• 18 جولائی, 2024

فقہی کارنر

قیاس کی حجت

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
‘‘ان ساری باتوں کے علاوہ میں اب قیاس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر چہ نصوص قرآ نیہ اور حدیثیہ میرے ساتھ ہیں۔ اجماع صحابہؓ بھی میری تائید کرتا ہے۔ نشانات اور تائیدات الٰہیہ میری موٴید ہیں۔ ضرورت وقت میرا صادق ہونا ظاہر کرتی ہے لیکن قیاس کے ذریعہ سے بھی حجت پوری ہو سکتی ہے۔ اس لیے دیکھنا چاہیے کہ قیاس کیا کہتا ہے ؟ انسان کبھی کسی ایسی چیز کے ماننے کو تیار نہیں ہو سکتا جو اپنی نظیر نہ رکھتی ہو۔ مثلاً اگر ایک شخص آ کر کہے کہ تمہارے بچے کو ہوا اڑا کر آسمان پر لے گئی ہے یا بچہ کتا بن کر بھاگ گیا ہے تو کیا تم اس کی بات کو بلا وجہ معقول اور بلا تحقیق مان لو گے ؟ کبھی نہیں، اس لئے قرآن مجید نے فر مایا:فَسۡـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ( النحل:44)

اب مسیح علیہ السلام کی وفات کے مسئلہ پر اور اُن کے آسمان پر اُڑ جانے کے متعلق غور کرو۔ قطع نظر ان دلائل کے جو ان کی وفات کے متعلق ہیں۔ یہ پکی بات ہے کہ کفار نے آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا۔ اب آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر طرح کامل اور افضل تھے ان کو چاہیے تھا کہ وہ آسمان پر چڑھ جاتے مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے جواب دیا:
قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا (بنی اسرا ئیل:94)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ کہہ دو اللہ تعالیٰ اس امر سے پاک ہے کہ وہ خلاف وعدہ کرے جبکہ اس نے بشر کے لئے آ سمان پر مع جسم جانا حرام کر دیا ہے اگر میں جاؤں تو جھوٹا ٹھہروں گا۔ اب اگر تمہارا عقیدہ صحیح ہے کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے اور کوئی بالمقابل پادری یہ آیت پیش کر کے آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے تو تم اس کا کیا جواب دے سکتے ہو۔ پس ایسی باتوں کے ماننے سے کیا فائدہ جن کا کوئی اصل قرآن مجید میں موجود نہیں۔ اس طرح پر تم اسلام کو اور آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے والے ٹھہرو گے۔ پھر پہلی کتابوں میں بھی تو کوئی نظیر موجود نہیں اور ان کتابوں سے اجتہاد کرنا حرام نہیں ہے۔ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے:
شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ( الاحقاف:11)

اور پھر فر مایا:کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَکُمۡ ۙ وَمَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ (الرعد:44)

اور پھر فر مایا:یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ (البقرہ:147)

جب آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت کے لئے ان کو پیش کرتا ہے تو ہمارا ان سے اجتہاد کرنا کیوں حرام ہو گیا ؟

(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 296۔297)

(مرسلہ:داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ )

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 فروری 2023

اگلا پڑھیں

نصف شعبان کی اہمیت