• 25 ستمبر, 2020

اُستاذی المکرم ۔ سیّدمیر داؤد احمد کی شفقتیں

اس میں شک نہیں کہ جامعہ احمدیہ ربوہ کے تمام اساتذہ کرام ہی بے حد شفیق، مہربان اور طلباء کے ہمدرد تھے۔ لیکن استاذی المکرم محترم سیّد میر داؤد احمد کا انداز شفقت سب سے نرالا اور جدا تھا۔ جس میں طلباء کے ساتھ شفقت کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی نظر انداز نہیں ہوتی تھی۔گویا ان کی ذات شفقت اور تربیت کا ایک حسین امتزاج تھی۔ چند واقعات پیش خدمت ہیں:۔

خاکسار کی رہائش دارالرحمت شرقی (ب) میں تھی اور میں زعیم خدام الاحمدیہ تھا۔ ہمارے ایک دوست کے والد صاحب وفات پاگئے اور ان کا جنازہ ربوہ لایا گیا۔ مرحوم کے بچے ربوہ میں ہی رہائش پذیر تھے اور ہمارے محلہ دار تھے۔ مرحوم کے بڑے بیٹے کے ساتھ میرے دوستانہ تعلقات تھے۔میں جنازہ کے انتظامات میں اتنا مصروف ہوگیا کہ جامعہ نہ جا سکا۔ اگلے روز میں جامعہ گیا تو محترم میر داؤد احمدنے مجھے طلب فرمایا اور پوچھا کہ تم کل جامعہ کیوں نہیں آئے؟میں نے بتایا کہ میں ایک دوست کے والد کے جنازہ کے انتظامات کی وجہ سے جامعہ نہیں آسکا۔ تو میر صاحب نے پوچھا کہ کیا جنازہ میں شرکت فرض کفا یہ تھی یا فرض عین؟ میں نے عرض کیا کہ فرضِ کفا یہ تھی۔ اس کے بعد دریافت فرمایا کہ جامعہ کی پڑھائی تمہارے لئے فرضِ عین ہے یا فرض کفا یہ ہے؟ میں نے عرض کیا کہ بلاشبہ جامعہ کی پڑھائی میرے لئے فرض عین ہے۔ اس پر میر صاحب نے فرمایا کہ تم نے ایک فرضِ کفا یہ کو ترجیح دی اور فرض عین کو ترک کردیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

میر صاحب نے مجھے پچاس روپے جرمانہ کی سزا دی اور حکم دیا کہ یہ جرمانہ دس روپے ماہوار کے حساب سے میرے الاوْنس میں سے منہا کرلیا جایا کرے۔ مجھے یہ جرمانہ شاق گزرا۔ مگر میں خاموش رہا اور جرمانہ ہر ماہ میرے الاوْنس میں سے منہا ہوتا رہا اور پانچ ماہ میں اس کی ادائیگی مکمل ہوئی۔ اگلے ماہ جب میں الاوْنس لینے گیا تو اکاوْنٹنٹ صاحب نے مجھے صرف اتنا کہا کہ پرنسپل صاحب کے حکم سے یہ رقم ادا کی گئی ہے۔ اُس سے اگلے ماہ بھی ایسا ہی ہوا اور پانچ ماہ تک ہر ماہ مجھے دس روپیہ کی رقم الاوْنس سے زائد کی جاتی رہی۔ اس سے مجھے پتہ لگا کہ میر صاحب نے ایک طرف تو مجھے جرمانہ کیا اور توبہ کی طرف توجہ دلائی اور دوسری طرف وہ ساری رقم مجھے واپس بھی کردی۔ یہ تھا ا ن کی شفقت و تربیت کا انداز، جس کی مثال ملنا نا ممکن نہیں بھی تو مشکل ضرور ہے۔

ایک دفعہ میری والدہ بیمار ہوگئیں۔ ان دنوں ہماری رہائش محلہ دارالعلوم غربی میں تھی۔ایک دن عصر کے قریب دروازہ پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ میر صاحب سائیکل پرسوارتشریف لائے ہیں۔آپ نے ہارلکس (Horlicks) کا ایک بہت بڑا ڈبہ (قریباً پانچ کلو کا) مجھے دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنی والدہ کو دے دینا۔ اس کے استعمال سے انشاء اللہ ان کی جسمانی طاقت بحال ہوجائے گی۔

