• 20 جولائی, 2024

ڈوئی بار بار لکھتا ہے کہ عنقریب یہ سب لوگ ہلاک ہوجائیں گے

’’غرض ڈوئی بار بار لکھتا ہے کہ عنقریب یہ سب لوگ ہلاک ہوجائیں گے بجز اس گروہ کے جو یسوع کی خدائی مانتا ہے اور ڈوئی کی رسالت۔ اس صورت میں یورپ اور امریکہ کے تمام عیسائیوں کو چاہیے کہ بہت جلد ڈوئی کو مان لیںتا ہلاک نہ ہوجائیں۔ اور جبکہ انہوں نے ایک نامعقول امر کو مان لیا ہے یعنی یسوع مسیح کی خدائی کو تو چلو یہ دوسرا نا معقول امر بھی مان لو کہ اس خدا کا ڈوئی رسول ہے۔
رہے مسلمان۔ سو ہم ڈوئی صاحب کی خدمت میں باَدب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑوں مسلمانوں کے مارنے کی کیا حاجت ہے؟ ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہوجائے گا کہ آیا ڈوئی کا خدا سچا خدا ہے یا ہمارا خدا۔وہ بات یہ ہے کہ وہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کوباربار موت کی پیشگوئی نہ سناویں۔ بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کردیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے‘‘

(مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 261)

’’میں عمر میں ستر برس کے قریب ہوں اور ڈوئی جیساکہ وہ بیان کرتا ہے پچاس برس کا جوان ہے۔لیکن میں نے اپنی بڑی عمر کی کچھ پرواہ نہیں کی۔ کیونکہ اس مباہلہ کا فیصلہ عمروں کی حکومت سے نہیں ہوگا بلکہ خدا جواحکم الحاکمین ہے وہ اس کا فیصلہ کرے گا۔ اور اگر ڈوئی مقابلہ سے بھاگ گیا تب بھی یقینا سمجھو کہ اس کے صیحون پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے‘‘

(تتمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 506)

ڈوئی کی موت پر آپؑ نے فرمایا:
’’اب ظاہر ہے کہ ایسا نشان (جو فتح عظیم کا موجب ہے) جو تمام دنیا ایشیا اور امریکہ اور یورپ اور ہندوستان کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہوسکتا ہے وہ یہی ڈوئی کے مرنے کا نشان ہے۔ کیونکہ اور نشان جو میری پیشگوئیوں سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو پنجاب اور ہندوستان تک ہی محدود تھے۔ اور امریکہ اور یورپ کے کسی شخص کو ان کے ظہور کی خبر نہ تھی، لیکن یہ نشان پنجاب سے بصورت پیشگوئی ظاہر ہوکر امریکہ میں جاکر ایسے شخص کے حق میں پورا ہوا جس کو امریکہ اور یورپ کا فرد فرد جانتا تھا۔ اور اس کے مرنے کے ساتھ ہی بذریعہ تاروں کے اس ملک کے انگریزی اخباروں کو خبر دی گئی۔۔۔۔۔ اس کی زندگی کے ہر ایک پہلو پر آفت پڑی۔ اس کا خائن ہونا ثابت ہوا اور وہ شراب کو اپنی تعلیم میں حرام قرار دیتا تھا مگر اس کا شراب خوار ہونا ثابت ہو گیا۔ اور وہ اس اپنے آباد کردہ شہر صیحون سے بڑی حسرت کے ساتھ نکالا گیا۔۔۔ اس کی بیوی اور اس کا بیٹا اس کے دشمن ہوگئے اور اس کے باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولد الزنا ہے۔۔۔ اس پر فالج گرا اور ایک تختہ کی طرح چند آدمی اس کو اٹھا کر لے جاتے رہےاور پھر بہت غموں کے باعث پاگل ہوگیا‘‘

(تتمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 511)

پچھلا پڑھیں

کچرے سے بجلی بنانے والا ملک

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 9 مارچ 2022