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ان الفاظ میں دیا کہ راستوں پر بیٹھنے سے پرہیز کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنی مجبوری بیان فرمائی کہ ہمارے پاس گھروں میں بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر فرمایا تو پھر راستے کا حق ادا کرو۔صحابہ رضی اللہ عنہم کے پوچھنے پر فرمایا راستے کا حق یہ ہے کہ نگاہ نیچے رکھو، تکلیف دہ چیزوں کو دور کرو،سلام کا جواب دو،نیکی کا حکم دو اور بدی سے روکو۔

(مسلم)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما کو ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ بن مکتوم رضی اللہ عنہ سے پردہ کا حکم دیا۔

(سنن ابو داؤد حدیث نمبر 720)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ اس مضمون کو ایک جگہ یوں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’غض بصر سے کام لیں۔ یعنی اپنی آنکھ کو اس چیز کو دیکھنے سے روکے رکھیں جس کا دیکھنا منع ہے۔یعنی بلاوجہ نا محرم عورتوں کو نہ دیکھیں۔ جب بھی نظر اٹھا کر پھریں گے تو پھر تجسس میں آنکھیں پیچھا کرتی چلی جاتی ہیں اس لیے قرآن شریف کا حکم ہے کہ نظریں جھکا کے چلو۔ اسی بیماری سے بچنے کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ نیم وا آنکھوں سے چلو۔یعنی ادھ کھلی آنکھوں سے، راستوں پر پوری آنکھیں پھاڑ کر نہ چلو۔ بند بھی نہ ہوں کہ ایک دوسرے کو ٹکریں مارتے پھرو۔لیکن اتنی کھلی ہوں کہ کسی بھی قسم کا تجسس ظاہر نہ ہوتا ہو کہ جس چیز پر ایک دفعہ نظر پڑ جائے پھر اس کو دیکھتے ہی چلے جانا ہے۔ نظر کس طرح ڈالنی چاہیے اس کی آگے حدیث سے وضاحت کروں گا۔ لیکن اس سے پہلے علامہ طبری کا جو بیان ہے وہ پیش کرتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ غض بصر سے مراد اپنی نظر کو ہر اس چیز سے روکنا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔

(تفسیر الطبری جلد18 صفحہ116-117)

تو مردوں کے لیے تو پہلے ہی حکم ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو اور اگر مرد اپنی نظریں نیچی رکھیں گے تو بہت سی برائیوں کا تو یہیں خاتمہ ہو جاتا ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’ہر ایک پرہیز گار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہیں چاہیے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے۔بے محابا نظر اُٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لیے اس تمدنی زندگی میں غض ِبصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خلق کے رنگ میں آجائے گی۔‘‘

(رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ102-103

بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ444)

پھر مومن عورتوں کے لیے حکم ہے کہ غض بصر سے کام لیں اور آنکھیں نیچی رکھا کریں۔ اگر عورت اونچی نظر کر کے چلے گی تو ایسے مرد جن کے دلوں پر شیطان نے قبضہ کیا ہوا ہے وہ تو پھر ان عورتوں کے لیے مشکلات ہی پیدا کرتے رہیں گے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد2 صفحہ86-88)

پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کوپہلے کہا کہ غضّ بصر سے کام لو۔ کیوں؟ اس لئے کہ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ کیونکہ یہ بات پاکیزگی کے لئے ضروری ہے۔ اگر پاکیزگی نہیں تو خدا نہیں ملتا۔ پس عورتوں کے پردہ سے پہلے مَردوں کو کہہ دیا کہ ہر ایسی چیز سے بچو جس سے تمہارے جذبات بھڑک سکتے ہوں۔ عورتوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا، ان میں مِکس اَپ (mix up) ہونا، گندی فلمیں دیکھنا، نامحرموں سے فیس بُک (facebook) پر یا کسی اور ذریعہ سے چَیٹ (chat) وغیرہ کرنا، یہ چیزیں پاکیزہ نہیں رہتیں۔

(خطبہ جمعہ 13؍جنوری 2017ء)

نیک لوگوں کی نگاہ کا نیک اثر

اس طرح ایک نگاہ ایسی ہے جو نیک لوگوں پر پڑتی ہے یا نیک لوگوں کی اپنے مریدوں پر پڑتی ہے۔ والدین کی شفقت بھری نگاہ اولاد کے لیے اور اولاد کی محبت بھری نگاہ اپنے والدین کے لیے بھی دل پر نیک اثر چھوڑتی ہے اور آپس میں محبت بڑھانے کا موجب ہوتی ہے۔دل آپس میں ملتے ہیں جو محبت بڑھانے کا موجب ہوتی ہے۔ الغرض آنکھ جو کیمرہ کا کام کرتی ہے اسے بدنظری سے بچاتے ہوئے نیک نگاہ سے ایسی تصویر اپنے کیمرہ میں محفوظ کرنی چاہیے جو دل پر اچھا اثر منعکس کر ے اور دل کو پاک بنا دے۔ آمین۔

(ابو سعید)

پچھلا پڑھیں

سالانہ ریجنل تربیتی کلاس۔ گیمبیا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 8 دسمبر 2022