میر صاحب کا طریق تھا کہ آپ ہر رمضان المبارک میں مشروط اعتکاف کیا کرتے تھے۔ آپ مسجد مبارک سے سیدھے جامعہ احمدیہ اور وہاں سے سیدھے مسجد مبارک واپس آتے اور اعتکاف شروع کرتے۔ ایک دفعہ آپ اعتکاف میں تھے۔ میں نے ایک خط لکھا اور آپ کی خدمت میں دعا کی درخواست کی۔اگلے دن مکرم عبد الرزاق پی ٹی آئی جامعہ احمدیہ نے ایک لفافہ مجھے دیا۔میں نے اُسے کھولا تو اُس میں ایک کاغذ کے اندر پچاس روپے کے نوٹ تھے۔ پی ٹی آئی صاحب نے بتایا کہ یہ لفافہ میر صاحب نے دیا تھا کہ میں آپ کو دے دوں۔ میں نے جلد بازی میں زیادہ تحقیق کئے بغیر اُسی کاغذ کے اوپر جس کے اندر وہ نوٹ تھے یہ لکھا کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں۔اگلے دن پی ٹی صاحب نے دوبارہ مجھے لفافہ لا کر دیا ۔میں نے کھولا تو میر صاحب نے میری تحریر کے نیچے خط کھینچ کر لکھا ہوا تھا کہ میں جن کو اپنا عزیز سمجھتا ہوں ان کو عیدی دیتا ہوں اور میرے بزرگ بھی مجھے اسی طرح آج تک عیدی دیتے چلے آئے ہیں۔ یہ تحریر پڑھ کر مجھے سخت شرمندگی ہوئی اور میں نے ایک خط میر صاحب کو لکھ کر شر مساری کا اظہار کیا اور لکھا کہ آپ مجھے وہ عیدی کی رقم واپس دے دیں لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔

کئی سال گزر گئے۔ ایک دفعہ میں نے گرمیوں کی چھٹیوں میں سندھ جانا تھا۔ میں نے ایک درخواست میر صاحب کے نام لکھی اور کچھ رقم طلب کی لیکن معین نہیں لکھا کہ اتنی رقم مجھے دے دیں۔ بس میر صاحب کی صوابدید پر چھوڑ دیا کہ جتنی رقم مناسب سمجھتے ہیں مجھے پیشگی (Advance) دے دیں۔ میں قسط وار واپس ادا کردوں گا۔ میرصاحب نے مجھے اپنے دفتر بلایا۔ میں حاضر ہوا تو آپ نے پوچھا کہ معین بتاؤ کتنی رقم تمہیں چاہیئے؟ میں نے عرض کی کہ آپ خود حساب لگا لیں۔لیکن آپ نے فرمایا کہ نہیں تم بتاؤ۔ بالآخر میں نے کہا کہ 40روپے کافی ہوں گے۔ آپ نے فوراً اپنی جیب سے اپنا بٹوا نکالا اور اُس میں سے40 روپے کے نوٹ نکال کر میرے سامنے رکھ دئے۔میں نے وہ رقم لے لی اور ساتھ ہی کہا میں ایک دفعہ قبل ازیں غلطی کر چکا ہوں۔اب وہ غلطی نہیں دُہراؤں گا۔ میر صاحب نے فرمایا مجھے وہ واقعہ خوب یاد ہے۔ لیکن مجھے تمہارے ردّ عمل پر یہ دیکھ کر خوشی ہوئی تھی کہ تمہاری طبیعت میں خودداری ہے اور لالچ نہیں ہے۔میر صاحب کی اہلیہ حضرت بی بی امتہ الباسط بنت حضرت مصلح موعود ؓ اُس تعلق کو جانتی تھیں جو میرے مرحوم استاد اور عاجز کے درمیان تھا۔اسی کی بناء پر آپ نے مادرانہ شفقت کا مظاہرہ فرماتے ہوئے اِس عاجز کو سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی پوشاک مبارک کا ایک ٹکڑا عنایت بھی فرمایا تھا۔مولا کریم ان دونوں بزرگوں پر رحمتوں کی بارش برساتا رہے اور ہمیں اُن کی نیک عادات و اطوار اور ان کی دعاؤں کا وارث بنادے۔ اللھم آمین۔

(ڈاکٹر محمد جلال شمس۔لندن)

پچھلا پڑھیں

اعلانات واطلاعات

اگلا پڑھیں

نیکی کی جزا